Inquilab Logo Happiest Places to Work

کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم ماہ ِ ذی الحجہ کی فضیلت سے محروم رہ جائیں

Updated: June 16, 2023, 11:22 AM IST | Mufti Ghulam Mustafa Rafiq | Mumbai

اسلامی سال کا آخری اور بارہواں مہینہ ’’ذی الحجہ ‘‘ کہلاتا ہے ۔ یہ بڑا اہم مہینہ ہے۔ ذی الحجہ کے ابتدائی دس دن جنہیں’’ایام العشر‘‘کہا گیا ہے، یہ بھی بڑی فضیلت کے حامل ہیں اور اس ماہِ مبارک میں کئی بڑی عبادتیں جمع ہوجاتی ہیں، کوئی حج کی عبادت میں سرگرداں رہتا ہے، کوئی قربانی کی عبادت میں مصروف ہے وغیرہ ۔

In the first decade of the month of Dhul-Hijjah, one should worship as much as possible
ماہِ ذی الحجہ کے پہلے عشرے میں جس قدر ممکن ہوسکے عبادت کرنی چاہئے

اسلامی سال کا آخری اور بارہواں مہینہ ’’ذی الحجہ ‘‘ کہلاتا ہے ۔ یہ بڑا اہم  مہینہ ہے۔ ذی الحجہ کے ابتدائی دس دن جنہیں’’ایام العشر‘‘کہا گیا ہے،  یہ بھی بڑی فضیلت کے حامل ہیں اور اس ماہِ مبارک میں کئی بڑی عبادتیں جمع ہوجاتی ہیں، کوئی حج کی عبادت میں سرگرداں رہتا ہے، کوئی قربانی کی عبادت میں مصروف ہے وغیرہ ۔ 
قرآن کریم کی سورۂ فجر کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے چند چیزوں کی قسم کھائی ہے، ان چیزوں میں سے ایک یہ ہے کہ’’ولیال عشر‘‘ اور قسم ہے دس راتوں کی۔ دس راتوں کی قسم اٹھانے کا معنی یہ ہے کہ بڑی اہم راتیں ہیں۔ اس آیت کی تفسیر میں حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ان سے مراد ذی الحجہ کے ابتدائی دن ہیںاور یہ سال کے سب سے زیادہ افضل دن ہیں۔
lعشرۂ ذی الحجہ کے اعمال کی فضیلت: ان ایام کی عبادات اور اعمال اللہ کو بڑے محبوب ہیں ، بطور خاص ان ایام میں انسان نیک اعمال کرتا رہے ،جس عمل کی بھی توفیق ملے، اس توفیق کو غنیمت سمجھے۔ کسی بھی نیک عمل کو معمولی نہ سمجھے ، نہ معلوم اللہ کے ہاں کس عمل کی قبولیت ہوجائے اور انسان کی مغفرت کا سبب بن جائے۔ 
ترمذی شریف میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ:’’رسول کریم ﷺ نے فرمایا : دنوں میں کوئی دن ایسا نہیں ہے جس میں نیک عمل کرنا اللہ کے نزدیک ان دس دنوں (ذی الحجہ کے پہلے عشرہ) سے زیادہ محبوب ہو۔ صحابہؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہﷺ ! کیا (ان ایام کے علاوہ دوسرے دنوں میں) اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی (ان دنوں کے نیک اعمال کے برابر) نہیں ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا نہیں ، پھر فرمایا :ہاں ! اس آدمی کا جہاد جو اپنی جان و مال کے ساتھ (اللہ کی راہ میں لڑنے) نکلا اور پھر واپس نہ ہوا ( ان دنوں کے نیک اعمال سے بھی زیادہ افضل ہے)۔‘‘
اس حدیث مبارکہ کا مطلب یہ ہے کہ اگر جہاد ایسا ہو جس میں مال و جان سب اللہ کی راہ میں قربان ہو جائے اور جہاد کرنے والا مرتبہ شہادت پاجائے تو وہ جہاد البتہ اللہ کے نزدیک ان دس دنوں کے نیک اعمال سے بھی زیادہ محبوب ہے کیونکہ ثواب نفس کشی و مشقت کے بقدر ملتا ہے اور ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی جان اور اپنا مال قربان کر دینے سے زیادہ نفس کشی اور مشقت کیا ہو سکتی ہے؟ 
بہرحال! ذی الحجہ کے پہلے عشرے کے اعمال اس اعتبار سے سب سے زیادہ محبوب ہیں کہ بہت زیادہ برگزیدہ اور باعظمت و فضیلت دن یعنی ’’ عرفہ‘‘ آتا ہے اور افعال حج بھی انہی ایام میں ہوتے ہیں۔(مظاہرحق)
lان دنوں میں کون سے اعمال کریں ؟ حضرت ابوہریرہ ؓ ایک روایت میں فرماتے ہیں: ’’ان ایام میں ایک دن کا روزہ اللہ کے ہاں ثواب میں ایک سال کے روزوں کے برابر ہے، اور ایک رات کی عبادت لیلۃ القدر کی عبادت کی طرح اجر و ثواب رکھتی ہے۔‘‘ اس روایت سے ہمیں یہ معلوم ہوا کہ ان دنوں میں روزہ رکھنے کی کوشش کرنی چاہئےاور جس قدر ممکن ہو عبادات کریں ، خصوصاً رات اور رات کا آخری حصہ۔ اس میں جس کو عبادت کی توفیق مل جائے، وہ اگرچہ دو رکعت نفل ہی کیوں نہ ہوں بہت بڑی سعادت کی بات ہے۔  رسول کریم ﷺکے بارے میں ازواج مطہرات ؓ فرماتی ہیں کہ آپؐ  نو دنوں کے روزے رکھتے تھے۔  ان دنوں میں۹؍تاریخ یوم عرفہ کہلاتی ہے، اس دن کاروزہ بطور خاص فضیلت کا حامل ہے ۔ دوسری روایات میں ہے :’’ ان ایام میں کثرت سے ’’لاالہٰ الا اللہ،اللہ اکبر‘‘کہا کرو، کیوں کہ یہ ایام تہلیل، تکبیر اور اللہ کے ذکر کے ہیں۔‘‘ 
l نوذی الحجہ کے روزے کی فضیلت: ان ایام میں اگر کوئی آدمی باقی دنوں میں روزے کا اہتمام نہ بھی کرسکے تو کم ازکم ۹؍ذی الحجہ کے روزے کا تو ضرور اہتمام ہونا چاہئے، یعنی ہمارے ہاں کے حساب سے جس دن ذی الحجہ کی ۹ تاریخ ہو، عید سے ایک دن پہلے، اس دن روزہ ضرور رکھا جائے، اس ایک روزہ کی بھی مستقل فضیلت احادیث میں بیان کی گئی ہے۔صحیح مسلم، ترمذی اور دیگر کتابوں میں آنحضرت ﷺسے حضرت ابوقتادہ ؓ نے یہ روایت نقل کی ہے کہ :’’میں اللہ تعالیٰ سے یہ امید رکھتا ہوں کہ عرفہ کے دن کا روزہ اس کے بعد والے سال اور اس کے پہلے والے سال کے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا۔‘‘
 lقربانی کرنے والا بال ناخن نہ کٹوائے: ذی الحجہ کے پہلے عشرے سے متعلق ایک ہدایت یہ بھی ہمیں دی گئی ہے کہ جو شخص قربانی کرتا ہو ،وہ ذی الحجہ کا چاند دیکھنے کے بعد حجاج کرام سے مشابہت کے لئے ناخن اور بال کٹوانے سے احتراز کرے۔ اس سلسلے میں کتب احادیث میں حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے یہ روایت منقول ہے کہ آپ ﷺنے فرمایا’’جب ذی الحجہ کا پہلا عشرہ شروع ہو جائے تو تم میں سے جو آدمی قربانی کرنے کا ارادہ کرے وہ ( اس وقت تک جب تک کہ قربانی نہ کرلے) اپنے بال اور ناخن بالکل نہ کتروائے۔‘‘
اس روایت میں قربانی کرنے والوں کو بقرعید کا چاند دیکھنے کے بعد قربانی کر لینے تک بال وغیرہ کٹوانے سے اس لئے منع فرمایا گیا ہے ،تاکہ جو لوگ حج کررہے ہیں اور احرام کی حالت میں ہیں وہ بال ناخن نہیں کٹوا سکتے، لہٰذا دوسرے لوگوں کو بھی احرام والوں کی مشابہت حاصل ہو جائے۔ 
البتہ یہ ممانعت تنزیہی ہے، لہٰذا بال وغیرہ کا نہ کٹوانا مستحب ہے اور اس کے خلاف عمل کرنا ترک اولی ہے، لیکن حرام نہیں، لہٰذا کسی کو ضرورت ہو یا کوئی عذر ہواور وہ بال یا ناخن کٹوادے تو گناہ گار نہیں ہوگا۔ بہرحال یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل ایمان کو موقع دیا گیا ہے کہ وہ اپنی اپنی جگہ رہتے ہوئے بھی حج اور حجاج کرام سے ایک نسبت اور مشابہت پیدا کرلیں، اور ان کے ساتھ کچھ اعمال میں شریک ہوجائیں۔خلاصہ یہ ہے کہ عشرۂ ذی الحجہ کے یہ دس دن بڑے مقدس محترم اور عظمت والے ہیں، ان دنوں میں اعمال بطور خاص اللہ کے ہاں بڑے پسند کیے جاتے ہیں، لہٰذا ان ایام میں روزوں، عبادات، نوافل، ذکر، تلاوت کا اہتمام کرنا چاہئے ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK