یہ اُمت کی زندگی کا مرکز ہے۔ اذان و نماز کے ذریعے ایک مسلمان کے ایمان و عہدِ بندگی کو تازہ کرنے اور اطاعت جاری رکھنے کی مشق دن میں پانچ مرتبہ کروائی جاتی ہے، یہاں اخوت، مساوات اور ہمدردی و غم خواری کا سبق سکھایا جاتا ہے۔
EPAPER
Updated: February 28, 2025, 3:25 PM IST | Khurram Murad | Mumbai
یہ اُمت کی زندگی کا مرکز ہے۔ اذان و نماز کے ذریعے ایک مسلمان کے ایمان و عہدِ بندگی کو تازہ کرنے اور اطاعت جاری رکھنے کی مشق دن میں پانچ مرتبہ کروائی جاتی ہے، یہاں اخوت، مساوات اور ہمدردی و غم خواری کا سبق سکھایا جاتا ہے۔
ہمارے مسلمان معاشرے میں امام مسجد کو ایک نمایاں مقام حاصل ہے۔ عام آدمی کی نظر میں وہ ایک عالمِ دین ہوتا ہے۔ یہ ایک بہت بلند مقام ہے۔ حدیث رسولؐ کے مطابق علما درحقیقت انبیا کے وارث ہیں۔ لہٰذا امامت کا فریضہ اپنے مرتبہ و مقام کے لحاظ سے خدا کی کسی بڑی نعمت سے کم نہیں اور جسے وہ اپنی مشیت سے اس منصب کے لئے منتخب کرلے فی الواقع اسے ایک بڑی نعمت حاصل ہوگئی۔ اس پر جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے، اس لئے کہ اس کے پاس وہ علم ہے جو انبیائے کرام لے کر آئے، وہ انبیا کا وارث ہے، اور اسے لوگوں کی امامت و رہنمائی اور تزکیہ و تربیت کا موقع حاصل ہوتا ہے۔
بدقسمتی سے مسجد کی امامت ہمارے معاشرہ میں ایک چلن بن کر رہ گیا ہے کہ گویا یہ صرف دو رکعت کی امامت ہے، لیکن حقیقت اس سے بالکل مختلف ہے۔ عملاً ایک امام اس مصلے پر کھڑا ہوتا ہے جس پر سیدالانبیا صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے تھے۔ یوں تمام ائمہ آپؐ کے وارث اور نائب ہیں۔ اس لئے ائمہ کو آج پھر وہی فرائض انجام دینے ہیں جو آپؐ نے انجام دیئے۔
یہ بھی ہماری بدنصیبی ہے کہ ہمارے معاشرہ میں مسجد کو وہ مقام حاصل نہیں رہا جو مسجدنبویؐ کو حاصل تھا، اور نہ ائمہ ہی کو وہ مقام حاصل ہے جو انہیں حاصل ہونا چاہئے۔ مسجد محض ایک عبادت گاہ بن کر رہ گئی ہے جہاں نمازی حضرات رسماً عبادت کے لئے آتے ہیں۔ اب اس بات کا شعور نہیں رہا کہ مسجد صرف ایک عبادت گاہ نہیں ہے بلکہ اسلامی بستی کے مرکز کی حیثیت رکھتی ہے، اور امام محض امامِ مسجد نہیں ہے بلکہ فی الواقع وہ اس بستی کا قائد و فکری رہنما ہے۔ مسجد تو اُمت کی زندگی کا مرکز ہے۔ اذان و نماز کے ذریعے ایک مسلمان کے ایمان و عہدِ بندگی کو تازہ کرنے اور اطاعت متواتر جاری رکھنے کی مشق دن میں پانچ مرتبہ کروائی جاتی ہے۔ اخوت، مساوات اور ہمدردی و غم خواری کا سبق سکھایا جاتا ہے۔ وہ اپنے بھائیوں سے بے تعلق نہیں رہ سکتا کہ ان کے دکھ درد میں شریک نہ ہو اور ان کے دکھ نہ بانٹے۔
یہ مرکز دعوت و ارشاد ہے۔ اس لئے کہ یہاں احکامات الٰہی سے روشناس کروایا جاتا ہے۔ مسجد تعلیم و تربیت کا مرکز ہے، مدرسہ و اسکول ہے اور لائبریری و مطالعہ گاہ ہے، سیاسی مرکز ہے جہاں قائدین و عوام اپنے مسائل باہم مشاورت سے حل کرتے ہیں۔ بیت المال ہے کہ زکوٰۃ وغیرہ جمع اور تقسیم کی جاتی ہے، اور حاجت مندوں کی کفالت کی جاتی ہے۔ عدالت ہے کہ جھگڑے نبٹائے جاتے ہیں، اور فیصلے کئے جاتے ہیں۔ مسجد مرکز ثقافت (کمیونٹی سنٹر) ہے جہاں شادی بیاہ اور مختلف مواقع پر تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ افسوس کہ آج نہ ہم مسجد کے مقام سے صحیح طرح آگاہ ہیں اور نہ امام ہی اپنے منصب و مقام اور تقاضوں کو جانتا ہے ؎
رہ گئی رسمِ اذاں روح بلالی نہ رہی
تاریخ انسانی میں تین واقعات ایسے ہیں جنہوں نے اُمت مسلمہ کی تعمیروتشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے:
(۱) غار حرا میں نزولِ وحی کا آغاز ہوا۔ انسانیت کو قرآن دیا گیا جس پر اُمت کی پوری زندگی کی بنیاد ہے۔ قرآن وہ سرچشمۂ حیات ہے جس نے انسان کے لئے خدائی ہدایت کی تکمیل کی اور انسانیت کے لئے دین کو ایک مکمل اور جامع نظامِ حیات کے طور پر پیش کیا۔ نبی کریمؐ نے ایک جاں گسل جدوجہد کے بعد قرآنی نظام کو دنیا میں نافذ کر کے ایک جیتی جاگتی اسلامی ریاست کا نمونہ پیش کر کے دکھا دیا کہ انسانیت کو درپیش مسائل کے حل کے لئے اب دنیا میں قرآنی نظام کے علاوہ کسی اور نظام اور ازم کی گنجائش نہیں۔
(۲) ۱۱؍ سال بعد مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کا واقعہ پیش آیا۔ یہ اتنا اہم واقعہ ہے کہ ہم اپنی تاریخ کے کیلنڈر کی بنیاد اس پر رکھتے ہیں۔ مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت، اسلام کی تاریخ میں ایک فیصلہ کن سفر تھا۔ اس سے ایک اسلامی ریاست کی بنیاد فراہم ہوئی۔ معرکہ حق و باطل کا یہ وہ تاریخ ساز لمحہ ہے جس نے یہ فیصلہ سنا دیا کہ حق حق ہے اور اسے بالآخر غالب آنا ہے، اور باطل باطل ہے، اسے ایک روز لازماً مٹ جانا ہے خواہ وہ کتنی ہی طاقت، کروفر اور جاہ و حشم کا مالک ہو۔
(۳) ۸ ؍ہجری میں فتح مکہ کا واقعہ پیش آیا اور دنیا کو یہ پیغام ملا کہ مستقبل اسلام کا ہے۔ فتح مکہ نے عملاً یہ ثابت کر دیا کہ انسانیت کو اگر امن، انصاف اور مسائل زندگی کے حل کے لئے کوئی متوازن، معتدل اور پائیدار نظامِ حیات چاہئے تو وہ اسلام ہی ہے، اور اگر کوئی قابلِ تقلید بہترین اسوہ کی کسی کو تلاش ہے تو وہ نبی اکرمؐ کی ذات میں ہے، ایک فرد کی زندگی سے لے کر ایک انسانی ریاست کی تشکیل تک!
تعمیر ِمعاشرہ میں مسجد کا کردار
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ تشریف لانے کے بعد پہلا کام یہ کیا کہ مسجد کی تعمیر کی۔ اس بات سے ہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اسلام میں مسجد کا کیا مقام اور کتنی اہمیت ہے۔ اس مسجد کی تعمیر میں آپؐ خود شریک ہوئے اور اپنے ہاتھوں سے پتھر اٹھائے۔ مسجد کا تعلق اُمت کی زندگی سے اسی وقت قائم ہوگیا تھا۔ مسجد دعوت، عدالت اور سیاست کا مرکز بن چکی تھی۔ مقدمات کا فیصلہ یہاں کیا جاتا، مجلس شوریٰ کا اجلاس بھی یہاں ہی ہوا کرتا تھا۔ پنج وقتہ نماز مسجد میں ہوتی تھی حتیٰ کہ منافق بھی مسجد میں حاضر ہوتے تھے۔ یہ تصور نہیں تھا کہ کوئی فرد، اُمت کا ایک فرد ہو اور مسجد میں حاضر نہ ہو۔ فجر کی نماز کی خصوصیت سے اہمیت تھی۔ خلیفۂ وقت حضرت عمرؓ جب نماز فجر کے لئے مسجد جایا کرتے تھے تو لوگوں کو نماز کے لئے جگایا کرتے تھے۔ صفیں درست اور سیدھی رکھنے کا مکمل اہتمام کرتے تھے۔ گویا مسلمان معاشرے میں مسجد، اُمت کی پوری زندگی کا مرکز تھی۔ سیاست، عدالت اور اجتماعی زندگی کا مرکز بھی مسجد تھی اور تعلیم و تربیت کا مرکز بھی۔ اسلام کی تاریخ میں بڑے بڑے مدارس مساجد سے ملحق رہے۔ وہ مدارس ہماری بڑی جامعات تھیں، ملت مسلمہ کی کیمبرج اور آکسفورڈ تھیں۔ ان مساجد سے متصل طلبا کے قیام کے لئے حجرات تعمیر کیے گئے تھے۔ نظام تعلیم مساجد کے گرد قائم تھا۔
یہ ہمارا عروج کا دور تھا لیکن بعد میں، جیسے جیسے اُمت کا زوال زور پکڑتا گیا، اس کے ہاتھ سے دنیا کی قیادت نکلتی چلی گئی، اور ساتھ ہی مسجد کے ائمہ سے اُمت کی قیادت بھی نکل گئی۔
ضروری ہے کہ مسجد کے ائمہ کو وہی مقام حاصل ہو جو مقام ان کا حق ہے۔ لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ مسجد کے ائمہ اپنے آپ کو اس منصب اور مقام کو سنبھالنے کا اہل بنائیں۔ اس کے بغیر اُمت کی اجتماعی زندگی کا احیا اور اس کو درپیش چیلنج کا مقابلہ ممکن نہیں۔
اس وقت اُمت کے اتنی بڑی تعداد میں ہونے کے باوجود، ذلت و مسکنت ہمارا مقدر ہے۔ ہم پر غیراقوام کا غلبہ ہے۔ دنیا کی قومیں مسلمانوں پر ٹوٹ پڑی ہیں۔ اس وقت مسلمان اپنی زندگی کے ایک انتہائی خطرناک دور سے گزر رہے ہیں۔ لیکن جہاں خطرات ہیں وہیں امکانات بھی ہیں۔ آج اُمت کو اتنا بڑا خطرہ درپیش ہے کہ تاریخ میں کبھی اس کی مثال نہیں ملتی۔ غالب تہذیب نے جس طرح مسلمانوں کو اپنا حریف اور نشانہ بنالیا ہے، اس کے لئے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ صرف تقاریر، قراردادوں اور ان کی سازشوں کو بے نقاب کرنے سے بات نہیں بنے گی۔ ان خطرات کا مقابلہ کرنے کے لئے ائمہ کرام کو اپنا حقیقی کردار ادا کرنا ہوگا۔ اپنا مقام و منصب پہچاننا ہوگا۔ یہ ناگزیر ہے کہ مسجد کے ائمہ اس بات کے اہل ہوں کہ وہ وہی مقام سنبھال سکیں، اُمت کی رہنمائی کر سکیں، اور مسجد کا اُمت کی زندگی میں وہی مقام ہو جو نبی اکرمؐ نے مسجد کو مدینہ کی اجتماعی زندگی میں دیا تھا۔
ائمہ کی ذمہ داریاں
معاشرے میں اس وقت مسجد کے حقیقی مقام و مرتبے کی حیثیت بہت کمزور ہے، اور امام عملاً اس قدر بے بس ہے کہ اسے (متولی کی اجازت کے بغیر) نماز کا وقت متعین کرنے کا بھی اختیار نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ آپ، ائمہ کے اندر بے پناہ قوت ہے۔ اگر آپ اہلیت اور صلاحیت کو بروئے کار لائیں تو معاشرے میں انقلاب برپا ہو سکتا ہے، مگر ہم ان صلاحیتوں اور امکانات سے آگاہ نہیں۔ عرب کے ریگستان میں پلنے والے لوگوں کے اندر یقین اور ایمان کی کیفیت پیدا ہوئی تو نتیجہ یہ نکلا کہ بہترین جرنیل پیدا ہوگئے۔ ان کو تاریخ کے چیلنجوں کا ادراک تھا۔ ان سے نمٹنے کی صلاحیتوں کا شعور تھا۔ انہوں نے دنیا میں عظیم فتوحات کا سلسلہ شروع کر دیا۔ ایک بڑی دنیا نے ان کے پیغام کو قبول کیا اور تاریخ کا دھارا موڑ دیا۔
آپ کو اس کا ادراک کرنا ہے کہ آپ کا مقام کیا ہے؟ منصب کیا ہے؟ اگر مسجد کو مرکز بننا ہے، اور آپ کو اس مرکز میں دعوت و ارشاد اور قیادت کا وہ کام انجام دینا ہے، تو آپ کے سامنے ایک ہی روشنی کا مینارہ ہے اور وہ ہیں مسجد نبویؐ کے امام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم۔ آپؐ کا اخلاق، کردار، اخلاص، جذبہ، دلسوزی--- اس کے بغیریہ عظیم کام انجام نہیں پاسکتا۔
آپ اپنے لئے کوئی لائحہ عمل بنائیں تو اس کے بنیادی نکات یہ ہونے چاہئیں :
(۱) سب سے پہلی اور اہم ترین بات یہ ہے کہ آپ کو صحیح چیزوں کا علم ہو جائے۔ اللہ کی وحدانیت اور رسولؐ کی شہادت آپ کی زندگی کا جزو ہو جائے۔ اسلام کی پوری روح اور اس کی پوری عمارت توحید پر قائم ہے۔ مسجد میں آنے والوں میں اللہ کی محتاجی کی کیفیت پیدا کریں۔ زندگی کے ہر مسئلے میں ہم اللہ اور اس کے رسولؐ کے محتاج ہوں۔ شعوری طور پر اس کی کوشش کرنا ہوگی اور اس کے لئے تدابیر اختیار کرنا ہوں گی۔ اللہ کی محتاجی کی نسبت پیدا کرنا، اللہ کے ساتھ لوگوں کا تعلق قائم کرنا، یہ آپ کی اولین ترجیح ہونی چاہئے۔
(۲) آپ اپنے مقتدیوں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور اطاعت کا جذبہ پیدا کریں، ذات مصطفویؐ سے عشق پیدا کریں، اس سے ملت کے جسد میں قوت پیدا ہوگی۔ نبی اکرمؐ کی ذات گرامی سے محبت، قوت کا وہ سرچشمہ ہے جو صرف آپ کے پاس ہے، کسی اور اُمت کے پاس نہیں۔ صنعتی ترقی اور کارخانوں کی قوت اصل قوت نہیں۔ ان سے وہ کام نہیں بنے گا جو آپ کے پیشِ نظر ہے۔
(۳) اُمت کی زندگی میں دین و دنیا کی وحدت پیدا کرنا بھی آپ کا کام ہے۔
(۴) علم صرف احکام اور مسائل کو جاننے کا نام نہیں، بلکہ احکام و مسائل کے ساتھ ساتھ حکمت اور مصلحت کو جاننے کا نام بھی ہے۔ نبی اکرم ؐکتاب کے ساتھ ساتھ حکمت کی تعلیم بھی دیتے تھے۔ حکمت وہ چیز ہے جسے خیرکثیر کہا گیا ہے: ’’اور جس کو حکمت ملی، اُسے حقیقت میں بڑی دولت مل گئی۔ ‘‘ ( سورہ البقرہ :۲۶۹)
حکمت دین اور تدریج: اگر آدمی حکمت سے آشنا نہ ہو تو دین پر چلنا، دین پر چلانا، دین کو قوت بنانا ممکن نہیں۔ صرف احکام و مسائل کے بیان سے دین پر عمل نہیں ہوتا۔ ایسا صرف اس وقت ہوتا ہے جب لوگوں کو حکمت کے ساتھ دین کی راہ پر لایا جائے۔ لوگوں کو آمادہ کیا جائے کہ وہ دین کی ذمہ داریوں کے متحمل ہوسکیں، ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھاسکیں، یعنی ان میں اطاعت کی استعداد پیدا ہو۔ اس حکمت کے بہت سارے پہلو ہیں :
ایک حکمت، احکام کے درمیان مدارج کا فہم ہے۔ سارے احکام ایک جیسے نہیں۔ عمل کرنے والوں کے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ احکام کے اندر مدارج ہیں۔
ایک دفعہ مسجد نبویؐ میں لوگ نماز میں فرض ادا کرنے کے بعد اسی مقام پر کھڑے ہوکر جہاں فرض ادا کئے تھے، سنتیں ادا کرنے لگے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: پہلی امتیں اسی وجہ سے تباہ ہوئیں۔ جب فرائض، سنن، مستحبات کے درمیان فرق ختم ہوجائے تو اُمت زوال کے راستے پر آجاتی ہے۔ پھر سارا زور مستحبات اور سنن پر ہوجاتا ہے اور فرائض کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے۔
قرآن کے اندر صرف سور کے گوشت اور شراب نوشی ہی کی ممانعت نہیں ہے بلکہ حسد کو اور غیبت کو بھی حرام کیا گیا ہے، نیز اللہ کی راہ میں جدوجہد اور جانفشانی کو بھی بڑی نیکیوں میں شمار کیا ہے:
’’کیا تم نے (محض) حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجدِ حرام کی آبادی و مرمت کا بندوبست کرنے (کے عمل) کو اس شخص کے (اعمال) کے برابر قرار دے رکھا ہے جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان لے آیا اور اس نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا؟‘‘(التوبہ ۹:۱۹)
اللہ کے رسول ؐنے ان احکامات کو بھی اچھی طرح واضح فرمایا ہے اور عملی نمونہ پیش کیا ہے۔ گویا احکامات کے ساتھ ساتھ اخلاقی تعلیمات اور راہ خدا میں جدوجہد کو بھی اتنی ہی اہمیت حاصل ہے۔ لہٰذا ایمان کے ساتھ ساتھ اخلاق اور کردار سازی اور دین کی سربلندی کے لئے جدوجہد کی طرف بھی توجہ رہنی چاہئے۔ اس کے نتیجے میں ایک مسلمان کا وہ اخلاق اور کردار تعمیر ہوسکے گا جو اصلاً مطلوب ہے اور غلبۂ دین کے لئے جدوجہد کے نتیجے میں ایک صحیح اسلامی معاشرت سامنے آسکے گی جو اسلام کا طرئہ امتیاز ہے۔ یوں معاشرہ اسلام کے مکمل نظامِ حیات کی حقیقی برکات سے مستفید ہو سکے گا۔
اس کے ساتھ ساتھ آپ کو یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ ہر کام تدریج کے ساتھ ہو سکتا ہے۔ پورا دین لوگوں پر ایک ہی دفعہ میں نافذ نہیں کیا جا سکتا۔ طبیعت اور نفس کی استعداد کے ساتھ ساتھ تدریج کے ساتھ لوگوں کو چلایا جائے۔ سب سے پہلے دل کے اندر ایمان پیدا کیا جائے۔ یہی سلف کا طریق کار تھا۔ وہ تدریج کا اہتمام کرتے تھے۔ دین کے سارے مطالبات ایک ساتھ ہی سامنے نہیں رکھے دیتے تھے۔
سیرت پاکؐ کا مطالعہ کیا جائے تو نبی اکرمؐ کی کامیابی کا راز یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ محبت، رحمت اور شفقت کے پیکرِ مجسم تھے۔ قرآن گواہ ہے:
’’(اے پیغمبرؐ) یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ آپ ان لوگوں کے لے بہت نرم مزاج واقع ہوئے ہیں۔ ورنہ اگر کہیں آپ تندخو اور سنگ دل ہوتے تو یہ سب آپ کے گردوپیش سے چھٹ جاتے۔ ‘‘(آل عمران:۱۵۹)
مسجد، بستی کا مرکز
مسجد کا معاشرے سے تعلق قائم کرنے اور رکھنے میں بھی فیصلہ کن کردار امام کا ہی ہوگا۔ مسجد کو صاف رکھنا چاہئے۔ نظافت و طہارت کو دین میں بڑی اہمیت ہے۔ اس کا اہتمام مسجد میں نظرآنا چاہئے۔ مسجد محلے کے لوگوں کا مرکز ہو، لوگ وہاں بیٹھیں اور اپنے مسائل پر بات کریں۔
مسجد تو وہ جگہ ہے جہاں ہم سجدہ کرتے ہیں لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے خصائص نبوت میں سے یہ ہے کہ پوری زمین کو آپؐ کے لئے سجدہ گاہ بنا دیا گیا۔ مسلمان کسی بھی جگہ خاک پر سر رکھ کر سجدہ کر سکتا ہے۔
اس کے ایک معنی یہ ہیں کہ مسلمان جہاں چاہے نماز پڑھ سکتا ہے۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ پوری دنیا اللہ کی بندگی میں آجائے۔ نبی اکرمؐ نے مسجد کی تعمیر کے بعد ساری توجہ مسجد پر ہی نہیں دی۔ محض اس کی آرایش و زیبائش کو مرکز توجہ نہیں بنایا۔ آپؐ کی اصل توجہ اور سرگرمی دین کو غالب کرنے، دنیا کو دین پر چلانے پر رہی۔ آپؐ لوگوں کو انسانوں کی غلامی سے نکال کر اور دنیا کی تنگیوں سے نکال کر، ایک اللہ کی بندگی کی وسعت و کشادگی میں لائے۔ ائمہ مساجد کا اصل فریضہ یہی ہے اور اسے ترجیحِ اول ہونا چاہئے۔
آپ مسجد کو نور کا مینارہ بنایئے۔ امامت کی ذمہ داری دے کر آپ کو اعلیٰ مقام پر فائز کیا گیا ہے۔ اللہ نے آپ کو آزمائش میں ڈالا ہے۔ آپ پر بڑی بھاری ذمہ داریاں عائد کی ہیں۔ آپ انہیں اپنی وسعت اور استعداد کے مطابق انجام دیں۔ اسوہ رسولؐ کی ہدایت، رہنمائی اور روشنی میں اپنی صلاحیتوں کو کام میں لائیں۔ اسوہ رسولؐ کا فہم حاصل کرنے کے لئے سیرت کا خوب مطالعہ کریں، خود بھی عمل کریں، نمازیوں کو بھی آمادہ کریں۔ اس سے امت میں وہ طاقت اور قوت پیدا ہوگی کہ وہ دنیا کی قیادت کر سکے گی۔
خطبۂ جمعہ اسلام کے نظامِ تعلیم و تربیت میں مرکزی اہمیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نمازجمعہ کو فرض قرار دیا گیا ہے اور کوئی شخص جماعت سے الگ انفرادی طور پر نماز جمعہ ادا نہیں کرسکتا۔ بستی کا مرکز ہونے کی وجہ سے ہر شخص کا مسجد پہنچنا لازم قرار دیا گیا ہے اور خطبۂ جمعہ کے ذریعے فکری رہنمائی اور تزکیہ و تربیت کا سامان کیا گیا ہے۔ اس طریقے سے ہر ہفتے اس عمل کو دہرایا جاتا ہے۔ لہٰذا خطبۂ جمعہ خصوصی اہمیت اور توجہ چاہتا ہے۔ اگر ائمہ حضرات گزشتہ نکات کی روشنی میں ترجیحات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے، ایمان، اخلاق اور تدریج اور عوام کے مسائل کو موضوع بناتے ہوئے خطبہ دیں تو جہاں یہ فریضہ بہ احسن ادا ہوسکے گا، وہاں عوام کی دلچسپی بھی بڑھے گی اور بتدریج مسجد بستی کے مرکز کا مقام حاصل کر لے گی۔ البتہ ایک بات کا خصوصی اہتمام کیا جائے کہ ائمہ جو خطبہ دیں، اس میں صرف وہ باتیں بیان کریں جو تمام علماء کے ہاں مسلّمہ ہیں۔ اس سے فکری ہم آہنگی اور ملّی یک جہتی پیدا ہوگی اور اختلاف و انتشار کا خاتمہ بھی ہو سکے گا اور مسلمان جسد ِواحد بن کر اُمت کا وہ مطلوبہ کردار بھی ادا کرسکیں گے جو وقت کا تقاضا اور ضرورت ہے۔
آج اُمت زوال کا شکار ہے۔ ایمان اور اعمال میں زوال اور کمزوری رونما ہوگئی ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ لوگوں کو دین کی صحیح صحیح تعلیم دی جائے۔ اس راہ میں مشکلات لازمی ہیں لیکن آپ کی ذمہ داری یہ ہے کہ اپنا کام جاری رکھیں، مشکلات کو خاطر میں نہ لائیں اور اپنے کام میں لگے رہیں۔ عزم، ارادہ اور کوشش… اپنے اپنے دائرے میں اخلاص نیت کے ساتھ کام کریں۔ اس کے ثمرات ضرور نکلیں گے۔ اس دور میں رواداری اور وسعت نظر کی ضرورت ہے۔ اس کا اظہار آپ کے رویے سے، آپ کی باتوں سے ہونا چاہئے۔