مندیپ پونیا کی ڈائری

Updated: February 22, 2021, 1:48 PM IST | Abuikhlas

میری بیوی مرہم لگاتے وقت روتی رہتی ہیں ۔ انہیں کیا بتاؤں کہ ان کے رونے سے زخم اور ہرے ہوجاتے ہیں۔ میں نے ان سے کہا بھی کہ صحافیوں کی زندگی میں ایسے دور بھی آتے ہیں جب حکومت نے ونود دوا اور راج دیپ سردیسائی کو نہیں بخشا تو میں کس کھیت کی مولی ہوں ۔ نہ کسی بڑے اخبار سے منسلک ہوں، نہ کسی چینل سے میرا تعلق ہے۔

Mandeep Punia. Picture:INN
مندیپ پونیا ۔تصویر :آئی این این

 اپنی رپورٹوں کی وجہ سے خاصا ’بدنام‘ ہوں
 میری بیوی مرہم لگاتے وقت روتی رہتی ہیں ۔ انہیں کیا بتاؤں کہ ان کے رونے سے زخم اور ہرے ہوجاتے ہیں۔ میں نے ان سے کہا بھی کہ صحافیوں کی زندگی میں ایسے دور بھی آتے ہیں جب حکومت نے  ونود  دوا اور راج دیپ سردیسائی کو نہیں بخشا تو میں کس کھیت کی مولی ہوں ۔ نہ کسی بڑے اخبار سے منسلک ہوں،  نہ کسی چینل سے میرا تعلق ہے۔ فری لانسر کی حیثیت سے کام کرتا ہوں۔ یہ اور بات ہے کہ اپنی رپورٹوں کی وجہ سے خاصا ’بدنام‘ ہوں اورایک دنیا مجھے جاننے لگی ہے ۔ اسلئے جب میں اور میرا ساتھی دھرمیندر پولیس والوں کے ہاتھ لگے توانہوںنے دھرمیندر کو توجانے دیا مگر مجھے  پہچان کر دھرلیا۔ ایک  پولیس والا کہنے لگا کہ مندیپ پونیا ہاتھ آگیا ہے ، بڑا صحافی بنتا ہے اسے صحافت کا سبق سکھانا چاہئے۔ اس کے بعد جو سلوک میرے ساتھ ہواتو میں سارے سبق بھول گیا۔ صرف اتنا یاد رہا کہ یہ حکومت کے زرخرید غلام ہیں جو فی الوقت بادشاہ بنے ہوئے ہیں اور  اپنے اقتدار کے بل پر ایک نہتے بے قصور انسان پر ظلم کر رہے ہیں ۔ جب لاتوں اور گھونسوں کی بارش ہورہی ہو، اس وقت زبان گنگ ہوجاتی ہے اور صرف بیچارگی کے آنسو بہتے ہیں۔ میں بھی چپ چاپ مار کھاتا رہا اوران کی گالیاں سنتا رہا۔ چونکہ میں مقامی بولی سے واقف ہوں، اس لئے کچھ زیادہ ہی تکلیف ہونے لگی۔ جب بیوی نے میری پیٹھ اور پیر کے زخم دیکھے تو رونے لگیں۔ انہیں یقین نہیں آیا کہ ایک  جمہوری ملک کی پولیس اتنی درندہ صفت ہوسکتی ہے۔ وہ بہت کچھ پوچھنا  چاہتی تھی مگر میں نے انہیں یہ کہہ کر چپ کرادیا کہ بھاگوان ، شکرکرو کہ میڈیا کے کچھ شریف لوگوں نے میری حمایت میں آواز اٹھائی تھی اور میں ضمانت پر باہر آسکا ، ورنہ مجھے ہمیشہ کیلئے غائب بھی کیاجاسکتا تھا۔ یہ سن کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں۔ دل تو میرا بھی رورہا تھا۔ جب جمہوریت کا گلا گھونٹا جائے، قوانین کھلے عام روندے جائیں اور عدل وانصاف کو دفن کردیاجائے تو حساس دل رونے لگتا ہے لیکن یہ بات میں اپنی سیدھی سادی گھریلو بیوی سے نہیں کہہ سکتا۔ انہیں تو صرف اس بات کا دکھ ہے کہ میں اتنے دنوں بعد گھرآیا اور زخموں کی سوغات بھی ساتھ لیتا آیا۔
 سب دیکھ کر میں بھی اقتدار سے ڈرنے لگا
  جب میں نے اپنے انٹرویوز میں بتایا کہ مجھے تہاڑ جیل میں ان قیدیوں کے درمیان رکھا گیا تھا جو کسان آندولن میں شرکت کیلئے دہلی آئے تھے تو میرے دوست ان کے متعلق جاننے کیلئے بے چین ہو گئے۔ حیرت اس بات پر تھی کہ پولیس نے انہیں دہلی کی سڑکوں سے  اٹھایا تھا۔ ایک صاحب بازار میں خریداری کررہے تھے اور پکڑ لئے گئے۔ کچھ نوجوان راستے میں انقلابی گیت گاتے چلے جارہے  تھے کہ انہیں پولیس وین میں ٹھونس دیا گیا۔ ایک ۷۰؍ سالہ معمر شخص جو ہریانہ کے وزیراعلیٰ کے گاؤں کے گرنتھی اوراپنے علاقے کے نہایت معزز آدمی تھے، انہیں بھی جبراً گرفتار کرلیا گیا۔ میں نے جیل میں ’جگاڑ‘ کر کے کسی طرح قلم حاصل کیا اور  کاغذ کے نہ ہونے پر ٹانگ ہی  پر ان کے بارے میں لکھ لیا۔ جب ان کی چوٹیں دیکھیں تو لگا پولیس والوں نے مجھ پر بڑا رحم کیا ہے کیونکہ  ان سبھوں کی پشت اور بازو لہولہان تھے اوران پر اتنی دفعات لگادی گئی تھیں کہ شاید اپنی معصومیت ثابت کرتے کرتے وہ زندگی کی جنگ ہارجائیں۔ آج کل پولیس کا یہی کام  ہے کہ عوام میں خوف ودہشت کی فضا قائم کی جائے اور جیلوں کو ایسا عقوبت خانہ بنا دیا جائے کہ جو ایک بار جیل کی ہوا کھالے ،  اس کی صورت شکل ہی نہیں، شخصیت بھی بگڑجائے۔ ہمارا پولیس کا نظام قیدیوں کو ذہنی طورپر مفلوج کر دیتا ہے۔ میں جس کمرے میں قید تھا، اس ۷؍ فٹ چوڑے اور ۹؍ فٹ لمبے کمرے میں تین افراد بند تھے۔  دیواروں کو دیکھ کر لگتا تھا کہ ہم  پر گرنے کو بے تاب ہوں۔ روشنی کے نام پر چھت میں بنا ایک روشندان تھا جس سے صبح و شام کا پتہ چلتا تھا۔ تازہ ہوا کا دور دور تک گزر نہ تھا۔ جب ہمیں ایک فون کرنے کی اجازت ملی اور ہم اس تاریک کوٹھری سے باہرآئے تو سبھوں نے اس تیزی سے تازہ ہوا کو اپنے پھیپھڑوں  میں بھرنا شروع کیا جیسے یہ نعمت شاید آج کے بعدکبھی نہ ملے۔ اورمیں فو ن کسے کرتا؟ کیا اپنی بیوی کو بتاتا کہ میرا کیا حشر  ہوا ہے ؟ اخبار والوں کو بتاتا کہ جیل میں کسانوں کی کیا درگت بنی ہے؟ میں نے اپنے وکیل کو فون کیا کہ وہ کسی طرح مجھے یہاں سے باہر نکالیں  ( انہیں مجھ سے ملنے سے  روک دیا گیا تھا) تہاڑ جیل کے کارندے اتنے برے نہیں مگر اپنے آقاؤں کے سامنے مجبورتھے۔ اوپر سے جواحکام آتے ان پر عمل درآمد نہ کرنے کی صورت میں ان پر عتاب نازل ہوتا ، یہ سب دیکھ کر میں اقتدار سے ڈرنے لگا تھا۔ جیل کی چار دیواری میں ان آقاؤں کی نظریں ہمیں مستقل دیکھ رہی تھیں۔ مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ مہذب دنیا نے آخر جیلیں کیوں بنائی ہیں؟ شاید ہر عہد میں صاحب اقتدار اپنے مخالفین سے اسی طرح  انتقام لیتے رہے ہیں۔ انہیں  اتنا ستایاجاتا ہے کہ وہ ٹوٹ کر بکھر جائیں اور کبھی  اقتدار کا سامنا کرنے کے قابل نہ ہوسکیں۔ حالانکہ میں ایک معمولی صحافی ہوں اور کسان بھی اپنی زمین کے  چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کو بچانے دہلی آئے تھے مگر اقتدار یہ سب کہاں دیکھتا ہے۔ وہ تو صرف اپنے مخالف کو سبق سکھانا چاہتا ہے تاکہ یہ سبق اگلی نسل بھی اچھی طرح یاد کرلے۔
انگریزوں کے زمانے میں بھی ایسا نہیں تھا
  رات اچانک آنکھ کھل گئی اور مجھے ایسا لگا جیسے جیل کا تاریک کمرہ میرے اندر سماگیا ہے اورجیل کے ساتھی سسکیاں لے رہے ہیں۔ میں سوچنے لگا کہ کیا یہ جیل میرے اندر سے کبھی باہر نہیں نکل پائے گی ؟ کیا ہر رات مجھے اپنے ساتھیوں کی سسکیاں سننی ہوں گی؟ مجھے صدیق کپن یاد آنے لگے۔ ان کا قصور صرف ا تنا تھا کہ وہ ہاتھرس کے واقعے کی رپورٹنگ کرنا چاہتے تھے مگر پولیس والوں نے انہیں وہاں جانے نہیں دیا۔ انہیں گرفتار کرکے ان پر ایسے ایسے مقدمات دائر کردیئے جیسے وہ یوگی حکومت کے سب سے بڑے دشمن ہوں۔ آج اتنے مہینے گزر گئے مگر حکومت  نے انہیں رہا نہیں کیا۔ کبھی کبھار انگریزوں کی حکومت یاد آتی ہے، وہ آج کی حکومتوں کی طرح اتنی ظالم نہیں تھی۔ انگریز مولانا آزاد کا اخبار بند کرکے انہیں جیل بھیج دیتے تھے۔ مولانا حسرت موہانی کے اخبار پر پابندی  لگا کر انہیں جیل میں ڈال دیا گیا تھا مگر ان پر ایسا تشدد نہیں کیا تھا   جیسا کہ آج کل ہم سن رہے ہیں۔ ایمرجنسی کے زمانے میں مسز اندرا گاندھی نے بھی صحافیوں کی تحریروں پر سنسرشپ لگادی تھی مگر ایسا ہراساں نہیں کیا تھا جو آج ہورہا ہے۔ آج توصحافیوں کو بے دست وپاکرکے عدل و انصاف کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں گویا صحافت کا پیشہ اختیار کرنا اپنی جان کو  داؤ پر لگانا ہو۔ آپ کی کون سی  رپورٹ حکومت کو ناراض کردے گی اور آپ کو رات کے اندھیرے میں کب اٹھالیاجائے گا، کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ میرے ایسے صحافی جو گاؤں گاؤں اور بستی بستی جاکر عوام کی پریشانیوں کی رپورٹنگ کرتے ہیں ، وہ حکومت کے ازلی دشمن قرارپاتے ہیں۔ شاید اسلئے ہر حکومت اپنے بے چہرہ عوام سے خوفزدہ رہتی ہے اوریہی گمنام عوام جب حکومت کی قلعی کھولنے لگتے ہیں تو حکومت ہمارے ایسے صحافیوں پر ظلم ڈھانے لگی ہے۔ شاید اسی لئے میری بیوی کہہ رہی تھیں کہ میں صحافت چھوڑ کر کوئی اورکام ڈھونڈلوںمگر میں انہیں کیسے سمجھاؤں کہ میرا ضمیر مجھے حکومت کی ڈفلی نہیں بجانےدے گا۔ 
کسانوں کا جوش وخروش دیکھ کر دنگ رہ گیا
 دھرمیندر  دوتین روز تک نہیں ملا تو مجھے تشویش ہونے لگی۔ میں نے اس کے گھر فون کیا تواس کے والد نے بتایا کہ اس کی طبیعت خراب ہے۔ مجھے بڑی حیرت ہوئی کیوں کہ پولیس نے اسے چھوا بھی نہیں تھا۔  ہاں! دہلی کی سردی نے اُسے جکڑلیا ہوتو اور بات ہے۔ آج اچانک ملنے چلا آیا تومجھے بہت اچھا لگا۔ میں نے طبیعت کا  پوچھا تو کہنے لگا میں بالکل ٹھیک ٹھاک ہوں، پھر سرجھکا کر آہستہ سے بولا کہ اس کے والدین نہیں چاہتے کہ وہ صحافت سے جڑا رہے۔ اس کا ایک بڑا بھائی کینڈا میں مقیم ہے اور گھر والے چاہتے ہیں کہ وہ بھی کینڈا چلا جائے۔ اس کا بھائی کہہ رہا تھا کہ آج کل کینڈا ہجرت کرنے کا نہایت صحیح وقت ہے۔ جنہیں بھی حکومتیں ہراساں کرتی ہیں ، وہ اسے بنیاد بناکر درخواست دیتے ہیں اور کینڈین حکومت انسانی حقوق کے نام پر انہیں شہریت عطا کردیتی ہے۔ توکیا دھرمیندر بھی اپنے ملک کو چھوڑکر چلا جائے گا؟ کیا وہ بھی اپنے دوستوں کو چھوڑ کر نئی دنیا بسالے گا؟ میں نے کچھ نہیں کہا، صرف مسکرا کر رہ گیا۔ دھرمیندر ساتھ چل کر چائے پینا چاہتا تھا لیکن میں نے کہا کہ میں سنگھو بارڈر کی طرف جانا چاہتا ہوں، اس لئے چائے ادھار رہی، کل پی لیں گے ۔ یہ کہہ کر میں آگے بڑھ گیا۔ راستہ چلتے چلتے ڈھیر سارے تیکھے سوالات ذہن میں ابھرنے لگے جو مجھے سنگھرش سمیتی کے قائدین سے پوچھنے تھے مثلاً آپ کا احتجاج کب تک جاری ر ہے گا؟ کیا آپ کے پاس حکومت سے بات کرنے کا کوئی متبادل فارمولا موجودہے؟ کیا حکومت کی جانب سے کوئی پیش رفت ہوئی؟ کیا آپ اندولن میں کسانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو متحد رکھ پائیں گے؟ چونکہ حکومت رکاوٹیں کھڑی کررہی ہے، بجلی اورپانی کی سہولت ختم کررہی ہے ، ان حالات میں آپ آگے کیا کریں گے؟ یہ سوچتے سوچتے میں کسانوں کے درمیان پہنچا تو ان کا جوش وخروش دیکھ کر دنگ رہ گیا۔ میرے سارے سوالات محو ہوچکے تھے۔ لوگوں نے مجھے پہچان لیا تھا، شاید سوشل میڈیا کے توسط سے میری گرفتاری کی خبر لگ چکی تھی۔ اسلئے نوجوان دوڑ دوڑ کر میرے ارد رد جمع ہونے لگے تھے۔ کوئی چائے  پیش کر رہا تھا، کوئی  لسّی پینے پر اصرار کررہا تھا اور کوئی مٹھائی لئے میرے سامنے کھڑا تھا۔ ایک  بزرگ نے نہایت محبت سے میرے زخموں کا پوچھا اور میں محبت کی اس شبنم میں شرابور ہوگیا۔ میں سوچنے لگا کہ جب لوگ خود  کو کسان اور مزدور نہ سمجھ کر صرف انسان سمجھتے ہوں تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں شکست نہیں دے سکتی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK