Inquilab Logo Happiest Places to Work

’چنری چنری‘ تنازع: واشو بھگنانی کے الزامات پر ٹپس فلمز اور فلم ٹیم کا سخت ردعمل

Updated: May 27, 2026, 9:04 PM IST | Mumbai

واشو بھگنانی کی جانب سے فلم ’’ہے جوانی تو عشق ہونا ہے‘‘ پر کاپی رائٹ خلاف ورزی کے الزامات کے بعد تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔ فلم کے پروڈیوسر رمیش تورانی اور ٹِپس فلمز نے جوابی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’چنری چنری‘ اور ’عشق سونا ہے‘ کے مکمل قانونی حقوق ان کے پاس موجود ہیں اور بھگنانی ذاتی انتقام کے تحت فلم کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

فلم ’’ہے جوانی تو عشق ہونا ہے‘‘ کی ریلیز سے قبل اس کے گانوں کو لے کر تنازع مزید بڑھ گیا ہے۔ خاص طور پر فلم کے نئے ورژن ’چنری چنری‘ پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے، جبکہ اب قانونی کشمکش بھی کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ حال ہی میں واشو بھگنانی نے فلم پر کاپی رائٹ کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا تھا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ گانے کو مناسب اجازت کے بغیر استعمال کیا گیا ہے۔ اس کے بعد فلمی صنعت میں بحث تیز ہو گئی اور پوجا اینٹرٹینمنٹ اور ٹِپس فلمز کے درمیان تنازع کھل کر سامنے آنے لگا۔ اب رمیش تورانی کی ٹیم اور ٹِپس فلمز نے ایک تفصیلی بیان جاری کرتے ہوئے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ متنازع گانے ہمیشہ سے ٹپس فلمز کی ملکیت رہے ہیں اور ان کے استعمال میں کسی قسم کی غیر قانونی سرگرمی شامل نہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ’’چنری چنری‘‘ ریمیک: ابھیجیت بھٹاچاریہ اور انو ملک کی تنقید

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’حال ہی میں مسٹر واشو بھگنانی کی جانب سے ہم پر بے بنیاد الزامات لگائے گئے ہیں۔ ہمارے لئے یہ بالکل واضح ہے کہ یہ ذاتی انتقام پر مبنی ایک منظم مہم ہے، جس کا مقصد ہماری فلم ’’ہے جوانی تو عشق ہونا ہے‘‘ کی ریلیز کو متاثر کرنا ہے۔‘‘ ٹیم نے مزید کہا کہ ان کا اور واشو بھگنانی کا تعلق ۱۹۹۵ء سے چلا آ رہا ہے، جب انہوں نے فلم ’’قُلی نمبر ون‘‘ میں انہیں ۵۰؍ فیصد شراکت داری اور پروڈیوسر کریڈٹ دیا تھا، حالانکہ منصوبے کی تمام بنیادی تیاری پہلے ہی مکمل کی جا چکی تھی۔

بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ ’’قُلی نمبر ون‘‘ باکس آفس پر بڑی کامیابی ثابت ہوئی اور اس نے مسٹر بھگنانی کے کیریئر کو نئی بلندیوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی دیرینہ تعلق کے احترام میں ہم اب تک خاموش رہے۔ ٹپس فلمز نے الزام لگایا کہ واشو بھگنانی مختلف پلیٹ فارمز، بشمول سوشل میڈیا، پر ’’غلط معلومات‘‘ پھیلا رہے ہیں۔بیان میں اس بات پر بھی حیرت کا اظہار کیا گیا کہ مبینہ قانونی شکایت ممبئی کے بجائے بہار کی کاٹھیہار عدالت میں دائر کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ’’براہِ راست بات چیت کے بجائے انہوں نے ہماری فلم سے وابستہ تمام افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا راستہ اختیار کیا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ’’ڈان ۳‘‘ میں رنویر سنگھ کی جگہ کون لے گا؟ دو ناموں کی بازگشت

ٹِپس فلمز نے واضح کیا کہ ’چنری چنری‘ اور ’عشق سونا ہے‘ دونوں گانوں کے مکمل اور قانونی حقوق ان کے پاس ہیں، اس لئے ان کے مطابق اس معاملے میں کسی اضافی قانونی مداخلت کی ضرورت نہیں۔ یہ تنازع ایسے وقت سامنے آیا ہے جب فلم ’’ہے جوانی تو عشق ہونا ہے‘‘ پہلے ہی اپنے ریمیکس گانوں کی وجہ سے سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ فلم میں ورون دھون، مرونال ٹھاکر اور پوجا ہیگڑے مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔

فلم کے نئے ورژن ’چنری چنری‘ پر مداحوں اور موسیقی سے وابستہ شخصیات کی رائے منقسم رہی ہے۔ بعض نے اسے پرانی یادوں کو تازہ کرنے کی کوشش قرار دیا، جبکہ ناقدین نے اسے کلاسک گانے کا ’’غیر ضروری ریمیک‘‘ کہا۔ اس سے قبل گلوکار ابھیجیت بھٹاچاریہ بھی اس نئے ورژن پر تنقید کر چکے ہیں اور دعویٰ کیا تھا کہ اصل گانے کی شناخت ہمیشہ سلمان خان سے جڑی رہے گی۔ فلم ۵؍ جون کو سنیما گھروں میں ریلیز ہونے جا رہی ہے، تاہم ریلیز سے پہلے اس کے گرد جاری تنازعات نے اسے پہلے ہی خبروں کا اہم حصہ بنا دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK