Inquilab Logo Happiest Places to Work

’ایوان کے وقار کیلئے اوم برلا کو ہٹانا ضروری‘

Updated: March 10, 2026, 11:40 PM IST | New Delhi

اسپیکر کے خلاف تحریک پر گرماگرم بحث، گوگوئی نے کھلی جانبداری کے ثبوت پیش کئے،پرینکا نے رجیجو کو آڑے ہاتھوں لیا، آج ووٹنگ

Priyanka Gandhi discussing the movement against the Speaker
پرینکا گاندھی اسپیکر کے خلاف تحریک پر گفتگو کرتےہوئے

لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کی’’ جانبداری اور اپوزیشن مخالف رویہ ‘‘  کی بنا پر انہیں ہٹانے کیلئے پیش کی گئی قرار داد پر منگل کو بحث شروع ہوگئی جس میں گوروگوگوئی نے اوم برلا کی جانبداری کے ثبوت پیش کئے جبکہ پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کا دفاع کرتے ہوئے جواہر لال نہرو کا حوالہ دیا۔اس پر انہیں  پرینکا گاندھی   کی جانب سے تلخ جواب کا سامنا بھی کرنا پڑا۔  مجموعی طور پر اسپیکر کی جانبداری پر حکمراں محاذ اور اپوزیشن میں  تند و تیز الزامات کا تبادلہ ہوا۔بحث کیلئے ۱۰؍ گھنٹوں کا وقت طے کیاگیا ہے۔ منگل کو ۷؍ گھنٹے کی بحث ہوئی جبکہ بدھ کو بقیہ بحث کے بعد ووٹنگ ہوگی۔ ووٹنگ سے قبل وزیر داخلہ امیت شاہ اپوزیشن کے الزامات کا جواب دیں گے۔
  کارروائی کا آغاز کانگریس کے رکن پارلیمنٹ محمد جاوید نے اس نوٹس کو پڑھ کر کیا جس میں اوم برلا کو ہٹانے کی قرارداد پیش کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ یہ معاملہ بھی اٹھا کہ اسپیکر کے خلاف ریزولیوشن پر بحث کے دوران  اجلاس کی صدارت کون کرے گا۔مجلس اتحاد المسلمین   کے رکن پارلیمان اسد الدین اویسی نے’ نکتہ ٔ اعتراض ‘ اٹھاتے ہوئے سوال کیا کہ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ جگدمبیکا پال اجلاس کی صدارت کیوں کر رہے ہیں۔انہوں نے دلیل دی کہ پال کو  ایوان کی کارروائی چلانے کیلئے بنائے گئے  پینل میں خود اسپیکر نے مقرر کیا  تھا ۔ بہرحال اس اعتراض کو خارج کردیاگیا۔بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے اور کرن رجیجو نے  اسے ’’غیر متعلقہ‘‘ قراردیا اورکہا کہ جگدمبیکا پال بحث کے دوران ایوان کی صدارت  کے اہل ہیں۔
 صدر نشیں   نے سب سے پہلے اسپیکر کے خلاف پیش کی گئی نوٹس کی حمایت کرنے والے اراکین  سے کھڑے ہونے کو کہا جس پر ۵۰؍ سے زیادہ اراکین اپنی نشستوں پر کھڑے ہو گئے۔ واضح  رہے کہ اسپیکر کے خلاف ریزولیوشن پر بحث کیلئے کم از کم ایم پی کی منظوری ضروری ہے۔ 
 اپوزیشن کی جانب سے بحث کا آغازگورو گوگوئی نے کیا۔ انہوں نے بطور اسپیکر اوم برلا  کے طرز عمل پر سخت تنقید کی اور جانبدارانہ رویے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ آئین کو بچانے اور پارلیمنٹ کے وقار کو برقرار رکھنے کیلئے  یہ قرارداد مجبوراً لائی گئی ہے۔انہوں نے کہاکہ’’ہمیں افسوس ہے کہ یہ قرارداد لانی پڑی لیکن ایوان کے وقار اور نظم و ضبط کے تحفظ کیلئے یہ ہماری ذمہ داری اور فرض ہے۔‘‘
 انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن کو بار بار ایوان میں اہم مسائل اٹھانے سے روکا  گیا۔ اس موقع پر گوگوئی نے بطور خاص صدر کے خطاب پر شکریہ کی تحریک کے دوران اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے ساتھ ہونے والے سلوک کا حوالہ دیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ’’  جب اپوزیشن لیڈر نے  صدر کے خطاب پر شکریہ  میں بولنے کی کوشش کی تو انہیں۲۰؍ بار روکا گیا۔‘‘اس کیلئے انہوں نے اسپیکر کو ذمہ دار ٹھہرایا

lok sabha Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK