اب کسے رہنما کرے کوئی

Updated: July 30, 2020, 11:30 AM IST | Khalid Shaikh

جنوری کا مہینہ سی اے اے، این پی آر اور این آر سی کے ذریعے مسلمانوں کو ہراساں کرنے اور دلی الیکشن کی انتخابی مہم میں گزرا، فروری ’نمستے ٹرمپ‘ کی تیاریوں اور مسلم کش فسادات کی نذر ہوا اور مارچ دَل بدلی کے ذریعے مدھیہ پردیش کی کانگریس حکومت گرانے میں صرف ہوا۔ اس طرح حکومت نے تین قیمتی مہینے کووڈ سے لڑنے کے بجائے اپنے نظریاتی و سیاسی ایجنڈے کی تکمیل میں گزار دیئے۔

Namaste Trump - Pic : PTI
نمستے ٹرمپ ۔ تصویر : پی ٹی آئی

کہتے ہیں مصیبت کبھی تنہا نہیں آتی۔اس کی جیتی جاگتی مثال کورونا وائرس ہے جس نے ساری دنیا میں تباہی مچا رکھی ہے اور معاشی ابتری کا نقیب ثابت ہوا ہے۔ اس کا جنم ۳۱؍دسمبر ۲۰۱۹ء کو چین کے شہر ووہان میں ہوا۔ ۴؍جنوری کو اس کے مریضوں کی تعداد ۵۰؍ تک پہنچی تو عالمی ادارہ صحت نے اس کا نوٹس لیا۔۳۰؍جنوری کو ہندوستان میں اس کے پہلے کیس کا انکشاف کیرالا میں ہوا۔ ۳۱؍جنوری عالمی ادارہ نے وائرس کے تعلق سے بین الاقوامی ایمرجنسی کا اعلان کیا۔ اس وقت ۱۸؍ممالک کے ۷۷۰۰؍ افراد اس کا شکار ہوچکے تھے۔ ۱۱؍ فروری کو اقوام متحدہ ہیلتھ ایجنسی نے اسے کووڈ۔۱۹؍ کا نام دیا (’کو‘ سے مراد  کورونا، ’و‘ سے مراد وائرس اور ’ڈی‘ سے مراد ڈسیز ہے)۔ ۱۱؍مارچ کو عالمی ادارہ نے اسے ’عالمگیروبا‘ قرار دیا یعنی Pandemic۔اس وقت ۱۱۴؍ ممالک میں مریضوں کی تعداد ایک لاکھ ۱۸؍ہزار اور مہلوکین کی ۴۲۹۱؍ ہوچکی  تھی۔ یہی تعداد آج  ۱ء۶۰؍ کروڑ اور  ۶ء۵؍لاکھ سے  تجاوز کرچکی ہے جبکہ ہندوستان میں یہ بالترتیب ۱۵؍لاکھ اور ۳۴؍ہزار سے زائد ہے۔ اس کی بنیادی وجہ ہندوستان میں ہیلتھ انفراسٹرکچر اور طبی سہولتوں کا فقدان ہے۔
 کووڈ کا دوسرا سب سے برا اثر پہلے سے چلی آرہی لڑکھڑاتی معیشت پر پڑا ہے۔ سینٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکنامی  (CMIE) کے مطابق ۱۴؍ کروڑ افراد ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ مہاجر مزدوروں کی درگت سےکسی سے چھپی نہیں۔ صنعتی پیداوار میں گراوٹ آئی ہے۔ چھوٹے اور متوسط درجے کے کاروبار بند ہوچکے ہیں یا بند ہونے کی کگار پر ہیں۔ قرضوں کی ادائیگی کارے دارد ثابت ہورہی ہے۔ گزشتہ مالی سال میں بینکوں نے ۸۵؍ ہزار سے زیادہ فارڈ کیس رپورٹ کئے ۔ غیر وصولی قرضہ جات کی شرح ۱۲ء۵؍ سے ۱۴؍فیصد تک متوقع ہے۔ ریٹنگ ایجنسیوں کے مطابق شرح نمو میں ۵؍فیصد کی گراوٹ آئے گی۔ اسی طرح پیٹرول اور ڈیزل کے دام بڑھنے سے مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے۔
 ان سے قطع نظر لداخ کی سرحد پر چینی فوج کی دراندازی نے نیشنل سیکوریٹی  کا مسئلہ کھڑا کردیا ہے۔ چین کا دعویٰ ہے کہ بہت سارے علاقوں سے اس کی فوجوں کی واپسی مکمل ہوچکی ہے۔ ہمارے افسران اسے غلط بتاتے ہیں۔ دونوں ملکوں کی کمانڈر لیول گفتگو  ہفتے کے آخر میں ہونے والی ہے۔ اس کا کیا نتیجہ برآمد ہوگا اس بارے میں قطعی طور پر کچھ نہیںکہا جاسکتا نہ ہی چین کی باتوں پر اعتبار کیا جاسکتا ہے۔ وہ شرارت پر آمادہ ہے اس لئے اس سے محتاط رہنے کی ضرورت ہوگی۔
 مذکورہ تینوں مسائل حکومت کی فوری توجہ کے محتاج ہیں۔ سرحدی تنازع کے لئے کوئی ٹائم لائن مقرر نہیں کی جاسکتی لیکن کووڈ اور معاشی ابتری کے تئیں اس کا غیرذمہ دارانہ  رویہ، غلط ترجیحات کا غماز ہے۔ ہندوستان میں کووڈ کی آمد ۳۰؍جنوری ۲۰۲۰ء کو ہوئی، اس کے دوسرے دن عالمی ادارہ صحت نے ہیلتھ ایمرجنسی ڈکلیئر کی۔ اگر مودی حکومت اس وقت چوکنّا  ہوجاتی تو آج اتنی بری حالت نہ ہوتی۔حکومت کی غلط ترجیحات  نے کووڈ کو پھلنے پھولنے کا موقع دیا۔ جنوری کا مہینہ سی اے اے، این پی آر اور این آر سی کے ذریعے مسلمانوں کو ہراساں کرنے اور دلی الیکشن کی انتخابی مہم میں گزرا جس میں اشتعال انگیز تقاریر کے ذریعے پولرائزیشن کی سیاست کو ہوا دی گئی جو فساد کا سبب بنی۔ فروری ’نمستے ٹرمپ‘ کی تیاریوں ، استقبالیے اور مسلم کش فسادات کی نذر ہوا   ۔ مارچ کا مہینہ دَل بدلی کے ذریعے مدھیہ پردیش کی منتخب کانگریس حکومت گرانے میں صرف ہوا۔ اس طرح حکومت نے تین قیمتی مہینے کووڈ سے لڑنے کے بجائے اپنے نظریاتی و سیاسی ایجنڈے کی تکمیل میں گزار دیئے۔ ۲۵؍ مارچ کو لاک ڈاؤن کا نفاذ نئی تباہی لایا۔ بدقسمتی سے مودی حکومت آج بھی ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے پر آمادہ نہیں۔ ایک جان لیوا وائرس کی تباہ کاری اور معیشت و نیشنل سیکوریٹی کو لاحق خطرات کے موقعوں پر بھی وہ نفرت کی سیاست اور اقتدار کی لالچ کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔ سی اے اے کے خلاف جامعہ اور علی گڑھ یونیورسٹی میں پرامن مظاہروں کا سلسلہ دسمبر میں شروع ہوچکا تھا۔ دلی پولیس نے ان یونیورسٹیوں میں زبردستی گھس کر اپنی زیادتیوں سے اس میں تشدد کا رنگ بھرا اور الزام طلبہ پر لگایا۔ پولیس کی دھاندلیوں کا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد دوسری یونیورسٹیوں کے طلبہ، سماجی کارکنان، دانشور اور انصاف  پسند طبقہ بھی طلبہ کی حمایت میں سڑکوں پر اتر آیا۔ احتجاج نے ملک گیر کی شکل اختیار کرلی۔ شاہین باغ میں پہلی بار اپنا احتجاج درج کرنے دھرنے پر بیٹھی مسلم خواتین کے احتجاج  نے  ملک کے مختلف شہروں میں شاہین باغوں کو جنم دیا۔ بی جے پی ریاستوں کو چھوڑ کر دیگر تمام ریاستوں میں  احتجاج پرامن تھے اس لئے اس وقت طلبہ کی گرفتاری کا کوئی جواز نہیں بنتا تھا۔ دلی فساد نے حکومت اور پولیس کو یہ موقع فراہم کردیا چنانچہ مظاہروںکے چار مہینے بعد فساد کی آڑ میں طلبہ کی گرفتاری کا سلسلہ شروع ہوا ۔ ایف آئی آر میں معروف سماجی کارکنان کا نام بھی شامل کردیا گیا جس کی قومی و بین الاقوامی سطح پر مذمت کی گئی۔ یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے لیکن جنہوں نے فساد برپا کیا آزاد ہیں۔ دلی پولیس کی عصبیت اور بدنیتی کا  اندازہ ۱۸؍جولائی کو پولیس اور تفتیشی ایجنسیوں کو جاری کی جانے والی اس ایڈوائزری سے لگایا جاسکتا ہے جس میں انہیں اکثریتی فرقے کے ملزمین کی گرفتاری میں احتیاط کا مشورہ دیا گیا۔ مالیگاؤں بم دھماکہ کیس میں این آئی اے نے اسی طرح کی حرکت اُس وقت کی وکیل استغاثہ کے ساتھ کی تھی۔ سیاسی ایجنڈے کے تحت بی جے پی اب راجستھان کی حکومت گرانے کے چکر میں ہے۔ مرکز کے ایجنٹ کی حیثیت سے گورنر کا رول کھل کر سامنے آگیا ہے۔ عدلیہ کیا رویہ اختیار کرتا ہے یہ دیکھنا ہوگا، ورنہ سچ یہ ہے کہ اس پر سے بھی بھروسہ اٹھتا جارہا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے تمام سرکاری و آئینی اداروں اور محکموں نے اپنی خودداری اور خودمختاری کے ساتھ سمجھوتہ کرلیا ہے اسلئے سوال پیدا ہوتا ہے کہ ’اب کسے رہنما کرے کوئی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK