مولانا وَلی رحمانی: مت سہل ہمیں جانو

Updated: April 05, 2021, 8:30 PM IST

ہر دور میں درجۂ کمال کو پہنچنے والے لوگ خال خال ہی ہوتے ہیں۔ ان میں بھی دو طرح کی شخصیات ہوتی ہیں۔ ایک وہ جو کسی ایک مقصد کی تکمیل میں سرگرم عمل رہتی ہیں اور اس کے ذریعہ بڑا نام پیدا کرتی ہیں۔

Maulana Wali Rahmani:.Picture:INN
مولانا وَلی رحمانی:۔تصویر :آئی این این

 ہر دور میں درجۂ کمال کو پہنچنے والے لوگ خال خال ہی ہوتے ہیں۔ ان میں بھی دو طرح کی شخصیات ہوتی ہیں۔ ایک وہ جو کسی ایک مقصد کی تکمیل میں سرگرم عمل رہتی ہیں اور اس کے ذریعہ بڑا نام پیدا کرتی ہیں۔ دوسرے طبقے میں وہ شخصیات ہوتی ہیں جو بیک وقت کئی محاذوں پر سرگرم رہتے ہوئے اپنی متنوع ذمہ داریوں کو اتنی عمدگی سے ادا کرتی ہیں کہ اگر کچھ مخالفین پائے جاتے ہوں تو وہ بھی اعتراف پر مجبور ہوجائیں۔ مولانا ولی رحمانی کا شمار دوسری قسم کی شخصیات میں ہے جنہوں نے اپنی عملی زندگی کے بام و در حسن کارکردگی سے روشن کئے جس کا نتیجہ تھا کہ مرحوم کی محبوبیت مولانا محمد علی مونگیری اور مولانا منت اللہ رحمانی کی عظیم وراثت ہی کے سبب نہیں تھی بلکہ حامل وراثت ہونے کا حق ادا کرنے کی وجہ سے بھی تھی۔ سوچئے اور غور کیجئے تو حیرت ہوتی ہے کہ مولانا بیک وقت کئی مناصب پر فائز تھے  اس کے باوجود ہر منصب کے تقاضوں کو پورا کرنے میں پُرجوش رہے اور نہایت خاموشی سے ہر جگہ اپنا نقش قائم کیا۔ یہ بات بالیقین کہی جاسکتی ہے کہ رفقائے کار نے اُن کے حسن کارکردگی سے بہت کچھ سیکھا ہوگا اور آنے والی نسلوں کے وہ افراد بھی بالواسطہ سیکھتے رہیں گے جن میں جذبہ ٔ عمل اور حسن عمل موجود ہوگا۔ 
 مولانا ولی رحمانی کی ملّی  خدمات میں ’’رحمانی تھرٹی‘‘ ایسا کارنامہ ہے جس کی تقلید کی جاتی اور ملک کے طول و عرض میں ملت کے ایسے کئی ادارے قائم ہوجاتے تو مولانا کو اُن کی حیات ہی میں بہترین خراج تحسین پیش کیا جاسکتا تھا۔ یہ کارنامہ اپنے اندر کئی جہتیں رکھتا ہے۔ اس میں یہ دعوت شامل تھی کہ دورِ حاضر میں مسلمانوں کو کس طرح سوچنا چاہئے، عصری تعلیم کے میدان میں کیسے بااثر افراد پیدا کرنا چاہئے اور غریب نیز پسماندہ طبقات کے طلبہ کے خوابوں کو شرمندۂ تعبیر کرنے کا کس طرح نظم کرنا چاہئے۔ ۱۹۹۶ء میں قائم شدہ غیر سرکاری تنظیم ’رحمانی فاؤنڈیشن‘ کے زیر اہتمام ۲۰۰۸ءمیں ’رحمانی تھرٹی‘ کے قیام کے ذریعہ جن طلبہ کو ملک کے پُروقار اداروں تک رسائی کیلئے تربیت دی جاتی ہے اور اب تک سیکڑوں طلبہ کو اعلیٰ مناصب تک پہنچنے میں مدد دی گئی وہ معاشی نقطۂ نظر سے حاشئے پر رہنے والے طبقات سے تعلق رکھنے والے طلبہ ہیں۔ یہ اپنی مفلوک الحالی کے سبب آئی آئی ٹی جیسے اداروں تک پہنچنا تو دور کی بات، اس کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتے۔ مولانا کی غریب پروری نے ’مٹی‘ میں ہیرے تلاش کئے اور اُنہیں اس خوبی سے تراشا کہ ملک و بیرون ملک اس کی پزیرائی کی جاتی ہے۔ 
 رحمانی فاؤنڈیشن کا دائرۂ کار صرف رحمانی تھرٹی تک محدود نہیں ہے بلکہ متعدد ووکیشنل سینٹرس، اسٹڈی سینٹرس، بہار کے ۱۰؍ اضلاع میں طالبات کیلئے ووکیشنل کورسیز، چارٹرڈ اکاؤنٹنسی کی تیاری کے مراکز، اسلامی سرمایہ کاری سے متعلق مرکز اور مونگیر میں بی ایڈ کالج کا قیام وغیرہ تک وسیع ہے۔ اسی لئے ہم نے شروع میں کہا کہ مولانا ولی رحمانی، جو بیک وقت کئی اداروں کی سرپرستی اور کامیاب سربراہی فرما رہے تھے، کی شخصیت قحط الرجال کے اس دور میں ملک وقوم کا غیر معمولی اثاثہ تھی۔ ایک عمر میں اتنا سب کرگزرنا ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں ہے، ’’محبت کیلئے کچھ خاص دل مخصوص ہوتے ہیں‘‘ ۔ اس میں جہاں تائید غیبی شامل تھی وہیں ملت کی زبوں حالی اور بے اثری سے نمٹنے کیلئے ٹھوس اور تعمیری اقدامات کی تڑپ بھی تھی جو مولانا کی شخصیت میں بطور خاص ودیعت کی گئی تھی۔ مولانا نے اپنے ایک ایک مشن سے عملی ترغیب دی کہ دورِ حاضر میں ملت کی ترجیحات کیا ہونی چاہئیں۔ n 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK