نئے منصوبے اور پرانا نظام

Updated: October 18, 2020, 9:12 AM IST | Editorial

نیو ایجوکیشن پالیسی کے تحت مرکزی کابینہ نے ’’ریاستوں کیلئے تعلیم، تعلم اور نتائج‘‘ نامی ایک نئے منصوبے کو منظوری دی ہے جس کے انگریزی نام کا مخفف ہے ’’اسٹارس‘‘۔ اس کا مقصد ملک کے نظام ِ تعلیم کو مستحکم کرنا ہے

New Education Police - PIC : INN
نئی تعلیمی پالیسی ۔ تصویر : آئی این این

 نیو ایجوکیشن پالیسی کے تحت مرکزی کابینہ نے ’’ریاستوں کیلئے تعلیم، تعلم اور نتائج‘‘ نامی ایک نئے منصوبے کو منظوری دی ہے جس کے انگریزی نام کا مخفف ہے ’’اسٹارس‘‘۔ اس کا مقصد ملک کے نظام ِ تعلیم کو مستحکم کرنا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ منصوبہ پرکھ نامی ایک خود مختار ادارہ کی نگرانی میں جاری رہے گا جسے ۵۷۱۸؍ کروڑ روپے کا فنڈ مہیا کیا جائیگا۔ ورلڈبینک کی ۳۷۰۰؍کروڑ کی مالی شراکت سے جاری یہ منصوبہ چھ ریاستوں کیلئے ہے جن میں راجستھان، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، کیرالا، ہماچل پردیش اور اُدیشہ شامل ہیں۔ صرف چھ ریاستیں کیوں اور دیگر کیوں نہیں؟ اس سوال کا جواب ہمارے سامنے نہیں ہے مگر اُمید کی جاسکتی ہے کہ چھ ریاستوں میں کامیابی کے بعد اس کا دیگر ریاستوں میں بھی اجراء ہوگا۔
  ’’اسٹارس‘‘ کے مقاصد میں اوائل عمری میں تعلیم کو مستحکم کرنا اور مؤثر بنانا، طلبہ کی تعلیمی کارکردگی کا تجزیہ، اساتذہ کی تربیت، ووکیشنل تعلیم کا فروغ اور اسکولی طلبہ میں قائدانہ صلاحیتوں کو اُبھارنا (لیڈرشپ ڈیولپمنٹ) وغیرہ شامل ہیں۔ کابینہ نے ’’اسٹارس‘‘ کو چند ہی روز پہلے منظوری دی ہے۔ جب تک اس کی تفصیل سامنے نہیں آتی اس سے بحث کرنا مشکل ہے تاہم یہ کہنا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ مرکز اور ریاستی حکومتیں اکثر منصوبوں کی تکمیل کا بوجھ اساتذہ پر ڈال کر بری الذمہ ہوجاتی ہیں جبکہ اساتذہ کے پاس تدریس کی ذمہ داری نبھانے کے بعد اتنا وقت نہیں رہ جاتا کہ وہ دیگر چیزوں پر توجہ دے سکیں۔ اگر طلبہ کی کارکردگی کا تجزیہ بھی اُنہی کے سر ڈال دیا گیا تو یہ اضافی بوجھ ہوگا جس کے وہ متحمل نہیں ہونگے۔ 
  ’’اسٹارس‘‘ کے نکات میں یہ بھی شامل ہےکہ تمام رکن ریاستوں کے تعلیمی ادارے ایک دوسرے سے مربوط رہیں گے اور ایک دوسرے کی تعلیمی پیش رفتوں سے استفادہ کرینگے۔ اگر یہ اساتذہ کی ذمہ داری تصور کی جارہی ہے تو یہ بھی واضح کردیا جانا چاہئے کہ اساتذہ سے وابستہ کی جانے والی توقعات کی کوئی حد ہے بھی یا نہیں۔یہاں ہم اساتذہ کی طرفداری نہیں کررہے ہیں مگر پچھلے کئی برسوں کے مشاہدے سے یہی بات سامنے آئی ہے کہ حکومت کئی ضروری تقرریوں کو ضروری نہ سمجھتے ہوئے ہر ذمہ داری اساتذہ کے پرڈال کر تدریسی عمل میں مخل ہوتی ہے جو بڑی ناانصافی ہے۔ اس کے برخلاف، اساتذہ کی کارکردگی کو جانچنے پرکھنے کا کوئی میکانزم اس کے پاس نہیں ہے۔ اس کے نتیجے میں نہ تو محنتی اساتذہ کو اپنی محنت کا کوئی انعام مثلاً ترغیبی بھتہ ملتا ہے نہ ہی محنت نہ کرنے والوں کی سرزنش ہوتی ہے۔ اگر نجی بالخصوص کارپوریٹ کمپنیوں میں ملازمین کی تنخواہوں کے اضافے کو اُن کے حسن کارکردگی سے جوڑاجاتا ہے تو تعلیمی اداروں میں ایسا کیوں نہیں ہوتا؟ 
 ہمارا سسٹم کتنا فرسودہ ہے اور اس میں کتنے نقائص ہیں اس کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب کوئی خبر چونکاتی ہے۔جون ۲۰ء میں اُترپردیش کی ایک ٹیچر (انامیکا شکلا) کے بارے میں یہ خبر ملک بھر کے اخبارات میں شائع ہوئی کہ یہ محترمہ بیک وقت ۲۵؍ اسکولوں کیلئے ’’تدریسی خدمات‘‘ پیش کرتی ہیں اور ہر اسکول سے محنتانہ و معاوضہ حاصل کرتی ہیں جو مجموعی طور پر ایک کروڑ روپے ہوتا ہے۔ کون جانتا ہے کہ ایسی کتنی انامیکائیں طلبہ کو پڑھائے بغیر تنخواہ لے رہی ہیں اور اس قسم کا کرپشن کہا ںکہا ںجاری ہے جو طلبہ کے تعلیمی نقصان پر منتج ہورہا ہے؟
  انامیکا جیسے اساتذہ کسی نہ کسی شکل میں بہت سے اداروں میں موجود ہونگے۔ وہ بیک وقت ۲۵؍ اسکولوں سے تنخواہ لے رہی تھیں، سب ایسا نہیں کرسکتے مگر کئی اسکولوں میں ایسے اساتذہ بھی ہوسکتے ہیں جن کی حاضری لگتی ہے مگر وہ حاضر نہیں ہوتے یا حاضر تو ہوتے ہیں مگر پڑھانے کے نام پر وقت گزاری کے علاوہ کچھ نہیں کرتے۔ ممکن ہے ان میں سے کئی تدریس کے اہل بھی نہ ہوں۔ کیا یہ محکمۂ تعلیم کی ذمہ داری نہیں ہے کہ ایسی کالی بھیڑوں کو علاحدہ کرے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK