نیا اَدب سماجی زندگی کی پیچیدگیوں کے احساس سے خالی رہ کر وجود میں نہیں آسکتا

Updated: May 30, 2021, 9:22 PM IST | Majnoon Gorakhpuri

ادب محض وجدانی نزاکتوں یا فنی باریکیوں کا نام نہیں ہے۔ ہر عہد کے ادب اور خصوصیت کے ساتھ گزشتہ سو برس کا ادب اجتماعی معروضیات اور معاشرتی محرکات و میلانات کا حامل رہا ہے۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

انسانی زندگی کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس کو ایک لمحہ کے لئے بھی کسی ایک حالت پر قرار نہیں ہے۔ وہ ہر لحظہ بدلتی اور کچھ سے کچھ ہوتی رہتی ہے اور اس کچھ سے کچھ ہونے کے دوران میں اکثر ایسے دور آتے ہیں جبکہ اُس کے بننے بگڑنے کا سوال درپیش ہوجاتا ہے۔ بالکل اُسی طرح جس طرح کسی مرض کے دوران میں ایک وقت وہ بھی آتا ہے جس کو طبیبوں کی زبان میں بحران کہتے ہیں جبکہ مرض اپنی انتہائی شدت کو پہنچ جاتا ہے اور مریض زندگی اور موت کی کشمکش میں پڑ جاتا ہے۔ ایسے نازک اور خطرناک بحرانی دور زندگی میں برابر آتے رہتے ہیں ، اس لئے کہ خطرہ زندگی کا مقدر ہے اور جب زندگی میں کوئی نیا خطرہ پیدا ہوتا ہے تو اس کا اثر زندگی کی ہر چیز پر پڑتا ہے۔ آج کل بھی ہم ایسے ہی نازک اور خطرناک دور سے گزر رہے ہیں۔
 زندگی اور ادب میں خطرے کے دو معنی ہوسکتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ کسی شاعر یا ادیب کی اپنی زندگی میں کچھ  ایسے نازک موقع آجائیں کہ اُس کی نجی دنیا کی بنیادیں ہل اٹھیں اور اُس کی ساری زندگی درہم برہم ہونے لگے۔ اور اس حالت میں وہ جو کچھ کہے، اس میں اس نازک کشمکش کا عکس ظاہر ہوجائے۔ اگر شاعر یا ادیب صحیح معنوں میں شاعر یا ادیب ہے تو خطرے اُس کی صلاحیتوں کو مٹانے کے بجائے اور زیادہ رچ دیتے ہیں۔ دنیا ایسی مثالوں سے خالی نہیں ہے۔ بڑے بڑے شاعروں اور فنکاروں کی زندگی میں ایسی نازک گھڑیاں آئی ہیں جبکہ انہوں نے اپنی زندگی کو ایک زبردست کشمکش میں پایا ہے۔ یورپ میں ورڈ زورتھ، شیلی، گوئٹے اور روس کے معلم ادیب ٹالسٹائی ایسے ہی خارجی یا باطنی خطروں سےگزرنے کے بعد بڑی شخصیتوں کے مالک ہوئے۔ ہندوستان میں ودیاپتی، سورداس اور میرابائی کی شخصیتیں سب سے زیادہ اُس وقت چمکیں جب کہ اُن کی زندگیاں  ایسے نازک  مرحلوں سے گزر چکی تھیں۔ کبیرداس  اور میرؔ کی ساری زندگی ایک مسلسل  اور مستقل خطرہ رہی۔
 دوسرے قسم کا خطرہ یہ ہوتا ہے کہ جس زمانہ میں شاعر یا ادیب اپنی زندگی گزار رہا ہو اُس میں تمام آدمیوں کی زندگی ایک کشمکش  میں ہو اور پورے سماج کا ڈھانچہ بدل جانے والا ہو اور اس انقلاب یا زلزلہ کا عکس اُس زمانہ  کے شاعر اور ادیب کے  کارناموں میں نظر آئے ، مثلاً انگلستان میں کچھ کم ڈیڑھ سو برس پہلے جب انقلاب فرانس اور صنعتی انقلاب کا اثر سماجی زندگی پر پڑا تو یہ اثر زیادہ تک خارجی یا باہری دنیا تک محدود رہا اور مجموعی حیثیت سے اندرونی یا ذہنی زندگی میں کوئی خاص فرق محسوس نہیں ہورہا تھا، عام  لوگ اس تبدیلی کی وجہ سے  اپنے گرد و پیش کی دنیا میں تو نئی چیزیں دیکھ رہے تھے لیکن ان کے دل کی دنیا میں ، ان کے خیالات و جذبات میں ، ان کے اصولوں اور عقیدوں میں کوئی کایاپلٹ نہیں ہوئی تھی ۔ مگر اُس زمانہ میں کولرج ، ورڈزورتھ، شیلی، کیٹس اور بائرن کے دلوں میں اس شدت کی بے چینی اور گھبراہٹ پیدا ہوگئی کہ ان کو گویا اپنی زندگی ہی میں دوسرا جنم لینا پڑا۔ ان لوگوں نے اپنے پاؤں تلے کی زمیں اور اپنے سروں پر کے آسمان کو، کائنات کی پھیلی ہوئی فضا کو، پھول پودوں اور جانوروں کو ، غرض قدرت اور اس کے سارے کارخانہ کو بالکل نئے طریقہ سے اور زندہ طریقہ سے جاننے پہچاننے اور اس میں یگانگت پیدا کرنے کی  جو بے اختیار کوشش کی اور انسانی تعلقات کو بدلنے اور زیادہ مہذب اور پاکیزہ بنانے کیلئے جس طرح بے چین رہے، اس کی مثال اس زمانہ کے لوگوں میں عام طور سے نہیں ملتی۔ یہ وہ وقت تھا جبکہ سارے یورپ کی زندگی دوراہے یا موڑ پر تھی اور ٹوٹ پھوٹ کر نی شکل اختیار کرنے والی تھی، اور جبکہ سماج میں زندگی  اور  موت کی کشاکش نے ایک نئے درد کا احساس پیدا کررکھا تھا۔ اگرچہ یہ احساس گنتی کے چند افراد تک محدود تھا ۔ یونان میں یوریپیڈیز اور سفوقلیز،  جرمنی میں گوئٹے اور انگلستان میں کارلائل، رسکن اور میتھیو آرنلڈ بھی انہی لوگوں میں ہے  جنہوں نے  زندگی کی نئی اٹھتی ہوئی لہروں کو عام لوگوں سے بہت پہلے محسوس کرلیا  تھا۔
  یہاں یہ بھی بتادینا ضروری ہے کہ اس خطرہ کےردعمل یا اثر کی بھی کئی صورتیں  ہوتی ہیں ۔ ایک تو یہ کہ زندگی میں جو توڑمروڑ پیدا ہورہی ہے  اس سے بے چین ہوکر پھر اُس زندگی کو تھوڑا سا ردوبدل کرکے قبول کرلیا جائے جیسا کہ انگلستان میں برک، ورڈزورتھ اور ٹینی سن نے کیا، یا جیسا ہندوستان میں سرسید، حالی، چکبست،بنکم چٹرجی اور دوسرے مصلحوں نے کیا۔ دوسرے قسم کا اثر یہ ہوتا ہے کہ محض اپنی بے چارگی اور بے بسی کے احساس سے تلملا تلملا کر رہ جائیں:’آشیاں اجڑا کیا ہم ناتواں دیکھا کئے‘‘۔
 اس کی مثال میر اور درد اور ان کے زمانہ کے دوسرے شاعروں میں ملتی ہے۔ اسی طبقہ میں وہ شاعر اور ادیب بھی آجاتے ہیں جن کی آواز سماج کے ڈھانچے کی ٹوٹتی اور چٹختی ہوئی ہڈیوں کی آواز ہے جیسے انگلستان میں پچھلی صدی کی آخری دہائی کے قریب کے تمام شاعر اور ادیب مثلاً آسکر وائلڈ، فرانسس ٹامسن ، والٹرپیٹر، ایڈورڈ ڈابسن، اسٹیفن فلپس وغیرہ اور ہندوستان میں اکبر الہ آبادی جن کی کراہ نے ہنسی کی شکل اختیار کرلی ہے۔  
 اس وقت دُنیا ایک بالکل نیا جنم لے رہی ہے ۔ انسان کی زندگی میں نئے معیار  پیدا ہورہے ہیں۔ زندگی کی اس نئی کشمکش نے ادبی تنقید کی بھی نئی کسوٹیاں پیدا کردی ہیں۔ اب یہ حقیقت اچھی طرح مان لی جاچکی ہے کہ ادب محض وجدانی نزاکتوں یا فنی باریکیوں کا نام نہیں ہے۔ ہر عہد کے ادب اور خصوصیت کے ساتھ گزشتہ سو برس کا ادب اجتماعی معروضیات اور معاشرتی محرکات و میلانات کا حامل رہا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ سطحی نظر سے ہم ان کو دیکھ نہ سکتے ہوں۔ نیا ادب سماجی زندگی کی پیچیدگیوں کے احساس سے خالی رہ کر وجود میں نہیں آسکتا۔ ہم کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ادب کے علاوہ بھی اور بہت سی قوتیں ہیں جو  زندگی میں کام کررہی ہیں اور جن سے ادب اثر قبول کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK