Inquilab Logo Happiest Places to Work

ممبئی کی کہانی جہاں انسان نہیں، منصوبے مرکز میں رہے

Updated: January 04, 2026, 4:32 PM IST | Ghulam Arif | Mumbai

’دی وائر‘ کے تاسیسی مدیر سدھارتھ بھاٹیہ کی کتاب ’ ممبئی : اےملین آئی لینڈس‘ کا ایک جائزہ جس میں ممبئی کے مسائل کا بہت قریب اور نہایت باریکی سےجائزہ لیا گیا ہے، اس میں مرین ڈرائیو پر فلیٹوں کی تعمیر سے لیکر کپڑا ملوں اور ممبئی کی سیاست کا بھی تذکرہ ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

ممبئی وہ نام ہے جس میں تاریخ، روایت، امید اور تضاد یکجا ہیں۔ آج جہاں ایک عظیم میٹروپولیس دنیا کے نقشے پر اپنی جگہ بنائے ہوئےہے وہاں کبھی سات الگ الگ جزیرے ہوا کرتے تھے۔ ان کے ملاپ سے بامبے بنا۔ آج ممبئی کی روایتی شناخت ایک آزمائش سے دوچار ہے۔ کبھی یہ سات جزیرے ہم آہنگی کی مثال تھے جو سماجی و معاشی دراڑ کی تصویر بن کراب لاکھوں جزائر میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ ایک دوسرے سے بالکل کٹے ہو، بالکل مختلف۔ 
معروف ویب پورٹل ’دی وائر‘کے تاسیسی مدیر، مصنف وصحافی سدھارتھ بھاٹیہ کی تازہ کتاب ’ممبئی:اے ملین آئی لینڈس‘ اسی شہر کی ایک گہری، ادبی اور تنقیدی کھوج ہے۔ 
’’ممبئی میں رہائش ایک دشوارمسئلہ ہے۔ جگہ کی قیمت بہت زیادہ ہے۔ ایک کمرے میں پورا کنبہ رہتا ہے اوراُن کے رشتہ داربھی۔ اسلئے حکومت نے بڑی تعداد میں عمارتوں کی تعمیر کا فیصلہ کیا ہے۔ ‘‘ یہ آج کے دورکا کوئی بیان نہیں بلکہ ایک صدی قبل ۱۹۲۴ء میں شائع شدہ ایک رپورٹ کا اقتباس ہے۔ یعنی سو برسوں بعد بھی مسئلہ جوں کا توں برقرار ہے۔ ممبئی خالی جگہ کو پسند نہیں کرتا۔ کھلی جگہ ایک ضیاع ہے۔ اس جگہ کو فوری طورپراستعمال میں لانا چاہئے بلکہ اگر ممکن ہو تو اس کی قیمت بھی وصول کی جانی چاہئے۔ ا س طرح زمین کا ایک ٹکڑا جلد ہی ایک جھوپڑپٹی میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ کُھلے پن کے احساس کی خاطر بنائی گئی ایک بالکنی، چھوٹے سا کمرہ بن جاتی ہے... اور ٹیریس تو مواقع کا خزانہ ہے۔ پرانے شہر کے کئی ٹیریسوں پر باقاعدہ کمرے بنے ہوئے ہیں۔ 
 ۱۸۹۶ء کا ماہ ستمبر تھا جب ممبئی کے مانڈوی علاقے میں طاعون کے پہلے مریض کی شناخت ہوئی۔ وبا تیزی سے پھیلی۔ سرکاری عملہ گھر گھر دستک دے کر مریضوں کی تلاش کرنے لگا جسے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ گھر میں خواتین کی موجودگی ایک وجہ تھی۔ اس کے علاوہ اعلیٰ ذات کے لوگوں میں، دوسری ذات کے لوگوں کے داخلے سے گھر کے ’ناپاک‘ ہونے کا تصور تھا۔ افواہ تھی کہ مریضوں کو اسپتالوں میں انجکشن دے کر مارا جارہا تھا اور ان کے دل نکال کر ملکہ برطانیہ کو بھیجے جا رہے تھے۔ سائنسداں ہافکن نے دن رات محنت کرکے طاعون کا ٹیکہ تیار کیا۔ محلّوں میں غلاظت پر برٹش حکومت فکر مند تھی۔ یوں بھی ۱۸۶۰ء سے ممبئی میں سڑکوں کی صفائی اور گٹروں کا نیا نظام نافذ کیا گیا تھا۔ وہار، تلسی اور تانسا جھیلیں بنائی گئیں تھیں تاکہ صاف پانی مہیا ہو۔ 
۱۸۹۷ءکے طاعون نے ممبئی بلدیہ اورحکومت کو صحت، بہترصفائی اور نکاسی کے متعلق سوچنے پر مجبور کیا۔ شہر میں بنیادی تبدیلی کی شروعات بامبے سٹی امپرومنٹ ٹرسٹ ’ بی آئی ٹی‘ کی تشکیل کے ذریعے ہوئی۔ نئے عوامی مکانات کی تعمیر کا بہت بڑا پلان بنا۔ بھیڑ بھاڑ کو کم کرنے کیلئے نئی سڑکیں تعمیر کی گئیں۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے راج سے آج تک ممبئی مسلسل تغیر پذیر ہے۔ ایک نئی ممبئی اُبھر رہی ہے جو امیر کبیروں کیلئے مخصوص ہے۔ اب ترقی اور ڈیولپمنٹ کے نام پر عوام کو باہر کی طرف دھکیلنے کے ایک بڑے پلان کی صورت گری ہو رہی ہے۔ جھوپڑپٹیاں آناً فاناً صاف ہوجاتی ہیں تاکہ نئی فلک بوس عمارتوں کو جگہ مہیا کی جاسکے۔ محنت کش طبقے کو اکثر دور دراز کے پروجیکٹس پر کھدیڑ دیا جاتا ہے جہاں بنیادی سہولتوں کا فقدان ہوتا ہے۔ ان سلم والوں کوجو نئے مکان ملتے ہیں وہ عمودی سلم ہی ہوتے ہیں۔ ایسی زیادہ تر بلڈنگیں ایک دوسرے سے قریب قریب تعمیر کی جاتی ہیں۔ قدرتی روشنی، ہوا اور حفظان صحت کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ اطراف کے فلک بوس ٹاورس کے مقابلے ان کی تعمیری کوالیٹی کافی کمتر درجہ کی ہوتی ہے۔ کیا سلم والے ٹیکس نہیں بھرتے ؟ بھرتے ہیں ۔ کیا انکو بجلی پانی مفت ملتا ہے؟ بالکل نہیں بلکہ وہ بڑھی ہوئی شرح پر بل ادا کرتے ہیں۔ کوسٹل روڈ اور اٹل سیتو پر بالترتیب۲۰؍ ہزار اور۱۷؍ ہزار ۸۰۰؍ کروڑ کا خرچ، کاروں کی ایک معمولی تعداد کی خاطر کیا گیا۔ اس رقم کا ایک چھوٹا سا بھی حصہ پبلک ٹرانسپورٹ کی بہتری پر خرچ ہوتا تو بہت بڑی آبادی کو فائدہ پہنچاتا۔ مصنف کا تبصرہ ٹھیک لگتا ہے لیکن راقم الحروف کا خیال ہے کہ لوکل ٹرینوں اور میٹرو ریل پر گزشتہ دہائیوں میں بہت رقم خرچ ہوئی ہے اور ہونی بھی چاہئے تھی۔ 
آج ۲۰۲۶ ءمیں میرین ڈرائیو پر ایک فلیٹ کی قیمت کیا ہوسکتی ہے ؟ لیکن ایک دور تھا جب سمندر کو پاٹ کر یہ علاقہ نیا نیا تعمیر ہو رہا تھا۔ زیادہ تر عمارتیں ۴۰۔ ۱۹۳۰ء کے دوران تعمیر ہوئیں۔ مصنف نے ۸۸؍ سالہ سیونتی بھائی پاریکھ سے گفتگو کی اور کئی دلچسپ باتیں نقل کیں۔ پاریکھ کے والد نے۱۹۳۹ء میں پلاٹ خرید کر جیون وہار نامی عمارت تعمیر کرائی اور اپنے بیوپاری دوستوں کو فلیٹ کرائے پر لینے کی دعوت دی۔ صرف ایک شرط تھی کہ وہ سبزی خور ہوں۔ یہ تاثر عام تھا کہ میرین ڈرائیو دور، سہولتوں سے عاری اور کاسمو پالیٹن علاقہ ہے۔ جنوبی ممبئی کے بھرے پُرے گنجان محلوں کے باشندے، مغربی علاقے میں بسنے کے تصور سے ذرا ہچکچاتے تھے لیکن بالآخر لوگ اس طرف فلیٹ کرائے پر لینے کیلئے آنے لگے۔ تیس ہزار کایک مشت ڈپازٹ اور ۱۲۰؍ تا ۱۴۰؍ روپے ماہانہ کرایہ۔ ان کرایہ داروں کی یہ بھی شکایت تھی کہ بیت الخلا، فلیٹ کے بلکہ خوابگاہوں کے بھی اندر بنائے گئے تھے اور یہ ہندوستانی روایتوں اور تہذیب کے خلاف تھا۔ 
آج کری روڈ، پریل کی تصویر بدل رہی ہے۔ جدید رہائشی اور کاروباری کمپلیکس اپنی شاندار پرتعیش سہولتوں کے ساتھ نمودار ہورہے ہیں۔ تین بیڈروم فلیٹ کی قیمت بارہ تا پندرہ کروڑ تک۔ لال باغ پریل کبھی ملوں اور مزدوروں کا علاقہ تھا۔ اس علاقے کی ہر گلی میں ایک تاریخ بسیرا کرتی ہے۔ اس کے میدانوں میں شعلہ بیان مقرروں کے بھاشن اور چالیوں میں لکڑی کے کوریڈور پر دیوالی کے قندیلوں کی رونق۔ سارا کلچر دم توڑ رہا ہے۔ 
مصنف، نیو اسلام مل کے۶ء۵؍ ایکڑ کے پلاٹ پر بنائی جانے والی عمارت اور اس سے متعلق مسائل کا ذکر کرتا ہے۔ انگریزوں نے ہندوستان سے کپاس برآمد کر کے انگلستان کی مِلوں کو فراہمی شروع کی۔ بعد میں ۱۸۵۳ء میں کاوس جی داور نے تاڑدیو میں پہلی کپڑا مِل قائم کی۔ اطراف کے علاقوں میں یکے بعد دیگرے ملیں بنیں۔ محنت کش یہاں نوکری کیلئے آنے لگے۔ اکثریت مراٹھی بولنے والوں کی تھی۔ ان کیلئے سستی رہائش ضروری تھی۔ اطراف کا علاقہ بستا گیا۔ مزدور یونینوں کا بھی ایک دور تھا۔ ۱۹۶۰ء تک مزدور سیاست پر کمیونسٹ تحریک کی بالادستی تھی۔ شیوسینا کے قیام اور مراٹھی مانوس کے نعرے سے اس کا زور ٹوٹا۔ پھر ڈاکٹر دتاسامنت کا کردار سامنے آتا ہے۔ ۱۹۸۱ء میں دتا کی قیادت میں دو لاکھ مزدوروں نے ہڑتال کردی۔ اس کے نتیجے میں مِلیں ہمیشہ کیلئے اجڑ گئیں۔ لاکھوں مزدور بے روزگار ہوئے۔ 
۹۳۔ ۱۹۹۲ء کے فسادات اور بعد کے حالات کا بھی کتاب میں تفصیلی تذکرہ ہے۔ جارحانہ ہندوتوا کے پروپیگنڈا کے زیراثر مسلمانوں کو فلیٹ خریدنے میں آنے والی دشواریاں سب کو معلوم ہیں۔ بھاٹیہ ممبئی کی سماجی، سیاسی اور معاشی ترقی میں مسلمانوں بالخصوص میمن، بوہری، چلیا اور کوکنی برادریوں کے رول کو بیان کرتے ہیں۔ ماضی کی اہم شخصیات جیسے عمر سبحانی، سید عبداللہ بخاری، ناخدا محمد علی روگھے اور حاجی اسماعیل یوسف کو یاد کرتے ہیں۔ ۱۹۶۸ء کے اینیمی پراپرٹی ایکٹ نے بہت سارے متمول مسلمانوں کو کروڑوں کی جائدادوں سے محروم کردیا تھا۔ پھر دولت مند مسلمان محمد علی روڈ اور ڈونگری سے قلابہ، باندرہ اور دوسرے علاقوں میں منتقل ہوئے۔ متوسط طبقے نے جگہ کی تنگی کے سبب ممبرا اور دیگر علاقوں کا رخ کیا۔ ممبرا اور اس کے مسائل پر مصنف نے وہاں کے باشندوں سے جو بات چیت کی، وہ کافی دلچسپ ہے۔ 
یہ کتاب ممبئی کے سب سے سنگین مسئلے یعنی رہائش پرتوجہ مبذول کرتی ہے۔ ہر دور میں انسان کو نہیں، منصوبے کو مرکز بنایا گیا۔ رہائش کو حق نہیں، اسکیم سمجھا گیا۔ شہر کو ایک زندہ معاشرہ نہیں بلکہ ریئل اسٹیٹ پروجیکٹ تصور کیا گیا۔ برطانوی دور میں ممبئی میں رہائش کا سوال انسانی حق کے طور پر نہیں بلکہ نوآبادیاتی معیشت کی ضرورت کے طور پر دیکھا گیا۔ آزادی کے بعد کے دور میں ریاست نے رہائش کو سماجی مسئلہ ضرور تسلیم کیا لیکن عملدرآمد میں بڑی کوتاہیاں ہوئیں۔ وسائل، رفتار اور سیاسی عزم کی کمی کے باعث یہ کوششیں ناکافی رہیں۔ بعد کے دور کی کہانی شہری جمہوریت کے بحران سے عبارت ہے۔ پالیسی سازی میں بلڈرز، سیاست دانوں اور بیوروکریسی کا کردار نمایاں ہے، جبکہ عام شہری اکثر فیصلوں سے باہر رہتا ہے۔ اگر شہر کے فیصلے شہر والوں کے بغیر ہوں، تو پھر شہر کس کا ہے؟ ممبئی کُناچی؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK