Inquilab Logo Happiest Places to Work

اب ہمیں دستوری حقوق بھی دوبارہ حاصل کرنا ہوگا؟

Updated: August 09, 2026, 5:15 PM IST | Aakar Patel | Mumbai

کیا جنتر منتر کو احتجاج کی جگہ کے طور پر بند کیا جاسکتا ہے؟ کیا ایسا ہوگا؟ اگر ہوا اور ہر احتجاج گاہ بند کردی گئی تو کیا اس کا معنی یہ نہیں کہ اب اختلاف اور احتجاج کے امکان کو محدود تر کیا جارہا ہے؟

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

اس ہفتے دہلی ہائی کورٹ میں ایک قابل ذکر سوال و جواب ہوا۔ عدالت نے حکومت کے نمائندہ سے پوچھا کہ وہ، جنتر منتر کو احتجاج کے مقام کے طور پر بند کرنے پر غور کیوں نہیں کر رہی ہے؟ عدالت کے الفاظ میں : ’’آپ اسے بند کیوں نہیں کر دیتے؟ میرے خیال میں ایسی جگہیں قلب ِ شہر میں نہیں ہونی چاہئیں، لیکن یہ فیصلہ حکومت کے دائرۂ کار میں آتا ہے، بلاوجہ شہر اور اس کے لوگ کیوں پریشان ہوں ؟‘‘ عدالت آل انڈیا دلت کرسچن رائٹس پروٹیکشن کمیٹی کی طرف سے دائر درخواست کی سماعت کر رہی تھی جس میں دہلی پولیس کیلئے رہنمائی درکار تھی کہ اسے جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت دینی چاہئے یا نہیں۔ درخواست گزار کے وکیل نے پھر پوچھا کہ کیا مرکز کا موقف ہے کہ دہلی میں کوئی احتجاج نہیں ہو سکتا؟ اس پر حکومت کے نمائندے نے جواب دیا: ’’یہ فیصلہ پولیس کو کرنا ہے۔ ‘‘ درخواست گزار کے وکیل نے کہا: ’’ٹھیک ہے، انہیں کہنے دیجئے کہ دہلی میں کوئی جمہوری، پرامن احتجاج نہیں ہوگا۔ ہم اسے مان لیں گے۔ ‘‘ 
بنچ کا مؤقف تھا کہ مظاہرین کے سبب ’’شہر اور اس کے عوام پریشانی میں نہ پڑیں۔ ‘‘ اس پر حکومت کا کیا کہنا اس کا علم نہیں ہوا مگر مرکزی اور ریاستی حکومتیں یہی چاہتی ہیں کہ احتجاجی مطاہروں سے پریشانی ہوتی ہےنیز اس کی وجہ سے ’’بہترحکمرانی‘‘ نہیں ہوپاتی۔ 
اس مسئلے کا گہرائی سے جائزہ لینا ضروری ہے اور اسی لئے آج یہ کالم اس موضوع پر لکھا جارہا ہے۔ آئین کی دفعہ ۱۹کہتی ہے کہ تمام شہریوں کو درج ذیل حقوق حاصل ہوں گے: (الف) اظہار رائے کی آزادی کا حق (ب) پرامن طریقے سے اور بغیر ہتھیاروں کے جمع ہونے کا حق؛ (ج) انجمنیں یا یونینیں بنانے کا حق (د) ملک کے کسی بھی علاقہ میں آزادانہ نقل و حرکت کا حق (ذ) ملک کی سرزمین کے کسی بھی حصے میں قیام کرنے اور آباد ہونے کا حق، اور (ر) کوئی بھی پیشہ اختیا رکرنے اور کسی بھی قسم کا (جائز) کاروبار کرنے کا حق۔ 
حقیقت یہ ہے کہ آج ملک کے شہریوں کو یہ حقوق حاصل نہیں ہیں۔ غور کیجئے کیا ملک کے شہریوں کو پرامن طریقے سے یکجا اور جمع ہونے کا حق ہے؟ نہیں ہے۔ کیا ہمیں مقامی پولیس اسٹیشن میں پرامن اجتماع کی اجازت کیلئے درخواست دینے کا حق ہے؟ جبکہ پولیس کو درخواست منظور کرنے، انکار دینے سے انکار کرنے یا جواب نہ دینے کا حق ہے (یہی وجہ تھی کہ دلت عیسائیوں نے عدالت کا رخ کیا)۔ اصل حق اسی میں ہے۔ امریکہ اور یورپ میں مظاہرین کے گروپوں کے مناظر، جن میں سے کچھ میں مظاہرین پلے کارڈز اٹھائے ہوئے ہیں اور کاروباری اداروں اور سرکاری دفاتر کے باہر نعرے لگا رہے ہیں، یہاں تک کہ سیاسی ریلیاں عام ہیں۔ ہندوستان میں احتجاج کو یا تو کمزور کردیا جائیگا یا نہیں ہونے دیا جائے گا کیونکہ ہمارے یہاں احتجاج کو ایک طرح سے جرم قرار دیدیا گیا ہے۔ اگر اس کی اجازت دی گئی تب بھی اس بات پر مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ مخصوص اور نامزد جگہ پر ہی ہو۔ کچھ لوگ احتجاج اور مظاہروں کو ایک پریشانی کے طور پر بھی دیکھتے ہیں۔ دہلی میں جنتر منتر ایک ایسی جگہ ہے، جس کے دونوں سروں پر مظاہروں کے اسٹالوں کے ساتھ زمین کو گھیر لیا گیا ہے۔ بنگلور میں، آپ کے پاس ٹاؤن ہال اور فریڈم پارک ہے، ممبئی میں آزاد میدان ہے، جہاں مخصوص مدت کے دوران پیشگی اجازت سے احتجاج کا موقع دیا جاتا ہے۔ اتنا محدود کرکے اگر اجازت دی جاتی ہے تو اسے پرامن اجتماع کا حق نہیں مانا جاسکتا۔ یہ آئین کی طرف سے دیئے گئے بنیادی حق سے انکار ہے۔ ہمیں یہ حق حاصل کرنا ہے۔ 
تقریر اور اظہار رائے کی آزادی سے متعلق ملک میں اتنے قوانین ہیں کہ بعض اوقات سوچنا پڑتا ہے کہ کہاں سے آغاز کیا جائے مگر عملاً صورت حال یہ ہے کہ حکومت نے بہت سے ایسے قوانین کو بھی جو انگریزوں نے بنائے تھے، اُن سے مستعار تو لئے مگر ان میں جو حقوق دیئے گئے تھے، کافی حد تک سلب کرلئے۔ اختلاف رائے کرنے والوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے یہ سب کو معلوم ہے۔ ہندوتوا کے خلاف کوئی زبان کھولے تو اسے ملک دشمن کہہ دیا جاتا ہے۔ عملاً ہمیں کتنے حقوق حاصل ہیں اس کی صحیح عکاسی کشمیریوں کے حالات سے ہوتی ہے۔ ملک میں انجمنیں بنانا آسان نہیں ہے۔ رجسٹریشن سے انکار کیا جاسکتا ہے یا رجسٹریشن منسوخ کیا جا سکتا ہے۔ جو لوگ منظم طریقے سے سول سوسائٹی کیلئے کچھ کرتے ہیں (مثلاً این جی اوز) وہ جانتے ہیں کہ بنیادی حقوق کا حصول بھی کتنا مشکل بنا دیا گیا ہے۔ تجارت کرنے کے حق کا کیا معاملہ ہے یہ ملک کے قصابوں سے پوچھا جاسکتا ہے یا اُن ہوٹل مالکان سے جہاں گوشت کی ڈشیز فراہم کی جاتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے بہت سے حقوق ختم کردیئے گئے ہیں۔ حکومت جتنی مضبوطی سے حقوق سلب کرلیتی ہے اُتنی طاقت سے ہم حقوق حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرپاتے۔ آرٹیکل ۱۹؍ کے تحت فوٹ نوٹ میں لکھا ہے کہ ’’کوئی چیز کسی بھی موجودہ قانون کے عمل کو متاثر نہیں کرے گی، یا ریاست کو کوئی قانون بنانے سے نہیں روکے گی توقتیکہ ایسا قانون حق کے استعمال پر معقول پابندی عائد نہیں کرتا ہے---‘‘ سوال یہ ہے کہ کیا عائد کردہ پابندیاں معقول ہیں ؟ وہ نہیں ہیں۔ اپنے بنیادی حقوق کا دوبارہ دعویٰ ہمارے آئین کی قدر کو سمجھنے اور اسے کھولنے کا واحد طریقہ ہے۔ ہمیں انفرادی سطح پر اور سول سوسائٹی کی سطح پر پرامن طریقے سے اپنے حقوق کا دوبارہ دعویٰ کرنا ہوگا۔ ہندوستان میں دیگر جمہوریتوں کے مقابلے سول سوسائٹی کمزور ہوئی ہے مگر یہ متحرک ہے اور بہادر ہے۔ لیکن سول سوسائٹی ہے مختصر۔ ہمیں غیر سرکاری اور غیر تجارتی اُمور کیلئے وہ جگہ حاصل کرنی ہوگی جسے سوسل سوسائٹی کی جگہ کہا جاسکتا ہے تبھی وہ سوسائٹی جو فی الحال مختصر اور محدود ہے، پھل پھول سکے گی، توانا ہوسکے گی۔ 
غیر سرکاری اور غیر تجارتی اداروں کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے اور انہیں اظہار کا موقع ملنا چاہئے۔ انہیں ایک پریشانی کے طور پر نہیں دیکھنا چاہئے۔ حکومت ہر مظاہرہ کو پریشانی کا باعث تصور کرے گی پھر بھی ہندوستانی قوم کو احتجاج اور اختلاف کی جمہوری قدر کو زندہ رکھنے کی ہر ممکن جدوجہد کرنی ہوگی۔ اس میں سب کا بھلا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK