تعلیمی امدادِ باہمی

Updated: January 10, 2021, 6:32 AM IST | Editorial

امدادِ باہمی کا مطلب ہے ایک دوسرے کی مدد کرنا۔ یہ ہر سماج کی اہم اور نمایاں خصوصیات میں سے ایک ہے۔ جس سماج یا معاشرہ میں امداد ِ باہمی کا جذبہ جتنا زیادہ ہوگا، وہ اُتنا بہتر ہوگا۔ کوئی بھی انسانی معاشرہ ایسا نہیں ہوسکتا جس کے افراد باہمی تعاون کے قائل اور اس پر عامل نہ ہوں، مگر کم ہی معاشرے ایسے ہیں جن میں اس اُصول کو منظم طور پر برتا جاتا ہے۔

Students - Pic : INN
طلبہ تصویر : آئی این این

 امدادِ باہمی کا مطلب ہے ایک دوسرے کی مدد کرنا۔ یہ ہر سماج کی اہم اور نمایاں خصوصیات میں سے ایک ہے۔ جس سماج یا معاشرہ میں امداد ِ باہمی کا جذبہ جتنا زیادہ ہوگا، وہ اُتنا بہتر ہوگا۔ کوئی بھی انسانی معاشرہ ایسا نہیں ہوسکتا جس کے افراد باہمی تعاون کے قائل اور اس پر عامل نہ ہوں، مگر کم ہی معاشرے ایسے ہیں جن میں اس اُصول کو منظم طور پر برتا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہم امداد باہمی کی اصطلاح سنتے ہیں تو ملک کی ’’کو آپریٹیو موومنٹ‘‘ کا گمان گزرتا ہے جسے صرف اور صرف اقتصادی اُمور سے وابستہ کردیا گیا ہے۔
 یہ وہ اصطلاح ہے جس کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ اسے محدود معنی میں سمیٹا نہیں جاسکتا۔ امداد باہمی کے ذریعہ اگر کوئی بہت بڑا شکر کارخانہ قائم کیا جاسکتا ہے تو امداد باہمی ہی کے ذریعہ محلوں اور علاقوں میں رفاہ ِعام کے بہت سے کام بھی کئے جاسکتے ہیں۔ ایسا نہیں کہ رفاہِ عام کے وہ کام جو مل جل کر کئے جاتے ہیں بالکل نہیں ہوتے۔ ہوتے ہیں مگر، جیسا کہ عرض کیا گیا، اُصول ِامداد باہمی کو منظم طور پر برتنے اور زیادہ سے زیادہ عام کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی۔ اسے، اس طرح بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ متعدد محلوں میں، طلبہ جب ایک کلاس کی تعلیم مکمل کرکے اگلی جماعت میں داخل ہوتے ہیں تو علاقوں کی تنظیمیں اُن سے سابقہ سال کی درسی کتابیں اس مقصد سے حاصل کرلیتی ہیں کہ اُنہیں، اُس جماعت میں پہنچنے والے غریب اور نادار طلبہ میں تقسیم کردیا جائے۔ یہ ایک عمدہ طریق کار ہے جسے دیگر علاقوں تک پہنچانے اور وسعت دینے کی ضرورت تھی مگر، جیسا کہ ہم جانتے ہیں، ماضی میں جن علاقوں میں یہ کام ہوتا تھا وہ آج بھی وہیں تک محدود ہے یا بعض وجوہات کی بناء پر رُک گیا ہے۔ اگر ہم مانتے ہیں کہ یہ اچھا کام ہے تو رُکے کیوں؟ اگر کسی محلے میں یہ کارِ خیر جاری تھا مگر پھر رُک گیا تو اُصول امدادِ باہمی کے تحت اہل محلہ کا فرض تھا کہ متعلقہ تنظیم کے عہدیداروں سے رابطہ کرکے دریافت کرتے کہ ایسا کیوں ہوا اور اسے دوبارہ جاری کرنے میں کس طرح کے تعاون کی ضرورت ہے؟ 
 غریب طلبہ کی فیس کا مسئلہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ کیا اُصولِ امداد باہمی کے تحت یہ ممکن نہیں ہے کہ ہر محلے میں ایک ایسا فنڈقائم ہو جس میں ہر ماہ محلے کے صاحب حیثیت لوگ ایک مخصوص رقم، خواہ وہ بڑی ہو یا چھوٹی، بلا ناغہ جمع کرائیں اور اس فنڈ کے ذریعہ غریب اور نادار طلبہ کی فیس ادا ہوتی رہے؟ جیسا کہ بالائی سطور میں عرض کیا گیا، یہ بھی چند ایک محلوں میں ہوتا ہے مگر منظم نہیں ہے۔ چونکہ منظم نہیں ہے اس لئے اس کا دائرہ محدود ہے۔ جو لوگ اس کا بیڑہ اُٹھاتے ہیں اُن کے پاس اتنی رقم جمع ہی نہیں ہو تی کہ وہ زیادہ سے زیادہ طلبہ کی ادائیگی ٔ فیس کی ضمانت دے سکیں۔
 امدادِ باہمی کا جذبہ پیدا کرنے کیلئے طلبہ کی بھی خدمات حاصل کی جاسکتی ہیں۔ مثال کے طور پر علاقے کے ذہین طلبہ، روزانہ ایک گھنٹہ علاقے کے اُن طلبہ کیلئے وقت نکالیںجو پڑھائی لکھائی میں کمزور ہیں۔ کیا ایسا نہیں ہوسکتا؟ 
  امدادِ باہمی کے فروغ میں اساتذہ کی بھی مدد لی جاسکتی ہے۔ وہ اس طرح کہ ہر علاقے کے وہ اساتذہ، جو مشکل مضامین (سائنس، میتھس انگریزی وغیرہ) کے ماہر ہیں، وہ ہفتے میں دو دن ہی سہی، اپنا وقت ان طلبہ کیلئے نکالیں جو اِن مضامین میں کمزور ہیں۔ کیا یہ بہت مشکل ہے؟ 
 ان تدابیر سے جذبۂ امداد باہمی بہرصورت فروغ پائیگا اور اہل محلہ اس کی برکات کا بچشم خود مشاہدہ کرسکیں گے۔ یہ کارِ خیر مثال بھی بنے گا!

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK