لاک ڈائون : ادباء و شعرا ء نےکون سی کتابیں پڑھیں؟

Updated: July 27, 2020, 10:32 AM IST | Mubasshir Akbar

کورونا وائرس کے سبب ہونے والے لاک ڈائون سے اگر معیشت ، حکومت ، سماج اور عوام نالاں ہیں تو ان ایام نے تخلیقی اذہان کے حامل افراد کو اپنی صلاحیت بروئے کار لانے کے وافر مواقع بھی فراہم کئے ہیں۔

Books - Pic : INN
کتابیں ۔ تصویر : آئی این این

کورونا وائرس کے سبب ہونے والے لاک ڈائون سے اگر معیشت ، حکومت ، سماج  اور عوام  نالاں ہیں تو  ان  ایام نے تخلیقی اذہان کے حامل افراد کو اپنی صلاحیت بروئے کار لانے کے وافر مواقع بھی فراہم  کئے ہیں۔ یہ ایام مطالعہ کے شوقین افراد کیلئے کسی نعمت غیر مترقبہ سے کم ثابت نہیں ہوئے ہیں۔ اس ہفتے ہم نے ایسے ہی چند ادباء و شعراء سے گفتگو کی اور ان سے جاننا چاہا کہ لاک ڈائون کے دوران ان کے زیر مطالعہ کون کون سی کتابیں رہیں۔
 ملک کی صف اول کی ادیبہ، ناول نگار اور افسانہ نگار ڈاکٹر صادقہ نواب سحر نے بتایا کہ یو ں تو ان ۴؍ ماہ میں ان کے زیر مطالعہ متعدد کتابیں رہیں لیکن وہ جن کا خاص طور پر ذکر کرنا چاہیں گی وہ ہیں مشہور ادیبہ امریتا پریتم کی یادداشتوں پر مشتمل کتاب ’رسیدی ٹکٹ‘۔  ڈاکٹر صادقہ نواب کےمطابق یہ کتاب اپنے موضوع کے لحاظ سے بالکل اچھوتی کتاب ہے جس میں کافی بولڈ انداز میں امریتا پریتم  نے اپنی زندگی کے واقعات بیان کئے ہیں۔اس کے علاوہ رفیق جعفر کی ترتیب کردہ’ اردو ادب کے ۳؍ بھائی‘ جو مشہور طنز و مزاح نگار مجتبیٰ حسین  اور ان کے بھائیوں کے حالات زندگی پر مشتمل ہے ،  بھی قابل توجہ ہے۔ اس میں مجتبیٰ حسین کے بارے میں کافی قریب سے دیکھے گئے حالات کو یکجا کیا گیا ہے جو میرا خیال ہے کسی اور کتاب میں ملنا مشکل ہے۔ صادقہ نواب نے مزید کہا کہ اس کے علاوہ اقبال متین کا ناول ’چراغ تہ داماں ‘ بھی ان کے زیر مطالعہ رہا ۔ یہ کافی بولڈ موضوع پر لکھا گیا ناول ہے اور ان کے خیال میں اردو ادب میں اس سے قبل کسی نے بھی یہ تجربہ نہیں کیا ہے۔اس کے ساتھ ہی ’اردو ادب کے تین ستون‘ جس میں مجتبیٰ حسین ، مشتاق احمد یوسفی اور یوسف ناظم کا ذکر خیر ہے ، پڑھے جانے کے قابل ہے۔ ڈاکٹر صادقہ نواب نے بتایا کہ اس کے علاوہ انہوں نے لاک ڈائون کے عرصے میں مغربی ادب سے کچھ افسانے بھی پڑھے ہیں لیکن جن کتابوں کا انہوں نے ذکر کیا ہے وہ اردو کے ہر قاری کو پڑھنی چاہئیں ۔
 ممتاز شاعر ،ادیب اور ترجمہ نگار ڈاکٹر ذاکر خان ذاکر نے بتایا کہ ’’ اس لاک ڈائون کومیں نے بھی غنیمت جانا اور اپنے مطالعے کو وسعت دینے کے لئے اردو کے ساتھ ساتھ دیگر زبانوں کے ادب پر بھی نظر ڈالی۔ مجھے ہندی زبان میں تحریر کردہ ارشاد کامل کی کتاب سمکالین ہندی کویتا(معاصر ہندی نظم)انگریزی زبان میں تحریر کردہ خواجہ افتخار احمد کی زیرطباعت کتاب’ میٹنگ آف مائنڈس‘ اور ڈاکٹر قمر صدیقی کے شعری مجموعہ ’’شب آویز‘‘ نے کافی متاثر کیا۔‘‘ ذاکر خان ذاکر کے مطابق  سمکالین ہندی کویتا میں ارشاد کامل نے ہندی نظم کے ماضی حال اور مستقبل پر سیر حاصل بحث کی ہے ۔ اسی طرح انہوں نے ہندی نظم کی ساخت اس کی اہمیت و افادیت،مستقبل میں لاحق خطرات و خدشات اور ان کے سد باب کو بھی اپنا موضوع بنایا ہے۔یقیناً یہ کتاب ہندی ادب میں ایک گراں قدر اضافہ ہی نہیں یونیورسٹی اور کالجوں کے طلبا کے لئے بہترین سرمایہ بھی ہے۔اس کتاب کو ریسرچ کرنے والے طلبہ (خصوصاً ہندی والے)ریفرنس بک کے طور پر استعمال کرسکتے ہیں۔ انہوں نے دوسری کتاب کے بارے میں بتایا کہ خواجہ افتخار احمد صاحب کی کتاب ’’میٹنگ آف مائنڈس ‘‘فی الوقت طباعت کے مرحلے میں لیکن کسی طرح وہ کتاب مجھ تک پہنچ گئی اور جب میں نے اسے پڑھنا شروع کیا تو پھر پڑھتا ہی رہا۔اس کتاب کے مصنف کا شمار بہترین سیاسی مبصرین میں ہوتا ہے ۔آپ گزشتہ تین دہائیوں سے ہندو مسلم اتحاد کے لیے کوشاں ہیں۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ یہ چیز کتاب کے ہر دوسرے صفحے پر ہمیں نظر آتی ہے۔ یقیناً جب یہ کتاب منظرِ عام پر آئے گی تب اس کی حیثیت کتاب سے زیادہ ایک تاریخی دستاویز کی ہوگی۔ خواجہ افتخار نے اس کتاب میں بے شمار سلگتے ہوئے سماجی مسائل کو اٹھانے اور ان کا حل پیش کرنے کی کوشش کی ہے ۔  لاک ڈائون کے دوران تیسری کتاب جو  ذاکر خان ذاکر کے مطالعے کا حصہ رہی وہ ڈاکٹر قمر صدیقی کا شعری مجموعہ ’’شب آویز‘‘ ہے۔ اس شعری مجموعہ کا نام اتنا متاثر کن ہے کہ یہ پہلی نظر ہی میں قارئین کو اپنی جانب راغب کرلیتا ہے۔ اس شعری مجموعہ میں  انہوںنے صرف منتخب تخلیقات ہی پیش کی ہیں اس لئے کچھ حد تک اس کی ضخامت کم ہے لیکن معنویت گہری ہے۔ مجموعہ بیشتر غزلوں اور چند نظموں پر مشتمل ہے۔ نظمیں عصری تقاضوں کی عکاس اور فرحت بخش ہیں۔ 
 معروف شاعر اورادیب خان حسنین عاقب نے لاک ڈائون میں مطالعہ کے تعلق سے بتایا کہ ’’مشہور ہے کہ کتابوں کے بغیر شیلف ایسے ہی ہے جیسے پانی کے بغیر گلاس۔ لاک ڈاؤن نے فراغت کے لمحات فراہم کئے تو لکھنے کے ساتھ ساتھ مطالعہ بھی جاری تھا۔ اس دوران اکبر کے درباری مورخ ملا عبدالقادر بدایونی کی منتخب التواریخ کی دو جلدوں نے ذوق مطالعہ کو باندھ کر رکھا تو محمد حسین آزاد کی سخن دانِ فارس نے فارسی زبان اور سرزمین ایران کے بارے میں بہت سی غیرمعروف باتیں بتائیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ گوپی چند نارنگ اپنی کتاب `ساختیات، پس ساختیات اور مشرقی شعریات کے ذریعے مشرقی شعریات کے حوالے سے تنقیدی نظریات کی عقدہ کشائی کے نام پر لسانیات کے سبق پڑھانے لگے۔یہ ضخیم کتاب ختم نہ ہوئی تھی کہ ساغر صدیقی کے افسانوی مجموعے `دروازہ اور سفرنامہ `القدس کی اذان نے اپنی طرف متوجہ کرلیا۔  دریں اثناء صبیح رحمانی کی ادارت میں نکلنے والے ضخیم رسالے `نعت رنگ (کراچی) کے دو شماروں نے نعت گوئی کے شعبے میں تنقید و تحقیق کے امکانات کو نشان زد کیا وہیں نعت رنگ طرز پر ملک سے  ڈاکٹر سراج احمد قادری کی ادارت میں نکلنے والے ضخیم رسالے `دبستانِ نعت کے مطالعے نے ذہن و دل کو منور کردیا۔ حسنین عاقب کے مطابق ان کتابوں کے علاوہ ان دنوں سوشل میڈیا، خاص طور پر وہاٹس ایپ گروپوں میں عصری موضوعات پر مختلف النوع تحریروں کو پڑھنے کا بھی موقع ملا حالانکہ موبائل فون پر پڑھ پانا  ان کے لئے معمول کی بات نہیں ہے لیکن   مطالعہ کا شوق رکھنے والوں کے لئے لاک ڈاؤن کسی غنیمت سے کم  بھی نہیں رہا۔
  نوجوان تجزیہ نگار اور ادیب تنویر اشرف  بتایا کہ’’ لاک ڈاؤن کے ان ایام میں جہاں پوری دنیا  بے چینی کا شکار ہوگئی _ اس دوران شعر و ادب سے تعلق رکھنے والا حصّہ بھی متاثر ہوا۔ _ ہم نے بھی اپنے آپ کو بطورِ احتیاطی تدبیر کچھ دنوں تک گھر کی چار دیواری میں محفوظ کرلیا ۔ _ اس دوران ذہنی سکون کے  لئے مطالعہ عروج پر تھا۔ ‘‘  تنویر اشرف کے مطابق  اس لاک ڈائون کے دوران انہوں نے جن کتابوں کا مطالعہ کیا ان میں بارگاہِ وارث دیوے شریف کے خانقاہی صوفی شاعر حضرت بیدم شاہ وارثیؒ کی ’کلیات بیدم‘، اسی کے ساتھ عرفان صدیقی کی کلیات ’شہر ملال‘ شامل ہیں۔ نثری ادب میں ’منٹو کے نادر خطوط‘ ، ’منٹو کے اٹھارہ گمشدہ افسانے ‘ اور ’بابا ذہین شاہ تاجی کی علمی و فکری خدمات کا تحقیقی جائزہ‘ زیر مطالعہ رہیں۔  انہوں نے بتایا کہ گزشتہ کچھ  دنوںسے  پڑوسی ملک کے نوجوان شاعر قمر آسی کی حمد و نعت پر مشتمل کتاب ’عطا‘ کا مطالعہ  جاری ہے۔ ساتھ ہی اس دوران انہیں صنف مرثیہ میں میر انیس کے مرثیے اور اُن پر کئے گئے تحقیقی کاموں پر مشتمل کتاب کی ورق گردانی کا موقع بھی ملا اور  انہوں نے اس موقع سے خوب فائدہ اٹھاتے ہوئے پروفیسر سید مسعود حسین رضوی ادیب کی تالیف کردہ کتاب ’رزم نامۂ انیس و دبیر‘  اورڈا کٹر سید رضوان حیدر کی کتاب ’رموزِ کلام انیس‘ کا مطالعہ بھی کیا

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK