امریکہ اور کیوبا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران کیوبا نے اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری سے فوری مدد کی اپیل کر دی ہے۔ کیوبا کا کہنا ہے کہ امریکی پابندیوں، ایندھن کی قلت اور ممکنہ فوجی دباؤ کے باعث ملک شدید انسانی بحران کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔
EPAPER
Updated: May 27, 2026, 10:18 PM IST | Havana
امریکہ اور کیوبا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران کیوبا نے اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری سے فوری مدد کی اپیل کر دی ہے۔ کیوبا کا کہنا ہے کہ امریکی پابندیوں، ایندھن کی قلت اور ممکنہ فوجی دباؤ کے باعث ملک شدید انسانی بحران کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔
کیوبا نے عالمی برادری سے فوری مدد کی اپیل کی ہے، کیونکہ امریکہ کے ساتھ پابندیوں، توانائی کی قلت اور ایندھن کے دباؤ پر کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ برونو روڈریگز پیریلا نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا کہ اب یکجہتی دکھانے کا وقت ہے، کیونکہ کیریبین ملک کو ایک انسانی المیے کا سامنا ہے۔ روڈریگز نے منگل کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا:’’میں عالمی برادری سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس انسانی تباہی کو روکنے کیلئے متحرک ہو، جو ہتھیاروں یا ایندھن کی ناکہ بندی کے ذریعے مسلط کی جا سکتی ہے۔ ‘‘امریکی قیادت میں عائد پابندیوں کے باعث جزیرہ نما ملک شدید انسانی بحران سے دوچار ہے، جس کی وجہ سے خوراک، ادویات اور بجلی جیسی بنیادی ضروریات کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔ ملک اس وقت تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے، جہاں ۲۲؍ گھنٹے یا اس سے زیادہ دورانیے کے بلیک آؤٹس ہو رہے ہیں۔ سلامتی کونسل کے اجلاس سے قبل، روڈریگز نے ایکس پر لکھا:’’میں نے اقوامِ متحدہ سے درخواست کی ہے کہ وہ کیوبا کے خلاف ممکنہ امریکی فوجی جارحیت کو روکنے میں کردار ادا کرے، کیونکہ اس سے خونریزی ہوگی، اور طاقت کے استعمال کی دھمکیوں کا خاتمہ کیا جائے۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: غزہ: حج پر اسرائیلی پابندی کے ۳؍ سال، بچوں نے علامتی حج کیا
یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ نے کھلے عام کیوبا پر قبضے کی بات کی ہے، جو وینزویلا کے صدر نکولس مادوروکے اغوا کے بعد سامنے آئی۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیونے کہا کہ کیوبا امریکہ کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ اس کے باوجود روڈریگز نے امریکہ کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات میں شامل ہونےکیلئے ہوانا کی آمادگی کا اعادہ کیا۔ روڈریگز نے امریکی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا:’’یہ ایک ایسا خیال ہے جو منطق اور عقلِ سلیم کے خلاف ہے۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا:’’کیوبا کو سکون سے جینے دیا جائے۔ ‘‘
گزشتہ ہفتے امریکہ نے ہوانا پر دباؤ مزید بڑھا دیا، جس میں ۱۹۹۶ء میں امریکہ میں قائم دو طیاروں کے ڈوبنے کے واقعے پر۹۴؍ سالہ سابق کیوبن لیڈر راؤل کاسترو پر فردِ جرم عائد کرنا بھی شامل ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ بہت سے صدور کیوبا پر حملہ کرنا چاہتے تھے، لیکن لگتا ہے کہ یہ کام میں ہی کروں گا۔