اُستادِ ہمہ وقت: شمس الرحمٰن فاروقی (دوسرا اور آخری حصہ

Updated: January 10, 2021, 6:56 AM IST | Pro Atiqullah

شمس الرحمٰن فاروقی اکثر ایک استاد کا رول ادا کرنے لگتے ہیں۔ انھوں نے تنقید کی زبان کو متمول کیا، اصطلاح سازی کی، ادب کو ادب کے طور پر سمجھنے اور سمجھانے کے عمل کو ایک تحریک میں بدل دیا۔

Shams Ur Rehman Farooqui
شمس الرحمٰن فاروقی

شمس الرحمٰن فاروقی اکثر ایک استاد کا رول ادا کرنے لگتے ہیں۔ انھوں نے تنقید کی زبان کو متمول کیا، اصطلاح سازی کی، ادب کو ادب کے طور پر سمجھنے اور سمجھانے کے عمل کو ایک تحریک میں بدل دیا۔ کلاسیکی شعریات کی معیار بندی کی طرف ابھی تک ہمارے علمائے نقد و ادب کا ذہن نہیں گیا تھا۔ ایک محدود سطح پر نیر مسعود مرحوم نے توجہ دی تھی، لیکن فاروقی نے اکثر مضامین اور میر و غالب کی تفہیمات میں ان معنی خیز نکتوں کو اجاگر کیا اور ایک دوسرے کے درمیان باریک سے فرق کی نشاندہی کی کہ فنی تدابیر میں مشابہتوں کی نوعیت کو سمجھنا بے حد ضروری ہے۔ ان کی عدم فہمی تفہیم کے عمل پر خصوصاً اثر انداز ہوتی ہے۔ حتیٰ کہ میر کے اشعار کی تفہیم میں انھوں نے اپنے مطالعوں کا نچوڑ پیش کردیا ہے، بلکہ میر کو ایک آسان شاعر کے بجائے مشکل شاعر کے طور پر قائم کردیا۔  میر ’ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ‘ کے مصداق ایک جہان دیگراپنے تحت المتن میں آباد رکھتے ہیں۔ فاروقی نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ہم کسی بھی شعر کو سن یا پڑھ کر پہلے تاثر کو ہی آخری تاثر کا نام دے کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ میر کے بارے میں تنقید نے جو مغالطے پیدا کئے ہیں ان کو رفع کرنے کی طرف بہت کم توجہ دی گئی۔ فاروقی نے نہ صرف بعض غلط فہمیوں کا ازالہ کیا بلکہ بعض نئے مغالطوں کو ہوا بھی دی۔ میںپہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ ہر بڑی تنقید جہاں بہت سے بھرم توڑتی ہے وہیں کچھ نئے بھرم قائم بھی کرتی رہی ہے۔ فاروقی اکثر مقامات پر میر کو اس قدر نئے معانی سے لاد دیتے ہیں کہ میر کا دم فنا ہونے لگتا ہے لیکن فاروقی کہیں اوجھل نہیںہوتے۔ گویا میر کی قلب ماہیت بھی ہوجاتی ہے اور فاروقی کا سکہ بھی بیٹھ جاتا ہے۔ فاروقی نے غالب کی تفہیمات میں غالب کو اپنی حد میں رکھا ہے لیکن میر کو لامحدود بساط عطا کردی ہے۔ کہے ہوئے سے زیادہ اَن کہے Unsaid کو ترجیح دے کر میر کو ایک نئے میر کے طور پر انہوں نے متعارف کرنے کی کامیاب سعی کی۔
فاروقی نے داستان کی شعریات، داستان سے اخذ کی۔ اس معنی میں داستان کی صنف کی اُصول سازی کرکے اسے ایک بڑا اعزاز بخشا۔ داستان اور قصیدے کی اصناف کو میں کئی اعتبار سے ’ام الاصنافِ سخن‘ کہتا ہوں، انہیں ماضی سے وابستہ کرکے آثاریات کا نام نہیں دینا چاہئے۔ یہ زندہ سرچشمے ہیں جن سے دیگر تمام اصناف نے فیض اٹھایا ہے۔ ہماری شعری زبان کو متمول کرنے اور زبان میں مضمر تخلیقی اور صناعانہ قوتوں کو ان دونوں اصناف نے جس طور پر دریافت کیا وہ ہر عہد کے لئے ایک معنی ٔدیگر کا حکم رکھتی ہیں۔ فاروقی، جیسا کہ اوپر بیان کرچکا ہوں، صرف ان موضوعات و مسائل کی تلاش میں رہتے ہیں جو اَن چھوئے ہیں یا جو  ان کی نظر میں انتہائی اہم ہوتے ہیں، لیکن انہیں عموماً  غیراہم سمجھا جاتا رہا ہے یا جن سے ہماری کلاسیکی روایت کو ثروت مندی میسر آئی ہے اور ادبی معاشرہ ان سے سرسری گزرتا آرہا ہے۔ فاروقی نے وہیں انگلی رکھی ہے جہاں دُکھتی رگ تھی۔ فاروقی کے بارے میں یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ ان پر اتنی گہری سنجیدگی طاری رہتی تھی کہ طنز و مزاح سے انہیں کم ہی نسبت تھی۔ فاروقی روزمرہ کی زندگی میں مزاح سے زیادہ، طنز سے کم کام لیتے تھے۔ یہ بھی ہوتا ہے کہ طنز میں مزاح اور مزاح میں طنز کا عنصر اس طورپر ایک دوسرے میں حل ہوجاتا ہے کہ ایک کو دوسرے سے الگ نہیں کرسکتے۔ لیکن ’شعر آشوب‘ میں طنز ہی طنز ہے اور جس میں حقیقت حال کے ساتھ ایمائیت کا عنصر حاوی ہے۔ جدید تمثیلی نظمیں جن کا شمار اختر الایمان سے کرسکتے ہیں، فاروقی کی یہ نظم بھی اسی سلسلے کی کڑی ہونے کے باوجود اپنے اوصاف کا دائرہ زیادہ وسیع رکھتی ہے۔ فاروقی شاعری کو زیادہ وقت فراہم نہیںکرسکے۔ جو وقت دیا اس میں انہوں نے اپنا اسلوب بھی دریافت کردکھایا۔ کہیں سنجیدگی، کہیں کھلنڈراپن، کہیں امیج سازی، کہیں طنز اور طنز لطیف، کلاسیکی نظم وضبط اور کہیں انشا، کہیں میر کا لفظوں سے کھیلنے کا شوخ انداز۔ فاروقی کے کلام میں بصری پیکر سازی کے عمل میں رنگ، کہیں روشنی اور کہیں خوشبوؤں کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔ 
فاروقی غزل اور نظم دونوں اصناف میں نئی شعری زبان دریافت کرنے کے درپے تھے، لیکن اس طرح کے تجربات میں انہوں نے اپنے جذبات و محسوسات کے تقاضوں کو نظرانداز کیا۔ ایلیٹ کی طرح اسے جذبوں سے فرار کا نام دیا جاسکتا ہے۔ لیکن جمیلہ صاحبہ کی وفات نے جس طورپران کے وجود کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی تھیں، ان تاثرات کے مناسب اظہار کے پیرائے صرف شاعری میں ممکن تھے۔ فاروقی ان غزلوں اور غزل نما نظموں میں اپنی روح کی آواز کو نہیں دبا سکے۔ رثائیہ شاعری کی تاریخ میں انہیں ایک بلند مقام پر جگہ دی جاسکتی ہے۔ یہ شاعری ایک ایسی شخصیت کے نرم و ملائم باطن میںا س کے سوز و گداز کی کیفیتوں پر پڑے ہوئے دبیز پردوں کو چاک کردیتی ہے جو تنقید میں انتہائی غیرشخصی ہے۔
فاروقی اگر صرف شعر کہتے تو بھی ان کی تخلیقی سعادتیں امکانات کا ایک جہان اندر جہان دریافت کرتیں،  ان سعادتوں کو انہوں نے اپنے ناولوں میں پوری قوت کے ساتھ بروئے کار لایا ہے۔ ’کئی چاند تھے سرآسماں‘ کو ناول کا ایک نمونہ بناکر پیش کیا کہ ناول کے آرٹ سے عہدہ برآ ہونا ہے تو پہلے ہوم ورک کیوں ضروری ہے، فاروقی اپنی تنقید میں اسی طرح کی گتھیاں سلجھاتے رہے۔ اپنے کمزورکاندھوں پر بارِ گراں اٹھاتے رہے اور اپنے قریب و دور کے قاریوں کو آسانیاں فراہم کرتے رہے۔ ایک مشکل تر مشن لے کر چلے تھے شاید ہم لوگوں کیلئے کافی ہو لیکن ان کیلئے ناکافی تھا۔ یہ ہوس، جستجو کا یہ مادہ، سیکھنے کی یہ روش، جو بھی علم حاصل کیا یا سیکھا اسے بانٹنے کا یہ شوق اور دیوانگی اب محض ماضی کی یادیں ہیں اور کئی نسلوں تک اُن کی یہ یادیں ہی وراثت کے طور پر منتقل ہوتی رہیں گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK