• Mon, 12 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اس ہفتے اخبارات نےعمرخالد و شرجیل امام کی ضمانت اور گرمیت کی پرول کو موضوع بنایا

Updated: January 11, 2026, 2:36 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Mumbai

دہلی فسادات کے سلسلے میں گرفتار جے این یو کے سابق طالب علم عمر خالد اور شرجیل امام کو طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود ضمانت نہ ملنے پر جہاں بیشتر غیر اردو اخبارات نے حیرت اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اداریے شائع کئے وہیں گرمیت رام رحیم کو بار بارپرول دیئے جانے کے فیصلے کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

دہلی فسادات کے سلسلے میں گرفتار جے این یو کے سابق طالب علم عمر خالد اور شرجیل امام کو طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود ضمانت نہ ملنے پر جہاں بیشتر غیر اردو اخبارات نے حیرت اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اداریے شائع کئے وہیں گرمیت رام رحیم کو بار بارپرول دیئے جانے کے فیصلے کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اسی طرح ریاست کے بلدیاتی انتخابات میں برسر اقتدار طبقہ کے امیدواروں کے بلا مقابلہ منتخب ہو جانے پر کئی اخبارات نےسوالات کھڑے کئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی’مثالی‘ شہر کہلانے والے اندور میں آلودہ پانی کے استعمال سے ہونے والی اموات پررنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے بیشتر اخبارات نے اسے سرکاری اور میونسپل انتظامیہ کی سنگین غفلت اور عوامی جانوں کے تئیں افسوسناک بے حسی قرار دیا ہے۔ ‘‘
بغیر ٹرائل طویل عرصے تک جیل میں رکھنے کی روایت
لوک ستہ( مراٹھی، ۶؍ جنوری)
’’مالیگاؤں بم دھماکہ کیس کی طرح جہاں تمام کلیدی گواہ اپنے بیانات سے منحرف ہو گئے تھے۔ اگر ویسا ہی کوئی’ معجزہ‘ دہلی فسادات کی سازش کے تناظر میں عمر خالد اور شرجیل امام کے ساتھ بھی پیش آ جائے تبھی سال ۲۰۲۶ء میں ان کی رہائی کی کوئی صورت بن سکے گی۔ سپریم کورٹ کے معزز جج صاحبان جسٹس اروند کمار اور جسٹس این وی انجاریہ نے پیر کو اپنے فیصلے میں ریمارکس دیئے ہیں کہ محفوظ گواہوں پر جرح مکمل ہونے کے بعد یا آج سے ایک سال بعد یہ دونوں ملزمین دوبارہ ضمانت کی اپیل نہیں کر سکتے۔ المیہ یہ ہے کہ ان دونوں کے خلاف مقدمے کی باقاعدہ کارروائی ابھی تک شروع ہی نہیں ہو سکی۔ پولیس کی جانب سے جمع کئے گئے گواہوں کے بیانات کی روشنی میں عدالت نے یہ ابتدائی رائے قائم کی ہے کہ اگرچہ دیگر پانچ ملزمین کو رہا کیا جا سکتا ہے تاہم ان دونوں کو مسلسل ساتویں برس بھی بغیر کسی ٹرائل کے پابند سلاسل رہنا ہوگا، البتہ عدالت نے یہ واضح کیا ہے کہ اگر ایک سال میں گواہوں کی جرح مکمل نہ ہو پائی تو عمر خالد اور شرجیل امام ضمانت کے حقدار ہو سکتے ہیں۔ اس کا منطقی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اب ایک سال کی قلیل مدت کے اندر اُن کے خلاف مقدمہ قائم کر کے روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرتے ہوئے تمام گواہوں کی جرح مکمل کرنی ہوگی۔ عملی طور پر یہ کام جوئے شیر لانے کے مترادف ہے مگر جب تک یہ عمل مکمل نہیں ہوتا ان ملزمین پر دہشت گردی جیسے سنگین الزامات کا سایہ منڈلاتا رہے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان ملزمین کو کڑی سزا دلوانے کا موقع ابھی تک کسی سرکاری وکیل کو میسر نہیں آیا کیونکہ باقاعدہ عدالتی کارروائی کا تو ابھی آغاز ہی نہیں ہوا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان ۱۷؍ ملزمین میں سے لگ بھگ ایک درجن افراد جے این یواور جامعہ ملیہ اسلامیہ جیسے نامور تعلیمی اداروں کے طلبہ ہیں۔ ان سب پر’یو اے پی اے‘ اور’اسلحہ ایکٹ‘ کی دفعات نافذ ہیں۔ یو اے پی اے کی دفعہ۴۳؍کے تحت عدالت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ اگر اسے ملزمین کے خلاف بادی النظر میں شواہد نظر آئیں تو وہ بغیر ٹرائل کے بھی انہیں طویل عرصے تک جیل میں رکھ سکتی ہے۔ ‘‘
نظام عدل کی بے بسی کا ایک واضح ثبوت
دی فری پریس جنرل( انگریزی، ۶؍جنوری)
’’ ڈیرہ سچا سودا کے سربراہ گرمیت رام رحیم کی ۱۵؍ویں مرتبہ پرول پر رہائی محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ہمارے مروجہ نظام عدل کی بے بسی کا ایسا شاخسانہ ہے جس نے قانون کی بالادستی پر کئی سنگین سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔ قتل جیسے گھناؤنے جرم میں عمر قید اور جنسی زیادتی جیسے بدنما کیس میں ۲۰؍ سالہ قید کی سزا پانے والا مجرم اگر اپنی سزا کے آغاز سے اب تک ۴۰۰؍ سے زائد دن جیل کی سلاخوں سے باہر آزاد فضاؤں میں گزار چکا ہو تو یہ صورتحال کسی بھی مہذب معاشرے کیلئے لمحہ فکریہ اور نظام انصاف کا منہ چڑانے کے مترادف ہے۔ حالیہ ۴۰ ؍روزہ پرول کے پس پردہ دی جانے والی دلیل جتنی کمزور ہے اس کی ٹائمنگ اتنی ہی معنی خیز ہے۔ روہتک کے ڈویژنل کمشنر نے شاہ ستنام سنگھ کے یوم پیدائش کی تقاریب میں شرکت کے نام پر جس فیاضی کا مظاہرہ کیا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ ماضی قریب کا ریکارڈ گواہ ہے کہ جب بھی ہریانہ، پنجاب یا دہلی میں انتخابی بگل بجنے والا ہوتا ہے’قانون کے ہاتھ‘ اچانک نرم پڑ جاتے ہیں اور ڈیرہ چیف کیلئے جیل کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ ۲۰۲۲ ءسے ۲۰۲۵ء تک تمام انتخابی معرکوں اور رام رحیم کی پرول کی تاریخوں میں جو حیرت انگیز مطابقت نظر آتی ہے اسے محض اتفاق قرار دینا عوامی شعور کی توہین ہوگی۔ ‘‘
 مہاراشٹر میں ووٹر کو بے وقعت کر کے رکھ دیا گیا ہے
سکال( مراٹھی، ۶؍ جنوری)
’’مہاراشٹر کی سیاست میں ان دنوں جو منظرنامہ اُبھر رہا ہے وہ نہ صرف تشویشناک ہے بلکہ جمہوری اقدار پر یقین رکھنے والوں کیلئے ایک تازیانہ بھی ہے۔ ریاست کی ۲۹؍ میونسپل کارپوریشنوں کے انتخابات میں پولنگ سے قبل ہی ۷۰؍ کارپوریٹرز کا بلامقابلہ منتخب ہو جانا بظاہر ایک انتخابی عمل نظر آتا ہے لیکن حقیقت میں یہ عوامی حق رائے دہی پر ایک ایسی کاری ضرب ہے جس نے ووٹر کو بے وقعت کر کے رکھ دیا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جمہوریت کی روح انتخاب اور مقابلے میں پنہاں ہوتی ہے۔ جب عوام کو اپنے نمائندے چننے کا موقع ہی نہ دیا جائے اور سیاسی جوڑ توڑ کے ذریعے میدان عمل کو پہلے ہی خالی کروا لیا جائے تو ایسی جیت ایک تکنیکی کامیابی تو ہو سکتی ہے، اخلاقی فتح ہرگز نہیں۔ بلامقابلہ منتخب ہونے والے ان ۷۰؍ نمائندوں کا تعلق برسراقتدار مہایوتی اتحاد سے ہونا کئی سنگین سوالات کو جنم دیتا ہے۔ کیا یہ محض اتفاق ہے یا اقتدار کے زور پر مخالفین کو میدان سے ہٹانے کی ایک منظم سازش؟اس صورتحال کا افسوسناک پہلو وہ مجرمانہ ہتھکنڈے ہیں جن کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ کہیں امیدواروں کے اغوا کی خبریں ہیں، کہیں چاقو زنی کے واقعات اور کہیں سیاسی کارکنوں کی پراسرار گمشدگی۔ مہاراشٹر جیسے ترقی پسند صوبے کا سیاسی کلچر اگر بہار کے’باہوبلی‘ کلچر کی طرف مائل ہو رہا ہے تو یہ پورے نظامِ انتخاب کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ یہ دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ جو شخص صبح ایک جماعت کے ٹکٹ کی نشست میں شریک ہوتا ہے شام کو وہ مخالف صفوں میں کھڑا نظر آتا ہے۔ ‘‘
اندور کے عوام کو ان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا
جن ستہ( ہندی، ۲؍ جنوری)
’’یہ امر نہایت حیران کن اور افسوسناک ہے کہ جس شہر کو گزشتہ کئی برسوں سے ملک کے صاف ستھرے شہر ہونے کا اعزاز حاصل ہو، وہاں کے مکینوں کو پینے کے آلودہ پانی کی وجہ سے اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑا۔ مدھیہ پردیش کے اندورسے سامنے آنے والے حالیہ واقعہ نے انتظامی دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے جہاں زہریلا پانی پینے سے متعدد افراد لقمہ اجل بن گئے اور سیکڑوں کواسپتالوں کا رخ کرنا پڑا۔ رپورٹ کے مطابق نرمدا واٹر پائپ لائن میں سیوریج کا گندا پانی شامل ہونے سے یہ المیہ رونما ہوا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب عوام اپنی بنیادی ضرورت یعنی پینے کے پانی کیلئے مکمل طور پر حکومتی سپلائی پر انحصار کرتے ہوں تو اس کی شفافیت کو یقینی بنانا کس کی ذمہ داری ہے؟واقعہ کے بعد عوامی غم و غصے کو ٹھنڈا کرنے کیلئے چند اہلکاروں کے خلاف عجلت میں کارروائی تو کر دی گئی مگر یہ تلخ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ ہمارے متعلقہ ادارے تبھی بیدار ہوتے ہیں جب کوئی بڑا جانی نقصان ہو چکا ہو۔ بدقسمتی سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عوام کو ان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ مقامی آبادی گزشتہ ڈیڑھ سال سے پانی کے حوالے سے شکایات درج کرا رہی تھی مگر کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ یہ نااہلی نہیں بلکہ مجرمانہ غفلت ہے۔ جب انسانی جانیں خطرے میں ہوں تو اگلے کئی روز تک معاملے کو نظر انداز کرنا انتظامیہ کی سنگدلی کی انتہا ہے۔ کیا یہ محض افسران کی ناعاقبت اندیشی ہے یا جان بوجھ کر برتی گئی چشم پوشی؟یہ ایک بڑی ستم ظریفی ہے کہ حکومتوں کی تمام تر توجہ محض صفائی کے تمغے اور تشہیری مہمات پر مرکوز رہتی ہےجبکہ بنیادی انفراسٹرکچر دم توڑ رہا ہے۔ اگر اندور جیسے ’مثالی‘ شہر میں عوام زہریلا پانی پینے پر مجبور ہیں، تو ان اعزازات کی ساکھ پر سوالیہ نشان کھڑے ہوتے ہیں۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK