بحران کے وقت ممتا کے جوہر مرجھانے کے بجائے اور زیادہ نکھر کر سامنے آتے ہیں اور چیلنجز ان کا حوصلہ توڑتے نہیں بلکہ بڑھاتے ہیں۔ ای ڈی کے چھاپوں سے خوفزدہ ہونے کے بجائے ممتا نے انہیں بی جے پی کے خلاف انتخابی ہتھیار بنا لیا ہے۔
EPAPER
Updated: January 14, 2026, 7:57 AM IST | Kolkata
بحران کے وقت ممتا کے جوہر مرجھانے کے بجائے اور زیادہ نکھر کر سامنے آتے ہیں اور چیلنجز ان کا حوصلہ توڑتے نہیں بلکہ بڑھاتے ہیں۔ ای ڈی کے چھاپوں سے خوفزدہ ہونے کے بجائے ممتا نے انہیں بی جے پی کے خلاف انتخابی ہتھیار بنا لیا ہے۔
پندرہ دن قبل کلکتہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے مقامی لیڈروں اور کارکنان کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جب امیت شاہ نے یہ کہا کہ لکھ کر لو ، اس بار بنگال میں ہماری سرکارضرور بنے گی، تو بہت سے لوگ اس بات پر حیران تھے کہ وزیر داخلہ نے اتنے وثوق سے یہ دعویٰ کیسے کردیا۔پچھلے ہفتے جب ممتا بنرجی نے یہ دھماکہ خیز اعلان کیاکہ آئی۔ پیک کے دفاتر اور سیاسی مشاورتی ادارہ کے سربراہ کی رہائش گاہ پر ای ڈی کے چھاپے کسی گھوٹالے کی تحقیقات کیلئے نہیں بلکہ ترنمول کانگریس کی انتخابی تیاریوں کا مکمل پلان ’’چرانے‘‘ کیلئے مارے گئے تھے تب پتہ چلا کہ امیت شاہ کی خود اعتمادی کا راز کیا تھا۔ امتحان سے قبل سوالنامہ جب اسٹوڈنٹ کے ہاتھ لگ جائے تو پھر امتحان میں اس کی کامیابی تو یقینی ہے۔ ممتا کا الزام ہے کہ چونکہ بی جے پی سیاسی مقابلے میں انہیں ہرا نہیں سکتی اسی لئے ای ڈی اور ای سی کی بیساکھیوں کے سہارے الیکشن جیتنے کی سازش کر رہی ہے۔مہاراشٹر، دلی، جھارکنڈ اور بہار جیسے صوبوں میں اسمبلی انتخابات کے قبل بی جے پی کی مخالف پارٹیوں کو جانچ ایجنسیوں نے اسی طرح نشانہ بنایا تھا۔اسی لئے لوگوں کو ممتا کے الزام میں دم نظر آرہا ہے۔
لیکن بنگال میں اپنی پرانی چال دہراتے ہوئے بی جے پی یہ بھول گئی کہ ممتا مصائب کو مواقع بنانے کا فن جانتی ہیں۔دوسرے علاقائی لیڈران مرکزی جانچ ایجنسیوں کے چھاپوں کے وقت خاموش تماشا ئی بنے رہنے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں لیکن ممتا تو کسی اور ہی مٹی کی بنی ہیں۔ اسلئے ۸؍جنوری کے دن ممتا بلا خوف آئی۔پیک کے دفتر اور ادارے کے سربراہ پرتیک جین کے گھر پہنچ گئیں اور ای ڈی کی تحویل سے اہم دستاویزات چھین کر اپنے ساتھ لے گئیں۔ای ڈی کے چھاپوں سے توپورا ہندوستان واقف ہے لیکن ای ڈی کے چھاپے پر چھاپہ پڑتے ملک نے پہلی بار دیکھا۔ یہ کارنامہ ممتا ہی سر انجام دے سکتی تھیں۔ملک کے وزیر داخلہ کو "nasty"اور "naughty"کے القابات سے بھی ممتا ہی نواز سکتی تھیں اور کوئلہ کی دلالی میں ان کا ہاتھ کالا ہونے کا الزام لگانے کی جرأت بھی ممتا ہی کر سکتی تھیں۔ یہی نہیں ای ڈی پر تھانوں میں ایف آئی آراور ہائی کورٹ میں مقدمے درج کروانے کا حوصلہ بھی ممتا ہی دکھا سکتی تھیں۔
کسی بحران کے وقت ممتاکے جوہر مرجھانے کی بجائے اور زیادہ نکھر کر سامنے آتے ہیں۔ چیلنجزان کا حوصلہ توڑنے کی بجائے حوصلہ بڑھاتے ہیں۔ ممتا نے ۳۰؍ سال کی طویل اور صبر آزما لڑائی کے بعد ۲۰۱۱ء میں بایاں محاذ کواکھاڑ پھینکا تھالیکن چونکہ احتجاجی اور مزاحمتی سیاست ان کی خمیر میں شامل ہے اس لئے وہ آج بھی ہمہ وقت جلسے، جلوسوں اور ریلیوں کے لئے تیار رہتی ہیں۔ پندرہ سالوں سے ایک اہم صوبے کی وزیر اعلیٰ ہونے کے باوجوداقتدار کی آسائشوں نے مزاحمت اور محاذ آرائی کی ان کی فطری جبلت کو ذرا بھی متاثر نہیں کیا ہے۔اسی لئے ای ڈی سے دو دو ہاتھ کرنے کے بعد دوسرے دن ہی ممتا نے کلکتہ کی سڑکوں پر اور ترنمول کانگریس کے اراکین پارلیمان نے دلی میں وزیر داخلہ کے دفتر کے سامنے مودی سرکار کے خلاف مورچہ کھول دیا۔
ممتا کے اس جارحانہ ردعمل کا اگر ذرا بھی اندازہ ہوتا تو شاید ای ڈی آئی۔پیک کے دفتر پر چھاپے مارنے کی غلطی نہ کرتی۔ ای ڈی کے چھاپوں کے بعد ممتا کے تیوراور لہجہ مزید سخت ہوگئے ہیں۔وہ بنگال میں اپنی پندرہ سالہ سلطنت کو بی جے پی کے یلغار سے محفوظ رکھنے کیلئے بڑی لڑائی کے لئے میدان میں اتر چکی ہیں۔ممتا ستر سال کی ہوچکی ہیں لیکن ان کی اسٹریٹ فائٹر کی اسپرٹ پوری طرح برقرار ہے۔ وہ پچھلے دو ماہ سے ووٹر لسٹ پر نظر ثانی کے نام پر الیکشن کمیشن(ای سی) کے نئے نئے ہتھکنڈوں کا مقابلہ کررہی تھیں کہ آٹھ جنوری کو اچانک ان پر ای ڈی کی افتاد آپڑی لیکن ممتا اس نئی مصیبت سے پریشان ہونے کے بجائے ڈٹ کر اس کا مقابلہ کرنے نکل پڑیں۔
ایس آئی آر کے بہانے لاکھوں ووٹروں کو ان کے حق رائے دہندگی سے محروم رکھنے کی یاای ڈی کی کوئلہ گھوٹالہ کی جانچ کے نام پر ترنمول کانگریس کے انتخابی تیاریوں کے بلیو پرنٹ کو ہائی جیک کرنے کی سازش کو ممتا پوری قوت سے ناکام بنانے پر تلی ہیں۔ امیت شاہ کسی بھی قیمت پر بنگال میں کمل کھلتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔ بی جے پی کے مقامی لیڈروں کو یہ کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے کہ وہ ووٹروں کو پولرائز کرنے کیلئے جم کر فرقہ پرستی کا کارڈ کھیلیں۔ مغربی بنگال اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شوبھیندو ادھیکاری نے حال میں ڈنکے کی چوٹ پر یہ اعلان کیا کہ اگر بی جے پی کو صوبے کے ۸۵؍ فی صد ہندو ووٹروں کی حمایت حاصل ہوجائے تو بنگال میں ممتا بنرجی کی حکومت کا خاتمہ یقینی ہے۔یہ اس بات کا اعلان تھا کہ بی جے پی نے سیکولرپارلیمانی جمہوریت کا جنازہ نکالنے کا پورا انتظام کرلیا ہے۔ بنگلہ دیش میں ہندوؤں پر ڈھائے جانے والے مظالم کا زور شور سے پروپیگنڈہ کرکے مغربی بنگال کے ہندوؤں کا یہ برین واش بھی کیا جارہا ہے کہ اگر انہوں نے اس بار ممتا بنرجی کو اقتدار سے نہیں ہٹایا تو بنگال میں بھی ان کے لئے زمین تنگ کردی جائے گی۔
لیکن ترنمول کانگریس پارٹی کے انتخابی کنٹرول روم میں ای ڈی کے چھاپوں سے یہ گمان ہورہا ہے کہ امیت شاہ کے دعوے کے باوجود بی جے پی بنگال کے الیکشن سے قبل نروس ہے۔بی جے پی کو ادراک ہوگیا کہ بنگال کی دھرتی شاید ابھی بھی پوری طرح مذہبی پولرائزیشن کے لئے زرخیز نہیں ہوسکی ہے اور بنگال کی فضاؤں میں ا بھی فرقہ پرستی کا زہر پوری طرح نہیں گھل سکا ہے۔ شاید اسی لئے ای ڈی کو اتارا گیا لیکن بی جے پی کی چال الٹی پڑگئی۔ ای ڈی کے چھاپوں سے خوف زدہ ہونے کی بجائے ممتاانہیں کیش کرارہی ہیں۔ انہوں نے جس انداز سے ای ڈی کی چالوں کو ناکام بنایا اس کی وجہ سے نہ صرف دیدی کے حامیوں کی نگاہ میں ان کی قدر ومنزلت میں اضافہ ہوا ہے بلکہ ان کے ناقدین بھی ان کی دلیری کی داد دینے پر مجبور ہوگئے ہیں۔یہی نہیں ممتا نے ان چھاپوں کو بنگال کی شناخت، ثقافت اور وقار پر بی جے پی کا حملہ قراردے کر اسے بہت بڑا انتخابی ایشو بنادیا ہے۔ ۸؍ جنوری کے چھاپوں کے ۴۸؍گھنٹوں کے اندر ترنمول کانگریس نے تین منٹ کا انتخابی پرچار ترانہ جاری کردیا جس کے بول ہیں ’’جوتوای کورو حاملا، آبار جیتبے بانگلا‘‘ (تم جتنے چاہو وار کرلو، ایک بار پھر جیتے گا بنگال)۔ ممتا دراصل بی جے پی کو یہ پیغام دے رہی ہیں کہ وہ خواہ جتنے ہتھکنڈے استعمال کرلے اس بار بھی ممتا کو اقتدار میں آنے سے نہیں روک سکے گی۔ اسمبلی انتخابات کا نتیجہ کیا نکلے گا یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ ہاں یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ قبل ا ز انتخاب جو مقابلہ تھا اس میں ممتا بنرجی کی فتح ہوئی ہے۔ n