Updated: October 05, 2026, 10:00 PM IST
| New Delhi
دہلی میں ہوئے حالیہ جنسی زیادتی اور عصمت دری کے معاملات پر پولیس کے رویے پر سوال اٹھاتے ہوئے پیر کو سپریم کورٹ نے شدید برہمی کا اظہار کیا ۔ ان معاملوں میں عدالت نے پولیس کو مزید سختی برتنے اور سخت اقدامات کرنے کی ہدایت کی ،تاہم عوامی مقامات کو خواتین اور طالبات کیلئے محفوظ سے محفوظ تر بنانے کی طرف توجہ مرکوز کرنے کو کہا۔
سپریم کورٹ آف انڈیا۔ تصویر: آئی این این
سپریم کورٹ نے پیر کو دہلی میں سامنے آنے والے عصمت دری کے حالیہ واقعات پر از خود (suo motu) نوٹس کی سماعت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ دہلی میں ہر خاتون کو عوامی مقامات اور پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال کرتے وقت خود کو محفوظ محسوس کرنا چاہئے۔ عدالتِ عظمیٰ نے دہلی پولیس کو سخت لہجے میں ہدایت کی کہ انہیں مجرموں کے خلاف ’’انتہائی سخت‘‘ رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ قومی دارالحکومت میں چاہے رات ۱۰؍ بجے کا وقت ہو، پیدل چلتے ہوئے یا میٹرو اور سڑکوں کے ذریعے سفر کرتے وقت ہر عورت کو تحفظ کا احساس ہونا چاہئے ۔ بنچ نے مرکزی حکومت اور دہلی پولیس کو ہدایت کی کہ وہ دارالحکومت میں خواتین کے تحفظ کے حوالے سے فوری اور موثر اقدامات کریں۔
یہ بھی پڑھئے: کوکن کا پانی مغربی مہاراشٹر اور مراٹھواڑہ کے قحط سالی سے متاثرہ علاقوں تک لانے کی تجویز
جسٹس جے بی پاردی والا اور جسٹس کے ونود چندرن پر مشتمل دو رکنی بنچ نے برہمی ظاہر کرتے ہوئے کہا، ’’آپ (دہلی پولیس) کو فوری طور پر عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر آپ کو تھوڑا زیادہ سخت یا بے رحم ہونا پڑے، تو اس میں بالکل نہ ہچکچائیں۔ آپ کو ایسے افراد کے ذہن میں خوف اور دہشت پیدا کرنے کی ضرورت ہے جو اس طرح کے جرائم کا ارادہ رکھتے ہیں۔ جب تک آپ مجرموں کے دلوں میں یہ خوف پیدا نہیں کریں گے کہ اگر اب کچھ غلط کیا تو مارے جائیں گے، تب تک آپ ایسے جرائم کو نہیں روک سکتے۔‘‘ ججوں نے آگے کہا کہ’’ صرف کاغذوں پر منصوبے بنانا کافی نہیں ہے، آپ کو میدان میں اتر کر کارروائی کرنی ہوگی۔ بعض لوگ آئین کی دفعہ ۲۱؍ (حقِ زیست) کا حوالہ دے کر ہنگامہ کھڑا کریں گے، لیکن آپ کو اپنی ڈیوٹی کرنی ہوگی۔‘‘
عدالت نے دہلی پولیس سے اس طرح کے جرائم میں ملوث افراد کو پکڑنے کیلئے پورے شہر میں نگرانی کا نظام مزید تیز کرنے کی ہدایت کی اور بس اسٹاپس، میٹرو اسٹیشنوں، ریلوے اسٹیشنوں، اسکولوں، نیز نارتھ اور ساؤتھ کیمپس جیسے اہم عوامی مقامات پر زیادہ توجہ مرکوز کرنے کو کہا۔ سپریم کورٹ نے کہا، ’’ ہر وہ لڑکی جس کی عزت پر حملہ ہوتا ہے، وہ ہماری بہن اور ہماری ماں ہے۔ یہ دہلی پولیس کیلئے ایک بڑا چیلنج ہے اور ایسے واقعات کو کسی صورت ہونے نہ دیں۔‘‘ عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگر دہلی پولیس اس چیلنج پر قابو پا لیتی ہے تو یہ محکمہ کیلئے ایک بڑی کامیابی ہوگی۔
یہ بھی پڑھئے: ’’ایس آئی آرکی تمام گڑبڑیاں درست کی جائیں‘‘
واضح رہے کہ عدالتِ عظمیٰ نے ۲۸؍ ستمبر کو ان واقعات کا از خود نوٹس لیا تھا، جن میں کالکا جی کے قریب آستھا کنج پارک میں ایک ۱۷؍ سالہ لڑکی کے ساتھ مبینہ گینگ ریپ، سوروپ نگر میں ایک نابالغ کے ساتھ مبینہ گینگ ریپ اور گریٹر نوئیڈا سے دہلی جانے والی بس میں ۱۶؍ سالہ لڑکی کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کے واقعات شامل ہیں۔ بنچ نے کہا کہ پارکوں، سڑکوں اور بسوں جیسے عوامی مقامات کو ’’خطرناک زون‘‘ بننے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور سوال اٹھایا کہ کیا ۲۰۱۲ء کے نربھیا معاملے سے کوئی سبق سیکھا گیا ہے یا نہیں؟ اس کے علاوہ عدالت نے کہا کہ عوامی تحفظ ، باوقار اور تشدد سے پاک زندگی گزارناآئین کی دفعہ ۲۱؍ کے تحت ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔