نیا دَور، نئے امکانات

Updated: April 05, 2021, 5:21 PM IST

اِس وقت ملک میں بے روزگاری بھلے ہی تشویشناک سطح تک پہنچی ہوئی ہو اور کورونا کی وباء کے پہلے دور کے ستم کے بعد، دوسرے دور میں تشویش کا دائرہ وسیع ہوتا جارہا ہو، نئی تقرریاں بالکل نہ ہو رہی ہوں ایسا نہیں ہے۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

 اِس وقت ملک میں بے روزگاری بھلے ہی تشویشناک سطح تک پہنچی ہوئی ہو اور کورونا کی وباء کے پہلے دور کے ستم کے بعد، دوسرے دور میں تشویش کا دائرہ وسیع ہوتا جارہا ہو، نئی تقرریاں بالکل نہ ہو رہی ہوں ایسا نہیں ہے۔ حالانکہ بہت سے دفاتر بند ہیں اور ملازمین گھروں سے کام کررہے ہیں یا کچھ کو خدا حافظ کہہ دیا گیا ہو، مگر نئی تقرریاں ہورہی ہیں بالخصوص ڈجیٹل شعبے میں۔ ویسے بھی یہ شعبہ ۲۱؍ ویں صدی کا سب سے پُرکشش شعبہ ہے۔ اس میں جو اسامیاں پیدا ہورہی ہیں وہ بالکل نئی ہیں، پہلے نہیں تھیں۔ اس میں تنخواہیں بھی اچھی ہیں جن کا انحصار اس بات پر ہے کہ اس نئے میدان کے تعلق سے کسی اُمیدوار کا علم کتنا وسیع ہے، وہ جدید تقاضوں کو کس حد تک سمجھتا ہے اور نئی سوچ یا نئے آئیڈیاز کیلئے خود کو کتنا آمادہ پاتا ہے۔ نئے دور نے ملازمتوں کے جو نئے درواز ے کھولے ہیں اُن میں سے کئی ایسے ہیں جن کیلئے دفتر میں حاضری ضروری نہیں لہٰذا یہ مواقع طالبات کیلئے خاص طور پر بہت موزوں ہیں۔ انہی میں سے ایک ہے متن نویسی جسے انگریزی میں کونٹینٹ رائٹنگ کہا جاتا ہے۔  آپ کو اندازہ ہے کہ فلم رائٹر کون ہوتا ہے، اسٹوری اور اسکرین پلے رائٹر کے بارے میں بھی آپ نے سنا ہے۔ یہ شعبے فلموں کے ساتھ ساتھ حالیہ دہائیوں میں ٹی وی اور ویب سیریز وغیرہ کے حوالے سے بھی کافی مستحکم ہوچکے ہیں مگر متن نویسی ان سے مختلف ہے۔ متن نویس کسی بھی قسم کے ادارے کو، خواہ تعلیمی ہو یا سماجی، رفاہی ہو یا طبی، اپنے مقاصد تک پہنچنے میں قلم کے ذریعہ فائدہ پہنچاتا ہے اور اپنی محنت کے عوض تنخواہ حاصل کرتا ہے۔ تجارتی و کاروباری ادارے خواہ مصنوعات ڈھالتے ہوں یا خدمات پیش کرتے ہوں، متن نویس انہیں بھی اپنے قلم اور خیالات کے ذریعہ فیض پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ وہ براہ راست کوئی تخلیقی کام (افسانہ نویسی، شاعری وغیرہ) نہیں کرتا مگر جو بھی کرتا ہے اس کے تخلیقی ہونے میں کسی کو شک نہیں ہوتا، یہ الگ بات کہ کونٹینٹ رائٹنگ ہی میں ایک علاحدہ شعبہ کریئیٹیو رائٹنگ کا بھی ہے۔ کوئی بھی ادارہ تخلیقی صلاحیتوں کے بغیر کسی متن نویس سے پوری طرح مستفید نہیں ہوسکتا۔ دور حاضر میں بڑی بڑی کمپنیاں محنتی اور ذہین متن نویسوں کو ملازمت کا بیش قیمت موقع دے رہی ہیں۔ یہی نہیں بہت سی ویب سائٹس متن نویسوں کی خدمات حاصل کرکے اپنے قارئین کو عمدہ اور نوع بہ نوع تحریروں سے استفادہ کا موقع دیتی ہیں۔   اس کریئر کی پہلی سیڑھی اُردو یا انگریزی زباندانی کا بابِ مضمون نویسی ہے۔ جو طلبہ محسوس کرتے ہیں کہ اسکول کے دور میںاُنہیں مضمون نویسی میں لطف آتا تھا انہیں سمجھ لینا چاہئے کہ وہ متن نویس کے طور پر اچھا کریئر بناسکتے ہیں۔ جو طلبہ  اسکول کے دور کو بہت اچھی طرح یاد نہیں رکھ پائے یا جنہوں نے اُس دور میں مضمون نویسی کے معاملے میں خود کو نہیں آزمایا وہ اب بھی کوشش کرکے خود کو پرکھ سکتے ہیں کہ کسی موضوع پر وہ کتنا سوچ سکتے ہیں، کتنے نئے نکات ان کے پاس ہیں، وہ اپنے خیالات کو کتنے بہتر طریقے سے لکھ سکتے ہیں وغیرہ۔ اگر کسی طالب علم کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ اچھا سوچ سکتا ہے اور اچھا لکھ سکتا ہے تو اسے شش و پنچ میں مبتلا ہوئے بغیر کونٹینٹ رائٹنگ کا رُخ کرنا چاہئے۔ اس میدان میں قدم رنجہ ہونے کے بعد یہ اندازہ ہوگا کہ یہ تو بہت بڑا فیلڈ ہے جس میں ٹیکنیکل رائٹنگ بھی ہے، بزنس رائٹنگ بھی، اکیڈمک رائٹنگ بھی ہے اور سوشل میڈیا منیجر بننے کا موقع بھی ۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK