مہوا ’بمقابلہ‘ ممتا

Updated: December 14, 2021, 8:23 AM IST | Mumbai

ترنمول کانگریس کی ایک داخلی میٹنگ میں پارٹی کی سب سے قدآوراور بہادر لیڈر ممتا بنرجی نے، جو مغربی بنگال میں حاصل ہونے والی تاریخی کامیابی کے بعد پارٹی کی توسیع میں شبانہ روز مصروف ہیں

Trinamool chief Mamata Banerjee
ترنمول سربراہ ممتا بنرجی

ترنمول کانگریس کی ایک داخلی میٹنگ میں پارٹی کی سب سے قدآوراور بہادر لیڈر ممتا بنرجی نے، جو مغربی بنگال میں حاصل ہونے والی تاریخی کامیابی کے بعد پارٹی کی توسیع میں شبانہ روز مصروف ہیں، مہوا موئترا کو کچھ تنبیہ کی۔ اس پر میڈیا کا وہ طبقہ جو پارلیمنٹ میں مہوا کی جرأت مندانہ تقاریر سے نالاں تھا مگر اپنے مزاج کا منفی تبصرہ نہیں کرپارہا تھا، بغلیں بجانے لگا کہ ممتا نے مہوا کو بھری محفل میں ڈانٹا، تاثر یہ دینے کی کوشش کی گئی کہ اُنہیں بے عزت ہونا پڑا ہے۔ 
  مگر غیر جانبداری سے اس ’تنبیہ‘ کا ویڈیو دیکھا جائے تو محسوس ہوگا کہ یہ سرزنش یا گوشمالی نہیں ہے، پارٹی میں گروہ بندی کے خلاف تنبیہ کے علاوہ کچھ نہیں ہے جس پر مہوا کو اثبات میں سر ہلاتے ہوئے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ دراصل مہوا جس نادیہ ضلع کی ذمہ دار تھیں، وہاں سے گروہ بندی کی خبریں ممتا تک پہنچی تھیں۔ اگر ممتا اُسی طرح ناراض ہوتیں جیسا اُن کا اسٹائل ہے تو مہوا کو گوا کی ذمہ داری نہ دی جاتی جو تری پورہ اور میگھالیہ وغیرہ کے بعد ٹی ایم سی کی توسیع پسندانہ سیاست کا نیا مرکز ہے۔ اس چھوٹی ریاست سے پارٹی کی بڑی اُمیدیں وابستہ ہیں۔ مہوا پر بھروسہ کرکے ہی اُنہیں اتنی بڑی ذمہ داری دی گئی ہے۔ اس لئے جو لوگ بالخصوص میڈیا جنہوں نے کہا کہ ’’ممتا نے مہوا کی کلاس لگائی‘‘ وہ رائی کا پربت بنانے کی کوشش کررہے تھے۔ اب بھی وہ ڈھونڈ ڈھونڈ کر  ایسی خبریں تیار کررہے ہیں جن میں مہوا کی تحقیر کا عنصر غالب ہے۔یہ دھاندلی تو ہے ہی، خبروں کے ذریعہ بے پرکی اُڑانے کی بھی کوشش ہے۔
  دو روز قبل ایک ہندی ویب سائٹ نے ایک خبر جاری کی جو بی جے پی کے رکن پارلیمان سومتر خان کی ’’پیش گوئی‘‘ پر مبنی ہے۔ اس کا کوئی سر پیر نہیں ہے۔ سومتر نے اپنے سیاسی کریئر کا آغاز انڈین نیشنل کانگریس سے کیا تھا۔ اس کے بعد ترنمول میں شامل ہوگئے اور پھر بی جے پی کی راہ لی۔ وہ کانگریس کے ایم ایل اے رہے اور ترنمول کے ایم پی۔ بی جے پی کے حق میں اُن کا ’’ہردے پریورتن‘‘ ۲۰۱۹ء کے اوائل میں ہوا۔ اُنہوں نے پیش گوئی کی کہ ۲۰۲۴ء کے لوک سبھا انتخابات سے قبل مہوا بی جے پی میں شامل ہوجائینگی کیونکہ اُنہیں ترنمول سے ٹکٹ ملنے کی اُمید نہیں ہے۔ سیاست ایک کھلا میدان ہے جس میں جو شخص جس رُخ پر چلنا چاہے چل سکتا ہے۔ محض چند برسوں کے دوران اگر سومتر خان تین پارٹیوں کو گلے لگا سکتے ہیں تو دوسروں کو بھی اس کا حق ہے مگر مہوا بی جے پی میں شامل ہوں یہ ممکن نہیں ہے۔ وہ بی جے پی اور آر ایس ایس کو خصوصی تنقید کا نشانہ بناتی رہی ہیں۔ اُن کا تعلیمی اور پیشہ جاتی پس منظر بھی مختلف ہے۔ جے پی مورگن جیسے ادارے سے وابستہ رہنے کے بعد اُن کی شخصیت کسی نہ کسی درجے میں بین الاقوامی ہے۔ عوامی نمائندہ کی حیثیت سے مہوا کی ساکھ اس قدر مضبوط ہے کہ وہ جس پارٹی سے وابستہ ہوں گی، اُس کو فیض یاب کریں گی، اس لئے ہم نہیں سمجھتے کہ ممتا، مہوا کو ٹکٹ نہیں دیں گی۔ ویسے ٹکٹ دینے نہ دینے کا مرحلہ ابھی بہت دور ہے۔ اس سے پہلے یہ ممکن ہے کہ اگر مہوا نے ترنمول میں اپنے سیاسی امکانات محدود ہوتے دیکھے تو وہ ازخود علاحدہ ہوجائیں۔ 
 بالفرض ایسا ہوا تو وہ اُس پارٹی (انڈین نیشنل کانگریس) کا رُخ کیوں نہیں کریں گی جہاں سے ترنمول میں آئی ہیں؟ بہرکیف یہ بھی قیاس ہے۔ فی الحال، اس بات کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا کہ وہ ترنمول کو خیر باد کہہ دیں۔n

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK