نندی گرام جنگ اور جادو

Updated: April 03, 2021, 4:39 PM IST

مغربی بنگال کی ۲۹۴؍ سیٹوں میں سب سے زیادہ شہرت حاصل کرنے والے حلقہ ٔ اسمبلی نندی گرام کے رائے دہندگان یکم اپریل کو اپنا فیصلہ ای وی ایم میں محفوظ کراچکے ہیں۔

Narendra Modi And Mamata Banerjee.Picture:INN
نریندر مودی اور ممتا بنرجی۔تصویر :آئی این این

 مغربی بنگال کی ۲۹۴؍ سیٹوں میں سب سے زیادہ شہرت حاصل کرنے والے حلقہ ٔ اسمبلی نندی گرام کے رائے دہندگان یکم اپریل کو اپنا فیصلہ ای وی ایم میں محفوظ کراچکے ہیں۔ چونکہ ابھی چھ مراحل کی پولنگ باقی ہے اس لئے نتائج ظاہر ہونے سے پہلے صرف اُمیدواروں اور اُن کے کارکنان کو نہیں یا صرف نندی گرام کے رائے دہندگان کو نہیں بلکہ پورے ملک کو طویل انتظار کرنا ہے تب کہیں جاکر ۲؍ مئی کو معلوم ہوسکے گا کہ اس حلقۂ اسمبلی کو جیتنے کی جنگ میں بی جے پی کی طاقت کا م آئی یا ممتا بنرجی کا جادو؟ اس ریاست کے ایک اور شہر سنگور کے ساتھ وہ نندی گرام ہی کی سرزمین ہے جہاں سے ممتا بنرجی کے اقتدار کا سورج طلوع ہوا جس کے نتیجے میں اُنہوں نے سی پی ایم کے ۲۷؍ سالہ اقتدار کو نہ صرف چیلنج کیا بلکہ اس مضبوط اقتدار کو ریاستی سیاست کے حاشئے پر ڈال دیا۔ سی پی ایم نے اپنا اقتدار کیا کھویا، اس کی طاقت بھی کم ہوتی چلی گئی۔ اس کے برخلاف ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس کو اپنا اثرورسوخ اور دبدبہ بڑھانے کا موقع ملا۔ سابقہ دو انتخابات میں ممتا بنرجی کا سکہ، سکہ ٔ رائج الوقت کی طرح چلا مگرگزشتہ چند برسوں سے بی جے پی نے بنگال کو ترجیحی بنیادوں پر اپنا ہدف بنایا اور پولرائزیشن کی اپنی خصوصی اسٹراٹیجی کے ذریعہ اس ریاست کو بھی اپنے زیر اثر لینے کی تگ و دو مسلسل جاری رکھی۔ اسی تگ و دو کا نقطۂ عروج ہے جو اِس الیکشن میں بنگال میں دیکھا جارہا ہے۔ اسی تگ و دو کا نتیجہ ہے کہ ممتا بنرجی  کو اپنے چالیس سالہ سیاسی کریئر کے پہلے مشکل الیکشن کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ بی جے پی کی انتخابی اسٹراٹیجی سے اب ہر خاص و عام واقف ہوچکا ہے۔ پارٹی ہر الیکشن کو، خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا، نہ صرف یہ کہ اپنی پوری طاقت سے لڑتی ہے بلکہ ’’ابھی نہیں تو کبھی نہیں‘‘ کا انداز اور تیور اپناکر مقابلہ کرتی ہے۔ نندی گرام، جسے ممتا بنرجی نے اس مرتبہ خاص طور پر اپنے حلقہ ٔ اسمبلی کے طور پر منتخب کیا، اسی لئے ۲۹۴؍ سیٹوں میں سب سے زیادہ ’’ہاٹ سیٹ‘‘ بن گیا۔
 یہ کہنا مشکل ہے کہ نندی گرام کے سابق رکن اسمبلی سویندو چودھری خود بی جے پی میں گئے یا بی جے پی نے اُنہیں ہموار کیا مگر یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ کیا ہوا ہوگا۔ سویندو نے ممتا بنرجی اور اُن کی پارٹی کو دَغا دیتے ہوئے بی جے پی کے خیمے میں پناہ لی۔ بی جے پی ہر ایسے شخص کو نوازنے میں بخل سے کام نہیں لیتی چنانچہ اُنہیں فوراً ٹکٹ دے دیا گیا اور اسی حلقے سے دیا گیا جہاں اُن کی طاقت اور اثرورسوخ ٹی ایم سی کا مرہون منت تھا۔ تعجب خیز امر یہ ہے کہ اتنے برسوں ممتا بنرجی کے معتمد خصوصی کی حیثیت سے ترنمول کانگریس سے وابستگی کے باوجود سویندو یہ نہیں سمجھ پائے کہ ممتا میں مقابلہ کا جذبہ، جسے ’’کِلر اسٹنکٹ‘‘ کہا جاتا ہے، بدرجۂ اتم موجود ہے۔ وہ شاید یہ بھی بھول گئے کہ دیدی جب کوئی چیلنج قبول کرتی ہیں تو پھر اُسے پورا کرکے ہی دم لیتی ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ بنگال کی بہادر لیڈر، ملک کی بزرگ سیاستداں اور ریاست کی خاتون وزیر اعلیٰ نے نہ تو اپنی پیرانہ سالی کی فکر کی نہ ہی ۱۰؍ مارچ کو پیر زخمی ہونے کو راہ کی دیوار بننے دیا۔اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ممتا بنرجی کو بڑی مشقت اُٹھانی پڑی ہے تو وہ غلط سمجھتا ہے۔ ممتا لڑنا جانتی ہیں اسلئے یہ مشقت اُنہیں مرغوب ہے۔ ویسے اس مرتبہ وہی سب سے زیادہ جان رہی تھیں کہ نندی گرام کو بچانا مغربی بنگال کو بچانا ہے، اسی لئے وہ ایک دن بھی چین سے نہیں بیٹھی ہیں۔ آٹھویں مرحلے کی پولنگ مکمل ہونے تک یہ اُمید نہیں کی جاسکتی کہ وہ چین سے بیٹھیں گی۔ یہ لڑائی اُنہیں ہر حال میں جیتنی  ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK