Updated: September 13, 2026, 2:27 PM IST
| Mumbai
سوشل میڈیا کے نامناسب یا غلط استعمال کے خلاف بہت سمجھایا جارہا ہے اور پوری دُنیا میں اس نئی مصروفیت کے خلاف بے چینی اور اضطراب پایا جاتا ہے مگر بہت کم لوگ ہیں جو سوشل میڈیا کو استعمال کرنے اور اُس کے ذریعہ استعمال ہونے کا فرق سمجھتے ہیں نیز خود کو جس قدر محفوظ رکھ سکتے ہوں، رکھتے ہیں۔
ایک ہی بات بار بار کہی جائے تو اس کی قدر اور معنویت کم یا ختم ہوجاتی ہے مگر جب بار بار کہنے کے باوجود اُسے سنا نہ جائے یا سن کر اَن سنا کردیا جائے تو کہنے والا اس بات کیلئے مجبور ہوجاتا ہے کہ زبان بند کرلے یا پھر اس فکر سے، کہ اُسے کوئی سن رہا ہے یا نہیں، بالاتر ہوکر کہتا رہے۔ اگلے وقت کے لوگ کہتے تھے کہ پانی کا قطرہ کتنا ہی ناتواں ہو، پتھر پر بھی لگاتار گرتا رہتا ہے تو اُس جگہ پہلے نشان اور پھر سوراخ بنا دیتا ہے۔ ناصر کاظمی نے کہا تھا ’’سنگ کٹ جاتے ہیں پانی کی جہاں دھار گرے‘‘۔ نیک مشورہ دینے والوں کو، اگر وہ واقعی نیک ہے، یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ کوئی سن رہا ہے یا نہیں، اُنہیں تسلسل کے ساتھ اپنی بات پہنچانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ نہ تو بددل ہونا اُن کے شایان شان ہوگا نہ ہی عاجز آکر خاموشی اختیار کرنا۔
سوشل میڈیا کے نامناسب یا غلط استعمال کے خلاف بہت سمجھایا جارہا ہے اور پوری دُنیا میں اس نئی مصروفیت کے خلاف بے چینی اور اضطراب پایا جاتا ہے مگر بہت کم لوگ ہیں جو سوشل میڈیا کو استعمال کرنے اور اُس کے ذریعہ استعمال ہونے کا فرق سمجھتے ہیں نیز خود کو جس قدر محفوظ رکھ سکتے ہوں، رکھتے ہیں۔ چونکہ اس میڈیم کا استعمال کرنے والوں میں اکثریت نوعمروں اور نوجوانوں کی ہے اس لئے کئی ملکوں نے کم عمر کے افراد پر سوشل میڈیا کے استعمال کی پابندی عائد کردی ہے۔ یہ ٹھیک نہیں ہے مگر کیا اس کے علاوہ بھی کوئی تدبیر ہوسکتی ہے؟ ہمارے ملک میں بھی اس پر غور اور اقدام کیا جانا چاہئے کیونکہ اس وقت ہمارا ملک دُنیا کی سب سے بڑی نوجوان آبادی کا ملک ہے۔ اینوئل اسٹیٹس آف ایجوکیشن رپورٹ ۲۴ء کے مطابق ۱۴تا ۱۶؍ سال کی عمر کے ملک کے ۸۲ء۲؍ فیصد نوعمر اسمارٹ فون کا استعمال جانتے ہیں۔ ان میں صرف ۵۷؍ فیصد اپنے فون کا تعلیمی اُمور کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ انہی میں ۷۶؍ فیصد وہ ہیں جو سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں۔
ہم ان میں سے ۱۰؍ تا ۱۵؍ فیصد کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے کہنا چاہتے ہیں کہ ان کا سوشل میڈیا کا استعمال بھی زیادہ تر تعلیمی اُمور کیلئے ہوگا مگر ۷۶؍ میں سے ۱۰؍ تا ۱۵؍ فیصد افراد کو حذف کردینے کے بعد بھی ۶۱؍ تا ۶۶؍ فیصد یقیناً ایسے ہیں جو سوشل میڈیا کے مناسب اور صحتمندانہ استعمال سے دور ہیں۔ چونکہ موبائل مشین ہے اور اس کی نیٹ ورک سے وابستگی ہے اور نیٹ ورک سے ڈیٹا حاصل ہوجاتا ہے اس لئے مذکورہ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ۷۴؍ فیصد طلبہ روزانہ دو گھنٹے تک غیر تعلیمی اُمور کیلئے اسمارٹ فون کا استعمال کرتے ہیں۔ والدین کو اس ڈیٹا پر اس حد تک ہی دھیان دینا چاہئے کہ کہیں ان ۷۴؍ فیصد طالب علموں میں ہمارے بچے تو شامل نہیں ہیں ؟ اگر اُنہیں یہ احساس ہو کہ اُن کے بچے بھی دو یا تین یا چار گھنٹے موبائل پر غیر تعلیمی مواد دیکھنے اور سننے میں صرف کررہے ہیں تو اُنہیں متنبہ ہوجانا چاہئے اور بچوں کو سمجھانا بجھانا چاہئے۔ موبائل چھین لینا مسئلہ کا حل نہیں۔ حل اگر ہے تو اُن کو اعتماد میں لینا اور فائدہ نقصان سمجھانا ہے۔ اس میں ماؤں کا کردار بہت اہم اور مؤثر ہوگا کیونکہ اُنہیں بچوں کے مشاغل اور دلی و ذہنی کیفیات کی زیادہ سمجھ ہوتی ہے۔ نئی نسل کو بتانا چاہئے کہ اُن سے والدین، اساتذہ اور معاشرہ کیسی کیسی اُمیدیں وابستہ کئے ہوئے ہے۔