Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’ڈاکٹر بانو سرتاج ادبِ اطفال کی دیویندر ستیارتھی تھیں‘‘

Updated: August 18, 2026, 4:59 PM IST | Mubasshir Akbar | Mumbai

ادب اطفال کی قدآور قلمکاربانو سرتاج کے انتقال پر ان کے ہم عصر ادباء کا اظہار تعزیت ،کہا کہ ان کیلئے بہترین خراج یہی ہو گا کہ ان کی کتابیں بچوں کو تحفے میں دی جائیں۔

Dr. Bano Sartaj. Picture: INN
ڈاکٹر بانو سرتاج۔ تصویر: آئی این این
اردو کی صف اول کی ادیبہ ، افسانہ نگار، ترجمہ نگار، ادب اطفال کی قد آورقلمکار اور ماہر تعلیم ڈاکٹر بانو سرتاج گزشتہ دنوں اس دارِ فانی سے کوچ کرگئیں۔ ان کا انتقال اردو زبان و ادب خصوصاً ادب اطفال کے لئے ناقابل تلافی نقصان ہے کیوں کہ انہوں نے بچوں کیلئے لکھنے کو اپنا مشن بنالیا تھا۔ ان کی ۱۲۰؍ کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں جن میں سے زیادہ تر بچوں کیلئے لکھی گئی کہانیوں ، ڈراموں اور نظموں پر مشتمل ہیں۔ وہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ خاندان کی فرد تھیں۔  ان کےوالد سید شاہ محمد ابراہیم حسامی الافاروقی فریدی ڈپٹی کلکٹر اور والدہ میمونہ خاتون شاہ میڈیکل آفیسر تھیں۔ ان کے  بھائی اور بہنیں سبھی تعلیم یافتہ اور مطالعے کے شوقین ہیں۔ بانو سرتاج میں حصول تعلیم کا جذبہ جنون کی حد تک تھا۔  انہوںنے ایم اے(اردو،ہندی،تاریخ)، ایم ایڈ ، پی ایچ ڈی ،پوسٹ گریجویٹ ڈپلوما اِن گاندھین فلاسفی، ڈپلوما اِن رورل سروسیز کے علاوہ مراٹھی میں بھی گریجویشن کیا تھا، یوگ پریکشا بھی پاس کی تھی جبکہ تعلیمی اداروں کی سر براہی میں  انہوں نے عمر عزیز کا بیشتر حصہ گزارا۔ ڈاکٹر بانو سرتاج نے معروف ادیبہ و محقق شمع اختر کاظمی کو انٹرویو دیتے ہوئے ادب اطفال کے تعلق سے اپنا نظریہ  یوں بیان کیا تھا کہ ’’میں فخر سے قبول کرتی ہوں کہ میں بچوں کی ادیبہ ہوں اور مستقبل کے ملک کے معماروں کی شخصیت کی تعمیر میں اپنارول نبھا رہی ہوں۔بچوں  کے  لئے لکھ کر بلکہ بچوں کے ادب کے  لئے خود کو وقف کرکے بھی عصری ادب میں میری شناخت قائم ہے۔ حالانکہ بچوں کے عصری ادب سے میں قطعی مطمئن نہیںہوں کیوں کہ نئی صدی کے بچوں کو نئے زمانے اور نئے معیار کاادب دینے کی ضرورت ہے۔‘‘ان کی کتابوں اور ان کے فن پر ہم نے ان کے ہم عصر ادباء و افسانہ نگاروں سے گفتگو کی۔ اس گفتگو کے اقتباسات ملاحظہ کریں:
 
 
معروف ادیب ، صاحب طرزانشائیہ نگار،مترجم اور  بال بھارتی  اردو لسانی کمیٹی کے صدر ڈاکٹرمحمد اسد اللہ نے ڈاکٹر بانو سرتاج کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’بانو سرتاج کی رحلت کو میں اردو ادب کا عظیم نقصان تصور کرتا ہوں۔ تانیثی ادب کی ایک توانا آواز، ادبِ اطفال کی معمار اور ایک منفرد طنز و مزاح نگار و افسانہ نگار کو ہم نے کھو دیا۔ ان کی فطری تخلیقی صلاحیتوں نے مختلف شعبوں کو روشن کیا۔ یہ طے کرنا مشکل تھا کہ کون سا گوشہ ان کی پہچان ہے لیکن انہوں نے ادب اطفال پر جتنا کام کیا وہ کم ہی قلمکاروں کے حصے میں آیا ہے۔ ‘‘ ڈاکٹر اسد اللہ نے مزید کہا کہ اپنی ترجمہ نگاری کے ذریعے  ڈاکٹر بانو سرتاج  اردو اور مختلف زبانوں کے درمیان ایک مضبوط پل کی حیثیت اختیار کر چکی تھیں۔ ادبی شہ پاروں کے ان تراجم کا اعتراف اپنی جگہ مگر ان کا اصل کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے مختلف زبانوں کی لوک کہانیوں کو بچوں کے  لئے نہایت سلیس اور آسان زبان میں منتقل کر کے ادبِ اطفال کا دامن بھر دیا۔ ہندی اور اردو میں لوک کہانیاں جمع کرنے کا کام مشہور افسانہ نگار دیویندر ستیارتھی نے شروع کیا تھا۔ میں بانو سرتاج کو ادبِ اطفال کا دیویندر ستیارتھی تسلیم کرتا ہوں۔ 
 
ادب اطفال کی قدر آور شخصیت، مشہور ناول نگار اور افسانہ نگار وکیل نجیب نے ڈاکٹر بانو سرتاج کے تعلق سےکہا کہ ’’میرا اور باجی کاادبی سفر تقریباً ایک ساتھ ہی شروع ہوا۔ پہلے افسانہ نگاری اورپھر افسانچوں کی دنیا میں بھی ہم نے ساتھ ہی قدم رکھا۔ ادب اطفال میں بھی ہم ساتھ ساتھ وارد ہوئے لیکن پھر انہوں نے وہ رفتار حاصل کی جو کسی کسی کو ہی نصیب ہوتی ہے۔ ‘‘وکیل نجیب کے مطابق ادب اطفال میں انہوں نے اتنے بلند پائے  کا کام کردیا ہے کہ اب اس دور کا کوئی بھی ادیب ان کے قد تک نہیں پہنچ سکے گا۔ انہوں نے اردو میں ادب اطفال کے چنندہ  لیجنڈ ادیبوں کی فہرست میں اپنا نام لکھوالیا ہے۔ وکیل نجیب بتایا کہ انہوں نے افسانے، ڈرامے اور افسانچے تو بہت عمدہ لکھے ہی لیکن ان کا سب سے بہترین کام اردو کے ادب اطفال میں دیگر زبانوں کے تراجم تھے جو نظموں ، کہانیوں اورڈراموں کی شکل میں موجود ہیں۔ ان سے آخری ملاقات ساہتیہ اکیڈمی  نئی دہلی کے دفتر میں ہوئی تھی۔ ہم دونوں ہی وہاں الگ الگ موضوعات پر ورکشاپ کے لئے یکجا ہوئے تھے۔
 
 
سہ ماہی اردو کے مدیر اور معروف شاعر و ادیب وسیم فرحت  نے بتایا کہ ’’بانو سرتاج کا تعلق چونکہ علاقۂ برار ہی سے رہا، لہٰذا ان سے ادبی کے ساتھ ساتھ علاقائی رغبت بھی تھی۔ انہوں نے اپنی زندگی ادب اطفال اورتراجم کے لئے وقف کر دی تھی۔ بہ حیثیت ادیب، ان کی شناخت اپنی جگہ لیکن میں نے انہیں اولاً وآخراً ادب اطفال کا ہی شہ سوار پایا۔ درس و تدریس سے جڑے رہنے کے سبب طلبہ کی ذہنی کشمکش کا اندازہ لگانا قدرے آسان ہوتا ہے، بہ ایں ہمہ ادب اطفال کے تقاضے پورے کرنے میں لکھاری زیادہ حظ کرتا ہے۔‘‘ وسیم فرحت نے مزید کہا کہ  مجھے یہ کہنے میں کوئی دقت نہ ہوگی کہ بانو سرتاج نے ادب اطفال کی تخلیق میں کماحقہ کامیابی حاصل کی۔ ان کی کئی ایک تحریریں ملک بھر کے مختلف سرکاری اداروں کی درسی کتب  میں شامل  ہیں۔ ادب اطفال کو دیکھتے ہوئے ناک بھویں چڑھانے والوں کے لئے بانو سرتاج کی تخلیقات ایک کرارا جواب رہا کہ ،’’دیکھ اس طرح سے کہتے ہیں سخنور سہرا‘‘ ۔ یہ معاملہ تو آفا قی حقیقت رکھتا ہے کہ کسی بھی قسم کے ادب میں کچھ اور ہونہ ہو، تخلیقیت ضرور ہونی چاہئے۔ لہذا آپ دیکھیں گے کہ ڈاکٹر  بانو سرتاج نے اپنے کسی بھی ادب تراشے میں تخلیقیت کا دامن نہیں چھوڑا، یہی ان کی شناخت کا وسیلہ بھی ہے اور انہیں دوام بخشنے کا ذریعہ بھی۔  
 
 
بچوں کے رسالے ترجمان اطفال  کے مدیراور معروف افسانہ نگار رحیم رضا نے  ڈاکٹر بانو سرتاج کو خراج عقیدت یوں پیش کیا کہ ’’ابھی ہم دنیائے ادب اطفال کی ہر دلعزیز شخصیت اور ماہنامہ گل بوٹے کے مدیر فاروق سید کی جدائی کا غم بھولنے کی کوشش  ہی کر رہے تھے کہ ادب اطفال کی سرتاج، سینئر قلمکار ڈاکٹر با نوسرتاج ہمیں داغ مفارقت دے گئیں۔ انہوںنے ہمیشہ مختلف النوع موضوعات اور اصناف پر رواں دواں لکھا اور جب بھی لکھا موضوع کے ساتھ پورا انصاف کیا۔ بچوں کیلئے ان کی کتابوں اور کہانیوں کے عناوین بھی نہایت دلچسپ ہوا کرتے تھے جیسے ان کی کتاب ’’ ریگستان کا جہاز‘‘ میں شامل کہانیوں کے عنوانات دیکھیے بھولا بھالا اونٹ، یہ ہوئی نہ شرط، گھنٹی والا اونٹ ، ایک سے بھلے دو، حساب برابر اور ایک روپے کا اونٹ۔‘‘ رحیم رضا کے مطابق ڈاکٹر بانوسر تاج نے بچوں کے لئے نہایت عمدہ ڈرامے بھی لکھے۔ ایسے ڈرامے جو طلباء کیلئے دلچسپ، سبق آموز اور اسکولوں میں آسانی سے کھیلے جاسکتے ہیں۔ ان کی نظموں اور کہانیوں پرگفتگو کرتے ہوئے دفتر کے دفترسیاہ کئے جاسکتے ہیں لیکن ان کیلئے سب سے عمدہ  اور بہترین خراج عقیدت یہی ہو گا کہ قارئین ان کی کتابیں خرید کر اپنے بچوں کو تحفے میں دیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK