اب کھاد کی قلت

Updated: October 28, 2021, 1:28 PM IST

ملک کی کئی ریاستوں میں کسانوں کو کھاد کے شدید بحران کا سامنا ہے۔ ان ریاستوں میں خاص طور پر مدھیہ پردیش، اُترپردیش ، پنجاب، بہار، راجستھان اور ہریانہ شامل ہیں۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

ملک کی کئی ریاستوں میں کسانوں کو کھاد کے شدید بحران کا سامنا ہے۔ ان ریاستوں میں خاص طور پر مدھیہ پردیش، اُترپردیش ، پنجاب، بہار، راجستھان اور ہریانہ شامل ہیں۔ گزشتہ دنوں مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے بھی اعتراف کیا کہ ملک میں کھاد کی قلت ہے۔ اس کا سبب انہوں نے عالمی بازار میں کھاد کی بڑھتی ہوئی قیمت بتایا مگر قیمت میں اضافہ ایک مسئلہ ہے جبکہ عدم دستیابی اورقلت بالکل دوسرامسئلہ ہے۔ عدم دستیابی یہ ظاہر کرتی ہے کہ کھاد کی جتنی گھریلو پیداوار یا درآمد ہونی چاہئے تھی، نہیں ہوئی جبکہ ہر سال کتنے ٹن کھاد درکار ہوتی ہے اس کا علم وزارت زراعت کو ہے۔ اس کے باوجود مطلوبہ مقدار میں کھاد کا نہ ملنا انتظامی اُمور سے غفلت کا عکاس ہے۔ تسلیم کہ گزشتہ ۱۷۔۱۸؍ مہینوں میں کورونا کی وباء کے سبب ہر ملک میں پیداوار میں کمی آئی ہے۔ اس کے علاوہ نقل و حمل کے ذرائع بھی مسدود رہے مگر جس طرح دیگر اشیاء کی دستیابی کو یقینی بنایا گیا، اسے بھی بنایا جاسکتا تھا۔ بالخصوص گھریلو پیداوار میں اضافے کے ذریعہ۔ 
 ہندوستان اپنی مجموعی ضرورت کا ایک تہائی دیگر ملکوں سے درآمد کرتا ہے۔ اس کامطلب یہ ہے کہ دو تہائی کھاد گھریلو ہوتی ہے۔ اگر گھریلو پیداوار بڑھا دی جاتی تو درآمد کی جانے والی کھاد پر انحصار کم اور قلت کا امکان محدود ہوجاتا۔ اس صورت میں وہ بحران پیدا نہ ہوتا یا اس کی شدت کم ہو جاتی، جس کا سامنا اس وقت کسانوں کو ہے بالخصوص ایسے وقت میں جبکہ گیہوں، چنا، مسور اور سرسوں کی بوائی میں محض چند ہفتے باقی رہ گئے ہیں۔ کسانوں کا کھاد کیلئے پریشان ہونا اور کھاد کی دکانوں پر لمبی لمبی قطاروں میں کھڑے رہنا یہ ثابت کرتا ہے کہ ملک کے کسانوں کے سامنے مسئلہ صرف زرعی قوانین کا نہیں ہے، کھاد کا بھی ہے جو انہیں بے چین کئے ہوئے ہے۔ ان مسائل نے انہیں اس قدر اُلجھا رکھا ہے کہ لوگ باگ کاشتکاری سے توبہ کرلیں تو حیرت نہ ہو۔کسانوں کی بے چینی کو اُن احتجاجی مظاہروں میں بھی دیکھا جاسکتا ہے جو صرف اور صرف کھاد کی قلت کے خلاف ہوئے ہیں۔ مدھیہ پردیش کے چمبل ڈویژن میں ۱۰؍ تا ۱۵؍ اکتوبر کھاد کے ویئر ہاؤس میں لوٹ مار کے تین واقعات ہوئے ہیں ۔اس قلت کے پس منظر میں جب مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ شیوراج چوہان سے سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ریاست میں قلت ہرگز نہیں ہے، ہر سال ۴؍ لاکھ ٹن ڈی اے پی (ڈائی امونیم فاسفیٹ) کی ضرورت ہوتی ہے اور ہمارے پاس ۲ء۵؍ لاکھ ٹن کھاد ہے۔ ایک طرف وزیر اعلیٰ کا یہ وضاحتی بیان ہے اور دوسری طرف کسانوں کے بے چین ہونے اور لوٹ مار تک سے دریغ نہ کرنے کے واقعات ہیں، چنانچہ سمجھنا مشکل ہے کہ قصور کس کا ہے۔   اس میں کوئی شک نہیں کہ مرکزی حکومت نے کھاد کی قلت کے پیش نظر ربیع کی فصل کیلئے ۲۸؍ ہزار ۶۵۵؍ کروڑ کی اضافی رعایت (سبسیڈی) منظور کی ہے جس کیلئے حکومت کی ستائش کی جانی چاہئے مگر جب مطلوبہ شے ہی دستیاب نہ ہو تو رعایت کس کام کی؟ یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی پروڈکٹ کی خریداری کیلئے آپ کے پاس ڈسکاؤنٹ کوپن تو ہے مگر پروڈکٹ ہی دستیاب نہیں ہے۔ ایسے میں کیا آپ ڈسکاؤنٹ کوپن کو پروڈکٹ کے متبادل کے طور پر استعمال کرینگے؟ ضرورت تین باتوں کی ہے۔ ایک تو یہ کہ موجودہ قلت کو فی الفور دور کیا جائے، دوسری یہ کہ کھاد کی گھریلو پیداواربڑھائی جائے اور تیسری یہ کہ زمین کی زرخیزیت میں اضافے کیلئے نئی سائنسی تدابیر پر غوروخوض ہو اور انہیں عمل میں لایا جائے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK