Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہر نیا شاعر اور ادیب اپنا معیار اپنے زمانے کے لحاظ سے لے کر خود آتا ہے

Updated: March 01, 2026, 11:37 AM IST | Mujtaba Hussain | Mumbai

ہماری زندگی نئے مسائل سے دوچار ہے، نئے علوم اور نئے انکشافات ہمارے سامنے آچکے ہیں، ہمارے مطالبات قدیم زمانے کے مطالبات سے مختلف ہیں لہٰذا ہمارا ادب بھی نئی زندگی اور نئی اقدار کالازمی طور پر حامل ہوگا۔

Without ignoring the greatness and grandeur of ancient literature, our literary standard today will be the one that is formed by combining new social consciousness and modern elements of development. Photo: INN
قدیم ادب کی بزرگی اور عظمت کو نظراندازکئے بغیر آج ہماراادبی معیار وہی ہوگا جو نئے سماجی شعور اور ترقی کے جدید عناصر سے مل کر بنتاہے۔ تصویر: آئی این این

نئی دنیا کی تعمیر کے ساتھ ساتھ نئے تعمیری خیالات نئے ادبی تجربات اور فن کی نئی بلندیاں بھی لازمی طور پر پیدا ہوتی جائیں گی۔ ماضی کے ادب کی نہ تقلید کی جاسکتی ہے نہ تردید، اس سے استفادہ کیا جاسکتا ہے اور کیا جانا چاہئے۔ یہ ادب اپنے دور کے طبقاتی شعور کاآئینہ دار تھا۔ اس نے ہمیں بات کرنے اور بات سمجھنے کا ڈھنگ سکھایا ہے۔ یہ ہمارے تہذیبی ارتقاء کاآئینہ دار ہے۔ 
موجودہ ادب کے معیار پر بات ہو تو ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارا ادبی معیار وہی ہوگا جو قدیم ادبی معیار تھا۔ اگر نہیں تو کیا ہم اپنا قد یا اپنے ادب کاقد گزشتہ ادیبوں اور ادب کے قد سے ناپ سکتے ہیں۔ تاکہ ہم اپنی بلندی یا پستی کااندازہ کرسکیں۔ یا ہمیں اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے؟
جہاں تک سوال یہ ہے کہ کیا ہماراادبی معیار وہی ہوگا جو قدیم ادبی معیار تھا؟ ظاہر سی بات ہے کہ اگر ہم چاہیں بھی تو ایسا ممکن نہیں ہے۔ ہماری زندگی نئے مسائل سے دوچار ہے۔ نئے علوم اور نئے انکشافات ہمارے سامنے آچکے ہیں۔ ہمارے مطالبات قدیم زمانے کے مطالبات سے مختلف ہیں۔ لہٰذا ہمارا ادب بھی نئی زندگی اور نئی اقدار کالازمی طور پر حامل ہوگا۔ اس موقع پر بعض ادب دوست حضرات بول اٹھیں گے کہ ہمارے پیش رو ادیبوں نے بہت سی ایسی چیزیں دی ہیں جو آج بھی زندہ اور کارآمد ہیں۔ ہم ان کے کلام اور افکار کو بار بار پڑھتے ہیں اور لطف لیتے ہیں۔ غالبؔ کا دیوان اس زمانے میں جس قدر شائع ہوا اور پڑھا گیا اتنا اس سے قبل نہ پڑھا گیا نہ شائع ہوا۔ اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ غالب ہمیں زندہ تجربات دیتا ہے۔ یہ بات غلط نہیں ہے۔ حالانکہ شعراء کے کلام کی اشاعت میں صنعتی ترقیوں اور سماجی ادراک کی وسعتوں کابڑا دخل ہے۔ میرؔ، غالبؔ اور بہت سے شعراء اور ادباء کے مضامین نظم و نثر میں زندگی کی گہرائی اور گیرائی پائی جاتی ہیں لیکن ان کا وہی کلام زندہ ہے جو عوام کے احساسات کا ترجمان ہے۔ جن میں تمام لوگوں کے دلوں کی دھڑکنیں پائی جاتی ہیں۔ جو انسانی دردمندی اور فکر مندی کی دولت لئے ہوئے ہے۔ یہ کچھ عام یا مشترک انسانی جذبات ہیں جن کی ترجمانی سے ہم ہر دور میں متاثر ہوتے رہیں گے۔ ممکن ہے اس سے بعض لوگوں کے ذہن میں ازلی اور ابدی اقدار کا تصور پیدا ہوجائے اور وہ اس پر اصرار بھی کریں کہ ازلی اور ابدی اقدار کاوجود ہے مگر اس میں گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے۔ ہر دور میں عوام نے استحصال اور ظلم کے خلاف جدوجہد کی ہے اور اس جدوجہد نے ہر زمانے کے سماجی شعور کے مطابق ایسی فضا، ایسا ماحول دیا ہے جس میں حزینہ، نشاطیہ یا طنزیہ ادب پیدا ہوتا رہا ہے۔ یہ ماحول ہر بڑے شاعر یا ادیب کے افکارکونہ صرف اپنے زمانے کانمائندہ بتاتا ہے بلکہ آنے والا دور بھی ان کے افکار کے آئینے میں اپنے دیرینہ خدوخال کو دیکھتا ہے اور اپنے چہرے پر نئی آب و تاب پیدا کرتا ہے۔ جس طرح عوام غیرفانی ہیں، ازلی اور ابدی ہیں۔ اسی طرح وہ ادب بھی غیرفانی ہے جوان کا ترجمان ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اَدب اپنے نظریات ہی کی وجہ سے متعین ہوتا ہے

انسان نے ہر دور میں محنت اور جستجو سے زندگی کے ہر شعبہ میں نئی راہیں اور نئے موڑ پیدا کیے ہیں۔ ہم انہیں راہوں سے چل کر آج نئی منزلوں تک پہنچے ہیں۔ آج ہمارے سامنے نئی منزلیں ہیں لیکن اس کے یہ معنی تو نہیں ہیں کہ ہم ابتدائی سفر کے حالات سے نہ کوئی سروکار رکھتے ہیں نہ دلچسپی۔ بہت سے مفکرین اور مصنفین نے تاریخ اور معاشرت کے جو بنیادی مسائل پیش کیے ہیں ہم ان سے روگردانی نہیں کرسکتے۔ ارتقاء کے متعلق جو نظریات قائم کیے گئے ہیں اگر ہم انہیں بھول جائیں تو ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھاسکتے۔ ماضی کی تحقیق اور جستجو نے ہمیں ایک ایسا آلہ دیا ہے جسے ہم آئندہ مہم میں زیادہ تیزی اور صفائی کے ساتھ استعمال کرتے جائیں گے۔ سوال میرؔ و غالبؔ کے رد کرنے کا نہیں ہے نہ ازلی اور ابدی اقدار کے جھٹلانے کا ہے۔ دائمی اقدار عوام کی بقا کانام ہے۔ اس ارتقا اور ارتقا کے اس شعور کانام ہے جو ہمیشہ جاری اور باقی رہے گا۔ جو نئے سانچوں میں ڈھلتا چلا جائے گااور پہلے سے زیادہ واضح اور صاف ہوتا جائے گا۔ 
اسی لئے ان اقدار میں جمود و تعطل نہیں ہے۔ حرکت اور تغیر ہے۔ آگ کی دریافت ایک بنیادی کارنامہ تھا۔ مگر روشنی پیدا کرنے کے ذرائع نے پتھر کے دور سے اس وقت تک کتنے مراحل طے کیے ہیں یہ اس سے بڑا کارنامہ ہے۔ یہی حال ان بنیادی اقدار کاہے جن کا نام لے کر بہت سے ناکارہ لکھنے والے زمانے کی رو کو روکنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ وہ ان کو آگے بڑھانے اور نئے ماحول میں نئے انداز سے استعمال کرنے کی جگہ ’’فرسودگی‘‘ ہی کو روحِ اقدار سمجھ بیٹھے ہیں۔ 
اس سلسلے میں یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ میرؔ و غالبؔ اور دوسرے شعراء اور ادیبوں کاکلام ہم دوطرح سے دیکھتے ہیں، ایک تو تاریخی حیثیت سے ان کے کلام کی قدر و قیمت کاتعین کرتے ہیں۔ دوسرے ہم اپنے زمانے کے سماجی پس منظر میں ان سے متاثر ہوتے ہیں۔ بہت سے ایسے اشعار ہیں جن کا تاثر آج بالکل نیا سماجی شعور لئے ہوئے ہے، جو گزشتہ زمانے میں نہیں تھا:
لکھتے رہے جنوں کی حکایاتِ خوں چکاں 
ہرچند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے
آج اس شعر کی پسندیدگی غالب کے زمانے سے بالکل مختلف ہوسکتی ہے اور اس کا پس منظر بھی مختلف ہوسکتاہے۔ جنون کے انداز آج دوسرے ہیں اور ہاتھ قلم ہونے کے اسباب بھی بدلے ہوئے ہیں۔ اسی طرح بہت سے عشقیہ اشعار ایسے ہیں جن سے ہم اسی حالت میں لطف اندوز ہوسکتے ہیں جب وہ ہمارے جذباتی تجربات سے ہم آہنگ ہوں ورنہ تصوف کے اشعار کی طرح وہ ہمارے لئے بے سود اور بے کیف بن جاتے ہیں۔ بہرحال اس تمام بحث سے ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ قدیم ادب کی بزرگی اور عظمت کو نظراندازکئے بغیر آج ہماراادبی معیار وہی ہوگا جو نئے سماجی شعور اور ترقی کے جدید عناصر سے مل کر بنتاہے۔ بہ الفاظِ دیگر نئے ادب کا معیار بھی نیا ہوگا۔ 
اب سوال کے دوسرے حصہ کو لیجئے۔ کیا ہم اپنا قد یا اپنے ادب کا قد گزشتہ ادیبوں یا ادب سے ناپ سکتے ہیں تاکہ ہم اپنی بلندی یا پستی سے آگاہ ہوسکیں ؟ یا ہمیں اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے؟ یہ سوال بھی دراصل ادب کے معیار ہی سے وابستہ ہے۔ اس سلسلے میں بعض ایسی آوازیں بھی اٹھتی ہیں کہ ہمارا معیار یا ہمارے ادب کامعیار میرؔ، غالبؔ، انیسؔ، اقبالؔ اور جوشؔ ہیں۔ حالانکہ ان شعراء میں سے کوئی بھی کسی ایک کامعیار نہیں قراردیاجاسکتا۔ سب کے مقامات اور سب کا معیار الگ الگ ہے۔ میرؔ کا ادبی معیار خود میرتھے نہ کہ غالبؔ۔ فکری اور جذباتی حیثیت سے ان شعراءکے اکتسابات بالکل علیحدہ ہیں۔ زیادہ سے زیادہ جو چیز ان میں مشترک کہی جاسکتی ہے وہ ایک ادبی سطح ہے۔ جو مختلف نوعیتوں کے باوصف ایک عام بلندی رکھتی ہے۔ یہ کوئی ایسی کسوٹی نہیں ہے جس پر ہر ادیب کا پورا اترنا لازمی ہے ورنہ اس کاکلام معیارسے گرجائے گا۔ ان خیالات کے حامیوں کے لئے ادب کو ان میں سے کسی ایک شاعرکی موت کے بعد ختم ہوجانا چاہئے۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ ہر نیا شاعر اور ادیب اپنا معیار اپنے زمانے کے لحاظ سے لے کر خود آتا ہے۔ اس معیار کی بلندی یا پستی خود اس کے ادراک اور اظہار کی بلندی یا پستی پر منحصر ہے، جب ہم ان شعراء کو بطور معیار پیش کرتے ہیں تو غالباً ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اردو ادب کی ایک سطح، ایک مزاج قائم ہوچکا ہے جس کالحاظ ضروری ہے۔ یہ لحاظ، یہ خیال ہم اسی وقت رکھ سکتے ہیں اور سطح بلند اسی وقت ہوسکتی ہے جب ہم زمانے کے مطالبات کالحاظ رکھیں اور نئے تقاضوں کے مزاج سے واقف ہوں۔ بغیر اس کے ادبی معیار لفظوں کی بازیگری کے سوا اور کچھ نہ ہوگا۔ اب رہ گیا قد کے ناپنے کامسئلہ تو فی الحقیقت یہ اپنے ادب سے واقفیت اور محبت کاسوال ہے!
یہ دیکھنا کہ ہمارا ادب کتنی منزلیں طے کرچکا ہے ہمارے یہاں الفاظ اور مضامین کا سرمایہ کس حد تک ہے، فن کی تکمیل کہاں تک ہوچکی ہے، ہم گزشتہ ادب اور ادیبوں سے کیا کچھ سیکھ سکتے ہیں وغیرہ یہ تمام باتیں کسی ’’تجارتی مقابلہ‘‘ کی حیثیت نہیں رکھتیں۔ یہ واقفیت، یہ آگاہی ہرادیب کے لئے ضروری ہے۔ قد ناپنے کے معنی نہ تقلید ہے نہ تحقیر۔ نہ اندھی محبت، نہ اس کے ذریعہ اپنی پستی یا بلندی کااحساس۔ نئی عمارتوں کی تعمیر، نئے حوصلے، نیا ڈھنگ اور نیا مسالہ چاہتی ہے۔ تاج محل سے پہلے اور تاج محل کے بعد بھی عمارتیں تعمیر ہوتی رہی ہیں اور ہوتی رہیں گی۔ 
(طویل مضمون سے)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK