Updated: September 12, 2026, 10:06 PM IST
| Istanbul
گزشتہ ۵۰۰ برسوں سے جاری ۲۴ گھنٹے مسلسل قرآن کی تلاوت کرنے کا سلسلہ، عثمانی سلطان یاووز سلطان سلیم اول کے دورِ حکومت سے شروع ہوا، جنہوں نے ۱۵۱۷ء کی مصری مہم کے بعد استنبول میں مقدس تبرکات لائے جانے پر ذاتی طور پر اس کا آغاز کیا تھا۔ توپ قاپی پیلس ڈپارٹمنٹ کے سربراہ الہان کوکامان کے مطابق، سلطان سلیم اول نے اپنے دربار کو ۳۹ حفاظ تلاش کرنے کی ہدایت کی تاکہ وہ خود چالیسویں حافظ کے طور پر خدمات انجام دے سکیں۔ یوں انہوں نے اس روایت کی بنیاد رکھی جو آج تک بغیر کسی تعطل کے جاری ہے۔
استنبول میں واقع توپ قاپی محل کے مقدس تبرکات کے حجرے (Sacred Trusts Chamber) میں شب و روز قرآن پاک کی مسلسل تلاوت کی روایت گزشتہ پانچ صدیوں سے زندہ ہے اور آج بھی بلا تعطل جاری ہے۔ ۲۸ حافظ قرآن اس روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں جو ۴۵ منٹ یا ایک گھنٹے کی باری سے تلاوت کرتے ہیں تاکہ یہ سلسلہ کبھی رکنے نہ پائے۔ اس تسلسل کے نتیجے میں روزانہ ایک مکمل قرآن پاک اور سال میں کل ۳۶۵ قرآن مکمل کئے جاتے ہیں، جبکہ پورے سال کی تلاوتوں کی اجتماعی دعائیں رمضان کے دوران عثمانی دور سے وابستہ ”دستمال کی تقریب“ (Destimal Ceremony) میں کی جاتی ہیں۔
یہ سلسلہ عثمانی سلطان یاووز سلطان سلیم اول کے دورِ حکومت سے شروع ہوا، جنہوں نے ۱۵۱۷ء کی مصری مہم کے بعد استنبول میں مقدس تبرکات لائے جانے پر ذاتی طور پر اس کا آغاز کیا تھا۔ توپ قاپی پیلس ڈپارٹمنٹ کے سربراہ الہان کوکامان کے مطابق، سلطان سلیم اول نے اپنے دربار کو ۳۹ حفاظ تلاش کرنے کی ہدایت دی اور خود انہوں نے چالیسویں حافظ کے طور پر خدمات انجام دیں۔ یوں انہوں نے اس روایت کی بنیاد رکھی جو آج تک بغیر کسی تعطل کے جاری ہے۔
یہ بھی پڑھئے: برطانیہ: کنگ چارلس نے نائن الیون کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے روایت توڑ دی
محل کے اندرون صحن (Enderun Courtyard) میں واقع مقدس تبرکات کے کمرے میں رسول اللہ ﷺ کی چادرِ مبارک (خِرقۂ شریف)، آپ کی تلوار اور خطوط، غزوۂ احد میں شہید ہونے والے دندانِ مبارک کا ایک ٹکڑا، موئے مبارک اور آپ سے منسوب قدم مبارک کا نشان محفوظ ہیں۔ ان کے ساتھ خلفائے راشدین کی تلواریں اور خانہ کعبہ کی چابیاں بھی موجود ہیں۔ کوکامان نے بتایا کہ جب ایک بار چادرِ مبارک والے کمرے کی صفائی کی گئی، تو اکٹھی کی گئی خاک کو پھینکا نہیں گیا بلکہ خصوصی طور پر کھودے گئے ایک کنویں میں دفن کیا گیا، جو نسل در نسل قائم اس عقیدت و احترام کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔
کوکامان نے کہا کہ زائرین اکثر اس تلاوت کو کوئی ریکارڈنگ سمجھنے کی غلطی کر بیٹھتے ہیں جب تک کہ وہ اندر داخل ہو کر حفاظ کو خود بالمشافہ تلاوت کرتے ہوئے نہ دیکھ لیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک ایسا تجربہ ہے جو عیقدے سے قطع نظر ہر پس منظر کے لوگوں پر ایک دیرپا تاثر چھوڑتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کنیڈا: بیف باربی کیو پر تنازع، ہند نژاد خاتون کی گرفتاری کا ویڈیو وائرل
موجودہ حفاظ میں سے ایک، خلیل ابراہیم اکگون نے اس ذمہ داری کو نسل در نسل منتقل ہونے والی عقیدت کا ایک زندہ اظہار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ”ہم ماضی اور مستقبل کے درمیان ایک پل ہیں۔“ انہوں نے اسے سلطان سلیم اور ان کے اجداد کی طرف سے سونپی گئی امانت کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری قرار دیا۔ روایت کی بقاء پر گفتگو کرتے ہوئے اکگون نے اسے ایک نعمت الٰہی قرار دیا۔ انہوں نے اس عمل میں شرکت کا موقع ملنے پر تشکر کا اظہار کیا جس نے سلطنتوں، حکمرانوں اور خود استنبول میں آنے والی تبدیلیوں کا زمانہ دیکھا مگر پانچ سو برسوں میں کبھی خاموش نہیں ہوا۔