• Thu, 29 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

جشن سے زیادہ عزم کی ضرورت

Updated: September 19, 2023, 7:43 AM IST | Editorial | Mumbai

پارلیمنٹ کی نئی عمارت سے اتفاق کیا جائے یا اسے غیر ضروری خرچ مان کر اس کی غرض و غایت پر سوال اُٹھایا جائے، آج کے دن کے تاریخی ہونے سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ آج ملک کے عوام کے ذریعہ منتخب کئے گئے اراکین پارلیمان جو لوک سبھا میں عوام کی نمائندگی کرتے ہیں اور راجیہ سبھا کے اراکین، جو نامزد کئے جاتے ہیں ، سب پارلیمنٹ کی پُرانی عمارت کو چھوڑ کر نئی عمارت میں داخل ہوں گے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

 پارلیمنٹ کی نئی عمارت سے اتفاق کیا جائے یا اسے غیر ضروری خرچ مان کر اس کی غرض و غایت پر سوال اُٹھایا جائے، آج کے دن کے تاریخی ہونے سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ آج ملک کے عوام کے ذریعہ منتخب کئے گئے اراکین پارلیمان جو لوک سبھا میں عوام کی نمائندگی کرتے ہیں اور راجیہ سبھا کے اراکین، جو نامزد کئے جاتے ہیں ، سب پارلیمنٹ کی پُرانی عمارت کو چھوڑ کر نئی عمارت میں داخل ہوں گے۔ نئی عمارت میں وہ بھی جائینگے جنہوں نے حکومت کے اِس فیصلے کو بسروچشم قبول کیا اور بہت فطری اور ضروری سوال پوچھنے سے بھی گریز کیا اوروہ بھی جائینگے جنہیں ہنوز یہ جواب نہیں ملا ہے کہ پارلیمنٹ کو نئی عمارت کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ کیا پُرانی عمارت خستہ حال تھی؟ کیا پُرانی عمارت میں جگہ کم تھی؟ کیا پُرانی عمارت کا محل وقوع ٹھیک نہیں تھا؟ کیا پُرانی عمارت ایک تاریخی ورثہ نہیں تھی؟ اور کیا پُرانی عمارت کو ترک کرکے نیز نئی عمارت میں داخل ہوکر ہم جمہوریت کو کوئی انوکھا فائدہ پہنچانا چاہتے ہیں ؟ اگر ہاں تو وہ کون سا فائدہ ہے؟ کیا اس کی وجہ سے قانون سازی کا عمل بہتر ہوجائیگا؟ کیا نئی عمارت میں اکثریتی اور نئے رواج کے مطابق صوتی ووٹوں سے فیصلے کرنے کے بجائے دونوں ایوانوں کے اجتماعی ضمیر کے مطابق فیصلے ہونے لگیں گے؟ ہمیں کوئی بتائے کہ کیا نیا ہوجائیگا۔ ایسا کیا ہوجائیگا جو پُرانی عمارت میں نہیں ہوتا تھا؟
 پرانی عمارت میں منعقد ہونے والے آخری اور خصوصی پارلیمانی اجلاس کے پہلے دن کی وزیر اعظم کی تقریر پر غور کیا جائے تو ابتداء ہی میں بالواسطہ طور پر مذکورہ بالا سوال کا جواب مل جاتا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اس عمارت کی تعمیر کا فیصلہ غیر ملکی اراکین پارلیمان نے کیا تھا۔ اگر اس کا مفہوم یہ ہے کہ پُرانی عمارت دورِ غلامی یا نوآبادیاتی دور کی علامت تھی تو یہ مفہوم کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ بہت ممکن ہے کہ نئی عمارت کی تعمیر کے پس پشت یہی ذہن کارفرما ہو کہ عوام کے نمائندوں کو ایسی جگہ بیٹھنا چاہئے جو اُن کی اپنی بنائی ہوئی ہو، مگر ایسا کرنے سے، یا، اس سے پہلے جو کیا گیا کہ بعض پرانی عمارتوں یا سڑکوں کو نیا نام دیا گیا (راج پتھ کا نام کرتویہ پتھ)، کیا ہم اپنی ہی تاریخ کو پس پشت نہیں ڈال رہے ہیں ؟ اگر ان اقدامات سے ہماری آزادی، خود انحصاری اور ایک غیور قوم کی شبیہ کو تقویت ملتی ہے تو کیا ان اہداف کے حصول کیلئے ہمارا پُرانی عمارت سے نکل کر نئی عمارت میں جانا اور پُرانے ناموں کو تبدیل کرکے اُن کے نئے نام رکھنا ضروری ہے اور آزادی، خود انحصاری اور قومی حمیت و غیرت کی حفاظت کیلئے ہمیں کچھ اور نہیں کرنا ہے؟ اگر ایسا کرنا اتنا ضروری ہے تو شاید ہم کسی تعمیری کام کی انجام دہی کے قابل ہی رہ جائیں ؟
 کل کی تقریر میں جب وزیر اعظم نے یہ کہتے ہوئے پُرانی عمارت کی بابت خود اعتراف کیا کہ ’’ اس (کی تعمیر) میں پسینہ بھی میرے دیش واسیوں کا بہا، محنت بھی ہمارے لوگوں کی لگی اور پیسے بھی ہمارے ہی صرف ہوئے‘‘ تو اسے غیر ملکیوں کی تعمیر کہنا یا سمجھنا کہاں تک درست ہے؟ پُرانے پارلیمنٹ ہاؤس کے درودیوار اور اُن سے وابستہ یادیں اتنی قیمتی ہیں کہ اُن کا احاطہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نہایت جذباتی ہوگئے تو اُن درودیوار اور اُن یادوں کو چھوڑ کر جانا چہ معنی دارد؟
 یاد رہے کہ نئی عمارت کی تعمیر پر خطیر رقم (کم و بیش ایک ہزار کروڑ روپے) خرچ کی گئی ہے۔اس کی تعمیر کی مدت میں وہ ۲؍ سال بھی شامل ہیں جب کورونا کی وباء سے پورا ملک دہشت زدہ تھا، اسپتال ہانپ رہے تھے، آکسیجن کی کمی اور ڈاکٹروں کی عدم دستیابی سے قیامت صغریٰ برپا تھی اور آخری رسوم کی ادائیگی کے مراکز پر بھیڑ تھی اور کئی کئی گھنٹوں کے بعد ورثاء آخری رسوم کے فرائض انجام دینے کے قابل ہورہے تھے۔ ایسے حالات میں بھی اس عمارت کی تعمیر جاری رہی یعنی ’’دورِ غلامی کی علامت‘‘ کو ختم کرنے کیلئے اپنے ہی عوام کی حالت ِ زار سے چشم پوشی جاری رہی۔ کیا ملک کے عوام کبھی بھول سکیں گے کہ نئی عمارت اُس کورونا کال میں جاری رکھے گئے حکومت کے غیر عوامی طرز عمل کی بھی یادگار ہے؟ بھولنے اور یاد رکھنے کی بات آ گئی ہے تو ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا نئی عمارت سے پُرانی عمارت دکھائی نہیں دے گی اور کیا اس کی وجہ سے ’’غلامی کی یادگار‘‘ حافظہ میں محفوظ نہیں رہے گی؟ یاد رہے کہ پُرانی اور نئی عمارت کا درمیانی فاصلہ غالباً چند ہی گز کا ہے۔
 بہرحال، اب جبکہ نئی عمارت میں ’’پرویش‘‘ کا دن آپہنچا ہے، ہمارے خیال میں یہاں جشن سے زیادہ عزم کا محل ہے، عزم اس بات کا کہ نئی عمارت ملک میں جمہوریت کے نئے دور کا آغاز ثابت ہوگی، اس میں جمہوریت کے استحکام کو فوقیت حاصل ہوگی، سب کی سنی جائیگی، عوام کی رسمی نمائندگی کے بجائے اُن کی تمناؤں اور آرزوؤں کی حقیقی ترجمانی ہوگی اور سب کی بہتری کے فیصلے ہونگے ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK