• Sun, 18 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کئی اخبارات نے ایران کی صورتحال، خطے اور دنیا کے امن کیلئے خطرہ کو موضوع بنایا

Updated: January 18, 2026, 1:04 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Mumbai

غیر اردو اخبارات نے اپنے اداریوں میں عالمی منظرنامے پر ایران میں پیدا شدہ ہنگامی حالات کو نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے امن و استحکام کیلئے ایک سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔

Demonstrations are taking place in Iran, both in opposition to the government and in support of it. Photo: INN
ایران میں حکومت کی مخالفت کےساتھ ہی اس کی حمایت میں بھی مظاہرے ہورہے ہیں۔ تصویر: آئی این این

غیر اردو اخبارات نے اپنے اداریوں میں عالمی منظرنامے پر ایران میں پیدا شدہ ہنگامی حالات کو نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے امن و استحکام کیلئے ایک سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔ اسی کے ساتھ جموں کشمیر میں میڈیکل کالجوں کو بند کرنے کو تعلیمی محاذ پر خودکشی کے مترادف بتاتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس کے نتائج نسلوں پر محیط ہوں گے۔ مراٹھی اخبارات نے ہندوستان اور چین کے درمیان حالیہ بڑھتی قربت پر اداریے تحریر کر کے ملک کی بدلتی ہوئی خارجہ پالیسی کو بھی اپنی تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اس کے مضمرات پر سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں۔ ان تمام مباحث کے دوران مرکزی حکومت کی جانب سے’۱۰ منٹ ڈلیوری‘ جیسی غیر انسانی روایت کے خاتمے کو ایک بروقت اور ذمہ دارانہ قدم قرار دیا ہے۔ 
ایران میں سماجی بے چینی کی جڑیں کافی گہری ہو چکی ہیں 
نو شکتی( مراٹھی، ۱۴؍ جنوری)
’’ایران ایک بار پھر تاریخ کے نازک ترین موڑ پر کھڑا ہے۔ وہ احتجاج جو ابتدائی طور پر بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معاشی زبوں حالی کے خلاف شروع ہوا تھا، اب ایک طاقتور ملک گیر سیاسی تحریک کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ تہران سے لے کر مشہد تک اور اصفہان سے لے کر تبریز تک ایران کی سڑکیں عوامی غم و غصے کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ نعروں کی گونج میں اب صرف روٹی اور روزگار کا تقاضا ہی نہیں بلکہ نظام حکومت پر سنگین سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔ صورتحال۲۰۲۲ء کے ان المناک واقعات کی یاد تازہ کر رہی ہے جب مہسا امینی کی ہلاکت نے ملک کو ایک ہیجان میں مبتلا کر دیا تھا۔ اس بار بھی خواتین احتجاجی صفوں میں ہراول دستے کا کردار ادا کر رہی ہیں جو اس بات کی علامت ہے کہ سماجی بے چینی کی جڑیں کافی گہری ہو چکی ہیں۔ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران پرتشدد جھڑپوں میں متعدد قیمتی جانوں کا زیاں اور ہزاروں افراد کی گرفتاریاں اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ریاست اور عوام کے درمیان مکالمے کی جگہ اب تصادم نے لے لی ہے۔ سڑکوں پر کرفیو کا نفاذ اور سیکوریٹی فورسز کی بھاری نفری کی تعیناتی عارضی طور پر تو لہر کو روک سکتی ہے لیکن عوامی جذبات کو دبانا ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا۔ حسب روایت ایران کی اعلیٰ قیادت بالخصوص آیت اللہ خامنہ ای نے ان مظاہروں کا رخ بیرونی سازشوں کی طرف موڑتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل کو براہ راست ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ دوسری جانب واشنگٹن اور تل ابیب سے آنے والے بیانات نے تہران کے ان خدشات کو مزید تقویت دی ہے جہاں طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کی جا رہی ہے۔ بلاشبہ ایران پر عائد عالمی اقتصادی پابندیوں نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے اور بدعنوانی نے رہی سہی کسر پوری کر دی ہے جس نے اندرونی بحران کو ہوا دی ہے۔ ‘‘
جموں میں ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘ کی قلعی اتر گئی
دی فری پریس جنرل( انگریزی، ۱۲؍ جنوری)
 ’’جموں کشمیر کے تعلیمی و سماجی افق پر حال ہی میں جو افسوسناک ڈراما رچایا گیا اس نے نہ صرف نیشنل میڈیکل کونسل کے وقار کو خاک میں ملا دیا ہے بلکہ ہمارے جمہوری ڈھانچے کے ان دعوؤں کی قلعی بھی کھول دی ہے جہاں ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘ کا راگ الاپا جاتا ہے۔ کٹرا میں قائم ویشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسی لینس کے ایم بی بی ایس پروگرام کے اجازت نامے کا اچانک منسوخ ہونا کوئی انتظامی معاملہ نہیں بلکہ خالصتاً ایک سیاسی و فرقہ وارانہ شب خون ہے جس کا مقصد ۴۲؍ مسلم طلبہ کو طبی تعلیم کے حق سے محروم کرنا تھا۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ جس ادارے کو چند دن پہلے تمام تکنیکی معائنوں کے بعد موزوں قرار دے کر نشستیں الاٹ کی گئی تھیں اسے اچانک بنیادی ڈھانچے کی کمی کا بہانہ بنا کر کیوں بند کیا گیا؟ حقیقت حال یہ ہے کہ یہ پیشہ ورانہ فیصلہ نہیں بلکہ جموں میں سرگرم ایک مخصوص انتہا پسند گروہ کے سامنے خود سپردگی ہے جس نے ایک ہندو ادارے میں مسلم نوجوانوں کی موجودگی پر واویلا مچایا تھا۔ این ایم سی جیسے خود مختار ادارے کا محض ایک گروہ کے احتجاج پر گھٹنے ٹیک دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ اب میرٹ اور قانون کی جگہ سڑکوں پر ہونے والے ہنگامے فیصلے کر رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا یہ موقف انتہائی مناسب ہے کہ یہ اقدام خود جموں کے مفادات پر کاری ضرب لگانے کے مترادف ہے۔ اس واقعے نے نیٹ کے امتحان کی ساکھ پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ وہ امتحان جس کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ شفافیت کا ضامن ہے اب ایک ایسا جال نظر آتا ہے جہاں غریب اور پسماندہ طلبہ اپنی صلاحیت ثابت کرنے کے باوجود نظام کی فرقہ وارانہ ترجیحات کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ حکومت اور عدلیہ کو اس کا نوٹس لینا چاہئے۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: اس ہفتے اخبارات نےعمرخالد و شرجیل امام کی ضمانت اور گرمیت کی پرول کو موضوع بنایا

چین سے خفیہ مذاکرات کی ضرورت کیوں ؟
پربھات( مراٹھی، ۱۴؍جنوری)
’’ملک کی موجودہ خارجہ پالیسی اور خاص طور پر چین کے حوالے سے حکومت کے بدلتے ہوئے تیور اس وقت ملک کے سیاسی حلقوں میں بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔ حال ہی میں چین کی کمیونسٹ پارٹی کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے ہندوستان کا دورہ کیا اور بی جے پی کے ہیڈ کوارٹرز سمیت آر ایس ایس کے مرکز میں جا کر اعلیٰ قیادت سے بند کمرے میں ملاقاتیں کیں۔ یہ پیش رفت اس لحاظ سے غیر معمولی ہے کہ بی جے پی نے گزشتہ چند برسوں میں عوام کے سامنے چین کی ایک ایسی تصویر پیش کی تھی جس میں مفاہمت کی کوئی گنجائش نظر نہیں آتی تھی۔ بی جے پی کی جانب سے مسلسل یہ مہم چلائی گئی کہ چین، ہندوستان کا اولین دشمن ہے۔ ملک بھر میں چینی مصنوعات کے بائیکاٹ کا شور مچایا گیا۔ چینی موبائل ایپس پر پابندیاں عائد کی گئیں اور یہاں تک کہ عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ مذہبی تہواروں پر چینی ساختہ چراغوں اور مورتیوں تک کا استعمال ترک کر دیں۔ جن اداروں یا افراد نے چینی کمپنیوں سے کسی قسم کا مالی تعاون حاصل کیا ان کے خلاف تادیبی کارروائیاں کی گئیں، لیکن آج جب وہی چینی وفد مرکزی حکومت کے اعلی عہدیداران سے گرمجوشی سے مل رہا ہے تو یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ اس اچانک ’قلابازی‘ کی اخلاقی بنیاد کیا ہے۔ جمہوریت میں کسی بھی ملک کے وفد یا سیاسی جماعت سے مذاکرات کرنا کوئی جرم نہیں لیکن یہاں معاملہ قول و فعل کے تضاد کا ہے۔ ماضی میں جب کانگریس کے لیڈروں نے چینی نمائندوں سے ملاقات کی تھی تو اسی بی جے پی نے اسے قومی مفاد کے خلاف قرار دے کر سوشل میڈیا پر’بائیکاٹ کانگریس‘ کی مہم چلائی تھی۔ آج جب اقتدار کے ایوانوں میں وہی عمل دہرایا جا رہا ہے تو کیا اسے دوغلا پن نہ سمجھا جائے؟سرحدی صورتحال اب بھی کشیدہ ہے۔ گلوان میں ہمارے ۲۰؍ جوانوں کی شہادت کا زخم ابھی تازہ ہے، لداخ اور اروناچل پردیش میں چینی دراندازی کی رپورٹیں مسلسل سامنے آ رہی ہیں اور فوجی حکام آپریشن سیندور جیسے واقعات میں پاکستان کو چینی مدد ملنے کا انکشاف کر چکے ہیں۔ ان تمام سنگین مسائل کے باوجود پارلیمنٹ میں چین کے معاملے پر بحث سے گریز کرنا اور دوسری طرف ان کے وفود کی میزبانی کرنا حکومت کی خارجہ پالیسی کے تذبذب کو ظاہر کرتا ہے۔ ‘‘
گگ ورکرز کو سماجی تحفظ فراہم کرنا خوش آئند ہے
نو بھارت(ہندی، ۱۴؍ جنوری)
’’جدید معیشت کے نام پر شروع کی گئی ۱۰؍ منٹ ڈلیوری کی جس دوڑ نے انسانی زندگیوں کو داؤ پر لگا رکھا تھا آخر کار حکومت کی مداخلت کے بعد اس پر بریک لگنا شروع ہو گئے ہیں۔ کوئیک کامرس پلیٹ فارمز کا اس مہلک سروس کو بند کرنے پر رضامندی ظاہر کرنا ایک مثبت پیش رفت ہے جو نہ صرف لاکھوں گگ ورکرز کے تحفظ کیلئے ناگزیر تھا بلکہ ایک پرسکون اور محفوظ کام کے ماحول کی فراہمی کیلئے بھی وقت کی پکار تھی۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہندوستان میں گگ ورکرز کی تعداد جو ۲۰۲۱ء میں ۷۷؍ لاکھ تھی اب ایک کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ یہ وہ نوجوان طبقہ ہے جو اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر سڑکوں پر محض اسلئے دوڑتا ہے تاکہ کسی گاہک کو چند منٹوں میں اس کی دہلیز پر سامان فراہم کر سکے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی گھریلو سامان کی فراہمی اتنی ہنگامی اور ضروری ہو سکتی ہے کہ اس کیلئے کسی انسان کی زندگی کو جوکھم میں ڈال دیا جائے؟ بھیڑ بھری سڑکوں پر ٹریفک قوانین کی دھجیاں اڑانا اور تیز رفتار بائیک دوڑانا اب محض ایک حادثہ نہیں بلکہ اس نظام کا پیدا کردہ ایک المیہ بن چکا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تصور عالمی سطح پر پہلے ہی ناکام ہو چکا ہے۔ امریکہ، یورپ، چین اور حتی کہ ترکی جیسے ممالک جہاں سے اس کا آغاز ہوا تھا وہاں یہ تجربہ اپنی اہمیت کھو کر دم توڑ چکا ہے۔ ہندوستان میں زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں جہاں ایک ٹریفک سگنل عبور کرنے میں ۱۰؍ منٹ لگ جاتے ہوں وہاں اتنے کم وقت میں ڈلیوری کا وعدہ کرنا سراسر غیر انسانی ہے۔ ایسے حکومت کا ان ورکرز کو سماجی تحفظ فراہم کرنا ایک خوش آئند قدم ہے جس کے دور رس نتائج برآمد ہوں گے۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK