مولانا آزاد: یقین محکم اور عزم وثبات کے کوہِ گراں

Updated: November 11, 2022, 12:21 PM IST | Mohamed Amir Afaq | Mumbai

مولاناابوالکلام آزاد ان قومی رہنماؤں کی صفِ اوّل میں تھے جو اخلاق وکردار کے غازی تھے۔ ان کی ذہانت ، دوربینی، حکمت، تیزفہمی اور نکتہ رسی نے ملکی سیاست میں انقلاب پیدا کردیا تھا۔ مہاتماگاندھی اور پنڈت جواہر لال نہرو جیسے عظیم رہنما سیاسی پیچیدگیوں میں ان سے گفت و شنید کرتے تھے۔ وہ آزادی حاصل کرنے کیلئےمسلمانوں کو دعوتِ فکرو عمل دیتے تھے۔

Maulana Azad is speaking at the National Academy of Art while Pandit Jawaharlal Nehru can also be seen. .Picture:INN
؍۵؍اگست ۱۹۵۴ء کی ایک تصویر جس میں مولانا آزاد نیشنل اکیڈمی آف آرٹ میں تقریر کررہے ہیں جبکہ پنڈت جواہرلعل نہرو کو بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ تصویر:آئی این این

مولانا آزاد ان عظیم شخصیتوں میں سے ہیں جن کے بغیر اس دَور کی علمی، ادبی اور سیاسی تاریخ نہیں لکھی جاسکتی۔ مولانا ابوالکلام آزاد نابغۂ روزگار شخصیت اور ہمہ گیر صلاحیتوں کے مالک تھے۔ ان کی سرگرمیوں کے متعدد میدان تھے۔ وہ ایک بہترین صحافی، ادیب ،عالمِ دین، مفسر قرآن مجید، مفکر، مدبر، سیاستداں اور تحریک آزادی کے ممتاز سپاہی تھے۔ آپ ایک ایسی باکمال ہستی تھے جو بطنِ گیتی سے صدیوں میں پیدا ہوتی ہے۔مولانا کی فطری اہلیت وصلاحیت جو ہمارے قلب و نظر کو ان کی طرف کھینچتی ہے، وہ ان کی ذہانت وفطانت ہے۔ مولانا کا قوتِ حافظہ بلاکا تیز تھا۔ آپ کی ذہنی تیز رفتاری کا عالم یہ تھا کہ دوران تعلیم ان کے ہم جماعت طلبہ ان کا ساتھ نہیں دے پاتے تھے لہٰذا انہیں ترقی دے کرطلبہ کی اگلی جماعت میں شامل کرلیا جاتا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ صرف ۱۴؍ سال کی عمر ہی میں وہ درس نظامی کی تعلیم سے فارغ ہوگئے۔ انہیں ادبیات، منطق، فقہ اور حدیث کے مضامین پر عبور حاصل ہوگیا۔ ۱۹۰۴ء میں جب ان کی ملاقات مولانا حالیؔ سے ہوئی تو انہیں یہ یقین دلانا مشکل ہوگیا کہ یہ نوجوان واقعی ’’لسان الصدق‘‘ کا ایڈیٹر ہے۔ غالباً ۱۹۰۵ء میں جب بمبئی میں انہیں شبلیؔ سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا تو علامہ شبلیؔ نے مولاناآزاد کے مضامین کی اس طرح تعریف کی گویاوہ مولانا سے نہیں بلکہ ان کے صاحبزادے سے ہم کلام ہوں۔ جن لوگوں نے مولانا آزاد کو نہیں دیکھا تھا صرف ان کے مضامین پڑھے تھے، وہ مولانا شبلیؔ ہی کی طرح غلط فہمی کا شکار ہوجاتے تھے۔ سروجنی نائیڈو مولانا آزادکے تعلق سے لکھتی ہیں ’’آزاد کی عمر پیدائش کے وقت ۵۰؍ برس تھی۔‘‘سیاست میں مولا نا آزاد کا نظریہ خالص وطن پرستی اور متحدہ قومیت پر مبنی تھا۔ انہوں نے مذہب کا گہرا مطالعہ کیا تھا۔ وہ مذہب کے دائرے سے نکل کر اپنی شناخت کرانے پر کبھی راضی نہ ہوئے۔ اگر وہ دور غلامی کا نہ ہوتا، اہل ہند کسمپرسی، ذلت اور استحصال کی زندگی نہ بسر کررہے ہوتے تو شاید مولانا کبھی سیاست کا رخ نہ کرتے بلکہ اپنے فکر و فلسفے اورعلمی و ادبی کاموں میں مصروف ہوتے۔ مگر وطنِ عزیزکی آزادی کی خاطر انہوں نے اپنے اعلیٰ پائے کے علمی و ادبی کارناموں کو ادھورا چھوڑ دیا اور سیاست کیلئے صحافت کی راہ اختیار کی۔ الہلال اور البلاغ ہندوستانی صحافت کی تاریخ میں بقائے دوام کی مسند پر جلوہ نشین ہیں۔ مولانا آزاد نے ہمیشہ اپنی صحافت کو ملک و ملت کی فلاح و بہبود کیلئے وقف رکھا۔ وہ صحافت کے ذریعے قومی اور ملّی بیداری کے خواہشمند تھے۔ وہ غلامی کی تاریکیوں کو دور کرکے آزادی کی نئی اور روشن صبح کا اجالا لانا چاہتے تھے۔ وہ غفلتوں، کوتاہیوں اور مایوسیوںکو دور کر کے نئی امنگ اور حوصلوں کو بیدار کرنا چاہتے تھے۔ ہر ہندوستانی میں ایثار و قربانی کا جذبہ پیدا کرنے کے متمنی تھے۔ ۱۳؍جولائی ۱۹۱۲ء کو ’’الہلال ‘‘کی اشاعت نے ہندوستانی معاشرے میں نئی روح پھونک دی۔الہلال غلامی کی تاریکیوں میں آزادی کی پرامید کرنیں لے کر نکلا۔ اس نے خواص و عام کے دل و دماغ کو جھنجھوڑا اور ان کے لہو کو گرمایا۔ اسی طرح مولانا کی ادارت میں شائع ہونے والے اخبارات کی خدمات کو فراموش کردیا جائے تو اس سے بڑی احسان ناشناسی اور کچھ نہیں ہوسکتی۔   مولانا آزاد اورپنڈت جواہر لال نہرو دیرینہ رفیق تھے۔ کانگریس کی سرگرمیوں سے لے کرتحریکِ آزاد ی میں دونوں ایک ساتھ رہے۔ کئی مرتبہ ایک ساتھ قید وبند کی سختیاں جھیلیں۔ نہرو اپنی اس دیرینہ رفاقت پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے لکھتے ہیں ’’ان کی یاداشت حیران کن ہے۔ اور مختلف مضامین پر ان کی معلومات قاموسی ہے۔ وہ جدید خیالات کے بہت سے رجحانات سے خاصے واقف ہیں۔ ڈھیروں کتابیں پڑھتے ہیں۔ قرونِ وسطیٰ بالخصوص عالم عرب، مغربی ایشیاء اور مسلم عہد کے بھارت پر ان کی دسترس گہری ہے۔ افلاطون اور ارسطوان کی نوک زبان پر ہیں۔ لیکن اس کا افسوس ہے کہ اس قدر وسیع علم ، غیر معمولی ذہن اور پر تاثیر اسلوب کے باوجود اتنا کم لکھ پائے۔‘‘ (جامعہ فروری ۱۹۸۸ء، صفحہ ۱۱۶) مولاناابوالکلام آزاد ان قومی رہنماؤں کی صفِ اوّل میں تھے جو اخلاق وکردار کے غازی تھے۔ ان کی ذہانت ، دوربینی، حکمت، تیزفہمی اور نکتہ رسی نے ملکی سیاست میں انقلاب پیدا کردیا تھا۔ مہاتماگاندھی اور پنڈت جواہر لال نہرو جیسے عظیم رہنما سیاسی پیچیدگیوں میں ان سے گفت و شنید کرتے تھے۔ محمد عثمان عارف نقشبندی لکھتے ہیں ’’مولانا آزاد کی سیاست کی بنیاد شرافت پر تھی۔ وہ محکومی کومسلمانوں کے ملی وقار کے منافی مانتے تھے اور عالم اسلام میں اس عزت و وقار کی بحالی کیلئے ہندوستان کی آزادی کو ضروری سمجھتے تھے۔ آزادی حاصل کرنے کے لئے مسلمانوں کو دعوتِ فکرو عمل دیتے تھے۔ مسلمانوں کو غیر ملکی حکمرانوں کے سحر اور ان کے اثر سے نکال کر اہلِ وطن کے دوش بہ دوش آزادی کی جنگ میں صف آرا کرنا چاہتے تھے۔ وہ ہندوستان پر مسلمانوں کا اتنا ہی حق مانتے تھے جتنا کہ اس ملک میں رہنے والے دوسرے فرقوں کا ہے۔ اور ان کا یہی تصور ملک کیلئے خدمات اور فرائض کے بارے میں بھی تھا۔‘‘ (ایوانِ اردو دسمبر ۱۹۸۸ء، صفحہ نمبرا ۱۳) حصولِ آزادی کے بعد مولانا نے حکومت ِ ہند کی وزارتِ تعلیم کی ذمہ داری سنبھالی۔ بقول عقیل الغروی’’ یہ محض ایک اتفاق نہیں تھا کہ آزادؔ، آزاد ہندوستان کے پہلے مرکزی وزیر تعلیم بنے بلکہ یہ تاریخ کا ایک عظیم الشان اتفاق تھا کہ آزاد کو وہی منصب ملا جس کے وہ اہل تھے۔‘‘ مولانا آزاد نے وزیر تعلیم کی حیثیت سے ملک کی تعلیمی پالیسی کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کیا۔ تعلیم کے ذریعے مولانا نے ایک نئے سماج کی بنیاد ڈالی اور تعلیمی ڈھانچے کو وہ روپ دیا جس پر آج ہمارا سماج کھڑا ہے۔ آیئے ہم اس پر نظر ڈالتے ہیں۔ مولانا آزاد کی دور رس نگاہیں بنیادی تعلیم کے ساتھ اعلیٰ تعلیم کی اہمیت سے واقف تھیں لہٰذا انہوں نے اعلیٰ تعلیم کو فروغ دینے کیلئے ۱۹۴۸ء میں یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کا قیام عمل میں لایا جس کے صدر ڈاکٹر رادھاکرشنن اور جس کے ممبروں میں ڈاکٹر ذاکر حسین بھی تھے۔یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کی وجہ سے ملک میں یونیورسٹیوں کا جال سا بچھ گیا اور اعلیٰ تعلیم کو مالی امداد کے ذریعے بڑھاوا دیا گیا۔ اس وجہ سے ان سبھی اعلیٰ تعلیمی درس گاہوں میں ایک ضابطہ بندی اور معیار بندی پیدا ہوئی۔اسی طرح سماجی علوم اور فنون لطیفہ کو فروغ دینے کیلئے انڈین کونسل فارہسٹار یکل ریسرچ اور انڈین کونسل فار سوشل سائنسزریسرچ جیسے ادارے قائم کئے گئے جن کا احاطہ تاریخ سے لے کر اقتصادیات اور معاشیات سے لے کر سماجیات تک پھیلا ہوا تھا۔ اسی طرح ہندوستان کے تہذیبی روابط کی نمائندگی کیلئے انڈین کونسل فار کلچرل ریلیشنز قائم کیا گیا۔ زبان و ادب اور فنون لطیفہ کے فروغ کیلئے مولانا آزاد نے مختلف اکادمیوں کی بنیاد ڈالی جن میں ادب کیلئے ساہتیہ اکادمی، رقص اور موسیقی کیلئے سنگیت ناٹک اکادمی اور مصوری وغیر ہ کیلئےللت کلا اکادمی شامل ہیں۔ ان اکادمیوں کے سربراہ مولانا آزاد ہی تھے۔ ان اکادمیوں کا مقصد نہ صرف ملک کے فنکاروں کو انعام واکرام سے نواز نا تھا بلکہ ملک کے مختلف علاقوں کے ادب، فن، رقص اور مصوری وغیرہ کو قومی سطح پر منظر عام پر لانا بھی تھا۔ مولانا آزاد کی تعلیمی پالیسی کا ایک پہلو سائنسی تعلیم و ترقی کو فروغ دینا تھا لہٰذا شانتی سروپ بھٹناگر جیسے سائنسداں کی سربراہی و صدارت میں سائنس کا اعلیٰ تحقیقاتی ادارہ بنایا گیا۔ اسی طرح ایٹمی ترقی کا ادارہ الگ سے وجود میں آیا۔ ایک طرف صنعت اورتکنالوجی کے شعبے میں کام کرنے والے سائنسی اداروں کیلئے انڈین کونسل فار ایگری کلچرل اینڈ سائنٹیفک ریسرچ تو دوسری طرف زراعت اور دیہی ترقی کیلئے انڈین کونسل فار ایگری کلچرل ریسرچ کاقیام عمل میں آیا۔ اسی طرح انڈین کونسل فار میڈیکل ریسرچ بنائی گیا۔ ایسے ادارے بھی قائم کئے گئے جو اس تحقیقاتی کام کو زراعت اور صنعت کے شعبوں تک لے جاسکیں۔اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ آج ہمارے ملک کا تعلیمی نظام مولانا آزاد کی کاوشوں اور محنتوں کا مرہونِ منت ہے۔ مولانا آزاد میں تنظیمی اور انتظامی صلاحیتیں بدرجۂ اتم موجود تھیں۔ مختلف حالات میں مولانا کے ذریعے کئے گئے فیصلے اور صادر کئے گئے احکامات اس بات کے شاہد ہیں کہ یہ فیصلہ کرنے والی شخصیت کتنی عظیم ہے۔ انتظامی فیصلوں کا انحصار بہت سی پیچیدگیوں اور مصلحتوں پر ہوتا ہے جس میں انسانی جذبات و احساسات اور انفرادی رجحانات کا بڑا دخل ہوتا ہے۔ ایسے فیصلے تلخ بھی ہوتے ہیں اور شیریں بھی۔ مولانا کے فیصلے تلخ ہوں یا شیریں دیانتداری اور ایمانداری کے اصولوں پر مبنی تھے۔ ان کی ایک تحریر سے پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے نورالدین صاحب کو کونسل کی لائبریری کا کام سونپا تھا۔ اور تنخواہ صرف ایک روپیہ ماہ وار مقرر کی تھی۔ یہ صاحب کوئی اور نہیں بلکہ ان کے حقیقی بھتیجے یعنی بڑے بھائی ابوالنصرآہ کے صاحبزادے تھے۔ایک اور جگہ سرکاری کاموں سے متعلق کوتا ہی اور فرض کی ادائیگی میں کمی پاتے ہوئے مولانا نے اپنے ایک دوسرے قریبی عزیز کیلئےخاطر خواہ سزا تجویز کرنے میں ذرہ برابر بھی تکلف سے کام نہیں لیا۔ (ایوانِ اردو دسمبر ۱۹۸۸ء، صفحہ نمبر ۱۴۲)۔ ان واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ مولانا آزاد کے فیصلے غیر اخلاقی جذبات سے بالاتر، اقربا پروری اور جانبداری سے پاک تھے۔n
(مضمون نگار مولانا ابوالکلام آزاد
 جونیئر کالج، ناگپور کے لیکچرار ہیں)مولانا آزاد کی آخری یادگار تقریر
 مولانا آزاد نے یہ تقریر ۱۵؍ فروری ۱۹۵۸ء کو اردو کانفرنس، پریڈ گراؤنڈ دہلی میں کی تھی۔ اس کے ٹھیک ایک ہفتے بعد یعنی ۲۲؍فروری ۱۹۵۸ء کو ان کا انتقال ہوگیا تھا۔ 
 جناب صدر اور دوستو!
 جہاں تک مجھے اندازہ ہوا ہے ۔ آج آپ نے یہ مجلس اس لئے منعقد کی ہے کہ آپ یہ چاہتے ہیں کہ ہندوستان کی زندگی میں اردو کی جو واقعی جگہ ہے، وہ ملنی چاہئے۔ یہ نہیں کہ کسی زبان کی جگہ خالی کی جائے، اور وہ اسے دی جائے۔
 آپ اردو کے حامی ہیں لیکن کسی زبان کے مخالف نہیں۔ جیسا کہ ابھی میرے دوست پنڈت جی (پنڈت سُندرلال) نے کہا، یہاںایک شخص بھی ایسا نہیں جو ہندی کا مخالف ہو۔ یہی اسپرٹ ہے اور اسی اسپرٹ سے حل کا راستہ صاف ہوتا ہے۔ تیس یا چالیس سال پہلے زبان کے بارے میں یہ جھگڑا تھا کہ ملک کی زبان کیا ہو۔ جولوگ اردو کے حامی تھے وہ چاہتے تھے کہ اردو ملک کی زبان ہو ، اور جو ہندی کے حامی تھے، اُن کی خواہش تھی کہ ہندی ہو۔ یہ معاملہ اس وقت گہرائی تک پہنچ گیا تھا کیونکہ دونوں زبانیں ایک دوسرے کی رقیب بن کر کھڑی ہوگئی تھیں۔ اردو والے کہتے تھے کہ اگر ہندی کو ملک کی زبان تسلیم کیا گیا تو اردو ختم ہو جائے گی۔ اور ہندی والے کہتے تھے کہ اگر اردو کو ملک کی زبان مان لیا گیا تو ہندی ختم ہو جائے گی۔ ہم ہر وقت اس نگاہ سے اس سوال کو دیکھتے تھے اور اسی کے عادی ہوگئے تھے۔ چنانچہ جب یہ سوال سامنے آتا تو اسی ترازو میں تولا جاتا۔ اسی حالت میں ملک آزاد ہوا۔ وقت آیا، دستور بنا۔ اسمبلی میں کافی بحث ہوئی اور اکثریت کے ساتھ ہندی کو ملک کی زبان تسلیم کر لیا گیا۔ جس کے نتیجے میں اردو کی حیثیت میں ایک بنیادی انقلاب آگیا۔ اور اردو کی بات ایک رقیب کی حیثیت سے کم تر ہوگئی۔ اب ہر ہندوستانی کا جو آئین کاوفادار ہے، فرض ہے کہ اسے مانے۔ وہ اس کے خلاف نہیں جاسکتا۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اردو کی کیا جگہ ہے۔ اس کی وہی حیثیت ہے جو دوسری زبانوں کی ہے۔ بہت سے لوگ اب بھی رقیب کی حیثیت سے دیکھنے لگے ہیںحالانکہ اب یہ بات نہیں ہے۔ اب یہ سوال تو اٹھتا ہی نہیں کہ پورے ملک کی زبان کون سی ہوگی۔ ہندی کو جو جگہ ملنی چاہئے،وہ اُسے مل گئی۔ اب ہر ہندوستانی کا خاص فرض ہے کہ اس کے آگے سر جھکائے لیکن اسی کے ساتھ اردو کی جو جگہ ہے وہ اسے ملنی چاہئے۔ اردو ایک ایسی زبان ہے جو کثرت سے بولی جاتی ہے۔ نہ صرف شمال میں بلکہ جنوب میں بھی۔ آپ کو معلوم ہے کہ حیدرآباد، تلنگانہ کے علاقے میں اردو بولی جاتی ہے۔ میسور میں لاکھوں آدمی اردو بولتے ہیں۔ اسی آندھر ا اور مدراس میں متعدد جگہ اردو بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ یوپی، بہار، دلّی اور پنجاب میں تو کہنے کی ضرورت ہی نہیں۔ یہاں کے لاکھوں اور ہزاروں آدمی اردو بولتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ کانفرنس جس مقصد کیلئے بلائی گئی ہے، اس میں اسے کامیابی ہوگی۔ اور جبکہ وزیر اعظم نے اس کانفرنس کا افتتاح کیا ہے تو یقیناً یہ اپنے مقصد میں ناکام نہیں رہے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK