• Sat, 24 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

نئی تعلیمی پالیسی اور تعلیم کا مقصد

Updated: November 10, 2023, 2:24 PM IST | Shamim Tariq | Mumbai

اردو تعلیم کو اعلیٰ تعلیم کا اس طرح ذریعہ بنایاجائے کہ طلبہ کو دشواری نہ ہو اور دوسرے یہ کہ اردو میں گریجویشن کرنے والے طلبہ کو دو مضامین میں گریجویشن کرنے پر آمادہ کیاجائے تاکہ وہ کمپیوٹرایپلیکشن ، لاء، پبلک ایڈمنسٹریشن … جیسے مضامین میں بھی گریجویشن کرلیں اورانہیں ملازمت یا حصول روزگار میں آسانیاں فراہم ہوں۔

The recommendations of the New Education Policy Development Committee, the University Grants Commission`s directives and the decisions taken by the State Government on various occasions have also been kept in mind in preparing the curriculum. Photo: INN
نئی تعلیمی پالیسی تیارکرنے والی کمیٹی کی سفارشوں، یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کی ہدایتوں اور ریاستی حکومت کے مختلف موقعوں پر کئے گئے فیصلوں کو نصاب تعلیم کی تیاری میں بھی ذہن میں رکھا گیا ہے۔تصویر :آئی این این

گلوبلائزیشن اور اس کے ساتھ گلوکولائزیشن کے اثرات سے آج کی سیاست محفوظ ہے اورنہ معیشت۔ ایسی صورت میں  نظام تعلیم کیسے محفوظ رہتا۔ نئی تعلیمی پالیسی پر اس کے اثرات بہت واضح ہیں ۔ ذمہ داران بھی کہہ رہے ہیں  کہ نظام تعلیم کو اس انداز سے ترتیب دیا گیا ہے کہ غیرملکی یونیورسٹیوں  میں  داخلہ لینے میں  دشواری نہ ہو اور غیرملکی یونیورسٹیوں  سے اس سلسلے میں  باتیں  بھی ہوتی رہی ہیں ۔ کچھ عملی اقدامات بھی کئے گئے ہیں  مثلاً ممبئی یونیورسٹی سے ملحق ایسے ۶۲؍ کالجوں  کو تو پہلے بھی چار سالہ ڈگری کورس شروع کرنے کا اختیار دیدیا گیا تھا جنہیں  خودمختاری حاصل تھی۔ اب یونیورسٹی کی اکیڈمک کونسل نے بھی تین سال کے ڈگری کورس کی طرح چار سال کے ڈگری کورس کو منظوری دے دی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ یونیورسٹی سے ملحق وہ ۸۱۲؍ کالج بھی چار سال کا ڈگری کورس شروع کریں  گے جنہیں  خود مختاری حاصل نہیں  ہے۔ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے بیان کے مطابق ایسا کرنے میں  نئی تعلیمی پالیسی تیارکرنے والی کمیٹی کی سفارشوں ، یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کی ہدایتوں  اور ریاستی حکومت کے مختلف موقعوں   پر کئے گئے فیصلوں   کو نصاب تعلیم کی تیاری میں   بھی ذہن میں   رکھا گیا ہے اور نظام تعلیم کی تیاری میں   بھی۔ سب کا مقصد یہ ہے کہ طلبہ کی صلاحیتوں   اور ہنرمندی میں   بھی اضافہ ہواور ان کا وقت بھی بچے۔ اگر وہ تعلیم جاری رکھنا چاہتے ہیں   یا کسی غیرملکی یونیورسٹی میں   داخلہ لینے کے خواہشمند ہیں   تو چار سال کا ڈگری کورس کریں   ورنہ تین سالہ ڈگری کورس بھی کافی ہے۔ اگرکسی طالب علم کو کسی ناگہانی مصیبت یا مالی دشواری کے سبب تعلیم کو چھوڑنا پڑتا ہے تواس کو مکمل کئے گئے کورس کی سرٹیفکیٹ دی جائے تاکہ حالات سازگار ہونے پر وہ اپنا کورس مکمل کرسکے۔
  راقم الحروف نے اس کالم میں  نئی تعلیمی پالیسی پر کئی مضامین لکھے اور بشمول آن لائن پروگرام کے کئی تقریریں   بھی کیں  ۔ مقصد یہ تھا کہ نئی تعلیمی پالیسی کے خدوخال اجاگر کرنے کے ساتھ ان طلبہ کی رہنمائی کی جاسکے جو مالی طورپر کمزورہیں  ، جنہوں  نے اپنی مادری زبان میں   تعلیم حاصل کی ہے یا جو بیک وقت دو مضامین میں   گریجویشن کرنا چاہتے ہیں  ۔ کچھ تبصرے بھی ہوئے مگر قارئین خصوصاً اساتذہ نے وہ جامع تبصرے نہیں   کئے جو طلبہ کی مکمل رہنمائی کرسکیں  ۔ راقم الحروف کی تقریروتحریر کے دوبنیادی مقاصد تھے۔ ایک تویہ کہ اردو تعلیم کو اعلیٰ تعلیم کا اس طرح ذریعہ بنایاجائے کہ طلبہ کو دشواری نہ ہو اور دوسرے یہ کہ اردو میں   گریجویشن کرنے والے طلبہ کو دو مضامین میں   گریجویشن کرنے پر آمادہ کیاجائے تاکہ وہ کمپیوٹر ایپلیکشن ، لاء، پبلک ایڈمنسٹریشن  جیسے مضامین میں   بھی گریجویشن کرلیں   اورانہیں   ملازمت یا حصول روزگار میں   آسانیاں   فراہم ہوں  ۔  اقلیتی تعلیمی ادارے اس سلسلے میں   بہتر منصوبہ بندی کرسکتے تھے مگر وہ پیش رفت نہیں   کرسکے ۔ اردو طلبہ کی انگریزی ہی نہیں   اردو بھی ایک مسئلہ ہوگئی ہے، اچھا ہوتا کہ ان دونوں   مسائل کو حل کیا جاتا مگر محسوس یہ ہوتا ہے کہ جہاں   بیشتر اساتذہ وہی کام کرنا کافی سمجھتے ہیں   جو ان کی تنخواہوں   کو جاری رکھے وہیں   اکثر اقلیتی تعلیمی ادارے میں   انتظامیہ کی تمام تر توجہ اس پر ہوتی ہے کہ اقتدار باقی رہے اور اساتذہ اس کوشش میں   ہوتے ہیں   کہ ’سیّاں   بھئے کوتوال اب ڈرکاہے کا‘ کو سچ کردکھائیں  ۔ اب دیکھنا ہے کہ وہ کیا کرتے ہیں   کیونکہ نئی تعلیمی پالیسی نافذ کرنے کیلئے یونیورسٹی نے ایک خاص منصوبہ بھی بنایا ہے۔ غیرملکی یونیورسیٹوں   سے معاہدے بھی کئے ہیں  ۔ یہ تمام اقدامات استقبال کئے جانے کے لائق ہیں   مگر کچھ دوسری باتیں   اور مقاصد بھی ہیں   جن پر توجہ ہونا ضروری ہے۔
 مضمون کی ابتداء میں   میں   ہی گلوبلائزیشن کے ساتھ گلوکولائزیشن کا ذکر کیاجاچکا ہے مگرنئی تعلیمی پالیسی کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ اس میں   ماضی کو اہمیت دی گئی ہے یا مستقبل کو۔ وسطی عہد سے عدم توجہی برتی گئی ہے۔ وسطی عہدسے عدم توجہی کا مطلب ہے کہ امیرخسرو اوران کی اس تہذیب کو نظرانداز کیا گیا ہے جس کی انہوں  نے آبیاری کی تھی اورجس میں   ہندوستانیت کی روح مضمر ہے۔ غیرملکی یونیورسٹیوں   سے اشتراک اور ہندوستانی طلبہ کے حصولِ تعلیم کیلئے باہرجانے میں   آسانی پیدا کیاجانا بھی قابل قدر ہے مگر اصل معاملہ تویہ تھا کہ باہری ملکوں   کے طلبہ حصول تعلیم کیلئے ہندوستان آئیں  ۔کھڑک پور میں   آئی آئی ٹی کا افتتاح کرتے ہوئے مولانا ابوالکلام آزاد نے یہی امید ظاہر کی تھی۔ مولانا قومی تعلیمی پالیسی کے بنیاد گزار تھے۔ وہ خوب جانتے تھے کہ اپنے ملک میں   رہتے ہوئے اور دوسرے ملک میں   جاکر تعلیم حاصل کرنے میں   کیا فرق ہے یا اپنے طلبہ کو بیرون ملک بھیجنے اور بیرون ملک کے طلبہ کے حصول تعلیم کیلئے ہندوستان آنے ، داخلہ دینے ، رہنے سہنے اور دیگر سہولتیں   فراہم کرنے کے کیا نتائج برآمد ہوں   گے۔ ان سوالات سے صرف نظر تو نہیں   کیاجاسکتا۔
 تازہ ترین اطلاع کے مطابق نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی NTAنے ملک کے بیشتر ایجوکیشن بور ڈ کے نصاب میں   کمی کردی ہے۔ JEE-MENS کے طرز پر NEET-UGکے نصاب میں   بھی کمی کی گئی ہے یعنی اب یہ امتحانات پاس کرنے میں   طلبہ کو کم پڑھنا پڑے گا۔ آئندہ سال ایم بی بی ایس کی سیٹوں   میں   بھی اضافہ کئے جانے کی توقع ہے۔ یہ سب صحیح مگریہ دیکھنا بھی تو ضروری ہے کہ طلبہ کی ہمہ جہت ذہنی نشوونما ہورہی ہے یا نہیں  ؟ وہ تعلیم تو مؤثر نہیں   کہی جاسکتی جو صرف امتحان پاس کروانے یا امتحان میں   زیادہ نمبر دلوانے کیلئے دی جائے ۔ تعلیم تو متعلم میں   ماضی کی روایت اور مستقبل کی ضرورت کا لحاظ رکھتے ہوئے صلاحیت پیدا کرنے اورایک ایسا ماحول تشکیل دینے کا نام ہے جو دوسروں   میں   بھی حصول تعلیم کا جذبہ پیدا کرسکے۔ یہ تبھی ممکن ہے جب ہمہ دانی کےجذبے سے گریز کرتے ہوئے طلبہ اپنی اسٹریم کا خیال رکھتے ہوئے بھی تعلیم کے ہمہ جہت تصور پر یقین رکھیں  ۔ ظاہر ہے یہ تصور بیمار ذہن لوگوں   کے تسلط میں   نہیں   پروان چڑھایاجاسکتا۔

education Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK