Updated: September 11, 2026, 9:02 PM IST
| Venice
تقریباً تین سال کی تحقیقات پر مبنی اس دستاویزی فلم میں اسرائیلی فوج اور انٹیلی جنس کے گمنام ذرائع کی گواہیاں شامل ہیں۔ گواہوں کی آوازوں اور چہروں کو ڈجیٹل طور پر تبدیل کیا گیا ہے اور اسے تل ابیب کی چھتوں پر رات کے وقت فلمایا گیا ہے۔ ابراہم نے اے ایف پی کو بتایا کہ اس کا مقصد فوجیوں اور افسران کو اس بات کی تفصیلی وضاحت کرنے کا موقع دینا تھا کہ غزہ میں ہلاکتوں کے یہ نظام کیسے کام کرتے تھے۔ فلم کا عنوان عبرانی انٹیلی جنس کی ایک ایسی اصطلاح کی طرف اشارہ کرتا ہے جو کسی بھی فضائی حملے میں متوقع شہری ہلاکتوں کی تعداد کو ظاہر کرتی ہے۔
یووال ابراہم اور راشیل زور۔ تصویر: ایکس
غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کیلئے اسرائیل کی جانب سے مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے لیس نشانے بازی کے نظام کے استعمال کا جائزہ لینے والی ایک دستاویزی فلم کو وینس فلم فیسٹیول کے پریمیئر کے بعد ۲۵ منٹ کا اسٹینڈنگ اوویشن (کھڑے ہو کر داد و تحسین) پیش کیا گیا۔ ۸۰ منٹ طویل اس فلم ”نازا“ (NAZA) کی ہدایتکاری اسرائیلی فلم سازوں یووال ابراہم اور راشیل زور نے کی ہیں۔ واضح رہے کہ ان دونوں نے اس سے قبل فلسطینی شریک ہدایت کاروں باسل عدرا اور حمدان بلال کے ساتھ بنائی گئی فلم ”نو ادر لینڈ“ (No Other Land) پر ۲۰۲۵ء میں آسکر ایوارڈ جیتا تھا۔
تقریباً تین سال کی تحقیقات پر مبنی اس دستاویزی فلم میں اسرائیلی فوج اور انٹیلی جنس کے گمنام ذرائع کی گواہیاں شامل ہیں۔ گواہوں کی آوازوں اور چہروں کو ڈجیٹل طور پر تبدیل کیا گیا ہے اور اسے تل ابیب کی چھتوں پر رات کے وقت فلمایا گیا ہے۔ ابراہم نے اے ایف پی کو بتایا کہ اس کا مقصد فوجیوں اور افسران کو اس بات کی تفصیلی وضاحت کرنے کا موقع دینا تھا کہ غزہ میں فلسطینیوں کو ہلاک کرنے کیلئے تیار کئے گئے یہ نظام کیسے کام کرتے تھے۔ فلم کا عنوان عبرانی انٹیلی جنس کی ایک ایسی اصطلاح کی طرف اشارہ کرتا ہے جو کسی بھی فضائی حملے میں متوقع شہری ہلاکتوں کی تعداد کو ظاہر کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: لبنان: اسرائیلی حملوں سے ۲۲؍ فیصد قابل کاشت زمین متاثر
دستاویزی فلم میں انٹرویو دینے والوں نے ”لیوینڈر“ (Lavender) نامی ایک اے آئی معاون نظام کی وضاحت کی، جو قتل کے اہداف کی شناخت کیلئے غزہ کے زیرِ نگرانی مواصلاتی ڈیٹا کا استعمال کرتا تھا، جس میں سے ایک ذریعے نے اس عمل کا موازنہ ایک فیکٹری کے طریقہ کار سے کیا جبکہ دوسرے نے ہدف کی شناخت کو ”ویڈیو گیم“ سے مشابہ قرار دیا۔ ذرائع نے عام شہریوں کے گھروں کی تباہی اور فلسطینیوں کے خلاف دشمنی کے وسیع تر ماحول پر بھی بات کی، جن میں سے بعض نے بتایا کہ انٹیلی جنس اہلکار جانتے تھے کہ جن گھروں کو وہ نشانہ بنا رہے تھے ان میں خاندان مقیم تھے۔
ابراہم نے امید ظاہر کی کہ یہ فلم مغربی حکومتوں پر اسرائیل کی حمایت ختم کرنے اور پابندیاں عائد کرنے کیلئے دباؤ ڈالے گی۔ انہوں نے دلیل دی کہ مسلسل حمایت اسرائیل اور فلسطین کے اندر انسانی حقوق اور سیاسی حل کیلئے کام کرنے والوں کو کمزور کرتی ہے۔ “972+ میگزین“ میں لکھتے ہوئے، ابراہم اور زور نے نتیجہ اخذ کیا کہ غزہ میں شہریوں کی اموات تنازع کا اتفاقی نتیجہ نہیں تھیں بلکہ دانستہ اور سوچے سمجھے فیصلوں کا نتیجہ تھیں۔
یہ بھی پڑھئے: IMDb کی فہرستوں میں ’اسرائیل‘ کی جگہ ’مقبوضہ فلسطینی علاقے‘ درج ہونے کا انکشاف
اس فلم پر تجارتی صحافت کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔ ’اسکرین انٹرنیشنل‘ نے اسے ”فوری اور ہلا کر رکھ دینے والی“ فلم قرار دیا، جبکہ ’دی ہالی ووڈ رپورٹر‘ نے اسے موجودہ اسرائیلی حکومت کے خلاف غصہ اور بیزاری پیدا کرنے والی فلم بتایا۔ اسے جم ولسن نے ’دی گارڈین‘ کے اشتراک سے پروڈیوس کیا، جبکہ جوناتھن گلیزر نے اس کے ایگزیکٹو پروڈیوسر کے طور پر خدمات انجام دیں۔
رواں سال کے وینس فلم فیسٹیول کے مقابلے کے شعبے میں ”نازا“ واحد دستاویزی فلم ہے۔ یہ گزشتہ سال کی فلم ”دی وائس آف ہند رجب“ (The Voice of Hind Rajab) کے بعد سامنے آئی ہے، جسے ۲۳ منٹ طویل اسٹینڈنگ اوویشن پیش کیا گیا تھا اور اس نے آگے چل کر وینس کا دوسرا سب سے بڑا اعزاز جیتا تھا۔