• Wed, 11 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

لوک سبھا: ابھیشیک بنرجی نے ’’ٹو انڈیاز‘‘ کا حوالہ دیا، بحث تیز، ویر داس کا ردعمل

Updated: February 11, 2026, 5:00 PM IST | Mumbai

کامیڈین ویر داس نے لوک سبھا میں ابھیشیک بنرجی کی تقریر میں اپنی مشہور تقریر ’’ٹو انڈیاز‘‘ کا حوالہ دیے جانے پر ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مزاح سماجی حقیقتوں کی عکاسی کرتا ہے، مگر پارلیمانی سیاق میں اس کا استعمال ذمہ داری کا متقاضی ہے۔

Vir Das. Photo: INN
ویر داس۔ تصویر: آئی این این

ہندوستانی اسٹینڈ اَپ کامیڈین ویر داس نے لوک سبھا میں ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی کی تقریر پر ردعمل ظاہر کیا کیا ہے۔ بنرجی نے ویر داس کی مشہور کامیڈی روٹینTwo Indias کا حوالہ دیتے ہوئے ملک میں موجود سماجی و معاشی تضادات پر بات کی تھی۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ابھیشیک بنرجی نے پارلیمنٹ میں خطاب کے دوران کہا کہ ہندوستان بظاہر ایک ملک ہے، مگر زمینی حقیقت میں مختلف طبقات، مواقع اور تجربات کے اعتبار سے کئی ’’ہندوستان‘‘ موجود ہیں۔ انہوں نے اپنی بات کو تقویت دینے کے لیے ویر داس کی ’’ٹو انڈیاز‘‘ روٹین کا حوالہ دیا، جس میں کامیڈین نے بیرونِ ملک ایک شو کے دوران ترقی اور تضاد کے پہلوؤں کو مزاحیہ مگر تنقیدی انداز میں پیش کیا تھا۔ ویر داس نے اس حوالہ پر سوشل میڈیا کے ذریعے ردعمل ظاہر کیا کہ مزاح کا مقصد معاشرتی آئینہ دکھانا ہوتا ہے۔ ان کے مطابق ’’جب ایک فنکار اسٹیج پر بات کرتا ہے تو وہ اپنے مشاہدات اور تجربات پیش کرتا ہے، لیکن جب وہی الفاظ پارلیمنٹ میں دہرائے جائیں تو ان کی معنویت اور اثر دونوں بدل جاتے ہیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی نمائندوں کو الفاظ کے استعمال میں زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے کیونکہ پارلیمنٹ قومی پالیسی اور سنجیدہ مباحث کا فورم ہے۔یاد رہے کہ ویر داس کی ’’ٹو انڈیاز‘‘ روٹین پہلے بھی تنازع کا باعث بن چکی تھی، جہاں کچھ حلقوں نے اسے اظہارِ رائے کی آزادی قرار دیا جبکہ دیگر نے اسے ملک کی شبیہ کے خلاف سمجھا۔ اب جب اسی مواد کا حوالہ لوک سبھا میں دیا گیا، تو اس پر سیاسی اور سماجی حلقوں میں نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ تقریر اور ویر داس کے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف آراء سامنے آئیں۔ بعض صارفین نے کہا کہ سیاستدانوں کو عوامی احساسات اجاگر کرنے کے لیے ہر ممکن حوالہ دینے کا حق ہے جبکہ دیگر کا کہنا تھا کہ کامیڈی کو پارلیمانی مباحث کا حصہ بنانا حساس معاملہ ہے۔ کچھ صارفین نے ویر داس کے موقف کو متوازن قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے نہ کسی کی حمایت کی اور نہ مخالفت، بلکہ سیاق و سباق کی اہمیت اجاگر کی۔

تاحال اس معاملے پر کسی قانونی کارروائی یا باضابطہ پارلیمانی اعتراض کی اطلاع نہیں ملی۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس سوال کو دوبارہ زندہ کرتا ہے کہ فن، مزاح اور سیاست کے درمیان حد کہاں قائم کی جائے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، ویر داس کا ردعمل محتاط اور سفارتی نوعیت کا ہے۔ انہوں نے نہ صرف اپنی تخلیقی آزادی کا دفاع کیا بلکہ یہ بھی واضح کیا کہ سیاسی فورمز پر مزاح کے استعمال میں اضافی ذمہ داری درکار ہوتی ہے۔ فی الحال یہ معاملہ عوامی بحث تک محدود ہے، مگر اس نے ایک بار پھر آزادیِ اظہار، سیاسی بیانیے اور فنکارانہ اظہار کے درمیان توازن کے سوال کو نمایاں کر دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK