توجہ کیجئے ہمارے آس پاس کچھ بہت غریب خاندان بھی آباد ہیں

Updated: April 23, 2021, 4:46 PM IST | Intazar Naeem

ان کی خبری گیری اب زیادہ ضروری ہوگئی ہے کیونکہ مسلسل لاک ڈاؤن اور روزی روٹی کے مواقع کے نقصان نے غریبوں کو غربت کی مزید گہری دلدل میں دھکیل دیا ہے

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

ہندوستان کی راجدھانی دلی کا نام آئے یا اس کا ذکر ہو تو پارلیمنٹ ہاؤس، راشٹرپتی بھون، لال قلعہ، جامع مسجداور قطب مینار کی عظمت و شوکت سے آراستہ، خوش حال، ترقی یافتہ اور سکون بخش شہر کا تصور اُبھرنا فطری ہے۔ نئی دہلی کی فلک بوس عمارتیں، کشادہ و پُرکشش شاہراہیں، فلائی اووَر، فائیو اسٹار ہوٹلس، پُررونق مالس، ہر طرف دوڑتی خوبصورت کاریں اور ہوائی اڈے پر جہازوں کا ہجوم دیکھ کر شاید ہی خیال گزرے کہ اس شہر میں غریب و مسکین اور ضرورت مند و پریشاں حال لوگ بھی رہتے ہوں گے!
 لیکن، کوئی چشم بینا اور دل دردمند رکھتا ہو تو راجدھانی کی دوسری تصویر بھی دیکھی اور محسوس کی جاسکتی ہے۔ حسن کے پیکر اور عظمتوں کے حامل دلی میں کسی گاڑی میں بیٹھ کر کسی بھی جانب تھوڑی دیر کیلئے سفر کرتے ہوئے کچھ ریڈ سگنلس پار کئے جائیں تو شاید ہی کوئی ایسا چوراہا ملے جہاں بوسیدہ گندے اور پھٹے کپڑوں میں ملبوس تین سال کے بچوں اور بچیوں سے لے کر ساٹھ ستر سال کے پریشان حال سے مرد اور عورتیں بھیک مانگتے ہوئے نظر نہ آئیں۔ اسی طرح شہر کی ہر بڑی مسجد، مندر اور گردواروں کے باہر بھی ہر طرح کے گداگر بارہوں مہینے ہاتھ پھیلائے ہوئے نظر آتے ہیں۔ دست ِسوال دراز کرنے والے یہ لوگ کون ہوتے ہیں، کہاں سے آتے ہیں اور کیوں گداگری کی زندگی گزارتے ہیںاور سڑکوں سڑکوں، چوراہے چوراہے اور عبادت گاہوں کے دروازوں پر کیوں اپنا ضمیر بیچتے ہیں یہ بہت تفصیل سے غوروخوض اور تجزئیے کا موضوع ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ دلی میں موجود مضبوط مرکزی حکومت،دلی سرکار، میونسپل کارپوریشن اور ملک کے بڑے بڑے سرمایہ دار مل کر راجدھانی کی سڑکوں پر نیلام ہوتے ہوئے شہر کے وقار کو محفوظ رکھنے کے لئے کیا کچھ نہیں کرسکتے؟ مَیں راجدھانی کے کتنے ہی دوسرے پریشاں حال خاندانوں سے واقف ہوں جن کے وسائل کچھ بھی نہیں ہیں اور مسائل کے انبار ہیں جو انہیں گھیرے ہوئے ہیں۔ کہاں جائیں، کس سے مانگیں، کون ان کی ضرورت پوری کرے گا، یہ سوالات ان خاندانوں کو چین و سکون سے مستقل محروم رکھتے ہیں۔
 گداگروں سے قطع نظر، محنت مزدوری کرکے اپنا پیٹ پالنے والوں میں اکثریت مہاجرین کی ہے جن کے پاس اپنے آبائی قصبوں، دیہاتوں میں مزدوری حاصل کرنے کا بھی موقع نہیں تھا اس لئے کام کی تلاش میں دلی آگئے۔ ان کی غربت کے ساتھ گھر خاندان سے دوری کا بھی غم جڑا ہوا ہے۔ اگست ۱۸ء میں ہندوستان ٹائمس میں چھپی ایک خبر کے مطابق ملک کے دوسرے سب سے مالدار شہر میں، جس کی مجموعی دولت (ٹوٹل ویلتھ) ۴۵۰؍ بلین ڈالر کے مساوی ہے، دو سال، چھ سال اور آٹھ سال کی تین بچیوں نے فاقے کے سبب دم توڑ دیا تھا۔ یہ اس لئے ہے کہ دیگر شہروں کی طرح ہماری راجدھانی بھی تضادات کا شہر ہے۔ یہاں دولتمند تو رہتے ہی ہیں، اتنے غریب بھی بودوباش اختیار کئے ہوئے ہیں جن کی حالت کا تھوڑا بہت اندازہ اس وقت ہوگا جب آپ ان کی جھگیوں کا رُخ کریں گے۔ دلی کے غریبوں کی مجموعی تعداد ۱ء۷؍ملین (۱۷؍ لاکھ) بتائی جاتی ہے۔ یہ لوگ ۱۱۳۴؍ روپے ماہانہ سے کم پر گزارا کرتے ہیں۔ غور فرمائیے وہش رُبا مہنگائی کے اس دور میں ۱۱۳۴؍ روپوں کی کیا حیثیت ہے؟ یہ اعدادوشمار ۲۰۱۱ء کی مردم شماری کی بنیاد پر تیار کی گئی ایک رپورٹ سے مستعار ہیں جس کا حوالہ اخبار مذکور نے اپنی رپورٹ میں پیش کیا تھا۔ ۲۰۱۵ء کی ایک سرکاری رپورٹ کے مھابق دلی میں ۶۳۴۳؍ جھگیاں ہیں جن میں ۱ء۰۲؍ ملین کنبے آباد ہیں۔ اسی دلی میں جذبۂ خیر رکھنے والے یقیناً بہت ہوں گے مگر ایسا لگتا ہے کہ اس شہر کے غریبوں کی غربت کو جذبۂ خیر رکھنے والوں کی مزید توجہ کی ضرورت ہے۔   
  یہ صورتحال راجدھانی کی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ ملک کاشاید ہی کوئی شہر اور گاؤں آزادی کے ستر سال بعد دلی کے پریشاں حال لوگوں جیسے مسائل سے دوچار نہ ہو۔ بہرحال یہ ملک ہمارا ہے، راجدھانی ہماری ہے، یہاں کے شہر شہر گاؤں گاؤں ہمارے ہیں لہٰذا ان کے مسائل و مشکلات کے خاتمے کے لئے ہم کو ہی غور کرنا، آگے بڑھنا اور عمل کرنا ہوگا۔
 اس سلسلے میں ایک کام تو یہ ہوسکتا ہے کہ ہمارے وزراء، ممبران پارلیمنٹ،ممبران اسمبلی، ممبران میونسپل کارپوریشن اپنے سرکاری، پارٹی اور ذاتی ذرائع سے معلومات حاصل کریں او راس کا ریکارڈ رکھیں کہ ان کے حلقے کے کتنے افراد کو سرکاری اسکیموں سے فائدہ پہنچ رہا ہے اور جو ضرورت مند محروم ہوں ان کو بھی ان اسکیموںمیں فیض یابی یقینی بنائی جائے۔ دوسرا کام یہ ہو کہ وقف بوڈ بھی ملت کے ضرورت مندوں کی خدمت کی اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں مسلسل سرگرمی دکھائے۔ تیسرا کام یہ ہو کہ تمام ملی جماعتیں، تنظیمیں اور انجمنیں، امت کے ضرورت مند افراد کی خبر گیری اور خدمت کی کوشش کریں۔ ملت کے اہل ثروت افراد زکوٰۃ کی ادائیگی کے بعد اپنے مالک کی شکر گزاری کرتے ہوئے ملت کے ضرورت مند افراد کی خدمت میں پیش قدمی سے گریز نہ کریں اور یہ احساس ہمیشہ زندہ و تابندہ رکھیں کہ اللہ کے دیئے ہوئے مال کو اس کی راہ میں خرچ کرنا بڑی سعادت اور اخروی فلاح کا بہترین ذریعہ ہے۔ 
 ملت اسلامیہ کے شاہین صفت نوجوان بھی اپنی غیرت ملی کو ہمیشہ زندہ رکھیں اور کوشش کریں کہ امت کے ضرورت مندوں اور سرکاری رفاہی و فلاحی اسکیموں، وقف بورڈ، ملی تنظیموں اور اہل ثروت کے درمیان رابطے کا ذریعہ بن سکیں اور امت کے دردوغم کا مداواکرسکیں۔ n

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK