اب عوام نے مہنگائی کے ساتھ جینے کی عادت ڈال لی ہے

Updated: October 24, 2021, 12:54 PM IST | Jamaal Rizvi

چند برسوں میں بدعنوانی کےجو معاملات سامنے آئے ہیں ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ ملک میں سرمائے کی کمی نہیں ہے کہ عوام کو بڑھتی ہوئی مہنگائی سے راحت نہ دلائی جا سکے

Prices of everything from food to clothing are skyrocketing.Picture:INN
کھانے پینے سے لے کر پہننے اوڑھنے والی سبھی چیزوںکی قیمتیں آسمان چھورہی ہیں۔ تصویر: آئی این این

ء ۲۰۱۴ء کے بعد ملک میں عوامی سطح پر جو تبدیلیاں ہوئی ہیں ان میں ایک بڑی اور نمایاں تبدیلی یہ بھی ہے کہ اب عوام نے مہنگائی کے ساتھ جینے کی عادت ڈال لی ہے۔ مرکز میں اقتدار کی تبدیلی سے قبل مہنگائی ایک بڑا مسئلہ ہوا کرتی تھی۔ فی الحال اقتدار جن کے ہاتھوں میں ہے وہ اُن دنوں اپنی ہر گفتگو میں مہنگائی پر افسوس و تشویش کا اظہار کیا کرتے تھے۔ اس اظہار میں ان کا عوام دوستی کا وہ جذبہ (مصنوعی) بھی نظر آتا تھا جو اقتدارکے ذریعہ عوامی مسائل کے متعلق بیگانگی برتنے کے سبب پیدا ہوتا ہے۔ مگر اب ارباب اقتدار کے نزدیک اور نہ ہی عوام کیلئے مہنگائی کوئی مسئلہ رہ گئی ہے۔ زندگی کی روزمرہ ضروریات کی ہر چیز کے دام آسمان سے باتیں کر رہے ہیںاور ایسی صورت میں ایک عام آدمی کیلئے دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کی پیچیدگیوں میں الجھے بغیر اگر زمینی حقائق کو مد نظر رکھا جائے تو یہ بات واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ سماج میں غربت کا دائرہ روز بہ روز وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ جمہوری طرز حیات میں اگر غریب عوام کے حقوق کا تحفظ اس انداز میں نہ ہو سکے کہ اسے اپنے لئے دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرنے میں آسانی فراہم ہو تو ترقی کے سارے دعوے کھوکھلے ہوتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ایسے حالات کے باوجود ارباب اقتدار یہ دعویٰ متواتر کرتے رہتے ہیں کہ ملک میں ترقی اور خوشحالی کے اسباب ماضی قریب کے مقابلے زیادہ مہیا ہوئے ہیں۔ گزشتہ ڈیڑھ برسوں کے دوران کورونا کی وبا کے سبب حالات مزید خراب ہوئے ہیں۔ کروڑوں افرادکو اپنے روزگار سے ہاتھ دھونا پڑا ہے جس کے سبب ان کے معیار زندگی کا گراف متاثر ہوا ہے۔ دوسری طرف حکومت کا رویہ یہ ہے کہ بنیادی ضروریات کی اشیا پرعوام کو ملنے والی رعایت میں بھی کمی کا سلسلہ جاری ہے۔یہی وجہ ہے کہ سماج میں بھکمری اورافلاس زدہ عوام کی تعداد میںتشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ایسے حالات کے باوجود عوام کی جانب سے اس اہم مسئلے پر ایسا کوئی رد عمل نہیں نظر آتا جس سے یہ ظاہر ہو سکے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے سبب انہیں پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ چونکہ حکومت نے عیاری کے ساتھ عوام کے ذہنوں کو ایسے مسائل اور موضوعات میں الجھا دیا ہے جن کا براہ راست کوئی تعلق ان کے معیار زندگی سے نہیں ہے لہٰذا وہ اپنی زندگی کی بنیادی ضرورتوں کے تئیں حساس ہونے کے بجائے انہی مسائل میں الجھے ہوئے ہیں۔آج ملک گیر سطح پر جس طرح قوم اور مذہب سے وابستہ معاملات کے متعلق عوام کا بڑا طبقہ اپنے جوش کا اظہار کر رہا ہے اس سے تو یہی لگتا ہے کہ ان کے نزدیک معیاری زندگی سے زیادہ وہ مسائل اہمیت رکھتے ہیں جو برسر اقتدار پارٹی کے ذریعہ ان کے ذہنوں میں بٹھا دئیے گئے ہیں۔ اگر مہنگائی اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے متعلق کہیں سے کوئی آواز اٹھتی بھی ہے تو اسے ملک کے ساتھ غداری سے تعبیر کیا جاتا ہے اور یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ان موضوعات پر بات کرنے والے ملک کے سچے وفادار نہیں ہیں۔
 اگر بڑھتی ہوئی مہنگائی کے سلسلے میں ۲۰۱۴ء کے بعد کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو اس کا اعتراف کرنے میں کوئی تامل نہیں ہونا چاہئے کہ ملک میں جس تناسب میں مہنگائی بڑھی ہے اس تناسب میں عوام کی آمدنی میں اضافہ نہیں ہوا ہے۔ آمدنی اور مہنگائی کا یہ فرق اس طبقہ کو زیادہ متاثر کر رہا ہے جن کی زندگی کا دارو مدار روزانہ ہونے والی آمدنی پر ہے۔ یہ طبقہ اب اپنی زندگی کی ضروریات کی تکمیل کے معاملے میں وسیع پیمانے پر محبوری اور محرومی کی زندگی بسر کر رہا ہے۔ کانگریس کے دور حکومت میں انا ہزارے کی قیادت میں ملک گیر سطح پر ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں بدعنوانی کے علاوہ بڑھتی ہوئی مہنگائی بھی ایک بڑا موضوع تھی۔ مرکز میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد عوام نے یہ توقع کی تھی کہ جن لوگوں نے مہنگائی کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا وہ اب حصول اقتدار کے بعد اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے کوئی نتیجہ خیز حکمت عملی اختیار کریں گے مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ عوام کی یہ توقع اب تک محض توقع ہی کی شکل میں باقی ہے بلکہ اب تو بیشتر نے یہ تسلیم کر لیا ہے کہ اس حکومت کے پاس بھی ایسی کوئی حکمت عملی نہیں ہے جو اس مسئلے کو حل کرنے میں معاون ثابت ہو سکے۔حالانکہ اگر دیکھا جائے تو گزشتہ سات آٹھ برسوں میں بدعنوانی کے جو معاملات سامنے آئے ہیں ان سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ملک میں سرمائے کی کمی اس حد تک نہیں ہے کہ عوام کو بڑھتی ہوئی مہنگائی سے راحت نہ دلائی جا سکے۔ لیکن جب اقتدار اپنے چند منظور نظر افراد کی دولت میں اضافہ کو اپنا ہدف بنا لے تو پھر اس کے نزدیک عوام کے مسائل کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔ ان دنوں ملک میں معاشی سطح پر جو صورتحا ل ہے وہ واضح طور پر اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اقتدار نے اپنے مقرب ترین افراد کے مفاد کو عوام کے مفاد پر ترجیح دے رکھی ہے۔ اقتدار کا یہ رویہ جمہوریت کے اس تصور کے عین برعکس ہے جس میں سماج کے آخری فرد تک سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے پر زور دیا جاتا ہے۔
 سماج میں اب ایک ایسا طبقہ بھی پیدا ہو گیا ہے جو بڑھتی ہوئی مہنگائی کے حق میں ایسی دلیلیں پیش کرتا ہے جن کا مقصد اقتدار کو اس ذمہ داری سے بری قرار دینا ہوتا ہے۔ یہ طبقہ اپنی خیالی دنیا میں ان تصورات کو اس ملک کی حقیقت تسلیم کئے بیٹھا ہے جو اس کیلئےجذباتی تسکین کا ذریعہ تو ہو سکتے ہیں لیکن ان تصورات کو عملی شکل دینا اتنا آسان بھی نہیں ہے جتنا کہ یہ طبقہ سمجھ رہا ہے۔دراصل سماج کا یہ طبقہ نہ صرف سماج بلکہ خود اپنے ساتھ بھی ایک طرح کا ایسا فریب کر رہا ہے جس کا نتیجہ بالآخر ان کیلئے افسوس کا باعث ہوگا۔اقتدار پرستی میں عقل و فہم کو درکنا ر کر کے صرف جذباتی سطح پر ہر موضوع کا جائزہ لینا عقلمندی نہیں کہی جا سکتی۔ افسوس اس پر ہے کہ سماج کا یہ خودساختہ دانشور طبقہ قوم و مذہب کے نام پر ان تمام مسائل و مشکلات کو سہہ لینے پر آمادہ نظر آتا ہے جو اس کی زندگی کو ان بنیادی وسائل سے بھی محروم کر سکتی ہیں جن کے بغیر زندگی کی گاڑی دو قدم بھی نہیں چل سکتی۔ اگربڑھتی ہوئی مہنگائی کے متعلق برسراقتدار پارٹی کے ذریعہ ہونے والی تشہیر کا غیر جانبداری سے تجزیہ کیا جائے تو یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ملک کی معاشی صورتحال کی جو تصویر عوام کو دکھائی جارہی ہے دراصل سچائی بالکل ویسی ہی نہیں ہے۔ اس ضمن میں بس ایک یہی مثال کافی ہے کہ گزشتہ پانچ چھ برسوں کے دروان چندبڑے تاجر وں اور صنعتکاروں کے ذریعہ جو معاشی بدعنوانی کے معاملات سامنے آئے، حکومت کا ان معاملات سے نمٹنے کا رویہ ایسا بالکل نہیں رہا جو یہ ظاہر کرتا ہو کہ قومی سرمایہ کو ہونے والا یہ وسیع نقصان اس کیلئے فکر و تشویش کا موضوع ہے۔
 جمہوری طرز سیاست میں منتخب شدہ حکومت کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ عوام کیلئےزندگی کے بنیادی وسائل کی فراہمی کو آسان بنائے۔ عوام کو تعلیم، صحت اور روزگار جیسے معاملات میں حکومت کی جانب سے کم از کم اتنا تعاون ضرور ملنا چاہئے کہ وہ ایک اوسط درجے کی زندگی گزارنے کے اہل ہو سکیں۔لیکن اگر کھانے پینے سے لے کر پہننے اوڑھنے والی ہر شے مہنگائی کے حصار میں مقید ہو جائے تو نہ تو عوام کو اوسط درجے کا معیار زندگی نصیب ہو سکتا ہے اور نہ ہی وہ اپنے ان خوابوںکو تعبیر سے ہمکنار کرنے کی سعی کر سکتے ہیں جو ان کے معیار زندگی میں اضافہ کی راہ ہموار کرتے ہیں۔اقتدار پرست میڈیا عوام کے ان مسائل کو مسلسل نظر انداز کرنے کا رویہ اختیار کئے ہوئے ہے۔ میڈیا کی دلچسپی اور توجہ جن معاملات و موضوعات پر مرکوز ہو کر رہ گئی ہے ان کا عوامی مفاد سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میڈیا کو ملک کے حالات کاترجمان سمجھنے والے مہنگائی کے سبب پیدا ہونے والے ان سنگین مسائل سے بھی ناواقف نظر آتے ہیں جن مسائل نے سماج میں انتشار اور اضطراب کی کیفیت پیدا کر دی ہے۔ حکومت کو مہنگائی کے معاملے پر جس سنجیدہ طریقہ سے غور کرنا چاہئے اور اس کے تدارک کی جو تدابیر تلاش کرنی چاہئے ویسی کوئی کوشش اب تک نظرنہیں آئی ہے۔ لیکن ایک سچائی یہ بھی ہے کہ خود عوام کو اپنی زندگی سے براہ راست متعلق ایسے معاملات کے تئیںجس قدرسنجیدہ اور حساس ہونا چاہئے ایساکوئی اظہار ان کی جانب سے بھی نہیں ہورہا ہے۔ یہی سبب ہے کہ حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے اور عوام مجبور ہیں کہ مہنگائی میں آئے دن ہونے والے اضافہ کے بوجھ تلے دب کر اپنی زندگی گزاریں۔ سماج کے وہ افراد جو بعض جذباتی قسم کے معاملات کو ترجیح دیتے ہیں اور مہنگائی و بے روزگاری جیسے بنیادی مسائل کو نظرا نداز کر رہے ہیں ، وہ جب اس جذباتی ہیجان کے دائرے سے باہر نکلیں گے تب انہیں احساس ہوگا کہ حکومت نے انہیں کس قدر بیوقوف بنایا ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے مقابلے اقتدار کے ذریعہ قوم و مذہب سے متعلق بعض معاملات کے سلسلے میں کی جانے والی تشہیر کے دام سے سماج کو باہر نکلنا ہوگا اور حکومت سے یہ مطالبہ کرنا ہوگا کہ وہ بڑھتی ہوئی مہنگائی پر قابو پانے کیلئے کوئی موثر حکمت عملی اختیار کرے تا کہ غریب عوام کو دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرنے میں کچھ اس قدر دشواریوں کا سامنا نہ کرنا پڑے کہ وہ زندگی کو ایک بوجھ محسوس کرنے لگے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK