• Sat, 24 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

کرکٹ ورلڈ کپ فائنل میں ہندوستان کی ٹیم کی شکست اور سیاسی ہنگامہ آرائی

Updated: November 26, 2023, 1:57 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Mumbai

غالباً یہ پہلاموقع ہے جب ٹیم انڈیا کی شکست کے بعد کھلاڑیوں٬ کوچ اورسلیکشن کمیٹی کے بجائے وزیراعظم مودی کے خلاف سوشل میڈیا پر’پنوتی‘ (منحوس ) کا ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرنے لگا تھا۔

Australia played the best game from start to finish in the final match of the World Cup. Photo: INN
آسٹریلیا نے ورلڈ کپ کے فائنل میچ میں شروع سے آخر تک بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا۔ تصویر : آئی این این

غالباً یہ پہلاموقع ہے جب ٹیم انڈیا کی شکست کے بعد کھلاڑیوں٬ کوچ اورسلیکشن کمیٹی کے بجائے وزیراعظم مودی کے خلاف سوشل میڈیا پر’پنوتی‘ (منحوس ) کا ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرنے لگا تھا۔ اس کے جواب میں بی جے پی کے آئی ٹی سیل نے اندراگاندھی کو منحوس قرار دیا کیونکہ اس دن ان کا یوم پیدائش تھا۔ بہرحال کھیل کو کھیل کی نظر سے دیکھنا چاہئے۔ کوئی ٹیم خراب نہیں کھیلنا چاہتی۔ وہ جیتنے کیلئے ہی میدان میں اترتی ہے مگر کوشش کے باوجود اگر شکست سے دوچار ہو تو اسے قبول کرنا پڑتا ہے۔ گزشتہ دنوں کھیلے گئے ورلڈ کپ فائنل کا نتیجہ بھلے ہی ہمارے حق میں نہیں رہا اور اس سے ملک کے عوام کو وہ خوشی نہیں مل پائی، جس کا انہیں انتظار تھا لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ اس دن کرکٹ کی جیت ہوئی ہے۔
سامنا(۲۱؍نومبر)
 اخبار اپنے اداریے میں لکھتا ہے کہ ’’قوی امکان تھا کہ ٹیم انڈیا ورلڈ کپ کا فائنل جیت جائے گی لیکن لگاتار دس میچ جیتنے والی ہندوستانی ٹیم فائنل میچ ہار گئی۔احمد آباد کا نریندر مودی اسٹیڈیم کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ملک بھر میں جیت کی دیوالی منانے کی تیاری ہورہی تھی۔جیت کی ٹرافی اٹھانے کیلئے بذات خود وزیراعظم مودی اسٹیڈیم میں موجود تھے لیکن ہم ورلڈ کپ کی حتمی لڑائی ہار گئے۔مودی کو کپ آسٹریلیا کے حوالے کرنا پڑا۔ سیمی فائنل سمیت تمام لیگ میچ جتنے والی ٹیم فائنل ہار گئی۔بی جے پی کے حامیوں کو بے حد دکھ ہوا ہوگا کیونکہ وہ اس غلط فہمی کا شکار ہوگئے تھے کہ ہندوستان ہی ورلڈ کپ جیتے گا اور یہ جیت صرف اور صرف مودی کی وجہ سے ہوگی،لیکن خود کو ناقابل تسخیر اور سپرپاور کہنے والے نریندر مودی کی موجودگی میں ہندوستان کو شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ اندھ بھکتوں کو ’مودی ہے تو ممکن ہے‘ اس مفروضے کو سچ کرکے دکھانا مقصود تھالیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوسکا۔پورے ٹورنامنٹ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی ہندوستانی ٹیم فائنل میں محض ۲۴۰؍ کے اسکور پر آوٹ ہوگئی۔ اس کے برعکس آسٹریلیا کی ٹیم نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔آسٹریلوی ٹیم کی فیلڈنگ زبردست رہی اور وہ ہندوستانی ٹیم کے رن روکنے میں کامیاب رہی۔اس نے فائنل جیتنے کیلئے جان کی بازی لگا دی۔احمد آباد کے نریندر مودی اسٹیڈیم کا ماحول کھیل سے زیادہ سیاسی محسوس ہورہا تھا۔ایسا لگ رہا تھا کہ یہ بی جے پی کی جیت کی کوئی تقریب ہے۔اگر وہاں کرکٹ کو اہمیت دی جاتی تو کپل دیو اور دھونی دونوں موجود ہوتے۔ہندوستانی کرکٹ بورڈ کو عالمی کپ جیتنے والے دونوں کپتانوں کو اعزاز کے ساتھ مدعو کرنا چاہئے تھا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس کے برعکس بی جے پی کے لیڈر اور فلمی ستارے موجود تھے۔جنتر منتر پر جب خواتین پہلوان احتجاج کررہی تھیں ، بی جے پی کا ایک بھی لیڈر اُن کی خبر لینے نہیں گیا تھالیکن احمد آباد کے اسٹیڈیم میں وزیر اعظم مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ موجود تھے۔ انڈیا فائنل میچ نہیں جیت پایا، اس کا افسوس ہے مگر ہندوستان کی جیت کے بعد بی جے پی ورلڈ کپ پر اپنا قبضہ کرلیتی اور یہ باور کرانے کی کوشش کرتی کہ مودی کے سبب ہم نے ورلڈ کپ جیتا ہے۔‘‘
لوک ستہ(۲۱- نومبر )
 اخبار نے اداریہ لکھا ہے کہ ’’کرکٹ ورلڈ کپ کے فائنل کا نتیجہ آسٹریلیا کے لحاظ سے متوقع اور کئی لحاظ سے ہمارے لئے غیر متوقع تھا۔مسلسل دس میچ جیتنے کے بعد ایسا محسوس ہورہا تھا کہ ہندوستانی ٹیم آسانی سے آسٹریلیا کو یکطرفہ شکست دے دے گی۔ بدقسمتی سے یہ سوچ ان لوگوں کی تھی جن کا کرکٹ سمیت کسی بھی کھیل سے کبھی کوئی سروکار نہیں رہا، اسلئے میچ شروع ہونے سے قبل خوب ہنگامہ کیا جیسے ٹیم انڈیا بغیر کھیلے ہی جیت گئی ہو۔درحقیقت گزشتہ تمام ورلڈ کپ کے مقابلے موجودہ ٹیم زیادہ مضبوط تھی، اس کے برعکس آسٹریلیا کی ٹیم تمام عالمی کپ کے مقابلے میں زیادہ کمزور تھی۔تاہم آسٹریلیا نے بآسانی جیت حاصل کی جبکہ ٹیم انڈیا لڑکھڑا گئی۔کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ کسی کسی دن نصیب ساتھ نہیں دیتا ہے لیکن نصیب کا کھیل کسی ٹیم کو ۶۔۶؍ مرتبہ عالمی کپ کا ٹائٹل نہیں دلوا سکتا ہے اور اہم مقابلے میں دوسری ٹیم کی قسمت میں بار بار شکست نہیں لکھ سکتا ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ کھیل میں ہار جیت ہوتی رہتی ہے مگر نتیجہ اس کے برعکس آیا ہوتا توملک بھر میں کھیل کا جشن کم سیاسی ہنگامہ آرائی پورے عروج پر ہوتی۔اب ذرا گجرات میں فائنل منعقد کرنے سے متعلق کچھ بات ہوجائے۔ کرکٹ ورلڈ کپ ۴۰؍ سال سے کھیلا جارہا ہے۔ حکمرانوں کو کرکٹ کی طاقت اور چمک دکھانے کا بہترین موقع ملا تھا ایسے میں فائنل میچ ممبئی ٬چنئی اور کولکاتا جیسے روایتی شہروں کو چھوڑ کر احمد آباد میں رکھا گیا تاکہ سیاسی فائدہ اٹھایا جائے۔‘‘
پربھات(۲۱؍نومبر)
 اخبار نے لکھا ہے کہ ’’محدود اوور کے ورلڈ کپ ٹورنامنٹ میں ہندوستانی ٹیم کو مایوسی ہاتھ لگی۔ٹورنامنٹ کا ہر میچ جیتنے والی ٹیم فائنل میں ہار گئی لیکن یہاں سوال جیت اور ہار کا نہیں ہے اور ہندوستان ہی فائنل میں جیت حاصل کرےگا،ایسی امید رکھنا بھی فضول تھا۔ مگر میچ سے قبل جو سیاسی ماحول بنایا گیا،وہ کافی شرمناک تھا۔ پوجا پاٹھ، ہون اورعلم نجوم وغیرہ کے ذریعہ بھی ہندوستان کی جیت کی پیش گوئی کی گئی۔ان سب کا اثر یہ ہوا کہ ٹیم پر اچانک دباؤ بڑھ گیا۔یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہندوستانی ٹیم کی شکست میں یہی ذہنی دباؤ ایک بڑا عنصر تھا۔ورنہ ٹیم انڈیا کیلئے یہ میچ کچھ زیادہ مشکل نہیں تھا۔میچ ہارنے کے بعد تبصرہ نگاروں نے کپتان روہت شرما کو مورد الزام ٹھہرانے کی کوشش کی کیونکہ وہ اہم لمحے میں غیر ذمہ دارانہ شاٹ کھیل کر آؤٹ ہوگئے۔علاوہ ازیں شکست کا ٹھیکرا بی جے پی اور وزیر اعظم مودی پر بھی پھوڑا گیا۔سوشل میڈیا پر میمز کا سیلاب آگیا۔اگرچہ یہ ناانصافی ہے لیکن یہ بھی اتنا ہی سچ ہے کہ اگر اُس دن ہندوستانی ٹیم جیت گئی ہوتی تو بی جے پی اس کا خوب سیاسی فائدہ حاصل کرتی۔سنجے راؤت نے مودی سرکار پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے پانچ ریاستوں کےانتخابات کے پیش نظر ہی فائنل میچ احمد آباد میں رکھا تاکہ ٹیم انڈیا کی جیت کا پورا کریڈٹ لیا جاسکے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK