مودی حکومت ’فیک نیوز‘ سے نہیں بلکہ اصلی خبروں کے باہر آنے سے خوفزدہ ہے

Updated: February 21, 2021, 7:26 PM IST | Priya Darshan

ان کارروائیوں کا مقصد بس یہ دباؤ بنانا ہے کہ ٹویٹر، فیس بک یا وہاٹس ایپ حکومت کی حمایت یافتہ تشہیری مہم کو چلنے دیں اور سرکار مخالف کوششوں پر قدغن لگائیں۔ جن ویب سائٹس نے اس نسخے کو سمجھ لیا ہے، انہیں حکومت کی سرپرستی میسر ہے۔ حکومت کو ویسے بھی روایتی یا سوشل میڈیا کے ایک بڑے حصے کی حمایت حاصل ہے ، پھر اسے تھوڑا بہت احتجاج بھی کیوں خوف زدہ کردیتا ہے؟ شاید اسلئے کہ اسے معلوم ہے کہ سیاسی طور پرتو نہیںلیکن نظریاتی طور پر اس کے پاؤں بہت کمزور زمین پر ہیں اور ایک ہلکا سا جھٹکا بھی اسے زمین سے اکھاڑ سکتا ہے

Narendra Modi.Picture:INN
نریندر مودی۔تصویر :آئی این این

 میں کام کرنا ہے تو انہیں آئین ہند کی پاسداری کرنی ہوگی۔ آئین کے دائرے سے باہر یہ نجی کمپنیاں کیا، حکومت بھی نہیں جاسکتی لہٰذا، اگر سوشل میڈیا کے  پلیٹ فارموں کے کام کاج میں کچھ ایسا دکھائی دیتا ہے ، جو غیر آئینی اور غیر دستوری ہے یا آئین کی روح کے بھی خلاف  ہے ، تو ان کے خلاف فوری طور پر کارروائی کی جانی چاہئے۔ لیکن یہ خیال رہے کہ ہندوستان کی حکومت ہندوستان کاآئین نہیں ہے۔ حکومت ہند  سے اختلاف کرنا ہندوستان کی خودمختاری کو ٹھیس پہنچانا نہیں ہے۔ یہ چوٹ اُس وقت ہوگی جب کوئی ادارہ  ہندوستانی قوانین کی خلاف ورزی کرے اور پھر بھی ’چلتا رہے‘۔ مثال کے طور پر،  دستور ہند اپنے شہریوں  کے ساتھ کسی قسم کے امتیازی سلوک کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ اگر کوئی اس طرح کا امتیازی سلوک کرے، تو وہ ہندوستانی آئین کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ اس زاویے سے اگر دیکھا جائے تو ملک میں ذات پات کی بنیاد پر کام کرنے والے ادارے اور اسی مقصد کے تحت تشکیل دی گئیں تنظیمیں ہندوستانی آئین کی روح کے منافی ہیں۔ اب یہاں پر ہمیں غور کرنا ہوگا کہ ٹویٹر نے ایسا کیا کیا جو دستور ہند کے خلاف ہے؟ معاملہ یہ ہے کہ اس نے حکومت کی جانب سے بتائے گئے بہت سے اکاؤنٹس کو بند نہیں کیا ۔ یہ وہ اکاؤنٹس ہیں جہاں سے حکومت کے مطابق نفرت پھیلائی جارہی ہیں۔ حکومت کو دراصل کچھ ’ہیش ٹیگ‘ پر  اعتراض  ہے ، جن سے۲۶؍ جنوری کے آس پاس کسانوں کی تحریک کے بارے میں ٹویٹس کئے گئے تھے جن میں کچھ باتیں سچی تھیں تو کچھ غلط تھیں۔ حکومت اس بات سے ناراض ہے کہ کسانوں کی تحریک سے متعلق ’جینو سائیڈ‘کے ہیش ٹیگ سے ماحول خراب کرنے کی کوشش کی گئی ... لیکن کیا یہ پہلا موقع ہے جب سوشل میڈیا بالخصوص ٹویٹر، فیس بک اور وہاٹس ایپ پر سچی جھوٹی خبریں چلی ہوں یا صرف انہیں ’ہیش ٹیگ‘ سے چلی ہوں۔
 دراصل سوشل میڈیا کی دنیا کی ستم ظریفی دُہری ہے۔ ایک طرف ، اس میڈیا نے معلومات کے لین دین کو سرمایہ دارانہ نظام اور مرکزیت سے آزاد کردیا ہے۔ ہر کسی کو یہ آزادی فراہم کردی ہے کہ وہ ادارتی دباؤ سے آزاد ہو کر بے خوف اپنی بات رکھ سکے۔ دوسری طرف اس نے جھوٹ  اور افواہوں کے نظام کو اتنی  پرتیں فراہم کر دی ہیں کہ ان سے آگے جاکر حقائق  کو سمجھنا اور اس کا پتہ لگانا تقریباً ناممکن ہو کر رہ گیا ہے۔ اس میں کچھ جھوٹ اور افواہیں تو بہت سارے لوگوں کی لاعلمی کا نتیجہ ہوتی ہیں لیکن  رفتہ رفتہ اس جھوٹ کے کاروبار کو پوری صنعت میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ سیاسی جماعتوں کی ’ٹرول آرمی‘یہ کام دھڑلے سے کرتی ہے بلکہ جسے ’فیک نیوز‘ کہتے ہیں،اس کا ۹۹؍ فیصد حصہ سیاسی جماعتوں کے آئی ٹی سیل ہی تیار کرتے ہیں۔ دراصل  ان لوگوں نے سوشل میڈیا کے  اندر  اظہار رائے کی آزادی کے جو غیر معمولی  امکانات تھے،  ان کو ہائی جیک کرلیا ہے۔
 روی شنکر پرساد ایسے ٹویٹر ہینڈلز یا ایسے واٹس ایپ گروپس کے خلاف کارروائی کے بارے میں بات نہیں کریں گے کیونکہ اس کام میں ان کے اپنےہی لوگوں کو روزگار ملتا ہے۔ گزشتہ ۱۰؍ برسوں میں ، اس ملک میں ’فیک نیوز‘ پر ماب لنچنگ ہوئی، فسادات ہوئے اور نفرت کے  بہت سارے کھیل ہوئے لیکن حکومت نے تب کسی ٹویٹر اور فیس بک  کو، کسی ٹی وی چینل کو اور کسی ویب سائٹ کو متنبہ نہیں کیامگر جس کسان تحریک پر ان جعلی خبروں کاکوئی اثر نہیں ہوا،  اس سے وابستہ ٹویٹر ہینڈل کو ہٹانے کیلئے وہ ٹویٹر کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی کوشش کررہی ہے۔
 دراصل ، حکومتوں کو جعلی خبریں پریشان نہیں کرتی  بلکہ اصل خبریں انہیں خوف زدہ کرتی ہیں۔ جب تک جعلی خبروں کا کھیل چلتا  رہتاہے  اور جب تک خبروں کے نام پر جنسی سنسنی اور جرائم کا تڑکا لگایاجارہا ہوتا ہے ، تب تک انہیں کوئی پریشانی نہیں ہوتی۔ وہ اس طرح کے  ذرائع ابلاغ کے اداروں کی جانب سے صرف آنکھیں ہی بند نہیں رکھتی بلکہ ہر حق و ناحق میں وہ  ان کی مدد کیلئے بھی کھڑی ہوجاتی ہے.... لیکن جیسے ہی کوئی نیوز چینل ،کوئی ویب سائٹ اور کوئی  ٹویٹر ہینڈل اصلی خبریں پیش کرنا شروع کردیتا ہے ، حکومت اس کے خلاف معاملات درج کرنا شروع کردیتی ہے۔
 سوشل میڈیا کو متنبہ کرنے کے علاوہ سرکاری ایجنسیاں ان دنوں ’نیوز کلک‘ کے خلاف بھی کارروائی کر رہی ہیں۔ اس کے احاطے میں چھاپے مارے گئے۔ بتایا جارہا ہے کہ بیرون ممالک سے آنے والی رقوم کا معاملہ یہاں مشکوک ہے۔ جن تین کمپنیوں  سے وہاں پیسے آرہے ہیں،ان سب کے پتے ایک  ہی ہیں اور نیوز کلک اس بات کا جواب نہیں دے سکی کہ اس کے پاس یہ رقم کیوں آرہی ہے؟ممکن ہے کہ یہ سچ بھی ہو..... لیکن اگر ’نیوز کلک‘حکومت کی حمایت کرنے والی ویب سائٹ ہوتی تو اس کے اس سے بھی بڑے گھوٹالوں کو نظرانداز کر دیا جاتا۔  حالانکہ یہاں یہ کہنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ نیوز کلک یا اس جیسے کسی بھی ادارے کی غلطیوں کا دفاع کیا جائے۔ اس کے برعکس ،  یہاں پر اس پیغام کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگر آپ کسی بھی سیاسی طاقت اور برسر اقتدار جماعت کے خلاف  محاذ آرائی کرتےہیں تو آپ کو بھی اپنا دامن پوری طرح سے صاف و شفاف رکھنا ہوگا، بصورت دیگر لوگ آپ کا دامن پکڑنے میں ذرا بھی تاخیر نہیں کریں گے۔
 یہی بات ان صحافیوں کے بارے میں بھی کہی جاسکتی ہے ، جنہوں نے ایک غلط ٹویٹ کو ری ٹویٹ کیا، جس کے نتیجے میں انہیں کئی مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔ مرینال پانڈے ،  راج دیپ سردیسائی یا سدھارتھ وردراجن جیسے لوگ  اپنی قابل اعتماد صحافت کیلئے جانے جاتے ہیں لیکن ان کا ایک سہو بھی حکومت اور حکومت حامیوں کو یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ انہیں بدنام کریں  اور انہیں ہراساں کریں۔ ظاہر ہے ، جب آپ ایک بڑی طاقت کے جھوٹ کا پردہ فاش کرنے نکلتے ہیں تو آپ کو بہت زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
 جہاں تک ٹویٹر جیسے اداروں کا تعلق ہے تو وہ حکومتوں کے خلاف ایک حد سے زیادہ بغاوت کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے عہدیداروں سے بات چیت میں ، اس نے اس بات پر اتفاق کرلیا ہے کہ وہ اپنے ٹویٹر انڈیا کے عہدیداروں کو تبدیل کردے گا یا کم از کم ایک اور سینئر آفیسر کو ان پر تعینات کرے گا۔ اس کے علاوہ دیر سویر وہ ان  ویب سائٹوں اور ٹویٹر ہینڈلز پر بھی کارروائی کرنے کا راستہ تلاش کرلے گا جنہیں حکومت بند کرنا چاہتی ہے۔ امریکہ میں، اس نے بھلے ہی ڈونالڈ ٹرمپ کے اکاؤنٹ پر پابندی عائد کردی ہو  لیکن ہندوستان میں وہ ایسا نہیں کرسکتا۔
 حکومت کو بھی یہ پتہ ہے کہ اسے یہاں سے ٹویٹر کو بھگانا نہیں ہے کیونکہ وہ اس کیلئے ایک طاقتور ذریعہ ہے۔ وزیر اعظم برسوں سے اس کا استعمال کررہے ہیں۔ کو (KOO)جیسے کسی نئی ایپ کو ٹویٹر کے خلاف کھڑا کرنا آسان نہیں ہوگا،اس بات سے بھی حکومت بخوبی واقف ہے۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر اس طرح کی کارروائیوں کا مطلب کیا ہے؟  اس کا مقصد بس یہ دباؤ بنانا ہے کہ ٹویٹر، فیس بک یا وہاٹس ایپ حکومت کی حمایت یافتہ تشہیری مہم کو چلنے دیں اور سرکار مخالف کوششوں پر قدغن لگائیں۔ جن ویب سائٹس نے اس نسخے کو سمجھ لیا ہے، انہیں حکومت کی سرپرستی میسر ہے اور جو اخبار یا چینل حکومت کی ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں،ان کےبھی سات خون معاف ہیں۔ حکومت کو ویسے بھی روایتی یا سوشل میڈیا کے ایک بڑے حصے کی حمایت حاصل  ہے ،ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر اسے تھوڑا بہت احتجاج  بھی کیوں خوف زدہ کرتا ہے؟ شاید اسلئے کہ اسے معلوم ہے کہ سیاسی  سیاسی طور پرتو نہیں لیکن نظریاتی طور پر اس کے پاؤں بہت کمزور زمین پر ہیں اور ایک ہلکا سا جھٹکا بھی اسے زمین سے اکھاڑ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ جعلی خبروں کے نام پر جعلی حساسیت کا مظاہرہ کررہی ہے جبکہ سچائی یہ ہے کہ وہ اس بہانے اصل خبروں کو باہر آنے سے روکنا چاہتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK