لفظوں کی مسیحائی

Updated: July 26, 2020, 9:21 AM IST | Prof Syed Iqbal

اسپتالوں میں مریضوں کی کیفیت سے متعلق جب ڈاکٹر ایلز بیتھ کی کتاب منظر عام پر آئی تومریضوں اور ڈاکٹروں کی جانب سے انہیں خطوط کی بھر مار ہونے لگی۔ یہاں تک کہ پوسٹ آفس سے ان کیلئے دن میں دوبار پوسٹ مین بھیجا جانے لگا۔ ان کی بتائی ہوئی مریضوں کی داستان پر ڈرامے اور گیت لکھے گئے اوران کی ریسرچ کو بنیاد بناکر سیکڑوں تحقیقی مقالے شائع ہوئے۔ اخبارات اورٹیلی ویژن پر ڈاکٹر ایلزبیتھ نے بے شمار انٹرویوز  دیئے۔ ڈاکٹر ایلزبیتھ کی شہرت کا یہ عالم تھا کہ ٹائم میگزین نے انہیں بیسویں صدی کے اہم مفکرین میں شامل کیا

Health Worker - Pic : PTI
ہیلتھ ورکر ۔ تصویر : پی ٹی آئی

سوئزرلینڈ کی ماہر نفسیات  Dr Elizabeth Kubler Ross جب امریکہ منتقل ہوئیں اور ایک اسپتال میں کام کرنا شروع کیا تو انہیں یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ ان مریضوں کو جن کے بارے میں ڈاکٹروں کی یہ رائے تھی کہ یہ زیادہ دنوں تک زندہ نہیں رہ پائیں گے ، انہیں اسپتال کا عملہ تقریباً بھلا دیتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں وہ ان بے یارومددگار مریضـوں کو خدا کے حوالے کرکے بے فکر ہوجاتے ہیں۔ حالانکہ امریکی اسپتال اس وقت بھی جدید ترین سہولت سے آراستہ تھے،   ہر طرح کی تکنیکی آلات اور تجربہ کار ڈاکٹروں کی ٹیم بھی وہاں موجود تھی مگر نہ جانے کیوں، ان ڈاکٹروں کا ذہن  بن چکا تھا کہ ان Terminally ill مریضوں کو توجہ کی ضرورت نہیں۔ اس صورت حال سے ڈاکٹر ایلزبیتھ بڑی مغموم ہوئیں ۔ انہوںنے مختلف اسپتالوں کے ایسے کئی مریضوں سے گفتگو کی ، ان کے اہل خانہ سے رابطہ قائم کیا اور اس نتیجے پر پہنچیں کہ یہ بدنصیب اگر ڈاکٹروں کی غفلت کا شکار نہ ہوتے تو شاید اپنی زندگی سے اتنے مایوس نہ ہوتے۔
  اس بات کا انکشاف ان کے انٹرویوز سے ہوا کہ وقت کے ساتھ ان مریضوں نےموت کو بھی ہنسی خوشی قبول کرلیاتھا۔ کوئی مریض جسے اسپتال میں علاج کی خاطر داخل کیا جائے اور اسے مردہ حالت میں گھر لوٹنا پڑے تو کیا یہ ڈاکٹروں کی ذمہ داری نہیں کہ ایسے مریضوں سے محبت کا برتاؤ کریں اور انہیں تندرست رکھنے کی کوشش کریں؟ اگر ڈاکٹروں اوراسپتال کے عملے کی جانب سے ان مریضوں کو تھوڑی سی توجہ حاصل ہوتی تو وہ مایوسی کے اندھیروں میں گم نہ ہوتے اور شاید کچھ دن اور جی لیتے۔ ڈاکٹر ایلزبیتھ نے اسپتال والوں سے تو کچھ نہیں کہا البتہ یونیورسٹی آف کولاروڈو کے انتظامیہ  سے بات چیت کی اور ان سے درخواست کی کہ وہ اس عنوان پر سمینار کروائیں اور میڈیکل طلبہ کو دعوت دیں تاکہ ڈاکٹر بننے کے بعد یہ طلبہ ایسے مریضوں سے عدم توجہی نہ برتیں۔ جوں ہی یہ خبر ڈاکٹروں تک پہنچی انہوںنے احتجاج کرنا شروع کردیا اور یونیورسٹی کے انتظامیہ پر دباؤ ڈالا کہ اس طرح کے سمینار سے گریز کیاجائے کیوں کہ ایسے اجتماعات سے ڈاکٹروں اور ان کے پیشے کی سبکی ہوتی ہے لیکن ڈاکٹر ایلزبتھ سارے احتجاج کے باوجود اپنے موقف پر ڈٹی رہیں اورانہوںنے میڈیکل کے طلبہ کو خطاب کیا۔ ان کی مدلل تقریر اور مریضوں کے انٹرویوز کی کہانیاں کچھ اس قدر موثر تھی کہ دوسرے ہی دن سارے امریکہ میں ان کے خطاب کی  دھوم مچ گئی۔ پہلے سمینار میں چند طلبہ نے شرکت کی تھی مگر اگلے سمیناروں میں تل دھرنے کو جگہ نہیں تھی۔ اپنی آمد کے دوسرے ہی سال (۱۹۶۹ء) انہوںنے تجربات پر مبنی کتاب On Death & Dying لکھی جو نہایت قلیل عرصے میں گرم کیک کی طرح بک گئی اوراس کے کئی اڈیشن شائع ہوئے۔
  آخر اس کتاب میں ایسا کیا لکھا تھا کہ وہ بیسٹ سیلر کے درجے تک پہنچ گئی؟ دراصل ڈاکٹر ایلزبیتھ نے پہلی بارایک ایسے مسئلے کو چھیڑا تھا جس پر کسی کی نظر نہیں پڑی تھی۔ یوں بھی لوگ اپنے مریضوں کو اسپتال میں داخل کرکے مطمئن ہوجاتے ہیں کہ یہاں کے مسیحا نما ڈاکٹر ان کے عزیزوں کو جلدہی صحت یاب کر دیں گے۔ اگر مریض کسی لاعلاج بیماری میں مبتلا ہو، تب بھی ڈاکٹروں کی محنت سے ان کے درد کی شدت میں کمی آہی جائے گی۔
  کسی نے خارجی دنیا کو یہ راز نہیں بتایا تھا کہ اسپتال کی چاردیواری میں پھنسے کچھ مریض بسا اوقات بے سہارا چھوڑ دیئے جاتے ہیں اورآخری لمحوں میںان پر کیا گزرتی ہے، کوئی نہیں جان پاتا۔ جب امریکی  معاشرے کو درون خانہ کے راز ہائے سربستہ معلوم ہوئے تو مریضوں اور ڈاکٹروں کی جانب سے ایلزبیتھ کو خطوط کی بھر مار ہونے لگی۔ یہاں تک کہ مقامی پوسٹ آفس سے ان کیلئے دن میں دوبار پوسٹ  مین بھیجا جانے لگا۔ ان کی بتائی ہوئی مریضوں کی داستان پر ڈرامے اور گیت لکھے گئے اوران کی ریسرچ کو بنیاد بناکر سیکڑوں تحقیقی مقالے شائع ہوئے۔ اخبارات اورٹیلی ویژن پر ڈاکٹر ایلزبیتھ نے بے شمار انٹرویوز دیئے اور۷۰ء اور۸۰ء کی دہائی میں انہوں نے امریکہ کے مختلف شہروں میں جاکر ایسے مریضوں کیلئے خصوصی توجہ کا  مطالبہ کیا۔ ڈاکٹر ایلزبیتھ کی شہرت کا یہ عالم تھا کہ ٹائم میگزین نے انہیں بیسویں صدی کے اہم مفکرین میں شامل کیا۔
  ان کی بنیادی تھیوری یہی تھی کہ جب کوئی شخص جان لیوا بیماری میں مبتلا ہوتا ہے تو وہ جذباتی طورپر چند ادوار سے گزرتا ہے اولاً ، اسے  یقین نہیں آتا کہ وہ کسی موذی مرض میں مبتلا ہے۔ وہ سارا وقت اس بات سے انکار کرتا رہتا ہے ۔ (ثانیاً) چند روز بعد اسے کچھ کچھ احساس ہونے لگتا ہے کہ وہ واقعی اس بیماری میں مبتلا ہوچکا ہے تو اسے غصہ آنے لگتا ہے کہ آخر قدرت نے اسے ہی کیوں نشانہ بنایا؟ کیا اس دنیا میں وہ واحد شخص رہ گیا تھا جسے ایسی مضر بیماری میں گرفتار ہونا تھا؟(ثلاثاً) اسے احساس ہونے لگتا ہے کہ اب اس مصیبت سے گلوخلاصی ممکن نہیں، اسلئے وہ کمال ہوشیاری سے قدرت سے سودے بازی پراترآتا ہے ۔ بس ایک بار مجھے شفادے دے، میں تیرا  نیک بندہ بن جاؤں گا۔ اورکبھی کوئی ایسا کام نہیں کروں گا جس سے تو ناراض ہو لیکن ساری توبہ اور دعاؤں کے بعد بھی جب کوئی صورت نظر نہیں آتی تو وہ ( رابعاً )  مایوس ہوجاتا ہے اور پھر  (خامساً) ایسے اسٹیج میں داخل ہوتا ہے جہاں اسے قبول کرنا پڑتا ہے کہ اب مرنے کے سوا اور کوئی راستہ نہیں۔
 ہمارے ہاں صورت حال کچھ اور ہوتی ہے۔ جو لوگ کسی موذی مرض میں مبتلا ہوتے ہیں وہ امریکیوں کی طرح اظہار پر  اتنے قادر نہیں ہوتے کہ اپنے  احساسات دوسروں تک پہنچا سکیں، نہ ابھی تک کسی ڈاکٹر ایلزبیتھ نے ہمارے ہاں اس موضـوع پر ریسرچ  کی ہے۔ ہاں! چند قریبی لوگ مریض کی ذہنی حالت کا ذکر ضرور کرتے ہیں جب وہ جھنجھلاہٹ  میں اپنے دل کی بات ان سے کہہ دیتا ہے۔ لیکن وہ باتیں پھر کسی راز کی طرح سینوں میں محفوظ کرلی جاتی ہیں۔ ان کے مقابلے میں دیندار افراد اپنی  بیماری کو خداوند کریم کی مصلحت سمجھ کر قبول کرتے ہیں اور  مایوسی کو قریب تک نہیں آنے دیتے۔ ایسے مریض آخری لمحے میں سودے بازی بھی نہیں کرتے بلکہ یہی دعا کرتے رہتے ہیں کہ وہ کسی اسپتال ، دھرم شالہ یا عوامی راستے پر مرنے کے بجائے اپنوں کے درمیان آخری سانسیںلیں۔ اس کے باوجود کوئی مرنے والا شاذ ہی اطمینان سے رخصت ہوتا ہے۔ اسے ابتدائی لمحوں میں قدرت سے ناراضگی ہوتی ہے اورآخری لمحوں میں یہ  احساس غالب رہتا ہے کہ وہ بالآخر ایک موذی مرض کے سبب اس دنیا سے جارہا ہے۔ طبعی موت اور وہ بھی اپنوں کے درمیان چند ہی لوگوں کے حصے میں آتی ہے۔ ان میں بھی خوش نصیب وہ نیکوکار ہوتے ہیں جو مرنے سے قبل اپنے سارے حساب بے باق اور نامکمل کام مکمل کرچکے ہوتے ہیں۔ 
  اس مسئلے کی ایک بڑی وجہ وہ تہذیبی اقدار ہیں جن کے ساتھ ہم بڑے ہوتے ہیں۔ شاید یہ ہمارے لئے عزت اور  دولت اور اپنے خاندان کی بہبودی سب سے اہم ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ اسے حاصل کرنے میں ہم اپنی ساری زندگی داؤ پر لگا دیتے ہیں اور خدانخواستہ کسی سبب ناکام ہوجائیں تویہ دکھ آخری لمحوں تک کچوکے لگاتا رہتا ہے۔۶۰ء کی دہائی تک تو ہم تپ دق ، چیچک اورکالی کھانسی کو موذی خیال کرتے ہے۔ ۷۰ء کی دہائی میں اچانک کینسر منظر عام پر اُبھرا اور اس نے لاکھوں  جانیں لے کر میڈیکل برادری کیلئے ایک نیا چیلنج کھڑاکیا ۔ اب کورونا وائرس نے موذی مرض کا احساس دلایا ہے۔ اس وائرس نے جس طرح ساری اقدار ملیا میٹ کرکے ہمیں زندگی سے محبت کرنا سکھایا ہے، اس کی مثال شاید ہی ملے۔ کیوں کہ کل تک ہر کوئی اس خوش فہمی میں مبتلا تھا کہ یہ وائرس مجھے نہیں پکڑ سکتا۔ یہ زیادتی نہیںتو اورکیا ہےلوگوں کو اپنے ہی گھروں میں قید کیاجارہا ہے۔ اگر سماجی فاصلے رکھنے سے کوئی محفوظ ہوسکتا ہے تو یہ فاصلے بھی  رکھے جاسکتے ہیں مگریہ مصیبت کب ختم ہوگی، کوئی نہیں جانتا۔ اس پس منظر میں دیکھیں توکئی افراد ایسے ہی ادوار سے گزر رہے ہیں مگر ڈاکٹر ایلزبیتھ کے مطابق ضروری نہیں کہ ہر کوئی اسی تربیت سے اورانہی ادوار سے گزرے۔ ہر فرد کا دکھ اس کا اپنا دکھ ہوتا ہے اوراس کا اظہار بھی وہ اپنے انداز میں کرتا ہے۔ ڈاکٹر ایلزبیتھ چاہتی تھیں کہ اس موضوع پر مزید ریسرچ ہو۔ ان کے خیال میں ڈاکٹروں کو مریضوں سے محبت کرنے کی تربیت دینی چاہئے۔ رشتہ داروں کو  بیماری کے متعلق تفصیلی معلومات فراہم کرنی چاہئے اور مریضوں کو اس بات کی تلقین کرنی چاہئے کہ وہ اپنے مرض کا بہادری سے مقابلہ کرنا سیکھیں کیونکہ ایسے مریض مرنا نہیں سکھاتے ، جینا سکھاتے ہیں۔ ہم جو ہر لمحہ موت سے قریب  ہوتے جا رہے ہیں ، کیا ان مریضوں سے جینے کے آداب سیکھیں گے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK