نیوز چینلس بمقابلہ بالی ووڈ

Updated: October 15, 2020, 12:05 PM IST | Editorial

بالی ووڈ کے ۳۴؍ پروڈکشن ہاؤسیز اور فلم صنعت سے وابستہ چار تنظیموں کا دو نیوز چینلوں کے خلاف دہلی ہائی کورٹ میں معاملہ درج کرنا غالباً اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے جس سے بالی ووڈ کے فنکاروں کی وہ بے چینی ظاہر ہوتی ہے جو سوشانت سنگھ راجپوت کی خود کشی کے بعد جاری ’’میڈیا ٹرائل‘‘ کی وجہ سے ناراضگی میں تبدیل ہوگئی۔

Arnab Goswami - Pic : INN
ارنب گوسوامی ۔ تصویر : آئی این این

بالی ووڈ کے ۳۴؍ پروڈکشن ہاؤسیز اور فلم صنعت سے وابستہ چار تنظیموں کا  دو نیوز چینلوں کے خلاف دہلی ہائی کورٹ میں معاملہ درج کرنا غالباً اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے جس سے بالی ووڈ کے فنکاروں کی وہ بے چینی ظاہر ہوتی ہے جو سوشانت سنگھ راجپوت کی خود کشی کے بعد جاری ’’میڈیا ٹرائل‘‘ کی وجہ سے ناراضگی میں تبدیل ہوگئی۔ وہ فنکار جو عوام میں مقبول ہیں، جو اپنے فن کی وجہ سے قدرومنزلت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں، جن کے دم خم سے ہندی فلم انڈسٹری بیرونی ملکوں میں بھی اپنا مقام رکھتی ہے، پھر یہی انڈسٹری ملک کے لاکھوں شہریوں کو روزگار فراہم کرتی ہے اور جس کی معاشی اہمیت سے انکار ممکن نہیں، اگر وہ ( فنکار اور انڈسٹری) ناراض ہیں تو یہ ٹی وی چینلوں کا فرض تھا کہ اپنی غلطیوں کا ازالہ کرتے مگر بعض چینلوں نے جوش جنوں میں ایسے ایسے الفاظ استعمال کئے کہ معلوم ہوتا ہے جیسے ان کا مقصد  متعلقہ شخصیات کو ورغلانا،مشتعل کرنا یا بدنام کرنا تھا۔ 
 جو لوگ صحافت کی تعریف سے ناواقف ہیں وہ بھی کہیں گے کہ یہ صحافت نہیں ہے۔ صحافی کا کام اپنے قارئین یا ناظرین کو باخبر کرنا ہے، پولیس یا جج بننا نہیں۔مگر ایک عرصے سے اکثر نیوز چینل صرف بالی ووڈ کے معاملے میں نہیں بلکہ اور بھی کئی معاملات میں خود کو عدالت اور ان کے نیوز اینکر خود کو جج تصور کرتے ہیں جس کی وجہ سے میڈیا ٹرائل معمول بن گیا ہے۔ بالی ووڈ کے اداکار بالخصوص کامیاب اداکار چونکہ ہردلعزیز ہوتے ہیں اس لئے انہی کو موضوع بناکر ٹی آر پی کے معاملے میں دوسروں پر سبقت لے جانے کی کوشش نے انہیں کہیں کا نہیں رکھا۔ اس کیلئے وہ صحافتی حدود کو فراموش کربیٹھے اور یہ بھی نہیں سوچا کہ ان کے ہذیان بکنے سے، ٹارگیٹ بنائے جانے والے فنکاروں کی دل آزاری ہوسکتی ہے، ان کی ذاتی زندگی میں خلل پڑ سکتا ہے اور اُن کی خلوت (پرائیویسی) متاثر ہوسکتی ہے۔ 
 حالیہ مہینوں میں، بالی ووڈ کے خلاف طومار باندھتے وقت اور اسے جرائم کا گڑھ، منشیات کا اڈہ اور جانبداری کا مرکز کے طور پر پیش کرتے وقت یہ بھی فراموش کردیا گیا کہ اسی بالی ووڈ نے سماج اور ملک کو بہترین اور عالمی معیار کی فلموں کے علاوہ بھی بہت کچھ دیا ہے، وہ چاہے کروڑوں روپے کا تفریحی ٹیکس ہو، اداکاروں اور دیگر فنکاروں کے انکم ٹیکس کی بھاری رقومات ہوں، بے روزگاروں کو روزگار کی فراہمی ہو، زلزلہ و سیلاب زدگان کی مدد ہو، سیاسی پارٹیوں کو تعاون ہو یا سیاست کا رُخ کرنے والے اداکاروں کی بحیثیت سیاستداں خدمات ہوں۔ چند دہائیوں پہلے تک یہی فلمیں تھیں جو عوام کی تفریح کا واحد ذریعہ تھیں۔ یہی نہیں، اکثر اصلاحی فلموں نے یا فلموں کے اصلاحی پہلوؤں نے سماج کو فکری جلا بخشی۔ ان حقائق سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ ایسی انڈسٹری کو محض ٹی آر پی کیلئے ویلن بناکر پیش کرنا اور اس کے تعلق سے عوام کو گمراہ کرنا سخت نا انصافی ہے۔
 سماج کے بعض طبقات بالخصوص ملک کی سب سےبڑی اقلیت کے خلاف مسلسل زہر افشانی کے علاوہ اب بالی ووڈ یا اس کے اداکاروں کو نشانہ بنانا بھی ان چینلوں کی صحافتی دکانداری کا معمول بن گیا ہے۔ نیوز چینلوں کو اگر ٹی آر پی کی جنگ لڑنی ہی ہے تو اپنے صحافتی فرائض کو یاد رکھتے ہوئے بہترین خبروں کے ذریعہ ناظرین کو متوجہ کرنا بھی تو ایک طریقہ ہے جو بہتر او رمؤثر ہے مگر چند ایک کو چھوڑ کر، اکثر چینل خود ہی الزام لگانے اور خود ہی فیصلہ کرنے بیٹھ جاتے ہیں۔
  یہ عمل ملک کی صحافتی آزادی کا غیر معمولی ناجائز فائدہ اُٹھانے کی کوشش ہے جس نے انہیں بے باک سے زیادہ گستاخ اور گستاخ سے زیادہ عاقبت نااندیش بنادیا ہے۔ وقت اور حالات کا تقاضا ہے کہ انہیں روکا جائے۔ ہمیں اُمید ہے کہ دہلی ہائی کورٹ زیر بحث کیس کو فیصل کرتے وقت چند رہنما خطوط یا تو خود وضع کرے گا یا متعلقہ اتھاریٹیز کو سختی سے اس کی ہدایت دے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK