نریندر مودی اور راہل گاندھی کے بیانیہ کا فرق

Updated: November 29, 2022, 1:38 PM IST | Hassan Kamal | Mumbai

راہل گاندھی ایسے مسائل اٹھارہے ہیں جن سے ہرہندوستانی کو دلچسپی ہے۔ انہوں نے قوم کو جوڑنے کیلئے معاشی خوشحالی اورقومی ترقی اور سماجی ہم آہنگی کے مسائل اٹھائے ہیں جو ہرہندوستانی کا ذاتی مسئلہ ہے۔بھارت جوڑوتحریک کامقصد بھی یہی ہے۔

Rahul Gandhi and Sonia Gandhi.Picture:INN
راہل گاندھی اور سونیا گاندھی۔ تصویر :آئی این این

مغربی بنگال اور آسام کے اسمبلی انتخابات کے بعد اب دو ایسے اسمبلی الیکشن ہو رہے ہیں، جن میں کانگریس اور بی جے پی کی تقریباً سیدھی ٹکر ہو گی۔ بنگال میں ان دونوں میں سیدھا مقابلہ اس لئے نہیں تھا کہ وہاں بی جے پی اور ٹی ایم سی ایک دوسرے کے مدمقابل تھیں۔ آسام میں ضرور سیدھی ٹکر تھی، لیکن اس میں بی جے پی نے کانگریس پر سبقت حاصل کرلی تھی لیکن اب ہماچل پردیش اور گجرات میں بی جے پی اور کانگریس ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں۔ ویسے دونوں جگہ اروند کیجریوال بھی ہیں، لیکن ابھی تک وہ اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ اقتدار کی تبدیلی پراثرانداز ہوسکیں۔ گجرات کئی لحاظ سے بی جے پی کیلئے بہت زیادہ ضروری ریاست صرف اس لئے نہیں ہے کہ وہاں بی جے پی یا نریندر مودی کا دو دہائیوں سے راج ہے، بلکہ اس لئے بھی اہم ہے کہ نریندرمودی نے سیاست میں جو کچھ پایا ہے وہ گجرات کی ہی وجہ سے پایا ہے۔ اتفاق سے ان دونوں صوبوں میں بی جے پی کو اپنا راج بچانامشکل لگ رہا ہے۔ ہماچل پردیش میں تو ہے ہی ،لیکن گجرات کا معاملہ ہی کچھ زیادہ اہم ہے ۔ اسی ریاست میں ۲۰۰۲ء میں وہ فرقہ ورانہ فسادات ہوئے تھے، جس کی وجہ سے گلوبل انسانی حقوق کی ساری انجمنیں ان کے نام سے واقف ہوئی تھیں۔ اسی صوبہ کے مشہور زمانہ یا رسوائے زمانہ ’گجرات ماڈل‘ کی وجہ سے انہیں ہندوستان کا معاشی مانجھی مانا گیا تھا، یہ اوربات ہے کہ وہ نیا اب منجھدار میں ڈبکیاںلے رہی ہے۔ گجرات سے ہی مودی اور راہل کے بیانات عام توجہ کا مرکز بن رہے ہیں۔   ذرا وہ دور یاد کیجئے جب پرشانت کشور بی جے پی کے انتخابی کاموں کو دیکھ رہے تھے۔ ان کی پالیسی یہ تھی کہ جب سونیا گاندھی کہیں جلسہ کرتی تھیں تو وہیں اس کے دو دن بعد وہ مودی کا جلسہ کروا دیتے تھے اور وہ وہاں سونیا کی کہی ساری باتوں کوتمسخر سے اڑا دیتے تھے۔ یہ پالیسی بہت کامیاب بھی ہوئی۔ اس لئے بھی ہوئی کہ اس وقت مودی کے پاس جھوٹے سچے مسائل کے بہت بڑے پلندے بھی ہوتے تھے۔ آج راہل وہی کر رہے ہیں اور ان کے پاس بیروز گاری اور دیگر معاشی مسائل کی حقیقی صورت حال بھی ہے جن سے عوام کو دلچسپی بھی ہے اور وہ انہیں سچ بھی مانتے ہیں۔ آج مودی کے پاس اپنا یا اپنی گورنمٹ کا کوئی بیانیہ نہیں ہے۔ ان کی باتوں کو سن کر لوگ بس سر ہلادیتے ہیں۔ نریندر مودی اور راہل گاندھی کے سیاسی نظریات میں بھی ایک بڑا فرق ہے ۔مجھے یہ نہیں معلوم کہ نریندرمودی کودنیا کے سیاسی نظریات کا کتنا مطالعہ ہے لیکن یہ ضرور جانتے ہیں کہ وہ خود کو بچپن سے ہی آر ایس ایس کے نظریات کا حامی بتاتے ہیں۔ہر لیڈرکو اپنے اقتدار یا اپنی تحریک کے لئے عوام کے کسی نہ کسی حصے کو اپنے ساتھ جوڑے رکھنا پڑتا ہے۔عوام کو اپنی طرف موڑنا لیڈروں کی مجبوری ہوتی ہے۔نریندرمودی کا شروع سے کہنا ہے کہ ہندوستانی سب کچھ بھول کر صرف بھارتہتا پر خود کوموقوف کریں۔ وہ آج تک اسی نعرے کی طرف لوگوں کو متوجہ کرتے رہے ہیں۔ لیکن بد قسمتی سے ہندوستانی بطور مجموعی ایک ٹھوس قوم نہیں ہیں۔ یقیناًجو ہندوستان میں پیدا ہوتے ہیں ان کی پہچان ہندوستانی ہی ہوتی ہے، لیکن اسی کے ساتھ ہر ہندوستانی کے ساتھ اس کے علاقائی، لسانی اور رسوم و رواج کی ایک چادر بھی لپٹی ہوتی ہے، جس سے اس کی جان نہیں چھوٹتی۔ آر ایس ایس اس چادر کو پھینک دینے کیلئے کہتی ہے، لیکن ہر ہندوستانی اس کیلئے تیار نہیں ہوتا۔ وہ اپنی ذیلی قومیت نہیں چھوڑنا چاہتا۔ میں سمجھتا ہوں اس نکتہ کو ڈاکٹر امبیڈکر سے زیادہ کوئی نہیں سمجھا اور اسی لئے انہوں نے اس ملک کو ہندوستان کبھی نہیں کہا بلکہ بھارت یا انڈیا کہا۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ہندوستان کہنے سے اس کی شناخت کسی ایک مذہب کے ماننے والے کی ہوجاتی ہے۔راہل بھی ملک کوایک نکتے پرجوڑنا چاہتے ہیں جس میں قومیتوں یاذیلی قومیتوں کی تکرار نہ ہو۔ بلکہ وہ ایسے مسائل اٹھارہے ہیں جن سے ہرہندوستانی کو دلچسپی ہے۔ انہوں نے قوم کو جوڑنے کے لئے معاشی خوشحالی اورقومی ترقی اور سماجی ہم آہنگی کے مسائل اٹھائے ہیں جو ہرہندوستانی کا ذاتی مسئلہ ہے۔بھارت جوڑوتحریک کامقصد بھی یہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اس تحریک سے جڑ رہے ہیں اور جڑنے کا یہ عمل تیز سے تیزتر ہوتاجارہا ہے ۔ آج اس تحریک سے اتنے لوگ جڑرہے ہیں کہ جن کی گنتی بھی اب شمار میں نہیں آرہی ہے اور ہمیں یقین ہے کہ یہ تعداد دن بہ دن بڑھتی ہی جائے گی ۔ مودی کے پاس ڈاکٹر امبیڈکر کے اس نظریے اور راہل کی اس تحریک کا کوئی توڑ نہیں ہے۔ ایک ہندو مسلم کا نظریہ ضرور ہے، لیکن اب مودی یا آر ایس ایس کی باتیں سن کر لوگ صرف سر ہلاکر رہ جاتے ہیں۔  نریندر مودی اور راہل گاندھی کے رویے میں جوفرق بظاہر نظرآرہا ہے، اس کی ایک وجہ ہندوستان کی نام نہاد گودی میڈیا بھی ہے۔یہ ہم آپ کو اطلاع یا خبر نہیں دے رہے ہیں، بلکہ آپ میں سے بہت سے لوگوں کی طرح ہم نے بھی سنا ہے کہ ملک کے تمام ہندی بھاشی علاقوں میں وہ لوگ جو گودی میڈیا پرخبریں سنا کرتے تھے اورجن چینلوں کا نام لینے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ ان کے ناموں سے سبھی واقف ہیں، کہاجاتا ہے کہ ان کے سامعین کی تعداد میں دن بہ دن کمی ہوتی جارہی ہے۔ اطلاع یہ ہے کہ ٹی وی دیکھنے والوں کا جائزہ لینے والی ایک سماجی کمیٹی نے یہ ظاہر کیا ہے کہ ان علاقوں میں ٹی وی پرخبریں دیکھنے والوں کی تعد د۵۷؍فیصد رہ گئی ہے۔ یعنی پہلے جو سو لوگ ٹی وی پر خبریں سنتے تھے، ان کی تعداد اب ۴۳؍رہ گئی ہے۔ اس سماجی کمیٹی نے اس کی وجہ یہ بتائی ہے کہ جب ان چینلوں پر اینکرس زور زور سے او ر چیخ چیخ کر بتاتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہ سب جانتے ہیں اور سمجھتے بھی ہیں۔ بلکہ اس کی وجہ ان کوملنے والی موٹی موٹی تنخواہیں ہوتی ہیں۔ ہم ایک اطلاع اور دیتے ہیں اور و ہ یہ ہے کہ مودی سرکارنے نوٹ بندی کے معاملے میں عدالت میں جو حلف نامہ داخل کیا ہے، اس میں کہا گیا ہے کہ اس وقت کے ریزروبینک کے گورنر ارجیت پٹیل سے مشورہ لیا گیاتھا۔ چونکہ یہ معاملہ ابھی زیرسماعت ہے اس لئے اس پر کچھ زیادہ کہنا مناسب نہیں ہے ، لیکن یہ صاف جھوٹ ہے کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ یہ مشورہ پونے کے ایک اکاؤنٹنٹ نے دیا تھا کہ اگر وہ ہزار پانچ سو کے نوٹ کوبند کردیں تو کالادھن واپس آجائے گا اوراسی کے ساتھ آپ کا نام ہندوستان کی تاریخ میں ثبت ہوجائے گا۔ کالا دھن توواپس نہیں آیا لیکن ان کا نام تاریخ میں ثبت ضرور ہوگیا ۔ یوں بھی مودی کو یہ شوق ہے کہ جس طرح پنڈت نہرو کا نام ہسٹری میں زندہ ہے، اسی طرح ان کا نام بھی زندہ رہے ۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مودی مطلق العنان ہیں اور راہل گاندھی سب کی بات سنتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK