Updated: October 05, 2026, 9:04 PM IST
| New Delhi
دہلی میں شہریت ترممی قانون کی مخالفت میں جامعہ ملیہ اسلامیہ سے شروع ہوئے مظاہروں نے خوب زور پکڑا تھا جس کے نتیجے میں شاہیں باغ بنا۔ لیکن ان مظاہروں کے دورا ن دہلی پولیس نے طلبہ پرتشددکیا اور بعد میں شمال مشرقی دہلی کے علاقوں میں مسلم مخالف دنگے بھڑکے جس میں کثیر تعداد میں مسلمانوں کی جانیں گئیں۔ فسادات سے قبل اور اس کے دوران کئی بی جے پی لیڈران نے نفرت انگیز تقریریں کیں ، ان تقاریراور پولیس کی بربریت کو لےکر کئی درخواستیں دائر کی گئی تھیں جنہیں دہلی ہائی کورٹ نے خارج کر دیا ہے۔
سپریم کورٹ آف انڈیا۔ تصویر: آئی این این
دہلی ہائی کورٹ نے پیر کو ۲۰۲۰ء کے شمال مشرقی دہلی کے فسادات اور ۲۰۱۹ء میں جامعہ ملیہ اسلامیہ میں پولیس کے تشدد کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کرنے والی متعدد درخواستیں خارج کر دیں۔ ان درخواستوں میں انوراگ ٹھاکر سمیت ہندوتوا سیاسی لیڈران کے خلاف نفرت انگیز تقاریر پر ایف آئی آر درج کرنے اور پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی شامل تھا۔ لائیو لاء کے مطابق، جسٹس وویک چودھری اور جسٹس منوج جین پر مشتمل دو رکنی بنچ نے سیاسی لیڈران کے خلاف مبینہ نفرت انگیز تقاریر پر ایف آئی آر درج کرنے اور فرائض میں غفلت برتنے کے ملزم پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کے مطالبات کو مسترد کر دیا۔ عدالت نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا، ـ’’فیصلے میں دی گئی وجوہات کی بنا پر، دونوں درخواستیں خارج کی جاتی ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: کوکن کا پانی مغربی مہاراشٹر اور مراٹھواڑہ کے قحط سالی سے متاثرہ علاقوں تک لانے کی تجویز
یہ درخواستیں ۲۰۲۰ء میں دائر کی گئی تھیں، جن میں فسادات کی آزادانہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی ) سے انکوائری، سیاسی لیڈران کی مبینہ نفرت انگیز تقاریر کے خلاف ایف آئی آر اور تشدد کے دوران بدسلوکی کے ملزم پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ ان میں سے ایک درخواست شیخ مجتبیٰ فاروق کی جانب سے دائر کی گئی تھی، جس میں بی جے پی لیڈران کپیل مشرا، انوراگ ٹھاکر، پرویش ورما اور ابھے ورما کی نفرت انگیز تقاریرکے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی مانگ کی گئی تھی، کیونکہ درخواست گزار کے مطابق ان تقاریر نے مسلم مخالف تشدد کو بھڑکایا تھا۔ اس میں فرائض میں غفلت کے ملزم پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا بھی مطالبہ کیا گیا تھا۔ ایک اور درخواست لائرز وائس نامی ہندوتوا تنظیم کی جانب سے دائر کی گئی تھی، جس میں کانگریس لیڈران سونیا گاندھی، راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا، دہلی کے سابق نائب وزیراعلیٰ منیش سسودیا، عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی امانت اللہ خان، اے آئی ایم آئی ایم لیڈر اکبر الدین اویسی، سابق رکن اسمبلی وارث پٹھان اور کئی دیگر کے خلاف ان کی تقاریر پر کارروائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ سی پی آئی ایم کی سابق لیڈر برندا کرات کی دائر کردہ درخواست میں فسادات کے دوران دہلی پولیس، ریپڈ ایکشن فورس اور دیگر سرکاری اہلکاروں کی جانب سے کی گئی مبینہ زیادتیوں اور جرائم کی آزادانہ تحقیقات کی مانگ کی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: ’’ایس آئی آرکی تمام گڑبڑیاں درست کی جائیں‘‘
ہندوتوا سے وابستہ ایک اور درخواست گزار اجے گوتم نے شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف ہونے والے مظاہروں کی فنڈنگ اور سرپرستی کی قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) سے تحقیقات کرانے اور وارث پٹھان، اسد الدین اویسی اور سلمان خورشید سمیت دیگر سیاسی لیڈران کی تقاریر کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی مانگ کی تھی۔ دسمبر ۲۰۲۱ء میں سپریم کورٹ نے دہلی ہائی کورٹ کو ہدایت کی تھی کہ وہ سیاسی لیڈران کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے اور ان کے رویے کی تحقیقات سے متعلق ان درخواستوں پر جلد از جلد، ترجیحی طور پر تین ماہ کے اندر فیصلہ کرے۔
درخواستوں کا دوسرا سیٹ دسمبر ۲۰۱۹ء میں جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ہونے والے تشدد سے متعلق تھا، جب سی اے اے کے خلاف احتجاج کرنے والے طلباء پر دہلی پولیس نے تشدد کیا تھا۔ درخواست گزاروں میں سے ایک نَبیلہ حسن، جو اس وقت قانون کی طالبہ تھیں، نے قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی ) سے رجوع کیا تھا۔ این ایچ آر سی نے اپنی رپورٹ میں اس احتجاج کو ’’غیر قانونی اجتماع‘‘ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اسی وجہ سے پولیس کو کارروائی کرنی پڑی۔ درخواست گزاروں نے اس تشدد سے متعلق ایف آئی آرز کی تحقیقات دہلی پولیس سے کسی آزاد ایجنسی کو منتقل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ دہلی پولیس نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے دلیل دی تھی کہ یونیورسٹی کے اندر، باہر اور نیو فرینڈز کالونی کے علاقے میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج ’’وقت پر‘‘ جمع کر لی گئی تھی اور ’’محفوظ‘‘ رکھی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: پونے: ایم پی ایس سی امتحان میں بے ضابطگیوں کیخلاف زبردست احتجاج
سپریم کورٹ نے ۱۹؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء کو یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ درخواستیں کافی عرصے سے زیر التواء ہیں، دہلی ہائی کورٹ سے اس معاملے کی جلد سماعت کرنے کو کہا تھا۔ واضح رہے کہ ۲۰۲۰ء کے شمال مشرقی دہلی کے فسادات میں ۵۳؍ افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں زیادہ تر مسلمان تھے۔ ناقدین کا الزام ہے کہ جہاں بی جے پی لیڈر انوراگ ٹھاکر، جن کی نفرت انگیز تقریر کو مسلم مخالف فسادات سے قبل کشیدگی بڑھانے کی وجہ قرار دیا گیا تھا، جیل سے باہر رہے، وہیں سی اے اے مخالف کارکنوں کو ان فسادات سے جڑے معاملوں میں جھوٹا پھنسایا گیا اور جیلوں میں ڈالا گیاہے۔