قرآن میں دھوپ اور سایہ کا ذکر

Updated: March 19, 2021, 12:13 PM IST | Professor Wasim Ahmed

سائنسی تحقیقات اس پر روشنی ڈالتی ہیں کہ اگر ایک لمبی مدت تک زمین سورج کی روشنی سے محروم ہو جائے تو موجودہ نظام میں زمین پر زندگی معدوم ہو سکتی ہے، لیکن رب کریم نے دن کا ایک معتدل فیض بخش نظام قائم فرمایا ہے۔

Sunlight and Shadow - Pic : INN
دھوپ اور چھاؤں ۔ تصویر : آئی این این

 اللہ تعالیٰ کی شانِ ربوبیت ورحمت کائنات کی ہر چیز سے ظاہر ہوتی ہے۔ وہ رب العالمین ہے۔ رحمٰن ورحیم ہے (الفاتحہ )۔ اس کی رحمت ہر چیز پر چھائی ہوئی ہے۔ جیسا کہ ارشار ہے:
’’اور میری رحمت تمام اشیا ءپر محیط ہے۔‘‘ (اعراف :۱۵۶)
دوسری جگہ ارشاد ہے:
’’ اور اس( اللہ) نے سورج اور چاند کو تمہارے لئےمسخر کیا کہ لگاتار  چلے جا رہے ہیں اور رات اور دن کو تمہارے لئےمسخر کیا۔ اور تم کو وہ سب کچھ دیا جوتم نے مانگا (یعنی تمہاری فطرت کی ہر مانگ پوری کی )۔ اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو نہیں کر سکتے۔ بے شک انسان بڑا ہی بے انصاف اور ناشکرا ہے۔‘‘(ابراہیم :۳۳-۳۴)
تفہیم القرآن میں ان آیات کی تشریح کرتے ہوئے مولانا مودودی نے لکھا ہے کہ مسخر کرنے کا مطلب ان کو ایسے قوانین کاپابند بنانا ہے، جس کی بدولت یہ انسان کے لئےنافع ہوگئے ہیں۔
اللہ کی رحمتوں اور نعمتوں کا کسی ایک زاویے سے بھی احاطہ کر پانا ناممکن ہے۔ اس مضمون میں دھوپ اور سایے کے تعلق سے ان پر کچھ نظر ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے۔
دھوپ اور سایہ بظا ہر متضاد چیزیں ہیں۔ سایے کو عام طور پر راحت اور آرام کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ دھوپ میں بظاہر ایسانہ ہو لیکن ذرا غور کرنے سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ دھوپ خود کاروبارِ زندگی کے لئے نہایت اہم اور ضروری ہے۔ دوسرے دھوپ ہی سایے کی اہمیت اور افادیت کی پہچان بنتی ہے۔ اگر دھوپ نہ ہو تو سایہ بھی نہیں رہتا۔
جس طرح گھنا سایہ رب کریم کی رحمتوں کا مظہر ہے اسی طرح دھوپ کو بھی اس نے سایے دار درخت اور اس کے ساتھ ہی دوسری زمینی مخلوقات کے لئےرحمت اور رزق کا سامان بنا دیا ہے۔  وہ اس دھوپ کو قابل برداشت اور اکثر صورتوں میں خوش گواربنائے رکھتا ہے۔
سایہ دار درخت اور زمین پر پھیلے ہوئے تمام پیڑ پودے، جڑی بوٹیاں سورج کی روشنی (دھوپ) میں ہی اپنی خوراک بناتے ہیں اور نشوونما پاتے ہیں اور اسی عمل میں وہ ماحول کی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کر کے آکسیجن خارج کرتے  ہیںجو زندگی کے لئےناگزیر ہے۔ اس دوران استعمال ہونے والی سورج کی توانائی (Solar Energy)  کا ایک حصہ پیڑ پودوں کی پتیوں، ڈالوںاور تنوں میں محفوظ ہو جاتا ہے جو انھیں جلا کر دوبارہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح پیڑ پودے شمسی توانائی کے بہترین ذخیرے کے طور پر کام کرتے ہیں۔ 
قرآن کریم میں ارشاد ہے:
’’(اللہ) جس نے تمہارے لئےہرے بھرے درخت سے آگ پیدا کردی اور تم اس سے اپنے لئےآگ سلگاتے ہو۔‘‘(یٰسین:۸۰)
دوسری جگہ ارشاد فرمایا:
’’کبھی تم نے خیال کیا، یہ آگ جو تم سلگاتے ہو، اس کا درخت تم نے پیدا کیا ہے، یا اس کے پیدا کرنے والے ہم ہیں ؟ ہم نے اس کو یاد دہانی کا ذریعہ اورحاجت مندوں کے لئےسامانِ زیست بنایا۔‘‘ 
(الواقعہ:۷۱-۷۳)
آج کل شمسی توانائی کو محفوظ کرنے اور ذخیرہ کرنے کے نئے نئے طریقے ایجاد ہو گئے ہیں جن سے بڑے پیمانے پر شمسی توانائی سے بجلی پیدا کی جا رہی ہے ۔ جگہ جگہ دھوپ کے مواقع پر سولرپینل (Solar Panels ) لگ رہے ہیں اور دھوپ سے بجلی پیدا کی جارہی ہے۔ ان فوائد سے بڑھ کر پیڑ پودوں کے پھل پھول اور پتیاں ہی انسانوں اور جانوروں وغیرہ کی غذا بنتے ہیں اور  انھی سے پھر گوشت اور دودھ وغیرہ بھی بنتے ہیں ۔ اس طرح پیڑ پودے خاموش خدمت میں لگے ہوتے ہیں جس کا سارا انتظام رب کریم کی طرف سے ہوتا ہے۔ قرآن کریم میں جگہ جگہ اس کا بیان مختلف انداز میں ہوا ہے:
’’اور تمہارے اوپر ہم نے سات راستے بنائے، تخلیق کے کام سے ہم کچھ نابلد نہ تھے۔‘‘ (المومنون:۱۷)
سورہ قٓ  میں فرمایا گیا:
’’اچھا، تو کیا اِنہوں نے کبھی اپنے اوپر آسمان کی طرف نہیں دیکھا؟ کس طرح ہم نے اسے بنایا اور آراستہ کیا، اور اس میں کہیں کوئی رخنہ نہیں ہے ۔اور زمین کو ہم نے بچھایا اور اس میں پہاڑ جمائے اور اُس کے اندر ہر طرح کی خوش منظر نباتات اگا دیں ۔یہ ساری چیزیں آنکھیں کھولنے والی اور سبق دینے والی ہیں ہر اُس بندے کے لئے جو (حق کی طرف) رجوع کرنے والا ہو ۔اور آسمان سے ہم نے برکت والا پانی نازل کیا، پھر اس سے باغات اگائے اور کھیتوں کا غلّہ (بھی)،اور بلند و بالا کھجور کے درخت پیدا کر دیئے جن پر پھلوں سے لدے ہوئے خوشے تہہ بہ تہہ لگتے ہیں ،یہ انتظام ہے بندوں کو رزق دینے کا اِس پانی سے ہم ایک مُردہ زمین کو زندگی بخش دیتے ہیں (مرے ہوئے انسانوں کا زمین سے) نکلنا بھی اِسی طرح ہو گا ۔‘‘( قٓ:۶؍تا۱۱)
سورۃ الشعراء میں ارشاد ہے:
’’ کیا انھوں نے زمین کی طرف نگاہ نہیں کی ، ہم نے اس میں کتنی نوع بنوع کی فیض بخش چیزیں اُگارکھی ہیں؟ اس میں بے شک بہت بڑی نشانی ہے لیکن ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ اور بے شک تمہارا رب غالب بھی ہے، مہربان بھی۔ ‘‘ (الشعراء :۷-۹)
سورۂ شعراء میں خاص طور سے انبیائے سابقین کے حالات زندگی سے رب کریم کی رحمت اور قدرتِ کاملہ کی نشانیاں بیان کی گئی ہیں اور نبی ؐ پر ایمان لانے سے انکار کرنے والوں کو ان کے انجام بد سے ڈرایا گیا ہے، لیکن سب سے پہلے (’’ کیا انھوں نے زمین کی طرف نگاہ نہیں کی ، ہم نے اس میں کتنی نوع بنوع کی فیض بخش چیزیں اُگارکھی ہیں؟‘‘آیت :۷) شانِ رحمت وربوبیت کی وہ نشانی  پیش کی گئی ہے جو سب کے سامنے ہے اور تھوڑے غورو فکر سے بخوبی سمجھ میں آ جاتی ہے۔
دھوپ اپنی ساری افادیت کے باوجو داگر مستقل طور پر ہمارے اوپر پھیلی رہے تو ایک مصیبت بن جائے جس کا اندازہ گرمیوں میں ہوتا ہے، اور سردیوں میں اس کا بھی اندازہ بخوبی ہوجاتا ہے کہ دھوپ ہماری زندگی کے لئےکتنی ضروری ہے۔ سائنسی تحقیقات اس پر روشنی ڈالتی ہیں کہ اگر ایک لمبی مدت تک زمین سورج کی روشنی سے محروم ہو جائے تو موجود ہ نظام میں زمین پر زندگی معدوم ہو سکتی ہے، لیکن رب کریم نے دن کا ایک معتدل فیض بخش نظام قائم فرمایا ہے۔زمین اپنے دُھرے (Axis) پر تقریباً ۲۴؍ گھنٹوں میں ایک چکّر پورا کرتی ہے، جس سے رات اور دن باری باری آتے رہتے ہیں، اور اپنے دُھرے پر تقریباً ۲۳؍ ڈگری زاویے پر جھکی رہتے ہوئے سورج کے گرد سال (تقریباً ۴/۱، ۳۶۵ ؍دن ) میں ایک چکّر پورا کرتی ہے۔ جس سے رات، دن گھٹتے بڑھتے ہیں اور موسم کی تبدیلی وغیرہ جیسے بے شمار فوائد اعتدال کیساتھ حاصل ہوتے ہیں ۔ قرآن کریم میں اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد ہے:
’’ بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدایش میں اور رات اور دن کے بدل بدل کر آنے جانے میں اور ان کشتیوں میں جو سمندر میں ان چیزوں کے لئےچلتی ہیں جو لوگوں کو نفع دیتی ہیں۔ اور اللہ نے جو آسمان سے پانی نازل کیا، پھر اس کے ذریعے زمین کو جو مُردہ ہوچکی تھی زندہ کیا اور  ہر قسم کے جانوروں میں جواس نے زمین میں پھیلائے ہیں اور ہوائوں کے پھیر بدل میں اور ان بادلوں میںجو آسمان اور زمین کے درمیان مسخر کردیے گئے ہیں عقل مندوں کے لئےبڑی نشانیاں ہیں۔‘‘
(البقرہ: ۱۶۴)
دن اور رات بھی دھوپ اور سایے کی بڑی اور پھیلی ہوئی شکلیں ہیں۔ زمین کے جس آدھے حصے پر سورج چمک رہا ہوتا ہے، اسی کا سایہ دوسرے آدھے حصے پر پڑتا ہے اور وہاں رات ہوتی ہے ۔ کاروبار زندگی کے لئےدن اور رات کا مناسب رفتار سے آنا جانا جو اہمیت رکھتا ہے، واضح ہے۔ قرآن کریم  میں  ارشاد ہے:
’’کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے سایے کو کس طرح پھیلادیا ہے؟ اگر چاہتا تو اسے ٹھہرا ہوا ہی کر دیتا۔ پھر ہم نے آفتاب کو اس پر دلیل بنا دیا (یعنی دھوپ سے ہی سایے کا پتا چلتا ہے۔ اگر سورج نہ ہو تو سایہ بھی نہ ہو )۔ پھر ہم نے اسے آہستہ آہستہ اپنی طرف کھینچ لیا اور وہی ہے جس نے رات کو تمہارے لئےپردہ بنایا اور نیند کو راحت بنایا اور دن کو جی اُٹھنے کا وقت (جوکاروبار زندگی کے لئےضروری ہے )۔‘‘ (الفرقان : ۴۵؍ تا  ۴۷)
سورۂ قصص میں بھی یہ بات کچھ اور وضاحت کے ساتھ بیان ہوئی ہے۔ارشاد ہوا:
’’ان سے کہو کیا تم نے سوچا کہ اگر اللہ قیامت تک تم پر ہمیشہ کے لئےدن طاری کر دے تو اللہ کے سوا وہ کون سا معبود ہے جو تمہارے لئے رات لادے، تا کہ تم اس میں سکون حاصل کر سکو؟ کیا تم کو سوجھتا نہیں؟ یہ اسی کی رحمت ہے کہ اس نے تمہارے لئےرات اور دن بنائے تا کہ تم (رات میں) سکون حاصل کرو اور (دن میں) اپنے ربّ کا فضل تلاش کرو، شاید کہ تم شکر گزار بنو۔‘‘(القصص :۷۲-۷۳) 
رب کریم کی عطا کردہ بے شمار نعمتیں ہیں جن کے بغیر زندگی کا تصور نہیں کیا جا سکتا لیکن وہ ہماری زندگیوں میں ایسی شامل ہیں کہ اکثر ان کی قدر وقیمت کا احساس نہیں رہتا:
’’اے اللہ ! ہماری مدد فرما کہ ہم تیرا ذکر، تیراشکر اور تیری عبادت بہ حسن وخوبی کرتے رہیں۔‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK