Inquilab Logo Happiest Places to Work

غیر روایتی ادبی محفلیں بھی اپنی افادیت ثابت کررہی ہیں

Updated: August 10, 2026, 11:57 AM IST | Mubasshir Akbar | Mumbai

’’ادبی پکنک ‘‘ اہلِ اردو کیلئے بالکل نیا تصور ہے لیکن کافی فائدہ مند ہے،کالونی کی ادبی محفلیں اور کہانیوں کی ڈرامائی ریڈنگ بھی غیر روایتی ادبی تقریبات کی مثال ہیں۔

Evening Ghazal scene at Kohinoor Teachers Colony. Picture: INN
کوہ نور ٹیچرس کالونی کی شام غزل کا منظر۔ تصویر: آئی این این
زبان و ادب کی خدمت کا تصور ہمیشہ مشاعروں، نثری نشستوں، ادبی کانفرنسوں اور سیمیناروں سے وابستہ رہا ہے، جہاں اہل قلم ایک جگہ جمع ہوتے، اپنی تخلیقات پیش کرتے اور ادبی مباحث کو آگے بڑھاتے ہیں لیکن بدلتے ہوئے سماجی حالات، مصروف زندگی اور نئی نسل کی ترجیحات نےادبی سرگرمیوں کے انداز تبدیل کرنے شروع کردئیے ہیں۔ اب ادب صرف باقاعدہ ہال اور اسٹیج تک محدود نہیں رہا بلکہ ادبی پکنک، کسی ایک کالونی یا محلےکی ادبی محفلوں اور افسانوں و کہانیوں کی ڈرامائی ریڈنگ جیسے غیر روایتی طریقوں سے بھی مقبول ہو رہا ہے۔یہ تبدیلی محض تفریح کا نیا انداز نہیں بلکہ ادب کو عام زندگی کے قریب لانے کی ایک کوشش بھی ہے۔ مشاعرے اور سمینار اپنی جگہ اہم ہیں لیکن ان میں اکثر مخصوص ادبی حلقوںسے وابستہ ادیب ہی شریک ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس کالونی یا محلے کی چھوٹی نشستیں ان لوگوں کو بھی ادب سے جوڑ سکتی ہیں جو بڑے ادبی اجتماعات میں جانے سے جھجکتے ہیں۔ اسی طرح افسانے کی ڈرامائی ریڈنگ تحریر کو محض پڑھنے کے بجائے اسے سننے، محسوس کرنے اور کرداروں کے ذریعے زندہ کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ادبی پکنک بھی اسی سلسلے کی ایک دلچسپ کڑی ہے۔ فطری ماحول، بے تکلف گفتگو اور تخلیقی سرگرمیوں کا امتزاج ادب کو خشک اور رسمی سرگرمی بننے سے بچاتا ہے۔ ہم اس ہفتے آپ کو ایسی ہی تین غیرروایتی ادبی سرگرمیوں سے روشناس کروارہے ہیں۔
ادبی پکنک
 
 
اردو والوں کے لئے یہ قدرے نیا تصور ہے لیکن مراٹھی میں یہ سلسلہ چھوٹے پیمانے پر ہی سہی شروع ہے۔ اسی طرز پر  آصف قریشی، شاہنواز تھانہ والا ، ایوب قریشی اور مشیر انصاری  نے اپنے  ادبی دوستوں کے ساتھ صحت افزاء مقام لونائولہ کی خوبصورت وادی کی سیر اور ادبی و تفریحی پروگرام منعقد کیا۔ انہوں نے بھی یہ سلسلہ گزشتہ ۲؍ سال سے شروع کیا ہے اور اسے کافی کامیابی بھی ملی ہے۔  امسال بھی لونائولہ میں ہی ادبی و ثقافتی تنظیم’’ حرف و آواز فاؤنڈیشن ‘‘ نے’’ دوستوں کے نام ‘‘ ایک تفریحی و ادبی شام منعقد کی جس میں نثری نشست ، شعری نشست  اورگیتوں کی پیشکش ہوئی ۔ لونائولہ کے ممبئی مراٹھی پتر کار سنگھ کے وسیع و عریض بنگلہ  میں منعقد کی گئی یہ نشستیں اپنی مثال آپ تھیں۔ تقریباً ڈیڑھ دن تک جاری رہی ان ادبی سرگرمیوں کے درمیان پکنک بھی منایا گیا، بہترین عشائیہ بھی دیا گیا اور پُرفضا وادیوں میں گھومنے پھرنے کے ساتھ ساتھ ادب ، ثقافت و صحافت کی مختلف اصناف پرگفتگو بھی ہوتی رہی۔ مشاعرہ  میں سیماب انور،مشیر انصاری، یوسف دیوان ،نیر حسن ، یوسف یلغار اورعارف اعظمی نے کلام پیش کیا۔حرف و آواز فائونڈیشن کے صدر ایوب قریشی نے حاضرین کااستقبال کیا  اور شعراء کو شال پیش کر کے ان کا شکریہ ادا کیا۔ مشاعرہ کی صدارت تنظیم کے سیکریٹری شاہنوازتھانہ والانےکی۔ مشاعرہ کے بعد تفریحی پروگرام کے تحت فلمی غزلوں اور نغموں کا سلسلہ شروع ہوا جس میںسہیل انصاری اورسابق کارپوریٹر شاکر انصاری نےاپنی آواز کا جادو جگایا۔ اس محفل میں ملک کے سینئر صحافی سرفرازآرزو بھی شامل رہے۔دوسرے روز صبح گھومنے پھرنے کے بعدتنظیم نےفاروق سید (مرحوم) کی یاد میں سرفراز آرزو کی صدارت اور مشیر انصاری کی نظامت میں تعزیتی نشست منعقد کی۔ 
کوہ نور ٹیچرس کالونی کی ادبی نشستیں
 
 
بھیونڈی کے شانتی نگر میںواقع کوہ نور ٹیچرس کالونی ادب کی خدمت اور اس کے فروغ میں  اس لحاظ سے بالکل انوکھی اورجداگانہ حیثیت رکھتی ہے کہ یہا ں ۲؍سے ۳؍ ماہ میں کوئی نہ کوئی  ادبی سلسلہ شروع رہتا ہے۔کبھی چھوٹا سا مشاعرہ ہوتا ہے تو کبھی کسی اہم کتاب پرگفتگو ہوجاتی ہے۔ کبھی  کالونی کے مکین مل کر عید ملن پروگرام کرتے ہیں تو کبھی کسی مکین کی ملازمت سے سبکدوشی پر تہنیتی نشست یا پھر کسی مکین کے انتقال پر تعزیتی نشست منعقد کرتے ہیں۔ عید میلاد البنیؐ کے موقع پر بچوں کا  نعتؐ گوئی  کا پروگرام تو گزشتہ ۱۲؍ سال سے منعقد کیا  جارہا ہے اور کبھی ’’غزل نائٹ‘‘ ہوتی ہے جس میں ساز و آواز کا بھی  انتظام ہوتا ہے۔  غرض یہ سلسلہ سال بھر جاری رہتا ہے۔ چند ماہ قبل ہی یہاں پرمشاعرہ منعقد کیا گیا تھا جس میں راقم نے بھی شرکت کی تھی۔ ان نشستوں کی خاص بات یہ بھی کہی جاسکتی ہے کہ یہ نشستیں کالونی میں کسی اہم تقریب سے جوڑ کر منعقد کی جاتی ہیں۔ چند ماہ قبل یہاں پر ایک شادی کی تقریب سے قبل والی شب میں مشاعرہ کیا گیا جس کی صدارت معروف شاعر و ادیب  صابر مصطفیٰ آبادی نے کی۔اس کالونی میں رہائش پذیر مدیرِ تکمیل عامر اصغر قریشی جو اِن نشستوں کے انعقاد میں پیش پیش رہتے ہیں ، نے بتایا کہ ’’اس کالونی کے مکین سبھی شعبہ درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔ اس لئے ہم پر یہ دہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ادبی محفلوں میں نہ صرف شریک ہوں بلکہ ان کے انعقادمیں بھی پیش پیش رہیں۔ساتھ ہی انہیںمعیاری بنانے کی بھی سعی کرتے رہیں۔‘‘ عامراصغر کے مطابق تمام مکین اس معاملے میں نہ صرف تعاون کرتے ہیں بلکہ بطورسامع بھی شریک ہوتے ہیں  اورہمارے مہمان ادباء و شعراء کو داد دینے یا ان کی ستائش میں زندہ دِلی کا ثبوت بھی دیتے ہیں۔ 
جمیل گلریز کی ڈرامائی ریڈنگ 
جمیل گلریز  اپنی تنظیم ’’کتھا کتھن‘‘ کے تحت غالب کے اس مشہور مصرعے’ نہ ستائش کی تمنا نہ صلے پروا‘ کے مصداق غیراردو داں طبقے میں ایک عرصے سے اردو زبان و ادب کے فروغ کی کوششیں کررہے ہیں۔ جمیل گلریز نے ملازمت سے سبکدوشی کے بعد کتھا کتھن کا بینر شروع کیا تھا اور اس کے تحت منٹو،  بیدی ، عصمت ، پریم چند، کرشن چندر ،قرۃ العین حیدر، غالب، جاں نثار اختراور رشید جہاںکے افسانوں،نظموں، غزلوں اوردیگر تخلیقات کی ڈرامائی قرأت کرتے ہوئے انہیں اپنے یوٹیوب چینل پر اَپ لوڈ کرچکے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی گئی ان کی یہ کاوشیں اتنی پسند کی گئیں کہ پھر انہیں اردو ادب کی نمائندہ کہانیوں کی لائیو ڈرامائی قرأت شروع کرنی پڑی جس کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ جمیل گلریز اب ممبئی میں فنون لطیفہ کے مرکز پرتھوی تھیٹر کےسامنے واقع پرتھوی ہائوس میں ہر ماہ کے دوسرے منگل کو’’ محفل پرتھوی‘‘ کے تحت کہانیوں کی قرأت کا پروگرام کرتے ہیں۔ اس ہفتے بھی ۱۱؍ اگست یعنی منگل کو جاں نثار اختر کی کتابوں اور نظموں پر گفتگو  ہو گی اوران کی ڈرامائی ریڈنگ کی جائے گی۔ یہ شو شام میں منعقد ہوگا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK