دہلی فسادات کی نئی کہانی، دہلی پولیس کی زبانی

Updated: June 07, 2020, 4:00 AM IST | Aasim Jalal | Mumbai

دنیا سمجھ رہی تھی کہ دہلی میں فساد کا ماحول ’’گولی مارو ...‘‘ کے نعروں، سی اے اے مخالف مظاہروں  سے متعلق نفرت پھیلانے کی کوششوں   اور میڈیا کی منفی رپورٹنگ سے تیار ہوا تھا مگر دہلی پولیس نے شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف مظاہروں میں حصہ لینے والے نوجوانوں   خاص طور سے ان مظاہروں کی قیادت کرنے والی طالبات کو گرفتار کرکے ایک الگ ہی کہانی پیش کی ہے۔ ایسی کہانی جس پر عدالت بھی یہ کہے بغیر نہ رہ سکی کہ’’ ایسا لگتا ہے کہ جانچ کسی ایک نتیجے پر پہنچنے کیلئے کی جارہی ہے

Delhi Riots - Pic : PTI
دہلی فساد ۔ تصویر : پی ٹی آئی

ہم عجیب  دور میں جی رہے ہیں۔یہاں یہ خبر دینے پر کہ ریاست کا وزیر اعلیٰ تبدیل ہو سکتا ہے، ملک سے غداری کا مقدمہ عائد ہوجاتا ہے۔ آسام  میں این آئی اے  غداری کی  دفعات کے تحت گرفتاری کا کورٹ میں یہ کہتے ہوئے جواز فراہم کرتی ہے کہ ملزم نے سوشل میڈیا پر ’لال سلام کامریڈ‘ لکھنے کا جرم کیا   ہے۔ ہندو مسلمان کے نام پر نیوز کا  دھندہ کرنے والوں کو پیشگی ضمانت مل جاتی ہے مگر ۵؍ماہ کی حاملہ صفورہ زرگر کو ضمانت نہیں   ملتی۔ حقوق انسانی کا ایک علمبردار اور ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسی تنظیم کی ہندوستانی اکائی کا سابق سربراہ جب امریکہ میں جاری مظاہروں کی تائید کرتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ احتجاج بھی ایک فن ہے،  ہندوستان میں مسلمانوں اور دلتوں کو بھی ایسے ہی مظاہروں کی ضرورت ہے تو اس کے خلاف کیس درج ہوجاتا ہے۔   ملک کے مایۂ ناز صحافی ونود دوا جو اس بڑھاپے کے عالم میں بھی حکومت سے تیکھے سوال کرنے کیلئے جانے جاتے ہیں،   کے خلاف  ایف آئی آر درج کرادی جاتی ہے۔ یہ شکایت اُس بی جےپی کا ایک لیڈردرج کراتا ہے جس کی حکومت کا سالیسٹر جنرل   ارنب گوسوامی کے خلاف مہاراشٹر میں درج ایف آئی آر کو پریس کی آزادی کیلئے خطرہ تصور کرتاہے۔ وہ جانچ سی بی آئی کو سونپنے کی وکالت کرتا ہے۔
  پوری دنیا جب کورونا سے لڑ رہی ہوتی ہے، ہماری پولیس ان لوگوں کی دھر پکڑ میں مصروف ہو جاتی ہے جنہوں نے شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف آواز بلند کرنے کی جرأت کی۔  دنیا سمجھ رہی تھی کہ دہلی میں فساد  کا ماحول ’’گولی مارو ...‘‘ کے نعروں، سی اے اے مخالف مظاہروں  سے متعلق نفرت پھیلانے کی کوششوں  اور میڈیا کی منفی رپورٹنگ  سے تیار ہوا تھا جسے آگ   بی جے پی لیڈر کپل مشرا  نے دی مگر  دہلی پولیس  نے شہریت ترمیمی ایکٹ  کے خلاف مظاہروں میں حصہ لینے والے نوجوانوں   خاص طور سے  ان مظاہروں کی قیادت کرنے والی طالبات کو گرفتار کرکے ایک الگ ہی کہانی پیش کی ہے۔ ایسی کہانی جس پر عدالتوں کو بھی  حیرت ہوئی اور  پٹیالہ  ہاؤس کورٹ خود کو یہ کہنے سے نہ  روک  سکا کہ ’’کیس ڈائری کا جائزہ لینے سے چند پریشان کن حقائق سامنے آ رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ جانچ کسی ایک نتیجے پر پہنچنے کیلئے کی جارہی ہے۔ (تفتیشی افسران) انسپکٹر لوکیش اور انیل سے جب پوچھا گیا تو وہ جواب نہیں دے پائے کہ فریق مخالف کے  رول کی جانچ کہاں تک پہنچی ہے؟‘‘  
 عالمی برادری چیخ رہی ہے کہ لاک ڈاؤن کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ہونےوالی یہ گرفتاریاں   من مانی اور بادی النظر میں شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف صدائےاحتجاج بلند کرنے کی سزا ہیں  مگر دہلی پو لیس کو کوئی فرق  پڑتا ہے نہ حکومت کو۔ پولیس  ان گرفتاریوں پر کتنی سنجیدہ ہے اور گرفتار شدہ طلبہ کو کسی بھی حال میں جیل سے باہر نہ  نکلنے دینے کے اپنے ارادے پر کیسی پختہ ہے، اس کا اندازہ اس کی حرکتوں سے کیا جاسکتاہے۔ جب عدالت ’پنجرہ توڑ‘ تنظیم کی سرگرم کارکنان نتاشا ناروال اور دیوانگنا کلیتا کو گرفتاری کے بعد ضمانت پر رہا کرنے کا حکم سناتی ہے تو   انہیں فوری طور پر  دوسرے  اور پہلے سے  زیادہ سخت کیس میں گرفتار کر لیا جاتاہے۔ اس سے عالمی سطح پر کیا پیغام گیا، اس پر توجہ بھی نہیں دی جاتی۔  جولوگ گرفتار کئے جاچکے ہیں، ان کے تعلق سے اس بات کو یقینی بنایا جارہاہے کہ وہ ضمانت پر رہا نہ ہوسکیں۔ ان پر یکے بعد دیگرے یو اے پی اے جیسا سخت قانون   نافذ کیا جارہا ہے۔ ۲۷؍ سالہ صفورہ زرگر بھی انہی میں سے ایک ہے جس کی درخواست ضمانت جمعرات کو تیسری بار ۸؍ گھنٹے کی طویل بحث کے بعد مسترد ہوئی۔ وہ ۲۱؍ ہفتوں کی حاملہ ہے۔ دہلی پولیس کے الزامات پر قومی ہی نہیں  بین الاقوامی سطح پر بھی سوال اٹھائے جارہے ہیں۔
  سوال اٹھانے کا یہ موقع خود پولیس کا طرز عمل فراہم کر رہا ہے، اس کے باوجود  عدالت  ہی میں یہ طے ہوپائے گا کہ دہلی  پولیس کی کہانی میں کتنی صداقت ہے؟ فی الحال  اگر  یہ مان لیا جائے کہ صفورہ پر پولیس نے جو الزامات عائد کئے ہیں وہ درست ہیں ، تب بھی  ضمانت پر اس کی رہائی کی مخالفت غیر انسانی معلوم ہوتی ہے۔ خاص طور سے اس پس منظر میں کہ وہ ۵؍ ماہ کی حاملہ ہے۔ عدالتی فیصلے سے قبل ہی اگر یہ تصور کرلیا جائے کہ صفورہ پر پولیس کے جو الزامات ہیں وہ حرف بہ حرف درست ہیں تب بھی کیا اس کی سزا اُس ننھی سی جان کو دی جا سکتی ہے جس نے ابھی اس دنیا میں قدم بھی نہیں رکھا؟ صفورہ کو  ضمانت پر رہائی سے محروم رکھنا کیا  اس بچے پر ظلم نہیں  جو اس کی کوکھ میں پل رہا ہے ۔ کیا مسلسل قید و بند کے سبب صفورہ کی ذہنی کیفیت   کے منفی نتائج  بچے کی نشو نما پر نہیں  پڑیں گے۔  اس کے باوجود اگر کورٹ نے ایک پانچ ماہ کی حاملہ خاتون کو ضمانت پر رہا  نہ کرنے کافیصلہ کیا ہے تو یقیناً  وہی بہتر جانتا  ہوگا کہ یہ کیوں ضروری تھا؟ عام ذہن تو یہ سمجھنے سےقاصر ہےکہ ایک ۵؍ ماہ کی حاملہ خاتون کی ضمانت پر رہائی کیسے خطرناک اور نقصاندہ ہوسکتی ہے۔   
 مجموعی طور پر  دہلی فسادات کی جانچ پہلے  ہی سے بدنام دہلی پولیس کیلئے  مزید بدنامی کا باعث بن رہی ہے۔ اس کی جانچ سے عام تاثر یہی مل رہا ہے کہ فساد کے نام پر جان بوجھ کر شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کو نشانہ بنایا جارہاہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ  ان گرفتاریوں  سے  وہ مظاہرین کو خوفزدہ کرنے میں کامیاب  نہیں ہوسکی ہے۔ اگر یو اے پی اے جیسے سخت قانون کے تحت کارروائی کرکے وہ لوگوں  کے دلوں میں خوف طاری کرنے میں کامیاب ہوجاتی تو بدھ ۴؍ جون کو لاک ڈاؤن کے باوجود ملک بھر میں ان گرفتاریوں کے خلاف مظاہرے نہ ہوتے۔  ان مظاہروں میں ۱۹۰؍ طلبہ تنظیموں  کے کارکنوں  نےحصہ لیا۔  انہوں نے چھوٹے چھوٹے گروپ  میں کورونا سےمتعلق تمام احتیاطی تدابیر کا خیال رکھتے ہوئے  مظاہروں میں  شرکت کرکے دہلی پولیس کو یہ پیغام دیا ہے کہ آواز دبانے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔   
  بہتر یہ ہوتا کہ اگر پولیس  جن طلبہ اور مظاہرین کو گرفتار کررہی ہے،ان کے  خلاف فساد کی سازش رچنے میں ملوث ہونے کا ثبوت ہے تووہ ان ثبوتوں کی بنیاد پر عام دفعات کے تحت کارروائی کرتی۔  یو اے پی اے جیسے سخت قانون کے تحت جس میںخود کو بے گناہ ثابت کرنے کی ساری ذمہ داری ملزم پر عائد ہوجاتی ہے، کا اطلاق کرکے پولیس کہیں  نہ کہیں یہ تاثر دے رہی ہے کہ ثبوتوں  کے معاملے میں وہ اتنی مضبوط نہیں ہے اسلئے  یوے اے پی اے کا سہارا لینا پڑ رہاہے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK