ایک صحافی شیرین ابوعاقلہ کا قتل

Updated: May 18, 2022, 10:53 AM IST | Pravez Hafeez

مڈل ایسٹ آئی کی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج کی تمام زیادتیوں اور پابندیوں کے باوجود ۲۰۰۴ء میں ہر دلعزیز فلسطینی رہنما یاسر عرفات کے جنازے سے بھی زیادہ لوگ شیرین ابو عاقلہ کے جنازے میں شامل تھے۔ اپنی موت کے بعد شیرین ابو عاقلہ فلسطینی قوم پرستی کی ایک نئی علامت بن کر ابھری ہیں۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

  اسرائیل کی حیوانیت کی کیا کوئی انتہا ہے؟ پہلے صہیونی فوج اپنے فرض کی ادائیگی میں مصروف ایک نہتی خاتون صحافی شیرین ابو عاقلہ کا گولی مار کر قتل کردیتی ہے اور اس کے بعد مرحومہ کے جنازے میں شامل سوگواروں کو بھی ظلم و ستم کا نشانہ بناتی ہے اور ان کے تابوت کی بے حرمتی بھی کرتی ہے۔ ابو عاقلہ کے جنازے کے جلوس پر حملہ کرکے اسرائیلی پولیس نے ایک بار پھر اپنی وحشیانہ فطرت دنیا پر ظاہر کردی۔ویسے جنازوں پر حملوں کا اسرائیل کا دیرینہ ریکارڈ رہا ہے۔ اسرائیلی فوج ہسپتالوں، اسکولوں، رہائش گاہوں، ایمبولینسوں، اقوام متحدہ کی عمارتوں اور چھوٹے چھوٹے بچوں تک کو تشدد کا نشانہ بنانے سے بھی گریز نہیں کرتی ہے جبکہ عالمی قوانین کے مطابق یہ حرکتیں جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہیں۔  وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی خاطر ابو عاقلہ کے قتل کی ذمہ داری پہلے جینن کے ان فلسطینی حریت پسندو ں پر ڈال دی جن کے خلاف جاری فوجی آپریشن کے دوران اس ہولناک جرم کا ارتکاب کیا گیا۔لیکن جب چشم دید گواہوں اور خود اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیموں نے ویڈیو اور تصاویری شواہد سے یہ ثابت کردیا کہ جس جگہ ابو عاقلہ کو گولی ماری گئی وہاں دور دور تک کسی فلسطینی جنگجو موجود نہیں تھا اور نہ ہی وہاں کوئی جھڑپ ہوئی تھی تو اسرائیل نے سر بدلا۔ واشنگٹن پوسٹ نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی حکومت اندرونی طور پر یہ انکوائری کررہی ہے کہ اکیاون سالہ ابو عاقلہ کی موت کس فوجی کے رائفل کی گولی سے ہوئی۔ لیکن اسرائیل  کے ہی مقبول روزنامہ ’’ہارٹیز‘‘ نے اپنے ایک اداریہ میں یہ سوال اٹھایا ہے کیا یہ ممکن ہے کہ اسرائیل ڈیفنس فورسز خود اپنے جرم کی ایمانداری سے تحقیقات کرے گی۔ اسرائیلی استبداد کی بھینٹ چڑھنے والی ابو عاقلہ پہلی صحافی شہید نہیں ہیں۔ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں صحافیوں کی زندگی ہر وقت داؤ پر لگی رہتی ہے۔ پچھلے بیس برسوں میں اسرائیلی فوج نے پچاس فلسطینی صحافیوں کو موت کے گھاٹ اتار ا ہے۔ ۲۰۱۸ء میں مہاجر فلسطینیوں کی گھر واپسی کے لئے منعقد کئے گئے مارچ کی رپورٹنگ کررہے دو صحافیوں احمد ابو حسین اور یاسر مرتضیٰ کوبھی اسرائیلی فوج نے ابو عاقلہ کی طرح جان بوجھ کر بغیر کسی اشتعال انگیزی کے قتل کر دیا تھا۔ ابھی حال میں انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس(آئی ایف جے)،انٹر نیشنل سینٹر آف جسٹس فار فلسطین اور فلسطینی جرنلسٹس سنڈیکیٹ (پی جے ایس) نے انٹرنیشنل کریمنل کورٹ (آئی سی سی) میں اسرائیل کے خلاف فلسطینی صحافیوں کو سلسلے وار طریقے سے نشانہ بنانے کی شکایت درج کرائی ہے۔   پچھلے بدھ کو الجزیرہ کی نمائندہ ابو عاقلہ جینن رفیوجی کیمپ میں جاری اسرائیلی فوجی آپریشن کی رپورٹنگ کے لئے موجود تھیں۔ انہوں نے بلٹ پروف جیکٹ اور ہیلمٹ پہن رکھا تھا جن پر روشن حروف میں ’’پریس‘‘ لکھا ہوا تھا۔ شاید اسی لئے ظالموں نے گولی تاک کے کان کے نیچے گردن کے اس حصے میں ماری جوہیلمٹ سے باہر تھا۔ ابو عاقلہ کے ایک ساتھی صحافی کو بھی گولی ماری گئی لیکن وہ خوش قسمتی سے زندہ بچ گیا۔ چونکہ سچ کے آئینے میں اسرائیل کو اپنا بدنما چہرہ دیکھنا پسند نہیں ہے اس لئے اسے غیر جانب دار میڈیا سے خواہ وہ مقامی ہو یا بیرونی، ازلی بیر ہے۔ اپنے چہرے پر لگے داغ صاف کرنے کے بجائے اسرائیل کو آئینہ توڑ ڈالنے کی عادت ہے اسی لئے پچھلے ہفتے اس نے ابو عاقلہ کو راستے سے ہٹادیا۔
  الجزیرہ سے اسرائیل کو خاص طور پر دشمنی ہے۔ اس نیوز چینل کا ہیڈ کوارٹر قطر میں واقع ہے لیکن اس کی عربی اور انگریزی نشریات دنیا بھر میں دیکھی جاتی ہیں۔ مشرق وسطیٰ اور خصوصاً فلسطین کے حوالے سے اپنی دیانت دارانہ فیلڈ رپورٹنگ کی وجہ سے الجزیرہ کا شمار دنیا کے معتبر ترین ذرائع ابلاغ میں کیا جاتا ہے اور اس کا کافی کریڈٹ ابو عاقلہ کی شاندار صحافتی کارکردگی کو جاتا ہے۔ شیرین ابو عاقلہ نے خود اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے صحافت کا پیشہ فلسطینیوں کے دکھ درد سے دنیا کو آگاہ کرنے اور ان کو انصاف دلانے کے مقصد سے اختیا رکیا تھا۔ وہ پچھلے پچیس برسوں سے مکمل ایمانداری اور بے خوفی سے فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے قابض اسرائیلی فوج کے تمام مظالم کی داستان الجزیرہ کے ذریعہ دنیا کو دکھا رہی تھیں۔ مغربی کنارہ میں فلسطینی زمین چرا کر ان پر یہودی آبادکاروں کے لئے بستیوں کی تعمیر ہو یافلسطینیوں کے گھروں کو منہدم کرکے ان کے سروں سے چھت چھین لینے کی سازش، غزہ میں فضائی بمباری ہو یا جینن میں فوجی کارروائی، ابو عاقلہ کی رپورٹوں نے اسرائیل کی ریاستی دہشت گردیوں اور نسلی تعصب کو دنیا کے سامنے پوری طرح بے نقاب کرکے رکھ دیا۔شیرین ابو عاقلہ رومن کیتھولک عقیدے کی عیسائی تھیں لیکن ان کے دل میں تمام فلسطینیوں کیلئے اتھاہ محبت اور ہمدردی کا دریا موجزن تھا۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی فلسطینیوں کے حق کی آواز بلند کرنے کیلئے وقف کردی تھی اور جان بھی اسی مقدس کاز کیلئے دے دی۔صہیونی حکومت نے انہیں اس لئے مروادیا کیونکہ وہ ان کی سچی رپورٹوں کی تاب نہیں لاسکی۔ لیکن اسرائیلی حکومت نے اگر یہ سمجھا تھا کہ شیرین ابو عاقلہ کا سفاکانہ قتل کرکے وہ ہمیشہ کیلئے ان کی زبان بند کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے تو وہ سخت غلط فہمی کا شکار تھی۔ الجزیرہ کی دلیر صحافی مقبوضہ فلسطین میں پچیس برسوں پر محیط اپنی بے خوف، دیانتدارانہ رپورٹنگ کی وجہ سے پہلے صرف مشرق وسطیٰ کی ایک جانی پہچانی شخصیت تھیں لیکن پچھلے ہفتے اسرائیل ڈیفنس فورسز کے ہاتھوں شہید کئے جانے کے بعد وہ پوری دنیا میں مشہور ہوگئی ہیں۔ وہ اب بیباک صحافت کی ایک عالمی icon بن گئی ہیں۔ ان کی موت کے بعد مقبوضہ فلسطین کے عیسائی اور مسلمان باشندوں کے درمیان اتحاد اور یکجہتی کا جو زبردست مظاہرہ دیکھا گیا اس نے ایک بار پھر دنیا پر یہ حقیقت اُجاگر کردی کہ فلسطینی آزادی کی تحریک کوئی مذہبی جدوجہد نہیں ہے بلکہ اس کی بنیاد فلسطینی قوم پرستی پر  ہے اور اس تحریک میں عیسائی بھی مسلمانوں کے شانہ بہ شانہ شامل ہیں۔ اسرائیل نے مغربی کنارہ اور غزہ سے کسی کو بھی جنازے میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی۔ اسکے باوجود فلسطینی قومی پرچم میں لپٹے ان کے جسد خاکی کو کندھا دینے کیلئے یروشلم میں ہزاروں مسلم اور عیسائی باشندے گھروں سے نکل آئے۔ مڈل ایسٹ آئی کی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج کی زیادتیوں اور پابندیوں کے باوجود ۲۰۰۴ء  میں ہر دلعزیز فلسطینی رہنما یاسر عرفات کے جنازے سے بھی زیادہ لوگ ابو عاقلہ کے جنازے میں شامل تھے۔ اپنی موت کے بعد شیرین ابو عاقلہ فلسطینی قوم پرستی کی ایک نئی علامت بن کر ابھری ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK