یا اللہ! جتنی برکتیں آپ نے مکہ میں رکھی ہیں اس سے دوگنی برکتیں مدینہ میں فرما

Updated: March 26, 2021, 10:44 AM IST | Maolana Nadeem ul Wajidi

سیرتِ نبی ٔ کریمﷺ کے اِس سلسلے میں گزشتہ ہفتے حضرت ابوایوب انصاریؓ کے مکان کا تاریخی پس منظر اور یمن کے بادشاہ تبع کا خط، حضرت ابوایوب انصاریؓ کی مہمان نوازی اور اہل بیت کے مدینہ منورہ پہنچنے کا ذکر کیا گیا تھا۔ آج کی قسط میں صحابہ کرامؓ کی اُس کیفیت کا ذکر ہے جو وطن سے دوری کے تعلق سے تھی ۔ صحابہؓ کو تسلی دیتے ہوئے آپؐ کے دُعا فرمانے کے ساتھ ساتھ مسجد نبویؐ کی ابتدائی تعمیر کا ذکر بھی آج ہی کی قسط میں ملاحظہ کیجئے

Madina Sharif - Pic : INN
مدینہ شریف ۔ تصویر : آئی این این

مہاجرین کے دلوںمیں مکہ مکرمہ کی محبت
 وطن سے محبت فطرت کے عین مطابق ہوتی ہے۔ آدمی جہاں پیدا ہوتا ہے، جہاں پلتا بڑھتا ہے، جہاں پروان چڑھتا ہے، جہاں رہتا ہے وہاں کی محبت اس کی رگوں میں لہو بن کر دوڑتی رہتی ہے۔ اگر وہ اپنی مرضی سے بھی کہیں چلاجاتا ہے تب بھی اس کا دل وہیں پڑا رہتا ہے جہاں سے آیا ہے، چہ جائے کہ اسے زبردستی نکال دیا جائے یا وہ مجبور ہو کر وہاں سے نکل جائے تو اس جگہ کی یادہر وقت کسک بن کر اس کو بے چین و بے قرار رکھتی ہے۔ مہاجرین نے وطن چھوڑا، کیوںکہ حالات کا تقاضا بھی تھا اور خدائے لم یزل ولا یزال کا حکم بھی تھا، پھر وطن بھی مکہ مکرمہ جس کو خانۂ کعبہ کی بنا پر ارضِ مقدس کا درجہ ملا ہوا تھا، حجاز و ماورائے حجاز سے لوگ کھنچ کھنچ کر وہاں چلے آتے تھے۔ یہاں کے رہنے والوں کی امتیازی شان تھی، اگر مکے جیسی زمین چھوڑنی پڑے تو اس کے باشندوں کے اضطراب کا کیا عالم ہوتا ہوگا، اس کا  تصور بھی ہم نہیں کر سکتے۔ صحابہ کرامؓ کا حال یہی تھا کہ وہ مدینے میں رہ رہے تھے لیکن ان کا دل مکہ میں پڑا ہوا تھا، وہاں ان کی زمینیں تھیں، کھیت تھے، دکانیں تھیں، مکانات تھے، ان سب سے قطع نظر ان کی جڑیں اس سرزمین میں پیوست تھیں، آباء و اجداد کی ہڈیاں وہاں کی خاک میں ملی ہوئی تھیں، اس لئے وہ لوگ مکہ کی یاد میں بے قرار رہتے تھے۔ حضرت عائشۃ الصدیقہؓ بیان فرماتی ہیں کہ ہجرت کے بعد ایک مرتبہ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت بلالؓ کو بخار آگیا، میں نے ان دونوں سے دریافت کیا: اباجان! آپ کیسے ہیں؟ اور اے بلالؓ آپ کی طبیعت کیسی ہے؟ حضرت ابوبکرؓ نے جواب میں یہ شعر پڑھا:
کل امریٔ مصبح فی أھلہ
والموت أدنی من شراک نعلہ
 ’’ہر آدمی کو اس کے اپنوں میں صبح بہ خیر کہا جاتا ہے اور یہاں یہ حال ہے کہ موت اس کے جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے۔‘‘
 حضرت بلالؓ نے یہ دو شعر پڑھے:
ألا لیت شعری ھل أبیتن لیلۃ
بواد و حولی اذخر وجلیل
و ھل أرد یوما میاہ مجنۃ
و ھل یبدو لی شامۃ و طفیل
 ’’کاش مجھے معلوم ہوتا کہ میں کوئی رات مکہ کی وادی میں گزار سکوں گا اور میرے چاروں طرف اذخر اور جلیل (دونوں گھاس) ہوں گی اور کیا میں کسی روز مجنہ کے چشموں پر جا سکوں گا اور مجھے طفیل اور شامہ (پہاڑ) نظر آسکیںگے۔‘‘
 حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے ان دونوں حضرات کی علالت اور کیفیت کی اطلاع حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دی، آپ ﷺ نے یہ دعا فرمائی: ’’اے اللہ! مدینے کی محبت ہمارے دلوں میں مکے کی محبت سے بھی زیادہ کردے، اے اللہ! اس کے صاع اور مد (پیمانوں)میں برکت عطا فرما۔  اے اللہ! اس شہر کی فضا اچھی کردے اور اس کا بخار (حرارت) حجفہ (ادی) میں منتقل فرمادے۔ ‘‘ (صحیح البخاری، رقم ۱۸۸۹، صحیح مسلم، رقم ۱۳۷۶)
 ایک مرتبہ آپﷺ نے خیر و برکت کے لئے یہ دعا فرمائی: اے اللہ! جتنی برکتیں آپ نے مکے میں رکھی ہیں اس سے دوگنی برکتیں مدینے میں فرما۔ 
(صحیح البخاری، رقم الحدیث ۱۸۷۵، صحیح مسلم، رقم الحدیث۱۳۶۹)
  ایک مرتبہ یہ دعا فرمائی: اے اللہ! ابراہیم علیہ السلام نے مکے کو حرم قرار دیا تھا اور اہل مکہ کے لئے دعا فرمائی تھی، میں مدینے کو حرم قرار دیتا ہوں اور اس کے رزق اور غلّے کے لئے مکے کے مقابلے میں دوگنی برکت کی دعا کرتا ہوں۔
(صحیح البخاری، ۲۱۲۹، صحیح مسلم، رقم الحدیث، ۱۳۶۰)
 دنیا کا یہ واحد شہر ہے جس کے متعدد نام ہیں۔ علامہ سمہودیؓ نے اپنی مشہور کتاب ’’وفاء الوفاء‘‘ میں اس شہر مقدس کے چورانوے نام لکھے ہیں اور شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ نے جذب القلوب میں ساٹھ ناموں کا تذکرہ کیا ہے۔ علامہ یاقوت حمویؒ نے ’’معجم البلدان‘‘ میں انتیس نام لکھے ہیں، ان میں سب سے زیادہ مشہور نام مدینہ ہے۔ اس کے بعد طیبہ ہے۔ ناموں کی کثرت اس شہر کے لئے مسلمانوں کی محبت اور عقیدت کی دلیل ہے۔ اسلام سے پہلے یہ شہر ’’یثرب‘‘ کہلاتاتھا۔ اس کے معنی ہیں فاسد اور خراب، قرآن کریم میں بھی اس علاقے کے لئے یثرب کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ ہجرت کے بعد اللہ کے رسولؐ نے بہ حکم خدا یہ نام تبدیل کردیا اور اسے ’’طابہ‘‘ کہا جانے لگا۔ (صحیح مسلم، رقم الحدیث ۲۴۵۵،)۔ دُنیا میں کوئی شہر ایسا نہیں جس کے اس قدر نام رکھے گئے ہوں۔
مسجد نبویؐ کی تعمیر
جس طرح قبا میں تشریف آوری کے بعد مسجد کی تعمیر کی گئی، اسی طرح مدینہ منورہ میں تشریف لانے کے بعد سب سے پہلے مسجد کے لئے جگہ کا انتخاب کیا گیا اور اس پر مسجد تعمیر کردی گئی، اب ضروری تھی کہ مسلمان پانچ وقت کی نمازوں کے لئے یہاں جمع ہوں اور باجماعت یہ فریضہ ادا کریں، پھر مسلمانوں کے آزادانہ اجتماع اور وسیع ترمشاورت کے لئے بھی ایسی جگہ بہت ضروری تھی جو کشادہ اور وسیع ہو، اور جو سب کے لئے ہمہ وقت کھلی ہوئی ہو، بعد میں یہ جگہ نو مولود اسلامی سلطنت کا سکریٹریٹ بن گئی، یہاں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحابؓ کے ساتھ نماز بھی ادا فرماتے تھے اور تبلیغ ودعوت اور تزکیہ وتعلیم کا فریضہ بھی انجام دیتے تھے،  ساری دنیا میں اسلام کی شعاعیں اسی مسجد سے پھیلا کرتی تھیں، دنیا بھر سے وفود اسی مسجد میں آکر ٹھہرا کرتے تھے اور یہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کا شرف حاصل کرتے تھے، یہیں سے شہنشاہوں اور حکمرانوں کو خطوط لکھ کر روانہ کئے گئے اور اسی جگہ سے تبلیغی ودعوتی وفود بنا کر بھیجے گئے، اسی جگہ جنگی مہمات ترتیب دی گئیں اور اسی مسجد سے کارہائے حکومت انجام دیئے گئے۔ جس وقت یہ مسجد تعمیر ہوئی اس وقت بہت ہی سادہ سی مسجد تھی، کچی اینٹوں اور پتھروں کی ناہموار دیواریں، کھجور کے تنوں کے ستون، کھجور کی ٹہنیوں کی چھت اور اس پر ریتیلی مٹی، نیچے مٹی کا فرش، بعد میں حکمرانوں نے اس میں تعمیر، توسیع اور تزئین کا بیڑا اُٹھایا  اور مسجد کو کشادگی، مضبوطی اور حسن و زیبائش کے اعتبار سے نادرۂ روزگار بنادیا، آئیے اس عظیم الشان مسجد کی تاریخ ِتعمیر پر ایک نظر ڈالیں۔
آپ پڑھ چکے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی قصواء قبا سے چل کر مختلف قبیلوں سے ہوتی ہوئی حضرت ابوایوب انصاریؓ کے مکان کے سامنے آکر بیٹھ گئی، اس مکان کے سامنے ایک خالی زمین پڑی ہوئی تھی، جہاں لوگ اپنے جانور باندھتے اور کھجوریں خشک کرتے  تھے۔ اس قطعہ اراضی کے مالک دو یتیم بچے سہل اور سہیل تھے، دونوں بچے حضرت سعد بن زرارہؓ کے زیر کفالت تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ زمین مسجد کے لئے اچھی معلوم ہوئی۔ آپؐ نے حضرت سعد بن زرارہؓ کی معرفت بچوں سے کہلوایا کہ وہ یہ زمین مسجد کے لئے فروخت کردیں، بچوں نے عرض کیا کہ ہم یہ زمین بلاقیمت ہی مسجد کو دیتے ہیں، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلاقیمت لینا گوارا نہیں فرمایا بلکہ اس وقت زمین کی جو قیمت ہوسکتی تھی وہ ادا فرماکر مسجد کا کام شروع کرادیا۔
 بخاری شریف میں یہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر سوار ہوکر مدینے میں داخل ہوئے، لوگ آپ ﷺکے ساتھ ساتھ چل رہے تھے، اونٹنی اس جگہ بیٹھ گئی جہاں اس وقت مسجد ہے، وہ جگہ مَرْبَدْ تھی، یعنی وہاں کھجوریں سُکھائی جاتی تھیں، اس وقت لوگ وہاں نماز بھی پڑھا کرتے تھے، یہ جگہ سعد بن زرارہؓ کی زیر کفالت دوبچوں سہل اور سہیل کی ملکیت میں تھی، جس وقت وہ اونٹنی وہاں بیٹھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ نے چاہا تو یہی ہماری منزل ہے۔ پھر آپؐ نے ان دونوں بچوں کو بلایا اور ان سے مسجد بنانے کے لئے جگہ خرید نے کی بات کی۔ ان بچوں نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! ہم آپؐ کو یہ جگہ بلا قیمت دینا چاہتے ہیں۔ آپ ﷺان سے بلاقیمت لینے پر راضی نہیں ہوئے بلکہ آپؐ نے ان سے وہ زمین قیمت ادا کرکے خریدی۔ ( صحیح البخاری رقم الحدیث: ۳۹۰۴) حضرت انس بن مالکؓ کی روایت میں یہ اضافہ بھی ہے کہ اس جگہ کھجور کے کچھ درخت تھے، مشرکین کی قبریں تھیں اور کچھ حصہ ناہموار یعنی  اونچے نیچے ٹیلوں پر مشتمل تھا، زمین خریدنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ کھجور کے درخت کاٹ دیئے جائیں، مشرکین کی قبریں ختم کردی جائیں اور ناہموار جگہ ہموار کردی جائے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK