دماغ، دِل اور راکیش جھن جھن والا

Updated: August 16, 2022, 1:14 PM IST | Mumbai

ذہانت، دماغی اور عقلی صلاحیتوں کو بھرپور طریقے سے بروئے کار لانے کا نام ہے۔ جب انسان اپنی ان صلاحیتوں کو بہتر انداز میں استعمال کرتا ہے تو ذہانت جِلا پاتی ہے، خود کو متعارف کراتی ہے اور اپنے مداح پیدا کرتی ہے۔

Rakesh Jhunjhunwala .Picture:INN
راکیش جھن جھن والا ۔ تصویر:آئی این این

 ذہانت، دماغی اور عقلی صلاحیتوں کو بھرپور طریقے سے بروئے کار لانے کا نام ہے۔ جب انسان اپنی ان صلاحیتوں کو بہتر انداز میں استعمال کرتا ہے تو ذہانت جِلا پاتی ہے، خود کو متعارف کراتی ہے اور اپنے مداح پیدا کرتی ہے۔ دُنیا میں اُن لوگوں کی تعداد کم نہیں جو ذہین ہیں مگر ذہن کے استعمال سے ذہانت کو پروان چڑھانے، بروئے کار لانے اور اسے منوانے والے کم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دُنیا کے ذہین ترین لوگوں کی فہرست (ماضی کی اور موجودہ) کبھی بھی دس بیس ناموں سے آگے نہیں بڑھتی، یہ الگ بات ہے کہ ذہانت کو آنکنے کا طریقہ کار جسے ’’انٹیلی جنس کوشنٹ‘‘ (آئی کیو) کہا جاتا ہے، کتنا درست ہے اور کتنا نادرست یہ کہنا مشکل ہے۔ ذہین کہلانے اور تسلیم کئے جانے والوں میں سب ہی بچپن سے ذہانت کے بلند معیار پر فائز نہیں تھے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ انسان کا ذہین پیدا ہونا ضروری نہیں، اس کا ذہانت پیدا کرنا ضروری ہے۔ بہ الفاظ دیگر یہ ممکن ہے کہ انسان اپنی ذہنی صلاحیتو ں کو بڑھائے، نکھارے، بروئے کار لائے اور اس طرح ذہین کہلائے۔  گزشتہ دنوں (۱۴؍ اگست کو) ہمارے درمیان سے ایک ایسا شخص اُٹھ گیا جسے کسی شک و شبہ کے بغیر ذہین کہا جاسکتا ہے۔ اُس نے اپنی ذہانت کے استعمال کے ذریعہ کیا حاصل کیا یہ الگ بحث ہے مگر اُس کی سب سے بڑی خصوصیت ذہانت اور اس کا بھرپور استعمال ہی ہے۔ ہماری مراد ہندوستان کے وارین بفیٹ کہلانے والے راکیش جھن جھن والا سے ہے ۔ راکیش جھن جھن والا کی پہچان شیئر مارکیٹ پر دسترس رکھنےاور ۱۹۸۵ء میں صرف ۵؍ ہزار روپے کی سرمایہ کاری سے کریئر کا آغاز کرتے ہوئے ۲۰۱۸ء میں ۱۱؍ ہزار کروڑ کے مالک بن جانے والے شخص کی ہے۔ ہمارے نزدیک اہمیت نہ تو اتنی دولت کی ہے جو اُنہوں نے شیئر مارکیٹ سے اکٹھا کی نہ ہی اس بات سے کہ اُنہیں ہندوستان کے امیر ترین لوگوں کی فہرست میں ۳۶؍ واں مقام حاصل تھا۔ ہمارے نزدیک اہمیت دو باتوں کی ہے۔ ایک یہ کہ شیئر بازار پر اُن کی جو نظر تھی، وہ کسی بہت ذہین، زیرک اور مارکیٹ کے نشیب و فراز کو سمجھتے ہوئے بہتر فیصلہ کرنے والے انسان کی نظر تھی۔ یہی وجہ ہے کہ جو شیئر مارکیٹ لوگوں کو لکھ پتی سے کنگال کردیتا ہے، اس میں راکیش جھن جھن والا نے کامیابی ہی کشید کی، ناکامی کا منہ نہیںدیکھا۔ 
 اُن کی دوسری خصوصیت دولت کو ذاتی تجوریوں میں مقفل نہ رکھنے بلکہ سماج کو اس کا حصہ دینے کی تھی۔ اُنہیں ہندوستان کا وارین بفیٹ نام اسی لئے دیا گیا۔ راکیش جھن جھن والا کینسر سے متاثرہ بچوں کی نگہداشت کرنے والے ادارہ سینٹ جوڈ کیلئے خطیر رقم عطیہ کرتے تھے۔ بچوں کو جنسی استحصال کے خلاف بیدار کرنے والے ادارہ اگستی انٹرنیشنل فاؤنڈیشن اور ارپن بھی اُن کے عطیات سے مستفید ہونے والے اداروں میں شامل ہیں۔ اشوکا یونیورسٹی بھی اُن کی فیاضی سے فیض یاب ہوتی رہی۔اُن کے دم خم سے جو پروجیکٹ جاری تھے اُن میں سے ایک نوی ممبئی میں اسپتال برائے امراض چشم ہے جہاں آنکھوں کے ۱۵؍ ہزار آپریشن کا ہدف ہے جو بالکل مفت کئے جائینگے۔  معلوم ہوا کہ ذہانت کو دل مل جائے تو انسان قیمتی اور انسانیت کا علمبردار بن جاتا ہے۔ خالق کائنات نے راکیش جھن جھن والا کو ذہن بھی دیا تھا اور سونے پر سہاگہ کے بطور دل جیسا دل بھی۔ ایسے کم ہی لوگ ہوتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK