جدید مرثیے کی اصطلاح کو قبول نہ کرنا اَدب کی رفتار کا ساتھ نہ دینے کے مترادف ہے

Updated: August 30, 2020, 11:39 AM IST | Dr Hilal Naqvi

’جدید مرثیہ کیا ہے‘ کے جواب میں اتنا کہا جاسکتا ہے کہ آج کا مرثیہ نگار قدیم مرثیہ نگار سے بہت مختلف ہے، وہ معاشی مسائل کا بھی شکار ہے ،اپنے عہد کی سیاست بھی اس کے پیش نظر ہے جبکہ بڑھتی اور پھیلتی ہوئی دنیا سے بھی وہ باخبر ہے

urdu writer
اردو مصنف

اردو مرثیے کی تاریخ میں میر انیسؔ کا سب سے بڑا کمال میرے خیال میں یہ تھا کہ انہوں نے مرثیے کو مذہب کی چیز ہوتے ہوئے بھی ادب کی چیز بنادیا۔ جب مرثیہ، ادب کی صورت میں سامنے آیا تو تنقید وجود میں آئی، اردو کی پہلی تنقیدی کتاب ’’مقدمۂ شعر و شاعری‘‘ میں حالیؔ کا نقطۂ نظریہ رہا کہ غزل، قصیدہ اور مثنوی سب انحطاط کا شکار ہوچکے ہیں، ہاں اگرکسی صنفِ سخن نے ترقی کی ہے تو وہ مرثیہ ہے، یعنی اردو تنقید کا آغاز مرثیے کی تعریف سے ہوا، پھر ہم یوں ہی سوچیں کہ شبلی، جنہوں نے ’’موزانہَ انیسؔ ودبیر‘‘ جیسی اہم کتاب لکھی، کیا ان کی نظریں میر تقی میر، میر دردؔ، غالبؔ اور نظیرؔ کو نہیں دیکھ رہی تھیں، انہیں اپنی تنقید کا موضوع بناتے، لیکن ایسا نہیں ہوا، بلکہ ’’موازنہَ انیسؔ و دبیر‘‘ کے شروع میں ہی یہ وضاحت کردی کہ ’’مدت سے میرا ارادہ تھا کہ کسی ممتاز شاعر کے کلام پر تقریظ و تنقید لکھی جائے، جس سے یہ اندازہ ہوسکے کہ اردوشاعری باوجود کم مائیگی ٔ  زبان، کیا پایہ رکھتی ہے۔ اس غرض کے لئے میر انیسؔ سے زیادہ کوئی شخص انتخاب کے لئے موزوں نہیں ہوسکتا تھا۔‘‘ اس سے ہم اندازہ کرسکتے ہیں کہ انیسویں صدی کے آخری ربع میں اور بیسویں صدی کے ابتدائی ربع میں میر انیسؔ کی عظمت کو کس قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا۔
انیسؔ ،مرثیے کی جس بلندی پر پہنچ گئے تھے، اس کے بعد مرثیے میں تھوڑی بھی ترقی کرنا، آنے والے مرثیہ نگاروں کے لئے مرحلۂ  جاں کنی سے بھی زیادہ سخت تھا، چنانچہ ایک طرح سے اجتماعی طور پر مرثیے کو زوال کے حالات سے دوچار ہونا پڑا۔ اُس دور میں میر انیسؔ کے بعد اردو مرثیہ کسی بڑی تبدیلی سے روشناس نہیں ہوا، یہ دور ایک اعتبار سے انیسؔ کی تقلید، بلکہ یوں کہا جائے تو زیادہ جامع ہوگا کہ بے جان اور کمزور تقلید میں گزر گیا، ’’ساقی نامے‘‘ کا اضافہ ضرور ہوا، لیکن نئے مضامین کو کسی ادبی صنف میں داخل کر دینا ہی اس کے ارتقاء کا ضامن نہیں ہے، جب تک زندگی کے کسی پہلو کو اجاگر نہ کیا جائے اور حیاتِ نو کی روشنی سے استفادہ نہ کیا جائے، بات نہیں بنتی۔ ادب بھی انسان کی طرح ہے، جسے اپنی صحت ِ کامل کیلئے انفاسِ تازہ کی  ہر وقت ضرورت رہتی ہے۔ انیسؔ کے بعد مرثیے کو اسی حادثے کا سامنا کرنا پڑا۔ میر عارفؔ کی یہ آواز اُس دور کے بیشتر مرثیہ نگاروں کی آواز بن گئی۔
جدو آبا کا چلن چھٹنے نہ پائے مجھ سے
طرزِ مرغوبِ کہن ،چھٹنےنہ پائےمجھ سے
اُس دور کے بیشتر مرثیہ نگاروں کا سفر ’’طرزِ مرغوبِ کہن‘‘ کی اُس پٹری پر جاری رہا، جو زمینِ شعر پر پہلے سے بچھا دی گئی ہو۔ جس میں رفتار، فاصلہ، موڑ، طول، عرض، سب کا پہلے سے تعین کردیا ہو، آنے والی گاڑی کے پہیے اُسی پٹری کی رہ نمائی میں اپنا سفر جاری رکھتے ہیں، اس دور میں تقلیدی عمل زیادہ رہا ہے اور فکری آنچ کم رہی اور سب سے اہم بات یہ کہ مقصد ِ مرثیہ میں کوئی تبدیلی نہیں آسکی۔
بیسویں صدی جب مطلع ِکائنات پر طلوع ہوئی تو پوری دنیا سیاسی، اجتماعی، اقتصادی، فکری، معاشی، عمرانی اور ادبی طور پر ایک کروٹ لے رہی تھی، ادب میں سرسید کی تحریک نے ایک تزلزل پیدا کردیا تھا، ’’مسدسِ حالیؔ‘‘ نے جدید نظم کی پوری عمارت، زمین ِ شعر پر لاکر کھڑی کردی تھی، جس کے سائے سے بچنا ممکن نہیں تھا۔ اُس زمانے میں جو شعراء کسی نئے زاویئے سے سوچنے کی صلاحیت رکھتے تھے، ان کے فن میں تبدیلی کی جھلک آئی۔ مرثیہ نگاروں میں شادؔ عظیم آبادی اور مرزا اوجؔ نے پہلی مرتبہ مرثیے کو فکر کا نیا روپ دیا:
’’کسے غرض ہے، پرانے خیال کون سنے‘‘
مرزا اوجؔ کا یہ مصرع مرثیے کے سامع کو چونکانے کے لئے کافی تھا۔ شادؔ نے تو بڑے عجیب رخ کے ساتھ مرثیے میں تبدیلی لانے کی گفتگو کی، انہوں نے تو پورے پورے مرثیے، انیسؔ اور دبیرؔ کی ڈگر سے ہٹ کر لکھے۔ اوج کا انتقال ۱۹۱۸ء  میں اور شادؔ  کا  ۱۹۲۷ء میں ہوا۔ ۱۹۲۷ء سے پہلے ہی مرثیے کی دنیا میں بعض نئے لوگ سامنے آئے جوشؔ کا مرثیہ ’’آوازِ حق‘‘، دلورام کوثریؔ کا مرثیہ ’’قرآن و حسینؓ‘‘، نسیمؔ امروہوی کا مرثیہ ’’گل ِخوش رنگ‘‘ اور عزیزؔ لکھنوی کا ’’درسِ وفا‘‘ قابلِ ذکر ہیں، ان مرثیوں کو جدید مرثیوں کا نام دیا گیا۔
جدید مرثیہ کیا ہے؟ یہ سوال گزشتہ نصف صدی سے اٹھا۔ اس پر مختلف پہلوئوں سے غور کیا جاتا رہا اور اس کی نت نئی توجیہات پیش کی جاتی رہیں۔ ایک بحث یہ بھی چھڑ گئی کہ آیا جدید مرثیے کی اصطلاح بھی کوئی چیز ہے یا نہیں؟ پھر یہ بھی کہا گیا کہ مرثیوں میں جدید کا پیوند کیوں لگایا جائے۔ مرثیہ بذات ِخود ایک مکمل اصطلاح ہے تو پھر جدید کیوں؟ اس کے بہت سے جوابات دیئے جاسکتے ہیں، ہم اس تاریخی عمل کو بھول جاتے ہیں کہ کوئی بھی صنفِ سخن جب گزرتے ہوئے لمحوں کی پشت پر کسی نئے عہد یا نئی صدی میں قدم رکھتی ہے تو وہ اس عہد کے فکری تقاضوں کے پیشِ نظر اپنا رنگ و روپ بدل لیتی ہے۔ یہ نیا رنگ روپ اُس کی پہچان کے لئے نئے زاویے قائم کرتا ہے، جدید غزل کی اصطلاح، اس کی ایک نمایاں مثال ہے۔ جدید مرثیے کی اصطلاح کو قبول نہ کرنا ادب کی رفتار کا ساتھ نہ دینے کے مترادف ہے، ہمیں جدید مرثیے کو کسی ہچکچاہٹ کے بغیر قبول کرلینا چاہئے، یہ فکر و نظر کی دیانت داری ہے۔ قدیم اور جدید مرثیے کے درمیان فرق کو ہم زمانے کے نقطۂ نظر سے نہیں دیکھیں گے۔ یہ فرق فکر و نظر، طرز، احساس، اسلوب، اظہار اور روحِ عصر کے پیمانوں سے ناپا جائے گا۔
جب قطع کی مسافتِ شب  آفتاب نے (انیسؔ)
جب ہوئی طالع زمانے میں تمدن کی سحر (جوش)
میر انیسؔ اور جوشؔ کے مرثیوں کے ان مطلعوں کے درمیان پوری ایک صدی کھڑی ہوئی ہے۔ فکر ِ انسانی جس سطح پر پہنچ گئی ہے اور جس انداز سے انسان سوچ رہا ہے، جوشؔ کا مصرع اس فکر کی عکاسی کرتا ہے۔ ۱۹۱۸ء میں جوشؔ ملیح آبادی نے اپنے پہلے مرثیے ’’آوازِ حق‘‘ کے ذریعے پہلی بار ہمیں یہ پیغام دیا کہ:
مٹتے ہوئے اسلام کا پھر نام جلی ہو
لازم ہے کہ ہر فرد، حسینؓ ابنِ علیؓ ہو
مرثیے کی دنیا میں یہ بالکل نئی آواز تھی۔ جوشؔ سے پہلے امام حسینؓ کو سبط ِرسولؐ، جانِ زہراؓ اور شہنشاہِ مدینہ کے نام سے مرثیہ نگاروں نے یاد کیا، لیکن جوشؔ نے حسینؓ کو جانِ سیاست، ناشرِ اخلاقیات، عزتِ نوع انساں، تاریخ کا غرور، سلطان شکار اور راکب ِ عصرِ دوراں جیسے خطابات سے یاد کر کے سوچ کے زاویے بدل دیئے۔ جوشؔ صاحب کے متعلق یہ بحث کہ آیا وہ مرثیہ گو کہلائے جانے کے مستحق ہیں بھی یا نہیں، اتنی زیادہ اہم نہیں جتنا زیادہ اہم مرثیے کےمتعلق ان کا کام ہے، میں نے خود ایک بار جوشؔ صاحب سے یہ سوال کیا تھا کہ کیا آپ اپنی ان تخلیقات کو مرثیے کا نام دیں گے؟ تو انہوں نے بڑا اچھا جواب دیا کہ ’’مجھے اس سے سروکار نہیں ہے کہ انہیں آپ مرثیے کا نام دیں یا نہ دیں، ہاں یہ ضرور ہے کہ میرے پیشِ نظر اس قسم کے مسدس لکھتے وقت مرثیے کا ہی تصور رہتا ہے۔‘‘ جوشؔ کے بعد جدید مرثیہ کی دنیا میں دو بڑے نام ہمارے سامنے آئے نسیمؔ امروہوی اور سید آلِ رضا، جنہوں نے ۲۰؍ ویں صدی کے دوسرے اور تیسرے ربع میں مرثیے کی دنیا بدل کر رکھ دی۔
اردو مرثیہ جس نے ذکر کی منزل سے اپنا سفر شروع کیا تھا وہ فکر کی منزل میں ایک ایسے منصب پر فائز ہوگیا، جسے دوسری اصنافِ سخن کے درمیان  بآسانی پہچانا جاسکے گا۔ جدید مرثیہ نگار نے عصرِ حاضر کے معاشرتی، معاشی، اقتصادی، عمرانی اور سیاسی معاملات سمجھ کر مرثیہ لکھا ہے، آج کے مرثیے پر Stagnation کا الزام نہیں لگایا جاسکتا۔ آج کے مرثیے میں زندگی کا وہ تمام شعور نظر آتا ہے، جس سے ہم گزر رہے ہیں، آج کے مرثیے میں عزم و عمل پر جس قدر زور دیا گیا، وہ اس سے پہلے نظر نہیں آتا۔ قدیم مرثیہ نگار نے یزید اور اس کے حامیوں کی بداعمالی سے نقاب اٹھائی، لیکن جدید مرثیہ نگار نے ہمیں یہ حوصلہ دیا ہے کہ ہم خود اپنے گریبان میں بھی جھانک کر دیکھ سکیں تاکہ اسلام، رسولؐ اور حسینؓ کے ماننے والوں کو اپنی خامیوں کا بھی اندازہ ہو۔
بیسویں صدی کے شروع میں جدید مرثیے نے جس سفر کا آغاز کیا تھا، اس کی رفتار میں جاہ و جلال کے جتنے پہلو نمایاں ہوئے، اس کے بیشتر رنگ اس تاریخ نے تقسیم کے بعد مرثیہ گوئی سے لئے، ہندوستان پاکستان دونوں جگہ کے مرثیہ نگاروں نے بڑی فکر کے ساتھ اس نئے مرثیہ کو سہارا دیا۔ آج کے دور میں زندگی نت نئے رنگوں میں ہمارے سامنے آئی ہے۔ آج کا مرثیہ نگار قدیم مرثیہ نگار سے بہت مختلف ہے، وہ معاشی مسائل کا بھی شکار ہے ،اپنے عہد کی سیاست بھی اس کے پیش نظر ہے ،بڑھتی اور پھیلتی ہوئی دنیا کے سماجی پیچ و خم سے وہ باخبر ہے ،جدید مرثیہ ابھی ہم سے بہت سے تقاضے کررہا ہے، آج کا مذاقِ شعری اور مذاقِ فکری بہت بلند ہے، جس کیلئے جدید مرثیہ گو شعراء  کو اپنی نظر میں وہ بلندی پیدا کرنی پڑے گی جو کوہساروں کو بھی شرما سکے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK