نئی تعلیمی پالیسی

Updated: July 31, 2020, 9:16 AM IST | Editorial

کم و بیش چھ سال کے انتظار کے بعد نئی تعلیمی کو کابینہ کی منظوری حاصل ہوگئی ہے۔ یہ اس اعتبار سے اہم ہے کہ اس سے قبل کی تعلیمی پالیسی ۳۴؍ سال پہلے جاری ہوئی تھی

education - Pic : INN
تعلیم ۔ تصویر : آئی این این

کم و بیش چھ سال کے انتظار کے بعد نئی تعلیمی کو کابینہ کی منظوری حاصل ہوگئی ہے۔ یہ اس اعتبار سے اہم ہے کہ اس سے قبل کی تعلیمی پالیسی ۳۴؍ سال پہلے جاری ہوئی تھی۔ تب کی دُنیا اور حالات میں اور آج کی دُنیا اور حالات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ نئی تکنالوجی نے انسانی زندگی کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ اس کا تعلیم کی ہر سطح پر ملحوظ رکھا جانا ازحد ضروری اور وقت کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کے مترادف ہے مگر کیا کہا جائے کہ اہل اقتدار نے تعلیمی اُمور کو کبھی اولین ترجیح نہیں دی۔ ۲۰۱۴ء میں قائم ہونے والی این ڈی اے حکومت نے اس کا بڑی آن بان شان سے اعلان کیا تھا مگر اس کے حتمی شکل اختیا کرنے میں اتنا وقت لگ گیا کہ اب تو اُمید کے چراغ بھی بجھنے لگے تھے۔ خیر دیر آید درست آید کے مصداق اس کا خیرمقدم کیا جائیگا اگر یہ پالیسی طلبہ کی زندگی میں ولولہ انگیز انقلاب لانے میں معاون ہو اور اس سے نئے ذہن منور بھی ہوں اور زمانے کی رفتار کا ساتھ بھی دے سکیں۔ یہاں یہ بات ذہن نشین رہنی چاہئے کہ وطن عزیز تعلیم کا قدیم گہوارا ہے مگر ہم نے اپنی اس خصوصیت کو سنبھال کر رکھنے اور اسے جدید تعلیمی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش نہیں کی جس کا نتیجہ ہے کہ نہ تو عالمی یونیورسٹیوں میں ہماری کسی یونیورسٹی کا شمار کیا جاتا ہے نہ ہی طلبہ کے اَپٹی ٹیوڈ کو کسی قابل سمجھا جاتا ہے۔ 
 نئی تعلیمی پالیسی کے بغور مطالعے کے بعد ہی اس کے رموز و نکات اور مضمرات سے آگاہی ہوسکے گی، سردست چند باتیں اُن جھلکیوں کی بنیاد پر کہی جارہی ہیں جو فوری طور پر منظر عام پر آئی ہیں۔ سب سے اہم بات جس کی ستائش کی جائیگی وہ تعلیمی بجٹ میں اضافہ ہے جو سابقہ ۴؍ فیصد کے مقابلے میں اَب جی ڈی پی کا ۶؍ فیصد ہوگا۔ ہرچند کہ یہ بھی خاطر خواہ نہیں ہے مگر اسے بجٹ میں اضافے کی ابتداء مان کر آگے بڑھا جاسکتا ہے۔ اگر یہ بجٹ پورا کا پورا خرچ کیا جاتا ہے اور جہاں ضروری ہے وہاں خرچ کیا جاتا ہے تو اس سے حسب توقع فائدہ ہوسکتا ہے۔ مگر یہ اسی وقت ہوگا جب بجٹ میں تعلیم کو اس قدر اہمیت دینے کے عزم کو عمل میں ڈھالا جائیگا اور اس میں دفتر شاہی کی پیدا کردہ رکاوٹیں نہیں ہوںگی۔ 
 اس پالیسی کے تعلق سے بتایا گیا ہے کہ اس میں مادری زبان کو اہمیت دی گئی ہے بالخصوص جماعت پنجم تک اور اس کے بعد بھی اسے تدریس کی زبان کے طور پر فوقیت دی جائیگی اور کسی ایک یا زائد زبانوں کو دیگر زبان کے لوگوں پر تھوپنے کی کوشش نہیں کی جائیگی بلکہ یہ اختیار ریاستی حکومتوں کو دیا جائیگا۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ اس سے قبل جب پالیسی کا مسودہ عام کیا گیا تھا تاکہ عوامی طبقات بالخصوص درس و تدریس سے وابستہ افراد اس پر رائے دیں تب متعدد ریاستوں نے اسے ہندی کو سب کیلئے لازمی قرار دینے کی کوشش تصور کیا اور اس کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ بدھ کو جب پالیسی کو منظوری حاصل ہوگئی تب ایچ آر ڈی منسٹری کے ایک افسر نے اس کی وضاحت کی۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ پالیسی میں کتنی وضاحت کے ساتھ مذکورہ نکتہ بیان کیا گیا ہے اور ملک کی تمام زبانوں کے ساتھ یکساں سلوک کو کتنی اہمیت دی گئی ہے اور آئندہ بھی عملاً دی جائیگی۔ 
 امتحانات کو ذہنی تناؤ سے آزاد کرانے کی کوشش بھی نئی تعلیمی پالیسی کا اہم حصہ قرار دی گئی ہے۔ تاہم اس سلسلے میں یہ بات سمجھنا مشکل ہے کہ کس طرح طلبہ کو دو حصوں میں بانٹا جاسکتا ہے کہ آیا تم مشکل امتحان دینا چاہتے ہو یا نسبتاً آسان۔ تعلیمی اداروں کے انفراسٹرکچر کا ذکر تو پالیسی میں ہے مگر اس کا طریق کار کیا ہوگا اور کتنے وقت میں کون سی تبدیلیاں رونما ہوں گی اس کا تعین ضروری ہے۔ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن اور آل انڈیا کونسل فار ٹیکنیکل ایجوکیشن کے بجائے ہائر ایجوکیشن کمیشن آف انڈیا کے قیام کی وجہ سے اختیارات کے مجتمع ہوجانے اور اس کےمنفی اثرات کا اندیشہ پیدا ہوتا ہے۔ اس جانب خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK