درد اور دہشت کی راوی :سویتلانا الیکسی وچ

Updated: August 03, 2020, 6:56 AM IST | Shahid Nadeem

ادب کا نوبیل ایوارڈ جیتنے والی بیلاروس کی سویتلانہ الیکسی وچ اپنی تخلیقات میں پوشیدہ جذبات اور روح کی اندرونی کشمکش کی تصویر کشی کیلئے پہچانی جاتی ہیں، ان کی بیشتر کتابیں سویت روس کے زوال کے بعد مختلف سیاسی اور معاشرتی سانحہ کے شکار مرد عورت اور بچوں سے ملاقات اور ان کے حالات پر مبنی ہیں

Svetlana Alexievich
سویتلانا الیکسی وچ

 ادبی نوبیل ایوارڈبیلاروس کی سویتلانہ الیکسی وچ کو پیش کیا گیا تھا ۔ وہ  اپنی تخلیقات میں پوشیدہ جذبات اور روح کی اندرونی کشمکش کی تصویر کشی کے لئے پہچانی جاتی ہیں۔ ان کی بیشتر کتابیں سویت روس کے زوال کے بعد مختلف سیاسی اور معاشرتی سانحہ  کے شکار مرد عورت اور بچوں سے ملاقات اور ان کے حالات پر مبنی  ہیں۔ ان کی تحریریں  تاریخ کے سخت اور سنگین حالات میں جکڑے انسان اور سماج کے تجربے کی داستان ہیں جسے روایتی انداز سے بیان ہونے والی کہانیوں کے درجے میں نہیں رکھا جاسکتا ۔ اس کے باوجود ان کی گہری جذبات نگاری کہانیوں سےزیادہ پراثر ہوتی ہے۔ سویتلا نا نے لکھنے کا آغاز صحافت سے کیا ۔ ابتدا ہی سے ان کی دلچسپی عام انسان اور اس کی روزمرہ سے رہی ۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے پولی فونک (مختلف آوازوں  ) طرز تحریر اختیار کیا۔ وہ لوگ جو کسی خاص واقعہ یا سانحہ سے براہ راست وابستہ ہوں ، ان کی گفتگو کو اپنی تحریر میں شامل کرلیتیں۔ یہ الگ الگ آوازیں ، ان کی تحریریں خود ان کی آواز سے مل کر کسی اجتماعی گیت کی طرح ایک مضبوط اور بلند آواز میں تبدیل ہوجاتیں۔ ڈاکٹر اور نرس کی حیثیت سے جنگ میں حصہ لیا تھا ۔اس کی کتاب ’دی ان وومن لی فیس آف وار ‘  جو اس کی پہلی کتاب ہے ، میں دوسری جنگ عظیم کو ایک نئے زاوئیے سے پیش کیا گیا ہےجس سے پہلے دنیا واقف نہیں تھی ۔ بہت کم لوگوں کو علم ہوگا کہ اس جنگ میں تقریباً ۱۰؍ لاکھ  عورتوں نے شرکت کی تھی ۔ 
 سویتلانا نے ۱۹۸۳ء میں اپنی یہ کتاب مکمل کرلی تھی ۔ دوسال تک پبلشر کے پاس پڑی رہی ۔ ان پرمخالفت ، مذہبی اخلاقیات  اور سویت یونین کی بہادر خواتین کی توہین کا الزام عائد کیا گیا۔ ان دنوں یہ بہت سنگین الزامات تصور کئے جاتے تھے۔  انہیں ملازمت سے برخاست کرنے کی دھمکی دی گئی  اور کہا گیا کہ ایسے بے تکے  غیر ملکی خیالات کے ساتھ تم ہمارے رسالے میں کیسے کام کرسکتی ہو۔میخائل گوربا چیوف کے اقتدار میں آنے کے بعدایک نیا دور شروع ہوا اور پھر ۱۹۸۵ء میں اسے شائع کیا گیا۔ اس کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ مختصر عرصہ میںاس کی۲۰؍ لاکھ سے زائد کاپیاں بک گئیں۔ 
 سویتلانا کی ایک اور کتاب ’ چرنوبل دی  اورل ہسٹری آف نیو کلیئر ڈیزاسٹر ہے۔وہ معلومات برائے معلومات کی قائل نہیں ۔ وہ کہتی ہیں کہ ایسی نِری معلومات کے بجائے میری دلچسپی انسانی ہمدردی ، کرب و ابتلا اور خوف سے زیادہ ہے۔ چرنوبل ایٹمی سانحہ کا ذکر کرتے ہوئے وہ بتاتی ہیں کہ ذرا اس خوفناک سانحہ کے بارے میں سوچئے،’’ایک پولیس والا عورت کے ساتھ چلا جارہا ہے، عورت کے ہاتھ میں انڈوں کی ٹوکری ہے ،پولیس والا اس کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ انڈوں کو زمین میں دفن کردیا جائے کیوں کہ وہ ریڈیو ایکٹیو ہو چکے ہیں۔ لوگ دودھ ، گوشت  اور بریڈ بھی زمین میں دفن کردیتے ہیں۔ سب کے سب زہریلے ہوچکے ہیں۔ اس طرح  دوسری بے جان چیزوں کو دفن کرنے کا سلسلہ چلتا رہتا ہے ۔ یہاں تک کہ ہزاروں فوجیوں نے زمین کی اوپری سطح کی مٹی کو بھی کھود کر زمین کی گہرائی میں دفن کردیا ہے کیوں کہ اب وہ کسی زندہ شے کے قابل نہیں رہ گئی ہے۔ لوگ قنوطی بن گئے تھے۔ اس سے پہلے حالیہ دور میں  ایسا دردناک حادثہ کہیں پیش نہیں آیا تھا ۔ ‘‘ وہ ایک پریشان حال ماں کا ذکر کرتی ہیں۔ وہ ماں بتاتی ہے کہ میرے دو بیٹے ایسے ہیں جو نرسری یا کنڈر گارٹن میں پڑھنے نہیں جاتے ۔ہمیشہ اسپتال میںرہتے ہیں۔ ان دونوں سے بڑا لڑکا  ہے۔ اس کا سر گنجا ہو چکا ہے۔ میں اسےڈ اکٹر اور ماہر نفسیات کے پاس لے جاتی ہوں ۔ وہ اپنی کلاس میں سب سے پستہ قدہے۔ دوڑ سکتا ہے نہ کسی کھیل میں حصہ لے سکتا ہے۔ اگر غلطی سے کسی دوسرے بچے کا ہاتھ لگ جائے تو جسم سے خون نکلنے لگتا ہے۔ اسے خون کی کوئی بیماری ہو گئی ہے۔ بہت جلد وہ مرجائے گا۔ مجھے خیال آتا ہے کہ ہم اپنے ہی بچوں کے بارے میں ایساکیسے سوچ سکتے ہیں۔ میں باتھ روم میں جاکر رونے لگتی ہوں۔سبھی مائیں اسی طرح باتھ روم ،ٹائلٹ یا کسی اور جگہ چھپ کر روتی ہیں۔ کوئی ماں اپنے بچوں کے سامنے بھلا کیسے روسکتی ہے۔ 
 پین ورلڈ وائس فیسٹیول (نیو یارک) میں سویتلانا نے کہا تھا کہ نئی انسانی صورتحال کو پُر اثر انداز میں بیان کرنے کے لئے ہمیں اظہار کے نئے طریقے تلاش کرنے ہوں گے۔ میری تحریریں اسی جانب ایک قدم ہیں۔ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے انہدام کا ذکر کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ ایک  نیا عہد ہے ، اس وقت جو ہم محسوس کررہے ہیں وہ نہ صرف ہمارے علم بلکہ تصور سے بھی پَرے ہے۔ آج ہمارے ساتھ جو ہو رہا ہے اس پر فوراً یقین نہیں ہو تا۔ ایک صحافی کی حیثیت سے میں نے محسوس کیا کہ حقیقی زندگی میں اخبار لوگوں کی دلچسپی پیدا کرنے میں ناکام رہے تھے۔ میری سمجھ میں یہ آنے لگا تھا کہ میں جو کچھ لوگوں کو سڑکوں یا ہجوم میں بولتے سن رہی تھی  وہ سماجی حقیقت سے زیادہ قریب ہے بہ نسبت  اس کے جو اخباروں میں چھپ رہا تھا ۔ اسی لئے میں نے یہ انداز اپنایا جس میں لوگوں کی اپنی آواز کو اہمیت دی گئی تھی ۔ ایک موقع پر انہوں نے کہا تھا کہ میں ایسے اسلوب کی تلاش میں تھی جو اپنی تحریروں میں زندگی کو قریب سے قریب تر لاسکے۔ اسی لئے میں نے حقیقی انسانی آوازیں ، ان کے اعترافی  بیانات ، گواہ ، ثبوت اور دستاویزوں کو اپنی تحریروں میں سمیٹ لیا۔ میں اس دنیا کو انفرادی آوازوں کو کورس اور روزمرہ کے مصائب کو مزاح کی طرح دیکھتی ہوں اور سنتی ہوں۔ میری آنکھ اور کان اسی طرح کام کرتے ہیں اور اسی طرح میں  بیک وقت  ادیب ، رپورٹر، سماجی علوم کی جانکار ،نفسیات داں اور پیامبر کاکردار ادا کرتی ہوں۔
 سویتلانا نوبیل  حاصل کرنے والی ۱۴؍ ویں خاتون تھی۔ ایوارڈ کی اطلاع ملی تو وہ گھرپر کپڑے استری کررہی تھیں۔ اس خبر پر ان کا تاثر غیرواضح تھا ۔ انہوںنے کہا ’’ مجھے بے حد خوشی ہے ،مگر ایک طرح سے پریشان کن بھی ہے۔ ‘‘ایک روسی ہفت روزہ کے مدیر کا خیال تھا کہ یہ ایک خالص سیاسی قدم ہے ۔نوبیل ادبی ایوارڈ کا ادب سے کوئی تعلق نہیں ، یہ صرف مخالفت کرنے والوں کیلئے ادیبوں کی حمایت میں بنایا گیا ہے۔ ۲۰۱۳ء میں سویتلانا کی کتاب ’سیکنڈ ہینڈ ٹائم‘ آئی ۔یہ ان لوگوں سے متعلق ہے جنہوں نے کمیونسٹ نظام کے قیام کے لئے جدوجہد کی اور دیکھتے دیکھتے یہ نظام ان کے سامنے تاش کے پتوں کی طرح بکھر گیا۔ وہ آدرش جس کے لئے انہوںنے زندگی گزاردی ، تبدیلی کے نام پر اجاڑ دیا گیا۔ ان میں کئی تو ایسے تھےجو اس صدمہ کو برداشت نہ کرسکے اور گہری مایوسی کےعالم میں خودکشی کرلی ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK