Inquilab Logo Happiest Places to Work

این سی پی آئی میں ٹی ایم سی باغی گروپ کے انضمام کوپیچیدگیوں کا سامنا

Updated: June 16, 2026, 8:39 AM IST | Agency | New Delhi

پارٹی کا پارلیمنٹ میں کوئی وجود ہی نہیں اس لئے ۲۰؍ اراکین کاگروہ کس میں ضم ہوگا؟ اوم برلا قانونی صلاح ومشورہ لیں گے ۔

Om birla.Photo:INN
اوم برلا۔ تصویر:آئی این این
ٹی ایم سی کے باغی اراکین   کے گروپ کا  غیرمعروف ’’نیشنلسٹ سٹیزن  پارٹی آف انڈیا‘‘ (این سی پی آئی)  میں انضمام کا فیصلہ  قانونی پیچیدگیوں کا شکار ہے۔مذکورہ پارٹی کا لوک سبھا میں کوئی رکن نہیں ہے۔ یعنی لوک سبھا میں  اس کی قانون ساز پارٹی موجود نہیں ہے جس میں باغی گروپ کا انضمام ہوسکتا تھا۔ اس لئے اسپیکر اوم برلا  اس ضمن میں قانونی صلاح ومشورہ  پر غور کررہے ہیں۔  بہرحال وہ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس سے قبل اس پر فیصلہ کرلیںگے۔ 
 
 
 
یہ رائے اس لیے حاصل کی جا رہی ہے تاکہ اگر اسپیکر کے فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا جائے تو وہ عدالتی جانچ پرکھرا اتر سکے۔ اس بیچ لوک سبھا کے سابق سکریٹری جنرل اور آئینی ماہر پی ڈی ٹی آچاری نے آئین کے دسویں شیڈول کی شق۴؍ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا  ہےکہ کوئی سیاسی جماعت ہی دوسری سیاسی جماعت میں ضم ہو سکتی ہے۔
 
 
انہوں نے زور دیکر کہا کہ ’’ محض اراکین پارلیمان یا  اسمبلی کا انضمام نہیں ہوسکتا۔‘‘ خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی سے گفتگو میں  انہوں  نے بتایاکہ’’ اگر کسی سیاسی جماعت کی قیادت دوسری جماعت میں ضم ہونے کا فیصلہ کرے تو اس کے اراکین پارلیمان  واسمبلی اس کی توثیق کر سکتے ہیں، لیکن صرف اراکین خود کسی دوسری جماعت میں ضم نہیں ہو سکتے کیونکہ یہی آئینی تقاضا ہے۔‘‘الیکشن کمیشن کے ایک سابق افسر، جو سیاسی جماعتوں سے متعلق معاملات دیکھتے رہے ہیں، نے ٹی ایم سی کے باغی اراکین کے این سی پی آئی میں ضم ہونے کے منصوبے کو’’نیا تجربہ‘‘قرار دیا  جس کا ذکر نہ دَل بدلی قانون میں ہے اور نہ ہی عوامی نمائندگی ایکٹ میں۔ ٹی ایم سی کا باغی گروپ جس ’’این سی پی آئی‘‘ میں ضم ہونے کا ارادہ رکھتا ہے ا س نے بطور سیاسی پارٹی  جنوری۲۰۲۳ء خود کو  رجسٹر ڈکرایا تھا۔ الیکشن کمیشن کے ریکارڈ کے مطابق اس کا پتہ مغربی بنگال کے ضلع ہاوڑہ کے شنکرائل علاقے میں واقع ایک عمارت ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK